پی ڈی ایم کے دھرنے کا رخ راولپنڈی کی طرف

کریم اللہ گوندل
سینئرصحافی،تجزیہ نگار

2 weeks ago


خوف ایک بار اتر جائے تو اس کودوبارہ ذہنوں میں ڈالا نہیں جا سکتا

 خوف کو نفسیات میں شامل کرنے کے لئے مسلسل جبر روا رکھنا پڑتا ہے اور اگر خوف ایک بار اتر جائے تو اس کودوبارہ ذہنوں میں ڈالا نہیں جا سکتا۔

وسط ایشیا سے آنے والے حملہ آوروں کی مسلسل آمد اور ان کی فتوحات کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ اصل میں ہندوستانیوں کی خوفزدہ ذہنیت کا ثبوت تھا۔

کوئی چھوٹے سے چھوٹا لشکر بھی آتا تھا تو وہ دہلی پہنچ کر ہی دم لیتا تھا۔ ہندوستانیوں کو لگتا تھا کہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا ان کے بس میں نہیں۔

مائیں بچوں کو ڈرانے کے لئے کہا کرتی تھیں کہ پٹھان آ گیا۔ اس طرح پٹھانوں اور وسط ایشیائی حکمرانوں کا خوف بچپن سے لے کر مرتے دم تک ہندوستان کے باشندوں کے ذہنوں پر طاری رہتا۔

پھر رنجیت سنگھ کی حکومت بننے سے قبل سکھوں نے وسط ایشیائی حکمرانوں کا خوف اتار پھینکا اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

رنجیت سنگھ نے اقتدار میں آ کر افغانستان کا رخ کر لیا۔ پشتون علاقوں پر رنجیت سنگھ کے کمانڈر ہری سنگھ نلوا کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں یہاں سکھوں کا خوف پھیل گیا۔

پٹھان مائیں اپنے بچوں کو ہریا را غلے کہہ کر ڈرایا کرتی تھیں۔ آج تک ان علاقوں پر یہ خوف موجود ہے کہ پنجابی فوجی بہت طاقتور اور ناقابل شکست ہوتے ہیں۔

افغانستان میں چھوٹے چھوٹے عہدیداروں نے بڑے بڑے معرکے سر کئے اور ان کامیابیوں نے اس خوف کو مزید دو چند کیا۔ یہی خوف ہمارے اپنے عوام میں بھی در آیا۔

ہمارے اداروں میں بیٹھے جج، سیاستدان، سرکاری ملازم اور تاجر فوجی آ گیا فوجی آ گیا کا شور سنتے ہی ہتھیار ڈال دیتے تھے۔ بلکہ فوجی تو بہت دور کی بات تھی محض پولیس کا ایک کانسٹیبل پورے پورے گائوں اور محلے کو ہانک کر لے جایا کرتا تھا۔

پولیس کا تو خوف ختم ہوا اور وہ بھی پولیس کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے۔ پولیس ہر جگہ پر ناکے لگا کر روپیہ دو روپے بٹورنے لگی تھی تو لوگوں نے ان کا نام چِھلڑ اور ٹھلّا رکھ دیا۔

شہروں میں لڑکے بالے موٹرسائیکل سواری کرتے ہوئے راستے میں نظر آنے والے ہر پولیس اہلکار کو چِھلڑ یا ٹھلّے کی آواز کس کر حَظ اٹھاتے تھے۔

بحرحال فوج کا خوف موجود رہا کیونکہ فوج اپنا سحر یا چھب بچانے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔

ماضی میں تو حالت یہ تھی کہ بس ایک میجر کی طرف سے سپریم کورٹ کے کئی ججوں کو نوکری سے برطرفی کی اطلاع دیا جانا کافی سمجھا جاتا تھا۔

ایک آدھ صوبیدار یا کپتان کی سربراہی میں لاہور اور پنڈی جیسے شہریوں کے پورے تھانے کو بند کر کے پولیس کی دھلائی کر دی جایا کرتی تھی۔

وقت بدل رہا ہے۔ اب جگہ جگہ فوج کے کاروباری ادارے قائم ہیں اور ان کے عوام کے مفادات سے ٹکرائو کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج سے مرضی کا فیصلہ کرانے کے لئے جرنیلوں کو خود تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔

سپریم کورٹ کے ایک جج کی برطرفی کے لئے بڑا لمبا چوڑا گھمائو پھرائو والا مقدمہ بنانا پڑتا ہے۔


آخری کیل پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ ٹھونک رہی ہے جو اس بات کا اعلان کرنے کو ہی ہے کہ اگر فوج اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنے سے باز نہ آئی تو اس کے دھرنے کا رخ راولپنڈی کی طرف ہو جائے گا۔

اگر یہ دھرنا واقعی ہو گیا تو پھر فوج کی چھب یا ناز نخرہ تو دور کی بات انہیں بھی چِھلّڑ یا ٹھلّا جیسا کوئی نام ملے گا۔ پھر ان کے بھی پلاٹوں کے قبضے لینے یا چھڑانے میں ناکامی پر تبادلے ہوا کریں گے۔


فیصلہ کرنے میں وقت کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔خوف کو نفسیات میں شامل کرنے کے لئے مسلسل جبر روا رکھنا پڑتا ہے اور اگر خوف ایک بار اتر جائے تو اس کودوبارہ ذہنوں میں ڈالا نہیں جا سکتا۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

دشمن کے ساتھ مل جائیں