افتخارٹھاکرکا”تمغہ ستارہ امتیاز“واپس کرنے کااعلان

2 weeks ago


بیروزگاری، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومت کے ملک دشمن اقدامات کے باعث فیصلہ کیا، کامیڈین

معروف کامیڈین واداکارافتخارٹھاکرنے حالات سے تنگ آکر”تمغہ ستارہ امتیاز“واپس کرنے کااعلان کردیا۔افتخارٹھاکرنے اپنے ٹویٹ میں کہاہے کہ بڑھتی بیروزگاری، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومت کے ملک دشمن اقدامات کے خلاف احتجاجاً حکومت کی جانب سے دیا گیا تمغہ ستارہ امتیاز واپس کررہا ہوں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


نئی نسل کیسی موسیقی چاہتی ہے؟
لاک ڈائون سے سٹیج اداکار پریشان،تھیٹرکھولنے کامطالبہ
امان اللہ اک سکول آف تھاٹ

میریا ربّا نیڑے ہو کے بول :معروف کمپیئرطارق عزیزانتقال کرگئے

1 month ago


نیلام گھرسے انہوں نے بہت شہرت حاصل کی

معروف کمپیئرواداکارطارق عزیز82سال کی عمرمیں انتقال کرگئے۔انہوں نے ریڈیوپاکستان سے کیریئرکاآغازکیا۔وہ پی ٹی وی کے پہلے اینکرتھے۔وہ رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔انہوں نے مشہورپروگرام نیلام گھرسے بہت شہرت حاصل کی۔وہ کئی فلمیں بھی کرچکے ہیں۔انہیں تمغہ حسن کارکردگی بھی مل چکاہے۔وہ شوگرکے مرض میں مبتلاتھے۔انہیں دل کاعارضہ بھی لاحق تھا۔وہ حرکت قلب بندہونے سے چل بسے۔ فیس بُک کی دیواریں الوداعی پیغامات سے بھرتی جا رہی ہیں ، چراغ بجھتے چلے جاتے ہیں سلسلہ وار۔۔۔یہ کیسا اداس اور دکھ بھرا زمانہ ہے۔۔۔۔ ایک بڑا فنکار رخصت ہوا۔۔۔آہ طارق عزیز۔۔۔۔۔ الللہ پاک مغفرت فرمائے۔ آمین طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو برطانوی ہندوستان میں تحصیل شاہ کوٹ ڈسٹرک جالندھر کے انڈیا کے آرائیں گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انکے والد میاں عبدالعزیز آرائیں 1947 میں پاکستان ہجرت کر آئے۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کئے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا، اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز کا نام دے دیا گیا۔ طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں اداکاری بھی کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت 1967‎ تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں ، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔ انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1997 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ طارق عزیز شاعر بھی تھے ان کی پنجابی شاعری سے کچھ اقتباس ربِّ کریم ایسے اسم سکھا دے سانوں ہرے بھرے ہو جائیے گہرے علم عطا کر سانوں بہت کھرے ہو جائیے رَبِّ اَرِنی اَج دی رات میں کلّا وَاں کوئی نئیں میرے کول اَج دی رات تے میریا ربّا نیڑے ہو کے بول سچّا شرک دُور پرے اَسمان تے رَب سچّے دا ناں ہیٹھاں ایس جہان وِچ بس اِک ماں اِی ماں بلوچا وے۔ ۔ ۔ جے کوئی میرے جیہا ملے تاں اوس نال پیار ودھاویں ناں اوس دے درد ونڈھاویں ناں اوس نوں اِنج تڑفاویں ناں اوّل میرے جیہے کسے نال پیار دی پینگ ودھاندے نئیں جے تقدیریں اکھ لڑ جاوے فیر او اکھ چروندے نئیں ساری حیاتی اوس بندے نوں اپنے دلوں بھلاؤندے نئی



بولی وڈاداکارسشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری

1 month ago


موت دم گھٹنے سے ہوئی،34سالہ اداکارڈپریشن کاشکارتھے

بولی وڈاداکارسشانت سنگھ راجپوت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق پھندے کی وجہ سے اداکار کا دم گھٹا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ساتھ ہی بتایا گیا کہ اداکار کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ بھی کیا گیا جو منفی آیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سشانت سنگھ راجپوت کی لاش سے کچھ نمونے لےکر فورینزک ٹیسٹ کے لئے بھجوائے گئے ہیں جن کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکار کی آخری رسومات 15 جون کو ممبئی میں ادا کی جائیں گی اور ان کے دیگر اہل خانہ ریاست بہار سے ممبئی پہنچ چکے ہیں۔ یادرہے 34 سالہ سشانت سنگھ راجپوت نے 14 جون کی دوپہربھارتی شہر ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع پر جائے وقوع کا جائزہ لینے کے بعد ہی بتایا تھا کہ اداکار نے خودکشی کی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔ سشانت سنگھ راجپوت نے ممبئی کے پرتعیش علاقے ویسٹ باندرا میں اپنے فلیٹ میں دوستوں اور ملازمین کی موجودگی میں اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے خودکشی کی تھی۔ ان کے ساتھ فلیٹ میں موجود افراد نے بتایا تھا کہ سشانت سنگھ راجپوت 14 جون کی صبح 10 اٹھے اور جوس پینے کے بعد واپس اپنے کمرے میں چلے گئے اور دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب 12 بجے تک اداکار باہر نہیں آئے تو انہوں نے ان کا دروازہ بجایا مگر دروازہ نہ کھولنے پر انہوں نے پولیس کو بلالیا اور ساڑھے 12 سے 12 بج کر 45 منٹ کے درمیان انہوں نے دروازہ توڑا تو اداکار کو پھندے میں لٹکا ہوا پایا۔ اداکار کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال بھیج دیا تھا اور رات دیر گئے ہسپتال انتظامیہ نے اداکار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی۔ سشانت سنگھ راجپوت کا تعلق ریاست بہار کے شہر پٹنہ سے تھا، وہ ممبئی میں اکیلے رہتے تھے، ان کی چار بہنیں ہیں جن میں سے ایک ریاست بہار کی کرکٹ ٹیم کے لئے کھیلتی ہیں۔ پولیس کو تاحال ان کی رہائش گاہ سے ان کی جانب سے لکھا جانے والا کوئی آخری خط نہیں ملا تاہم پولیس کو ان کی رہائش گاہ سے ان کے علاج و معالجے کے دستاویزات ملے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا علاج کروا رہے تھے۔ اداکار کے قریبی دوستوں کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ چند ماہ سے ڈپریشن اور ذہنی دبائو کا شکار تھے، تاہم ان کی پریشانی میں کورونا کے باعث لاک ڈائون ہونے کے باعث اضافہ ہوا۔ یہ واضح نہیں کہ انہیں کن مسائل کی وجہ سے ڈپریشن تھا اور نہ ہی ان کی مالی حالت خراب ہونے کی کوئی اطلاعات ہیں۔ سشانت سنگھ راجپوت نے کیریئر کا آغاز 2008 میں ٹی وی سے کیا تھا تاہم انہوں نے 2013 میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا ، انہوں نے اب تک محض ایک درجن فلموں میں ہی کام کیا تھا۔ سشانت سنگھ راجپوت کی فلموں میں کائی پو چے، شدھ دیسی رومانس، پی کے، ڈیٹیکٹو بایو مکیش بخشی، ایم ایس دھونی: دی یونائیٹڈ سٹوری، رابطہ، ویلکم ٹو نیویارک، کیدرناتھ، سون چڑیا، چھچھورے اور ڈرائیو شامل ہیں۔ سشانت سنگھ راجپوت کو ان کے 12 سالہ کیریئر کے دوران 20 کے قریب ایوارڈز کے لئے نامزد کیا گیا اور انہوں نے 9 ایوارڈز جیتے، انہوں نے بہترین ڈیبیو اداکار، بہترین پاپولر اداکار اور بہترین اداکار کے فلم فیئر، سکرین ایوارڈ اور زی سائن ایوارڈز جیتے۔ ان کی ہلاکت پران کے چاہنے والوں میں غم اورافسوس کی لہردوڑگئی اوروہ سوشل میڈیاپراپنے دکھ کااظہار کررہے ہیں۔



اداکارہ صبیحہ خانم امریکہ میں انتقال کر گئیں

1 month ago


صبیحہ ورجینیا میں اپنی بیٹی کے پاس مقیم تھیں

نامور اداکارہ صبیحہ خانم ہفتہ کی صبح ورجینیا، امریکہ میں انتقال کرگئیں، جہاں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں. وہ 16 اکتوبر 1935 کو گجرات، پنجاب میں پیدا ہوئی تھیں. وہ مشہور فن کار جوڑے ماہیا اور بالو کی بیٹی تھیں. ان کا اصل نام مختار بیگم تھا. انہوں نے فنی زندگی کا آغاز لاہور میں ایک ڈرامے "بت شکن" میں کام کرکے کیا. انور کمال پاشا نے ایک فلم میں چھوٹی بچی کا کردار دیا، پھر انہوں نے ہی اپنی فلم ’’دو آنسو‘‘ میں ہیروئن کاسٹ کیا. یہ فلم تو اتنی کامیاب نہیں ہوئی، اس کے بعد انور کمال پاشا کی ہی فلم ’’گمنام‘‘ میں صبیحہ نے فلم بینوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا. فلم "سرفروش" سے صبیحہ ایک اہم اداکارہ مان لی گئیں. اس کے بعد ان کی سات لاکھ، چھوٹی بیگم، ناجی، حسرت، دامن، سوال، وعدہ، ایاز، عشق لیلیٰ اور اک گناہ اور سہی پاکستانی فلمی صنعت کی مایہ ناز فلمیں ہیں. اسی دوران نامور ہیرو سنتوش کمار ان کے عشق میں گرفتار ہوگئے اور بالآخر ان کی شادی ہوگئی۔ صبیحہ نے سنتوش کمار کے ساتھ بے شمار فلموں میں کام کیا، جن میں چند پنجابی بھی تھی‌ ۔ سدھیر کے ساتھ صبیحہ کی فلم ’’دُلّا بھٹی‘‘ بھی بہت مقبول ہوئی. خاص طور پر ان پر فلمایا گیا منور سلطانہ کا گایا گیت.... واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا.... چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچاویں وے کبوترا....اس زمانے میں ہر شخص کی زبان پر تھا. فلم" مکھڑا" میں صبیحہ خانم پر فلمائے، زبیدہ خانم کے گائے گیت.... دِلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے.... کوئی جاندی واری سجناں نوں گل کہن دے... نے بھی ریکارڈ مقبولیت حاصل کی. ان پر فلمائے کچھ اور مشہور گیت یہ ہیں: گھونگھٹ اٹھا لوں کہ گھونگھٹ نکالوں... سیّاں جی کا کہنا میں مانوں کہ ٹالوں(سات لاکھ) تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے... پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے(گمنام) نہ چھڑا سکوکے دامن نہ نظر بچا سکو گے.... جو میں دل کی بات کہہ دوں توکہیں نہ جاسکوگے(دامن) لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم..... میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے (سوال) او مینا نہ جانے کیا ہوگیا... میرا دل کھو گیا (چھوٹی بیگم) رقص میں ہے سارا جہاں (ایاز) چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے (عشق لیلی') صبیحہ خانم نے پاکستان ٹیلی ویژن پر گلوکاری کے جوہر بھی دکھائے. ان کا گایا ہوا قومی نغمہ ’’جُگ جُگ جیے میرا پیارا وطن‘‘ بہت مقبول ہوا. صبیحہ خانم کو سلور سکرین کی "گولڈن گرل" کہا جاتا تھا۔انہیں فلم ’’ اک گناہ اور سہی‘‘ پر تاشقند فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا اور 1987ء میں صدر پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا.