مخالفین جادو کر رہے ہیں،امن کی سفیرہوں:اداکارہ میرا

1 month ago


رقص سیکھنا شروع کر دیا، نئے شاگردوں کوبھی تعلیم دے رہی ہوں،انٹرویو

معروف اداکار ہ میرا نے کہا ہے کہ میرے پیرومرشدنے بتایاہے کہ ان کے بعض مخالفین ان پر جادو کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں میرا نے کہا کہ ایک تھیٹر پروگرام کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد اب وہ خوف کے مارے گھر سے نہیں نکل رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے گھر میں وہ مقید نہیں رہ سکتیں اس لئے انہوں نے رقص سیکھنا شروع کر دیا۔ ان کاکہنا تھا کہ وہ بعض نئے شاگردوں کو رقص کی تعلیم خود بھی دے رہی ہیں۔ اداکارہ میرا نے کہا کہ وہ امن کی سفیر ہیں لیکن بعض لوگ ان کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کے کردار عبدالرحمن غازی کو صدمہ
معروف سرائیکی گلوکارشفاءاللہ روکھڑی دل کادورہ پڑنے سے انتقال کرگئے
پاکستانی موسیقار ، لوک فنکار مقامی سٹریمنگ سروس سے مالی حیثیت بہتر بناسکیں گے

نئی نسل کیسی موسیقی چاہتی ہے؟

2 months ago


کلاسیکل موسیقی کے بغیرچلتاہواگائیکی کاسفر
اگر کوئی بڑا اداکار ہو تو ضروری نہیں کہ اس اداکار کی اولاد بھی بڑے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہو۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں وحید مراد، مصطفیٰ قریشی، منور ظریف اور دیگر لیجنڈ اداکاروں کے بچوں نے فلم انڈسٹری میں قدم تو رکھا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ پاکستان میں آج بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس سے اگر آپ کے والد یا والدہ کا تعلق ہے۔ تو اس میں آپ کے آگے بڑھنے کے مواقع قدرے بڑھ جاتے ہیں اور یہ شعبہ موسیقی ہے۔ پاکستان میں موسیقی سے وابستہ فن کاروں کی دوسری اور تیسری نسل کا اس شعبے میں آنا کوئی نئی بات نہیں۔ کئی موسیقاروں کی اولادوں نے اس شعبے میں قدم رکھا اور نام کمایا۔ جیسے موسیقار رشید عطرے کے بیٹے وجاہت عطرے اور پوتے جمی عطرے، ایم اشرف کے بیٹے ایم ارشد، موسیقار نوشاد کے بیٹے واجد علی نوشاد اور ان کے بیٹے نوید نوشاد۔ اسی طرح گلوکاروں میں نور جہاں کی بیٹی ظلِ ہما اور ان کے بیٹے احمد علی بٹ، مہدی حسن کے صاحب زادے آصف حسن مہدی، استاد امانت علی خان کے دو بیٹے اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان، کجن بیگم کی بیٹی مہناز بیگم اور ملکہ پکھراج کی صاحب زادی طاہرہ سید، عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار، نوشاد کے دو بیٹے عمران علی نوشاد اور امیر علی نوشاد، نیرہ نور کے بیٹے جعفر زیدی، روبینہ قریشی کے بیٹے عامر قریشی اور وارث بیگ کے بیٹے عمار بیگ شامل ہیں۔ اب نہ تو وہ میوزیکل فلمیں بنتی ہیں جن کے گانے ہٹ ہوتے ہیں۔ نہ ہی ٹی وی پر کلاسیکل موسیقی کے پروگرام نشر ہوتے ہیں جب کہ نہ ہی وہ چارٹ بسٹر میوزک ویڈیوز بنتی ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی میوزک کا دنیا بھر میں چرچہ تھا۔ ایسے میں موسیقاروں اور گلوکاروں کی ایک نئی نسل سامنے آ رہی ہے جو پختہ یقین رکھتی ہے کہ نہ صرف پاکستان موسیقی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا۔ بلکہ نئے نئے پلیٹ فارمز کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی ایک نئی شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ویسے تو اداکار خالد انعم کی وجہ شہرت اداکاری ہے۔ لیکن 90 کی دہائی میں بڑے ہونے والی نسل انہیں 'پِیرا ہو' گانے کی وجہ سے بھی جانتی ہے۔ نہ صرف مذکورہ گانے نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی تھی بلکہ آج دو دہائیوں بعد بھی اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ اس گانے کے علاوہ بھی خالد انعم نے ٹی وی پر کئی بار گلوکاری کی۔ جس میں ڈرامہ سیریل 'احساس' کا ٹائٹل ٹریک، لوک گیت 'اے ناز حسن بالا' اور بچوں کے لیے ان کے گائے ہوئے لاتعداد گانے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دونوں بیٹوں کمیل انعم اور عمار خالد نے بھی موسیقی میں قدم رکھا۔ دونوں نوجوان پر امید ہیں کہ پاکستان میں موسیقی کا دور واپس آئے گا۔ چاہے ٹی وی ان کا ساتھ دے یا نہ دے۔ کمیل انعم ویسے تو ابھی اپنے پہلے گانے پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ انہوں نے بہت پہلے کر لیا تھا۔ وہ نہ صرف ہر قسم کی موسیقی سنتے ہیں۔ بلکہ نئے اور پرانے دونوں طرز کی موسیقی سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کمیل انعم کہتے ہیں کہ گانے کلاسیکل ہوں یا فلمی، وہ ہر قسم کی موسیقی سن کر بڑے ہوئے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا بھارتی گلوکار محمد رفیع اور کشور کمار جب کہ پاکستانی لیجنڈز احمد رشدی، امجد صابری اور نصرت فتح علی خان ان کے پسندیدہ گلوکار ہیں۔ ان کے بقول وہ اپنا ڈیبیو گانا رواں سال ستمبر میں ریلیز کرنے کی کوشش کریں گے۔ گو کہ یہ ایک 'المیہ' گانا ہے۔ لیکن اس کی کمپوزیشن ایسی ہے کہ لوگ اس پر ڈانس بھی کر سکیں گے۔ عمار خالد بھی اپنے ٹیلنٹڈ بھائی سے کم نہیں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے 'وی آر ون' میں انہوں نے پاکستانی گلوکاروں فاخر محمود، اپنے ماموں ڈینو علی اور والد خالد انعم کے ہمراہ ملک کی نمائندگی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی میوزک لائبریری میں مشہور انگلش بینڈ 'بیٹلز' اور 'میٹیلیکا' کے گانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی موسیقار نصرت فتح علی خان کے گانے بھی شامل ہیں۔ اپنے بینڈ 'نقاب پوش' کے ذریعے وہ دو سنگلز ریلیز کر چکے ہیں۔ جب کہ وہ اس وقت اپنے ڈیبیو البم پر کاشان ادمانی کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے مقابلے میں اب نئے لوگ اوریجنل کام کر رہے ہیں۔ جس سے دوسروں کے ٹریک گانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ ان کے بقول آج سے آٹھ دس سال قبل 'کوور سانگز' کا ٹرینڈ آیا تھا۔ جس نے ہماری انڈسٹری کو اوریجنل کام سے دور کر دیا تھا۔ لیکن اب بہت سارے موسیقاروں اور گلوکاروں نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ اپنا کام کریں گے۔ تب ہی دنیا میں نام ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لوگوں نے دوسروں کے گانے گانے کی بجائے اپنے گانے بنانا شروع کر دیے ہیں۔ موسیقار و گلوکار شیراز اپل کے بیٹے ہادی اپل نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موسیقی میں قدم رکھا ہے اور فلموں کے ساتھ ساتھ میوزک ویڈیو کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ حال ہی میں آئمہ بیگ کے ساتھ ان کا ریلیز ہونے والا گانا 'تے کیئرو' کافی مقبول ہوا ہے۔ اس سے قبل وہ ایک سنگل 'دیوانگی' بھی ریلیز کرچکے تھے۔ فلم 'چھلاوا' میں نیہا چوہدری کے ساتھ ان کا گایا ہوا دو گانا 'مدھانیاں' بھی لوگوں کو بہت پسند آیا اور کئی لوگوں نے تو یہ ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ یہ گانا شیزار اپل کے بیٹے نے گایا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ہادی اپل کا کہنا تھا کہ انہیں فٹ بال سے جنون کی حد تک لگاو¿ تھا اور وہ ایک فٹ بالر بننا چاہتے تھے۔ لیکن پاکستان میں فٹ بالرز کے لیے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی توجہ موسیقی پر مبذول کی اور والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے گانے 'تے کیئرو' کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سب لوگ گھروں میں بند تھے۔ انہی حالات میں انہوں نے یہ گانا کمپوز کیا۔ ان کے بقول یہ گانا ان کے والد نے کمپوز کیا جس میں انہوں نے آئمہ بیگ کے ساتھ پہلی بار گلوکاری کی۔ ان کے بقول آئمہ بیگ کے آنے سے انہیں بھی حوصلہ ملا اور چونکہ وہ دونوں مغربی موسیقی سنتے ہیں۔ انہوں نے اس گانے میں بھی کچھ مغربی کرنے کی کوشش کی اور لوگوں کا پسند کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے۔ فلم 'چھلاوا 'میں ہی ہدایت کار وجاہت رو¿ف کے بیٹے عاشر وجاہت نے نہ صرف اداکاری کی بلکہ ایک گانا بھی گایا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب عاشر نے ایسا کیا۔ اس سے پہلے بھی وہ اپنے والد کی فلموں 'کراچی سے لاہور' اور 'لاہور سے آگے' میں اداکاری کر چکے ہیں اور گلوکاری بھی۔ عاشر وجاہت نے ویسے تو گلوکاری میں قدم جمانے کی کوشش کی تھی اور دو تین گانے بھی گائے تھے۔ تاہم لوگ انہیں میوزک بینڈ 'آروح' کے مینیجر اور 'آگ ٹی وی' کے سابق سربراہ اور ایک فلم و ٹی وی پروڈیوسر کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عاشر نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اس شعبے کو چنا جس کا انتخاب ان کے دل نے کیا۔ ان کا 2018 میں ریلیز ہونے والا گانا 'تلاش' کافی مقبول ہوا اور کرونا وائرس کے دوران ان کا دوسرا سنگل 'ٹوتا تارا' بھی یوٹیوب پر وائرل ہوا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عاشر وجاہت کا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ دوسرے والدین کی طرح انہیں کسی نے شوبز میں آنے سے نہیں روکا۔ کیون کہ ان کے والدین وجاہت رو¿ف اور شازیہ وجاہت کا تعلق شوبز سے ہے۔ اس لیے ان کا انڈسٹری میں آنا آسان ہو گیا۔ لیکن گلوکاری کی طرف انہیں ان کا دل لے کر گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اداکاری اور گلوکاری میں جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان دونوں شعبوں میں آپ جتنا جلدی قدم رکھتے ہیں۔ آپ کو اتنا فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سکول میں ہوتے ہوئے ہی گلوکاری کا آغاز کر دیا تھا اور آج ان کا تجربہ اپنے ہم عمر لوگوں سے زیادہ ہے۔ ان کے بقول حال ہی میں انہوں نے ایک گانا 'ٹوٹا تارا ' یوٹیوب پر ریلیز کیا۔ جس کو لوگوں نے پسند کیا اور اسی وجہ سے اب وہ اپنے اگلے گانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب کیسٹ اور سی ڈیز کا زمانہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور ہے۔ اگر ایک گانا پاکستان میں اپ لوڈ ہوتا ہے تو وہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا بھر میں لوگ اسے سنتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے کسی گانے کو مشہور ہونے میں کافی وقت لگتا تھا لیکن اب سب کچھ جھٹ پٹ ہو جاتا ہے اور اسی لیے وہ پر امید ہیں کہ موسیقی کا کم بیک دور نہیں۔ آخر میں کچھ بات عدنان سمیع خان اور زیبا بختیار کے بیٹے اذان سمیع خان کی۔ گو کہ ان کے والد اب بھارت کی شہریت اختیار کر کے پڑوسی ملک میں رہتے ہیں لیکن ان کی والدہ پاکستان میں ہیں۔ اذان سمیع خان نے پہلے والد کے شعبے کو ترجیح دی۔ ایسا نہیں کہ وہ اداکاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ بس اس کے لیے تھوڑا زیادہ وقت چاہتے ہیں۔ ان کے والد نے تو صرف ایک پاکستانی فلم 'سرگم' میں موسیقی دی تھی۔ لیکن اذان اب تک 'پرواز ہے جنون'، 'پرے ہٹ لو' اور 'سپر اسٹار' جیسی کامیاب فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے ہیں۔ ان کا شمار اس وقت پاکستان کے ابھرتے ہوئے موسیقاروں میں ہوتا ہے۔آئندہ برس وہ ہانیہ عامر کے ساتھ فلم ’پٹخ دے' کے ذریعے اداکاری میں بھی انٹری ماریں گے۔ اس سے قبل وہ اپنی والدہ کے ہمراہ فلم 'او ٹو ون' بھی پروڈیوس کر چکے ہیں۔ (بشکریہ وائس آف امریکہ)


افتخارٹھاکرکا”تمغہ ستارہ امتیاز“واپس کرنے کااعلان

2 months ago


بیروزگاری، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومت کے ملک دشمن اقدامات کے باعث فیصلہ کیا، کامیڈین
معروف کامیڈین واداکارافتخارٹھاکرنے حالات سے تنگ آکر”تمغہ ستارہ امتیاز“واپس کرنے کااعلان کردیا۔افتخارٹھاکرنے اپنے ٹویٹ میں کہاہے کہ بڑھتی بیروزگاری، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومت کے ملک دشمن اقدامات کے خلاف احتجاجاً حکومت کی جانب سے دیا گیا تمغہ ستارہ امتیاز واپس کررہا ہوں۔


لاک ڈائون سے سٹیج اداکار پریشان،تھیٹرکھولنے کامطالبہ

3 months ago


22جولائی تک تھیٹر نہ کھولے تو بھوک ہڑتال ہو گی،نسیم وکی،نواز، شہباز کا دور بہت بہتر تھا،ناصرچنیوٹی
سٹیج اداکاروں نے ایس اوپیزکے ساتھ تھیٹرکھولنے کامطالبہ کردیا۔نسیم وکی نے ٹویٹرپراپنے پیغام میں وزیراعظم کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم صاحب! ہم آپ سے امداد نہیں مانگ رہے ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ ایس اوپیزکے تحت تھیٹر کو کھولنے کے آرڈر جاری کئے جائیں تاکہ ہم اپنے بیوی بچوں کے لئے روزی روٹی کما سکیں۔ حکومت نے 22جولائی تک پنجاب بھر کے تھیٹر نہ کھولے تو پھر بھوک ہڑتال ہو گی جو اس وقت تک جاری رہے گی جب ہم میں سے سو پچاس لوگ بھوک سے نہیں مر جائیں گیں یا جیلوں میں نہیں جائیں گے۔ ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا ہم پہلے ہی بھوک سے مر رہے ہے۔ پنجاب کے فنکاروں کی بات گورنر، وزیراعلی ٰکوئی بھی نہیں سن رہا۔ ناصر چنیوٹی نے کہانوازشریف اور شہباز شریف کا دور بہت بہتر تھا ۔وہ فنکاروں کو دیکھ کر جیبیں خالی کر دیتے تھے ۔نواز شریف نے لہری کے علاج کے لئے 25 لاکھ روپے دئیے ، اب فنکاروں کے گھروں میں فاقے کی نوبت آ گئی ہے۔ امانت چن نے کہاجب بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ کھلے ہیں، ریلوے پی آئی اے چل رہے ہیں تو تھیٹروں کو بھی ایس اوپیز کے تحت کھولا جا سکتا ہے۔لعنت ہے مجھ پر بھی جوتبدیلی کو سپورٹ کرتارہا۔ ماضی میں کی گئی غلطیوں پر ہم شرمندہ ہیں۔ قوم سے معافی مانگتے ہیں کہ ہم نے بے جا اس حکومت کو سپورٹ کیا اور ہماری کی گئی غلطیوں کی سزا ہم اور پوری قوم بھگت رہے ہیں۔