دشمن کے ساتھ مل جائیں

کریم اللہ گوندل
سینئرصحافی،تجزیہ نگار

2 weeks ago


یوٹرن سے ملنے تک کاسفرآسان ہے

انگریزی زبان کا محاورہ ہے جس کا ترجمہ ہے کہ اگر آپ اپنے دشمن کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے ساتھ مل جائیں اس سے کم از کم آپ کو تھوڑا بہت صورتحال پر کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔ کرکٹرعمران خان کے نوجوانی کے دنوں میں لندن میں کوئین نام کا ایک راک بینڈ بنا اور اس بینڈ نے تو یہ گانا بھی بنا دیا تھا جس کے شعروں میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ اپنے دشمن کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے ساتھ شامل ہو جائیں اس سے آپ کو فائدہ ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان 2002 کے عام انتخابات سے قبل جنرل پرویز مشرف کے صدارتی ریفرنڈم میں ان کے سرگرم حامی تھے اور ان کی حمایت میں جلسے جلوس کر رہے تھے۔ انتخابات کے بعد فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے وزارت عظمٰی کے عہدے کے امیدوار کے طور پر عمران کو انٹرویو کے لئے بلایا تو انہیں عمران کا رویہ پسند نہ آیا اور انہوں نے عمران کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد سے عمران خان نے نہ صرف جنرل پرویز مشرف بلکہ فوج کے سیاسی کردار کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیئے۔

بھارت میں ایک میڈیا ہائوس کی جانب سے منعقد کئے گئے ایک جلسہ میں تو انہوں نے قرار دیا تھا کہ یہ کسی ایک جنرل کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ فوجی تربیت کا مسئلہ ہے کہ وہ بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ پھر میڈیا کے ذریعے یہ باتیں سامنے آنے لگیں کہ آئی ایس آئی کے ایک جنرل مسلم لیگ قاف سے بندے توڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرانے لگے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما پرویز الہیٰ ایک ٹی وی انٹرویو میں اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

شاید کرکٹر عمران خان نے اپنی جوانی میں اس محاورے اور گانے سے سبق سیکھ لیا ہو گا کہ اگر آپ اپنے دشمن کو زیر نہیں کر سکتے تو اس کے ساتھ مل جائیں۔ عمران خان نے 30 اکتوبر 2011 کو لاہور میں مینار پاکستان پرجلسہ عام کیا۔ وہ تحریک انصاف جو پورے ملک میں پانچ سو افراد اکٹھے کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اس کے جلسے میں اچانک لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ اس تاریخی جلسہ میں عمران نے تقریر کا آغاز ہی اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے خلاف مبینہ انکشاف سے کیا اور اسے بہت بڑا میمو سکینڈل قرار دیا۔

شاید عمران خان نے تہہ دل سے قبول کر لیا تھا کہ وہ اپنے دشمن کو شکست نہیں دے سکتے اس لئے ان کے ساتھ مل چکے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن جو پاکستان تحریک انصاف کی حریف سیاسی جماعت تھی اس کے سربراہ نواز شریف بھی کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ نون لیگ کے مرکزی رہنما خواجہ آصف حسین حقانی کو غدار اور نہ جانے کیا کیا قراردینے لگے۔ کوشش ہونے لگی کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعے حسین حقانی کو ملک میں لا کر ان پر مقدمہ چلایا جائے مگر حقانی ریاست سے طاقتور نکلے اور معاملہ دب گیا اور حسین حقانی خاموشی سے ایک امریکی ادارے میں ملازمت کرتے ہوئے اپنا وقت لکھنے پڑھنے میں گزار رہے تھے۔


حالیہ دنوں میں تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے اور مسلم لیگ نون کے قائد محمد نواز شریف نے لندن سے اپنے نئے بیانئے پر مبنی تقاریر جاری کرنا شروع کی ہیں جس میں وہ فوج کے سیاسی کردار کو نشانہ بنا رہے ہیں۔نواز شریف کے اس بیانئے کا ملک میں خوب چرچا ہے۔ ایسے میں ہر کوئی منتظر تھا کہ وزیراعظم عمران خان کیا جواب دیتے ہیں۔ عمران خان نے بالاخر ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دینے کا فیصلہ کیا تو اس میں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ وہ حسین حقانی کو نشانہ بنانا نہیں بھولے۔

اس نئی پیش رفت سے حسین حقانی بہت خوش ہیں۔ وہ کئی مہینے سے خاموش تھے اور لگ رہا تھا کہ اب گمنام ہو جائیں گے لیکن وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی پر انہیں خطرہ قرار دے کر انہیں گمنامی سے بچا لیا۔ ویسے اگر یہ حسین حقانی اتنی ہی بڑی توپ ہیں جتنی کہ یہ کہتے ہیں اور اوپر سے بقول ان کے بکائو مال بھی ہے تو یہ ان کی بات مان لیں، اس سے سودا کر لیں یا معاملات اس کے سپرد کر دیں۔ ریاست پاکستان کے اتنے بڑے دفتر خارجہ اور سفارتخانے وغیرہ پر ایک فرد واحد اتنا بھاری ہے؟ اگر ہے تو ان کی منت سماجت کرکے اسے ساتھ ملا لیں۔ اس پر لعن طعن سے پہلے کیا افاقہ ہوا ہے جو اب ہوجائے گا؟ ویسے بھی آپ کی سیاسی زندگی دشمنوں کے ساتھ مل جانے کی تاریخ سے بھری ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنے دشمن کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے ساتھ مل جائیں اس سے کم از کم آپ کو تھوڑا بہت صورتحال پر کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے