طالبان افغانستان پر دوبارہ حکمرانی کے خواب چھوڑ دیں

حسین حقانی
کالم نگار

3 months ago


بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے فوجیوں کے ہنگامی انخلا کو سست کردیا

بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے ہنگامی انخلا کو سست کردیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جو بائیڈن نے ”افغانستان اور مشرق وسطی ٰمیں جاری لامتناہی جنگوں“ کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن ”فوجیوں کی بڑی اکثریت کو افغانستان سے وطن واپس لانے“ کے ان کے وعدے کی جگہ ،القاعدہ اور داعش پر توجہ مرکوز کرنے کے عزم نے لے لی ہے۔

اپنے دور صدارت کے پہلے کچھ دنوں میں، بائیڈن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کی قیمت کے طور پر طالبان کے لئے راستہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

گذشتہ سال دوحہ میں امریکی حکومت اور طالبان کے مابین ہونے والے معاہدے پر اس امید کے ساتھ دستخط کئے گئے تھے کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کریں گے۔ افغانستان میں القاعدہ کو تقویت ملنے کی اطلاعات کے باعث، بائیڈن انتظامیہ کے پاس یہ یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ طالبان اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس کالم نگار سمیت ، دوحہ معاہدے کے ناقدین نے مسلسل یہ استدلال کیا ہے کہ اس نے طالبان پر ذمہ داریاں عائد کئے بغیر امریکی واپسی کو ترجیح دی ہے۔

افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے خواہش کا اظہار کر کے، ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان کو امریکی مدد سے کابل میں قائم جمہوری حکومت کے متعلق مزید لاپروا کر دیا۔

طالبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعدافغانستان میں مفاہمت کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کابل حکومت پر دبائو ڈالا کہ وہ طالبان کے قیدیوں کی رہائی جیسی مراعات طالبان کو دے لیکن وہ افغانستان میں مسلسل پرتشدد حملوں پر طالبان کی مذمت کرنے میں ناکام رہے اور محض تشدد کی عمومی مذمت کرتے رہے۔

خلیل زاد کے طالبان حملوں کے بارے میں خاموشی اختیار کئے رکھے جانے کی وجہ دوحہ معاہدے کی تحریر میں موجود ہے۔ طالبان نے جنگ بندی کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا اور صرف اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ”مستقل اور جامع جنگ بندی انٹرا افغان مذاکرات اور مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگی۔“

صدر ٹرمپ کے امریکی فوجیوں کی واپسی میں تیزی لانے کے دبائو کے تحت ، خلیل زاد کو ایک معاہدہ تیار کرنے پر مجبور کیا گیا تھا جس میں طالبان کے تشدد کا خاتمہ کرنے یا افغان حکومت کو مذاکرات کے دوسرے فریق کی حیثیت سے قبول کرنے کے واضح اظہار کے بغیر امریکی واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا۔

طالبان چونکہ اسلامی شریعت کے طالب علم ہیں اور ان کے عقائد کے مطابق ، معاہدہ صرف اس کے لفظی معنی تک محدود ہوتا ہے۔

خلیل زاد کی جانب سے طالبان کے ساتھ کئے گئے امریکی معاہدے کے نتیجے میں ”تشدد میں کمی“ کی توقع کو دوحہ معاہدے میں واضح طورپرنہیں تحریر گیاتھا اور یہی اس دستخط شدہ دستاویز کی سب سے بڑی خامی ہے۔

اپنے نقطہ نظر سے طالبان نے تشدد کے خاتمے کا وعدہ نہیں کیا تھا اور صرف دوسرے افغان دھڑوں کے ساتھ تشدد کے خاتمے کے بارے میں بات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

مزید یہ کہ طالبان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ افغان معاہدے کو طالبان کی ”فتح“ کا اعتراف اور ”امریکی قبضے کو ختم کرنے کا ذریعہ“ سمجھتے ہیں۔

طالبان کے بیانیے کے مطابق، انہوں نے 1995 میں افغانستان میں ایک اسلامی حکومت قائم کی تھی ، جسے 2001 میں امریکی اور نیٹو افواج نے غیر قانونی طور پر اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ امریکی افواج کے انخلا ءسے اب افغانستان میں امارت قانونی حکومت کے طور پر بحال ہوگی۔

امریکہ طالبان معاہدے پر دستخط کے بعد ہونے والے انٹرا افغان ڈائیلاگ اہمیت اختیار نہ کر سکے کیونکہ طالبان نے گذشتہ 19 سالوں میں افغان عوام کی حاصل کردہ کامیابیوںکا احترام کرنے سے انکار کردیا ہے۔

طالبان کا رویہ ایسے رہا جیسے وہ خانہ جنگی کے فاتح ہوں اور وہ اب اپنی شرائط پر دوسرے افغان دھڑوں کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کے معاہدے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

افغانستان میں ایک عبوری حکومت کا قیام نزدیک ہونے کی افواہوں نے ان ممتاز افغانوں کی امیدوں کو جنم دیا جو وزارتی عہدے حاصل کئے بغیر انتخابات نہیں جیت سکتے۔

خلیل زاد نے موثر انداز میں یہ تاثر دے کر صدر اشرف غنی کی حکومت کو کمزور کیا کہ امریکہ کے انخلا ءکے بعد افغان عوام کی بجائے امریکی اور یورپی سفارت کار اس بات کا تعین کریں گے کہ افغانستان میں کون حکومت چلائے گا۔

ایک بہتر نقطہ نظر یہ ہوسکتا تھا اور یہ اب بھی ممکن ہے، کہ طالبان پر یہ واضح کیا جائے کہ امریکہ غیر معینہ مدت تک افغانستان میں تھوڑی سی فوج برقرار رکھے گا اور وہ طالبان کے ساتھ حل نکالنے میں افغانستان کی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

یہاں تک کہ پاکستان ، جس نے طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات میں سہولت فراہم کی ہے اور اس گروپ کے رہنمائوں کو طویل عرصہ تک محفوظ ٹھکانے بھی فراہم کئے، اب ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی اب امریکہ کی جلد بازی کو”غیر دانشمندانہ“ قرار دیتے ہوئے اس انداز کی حمایت کرتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے امن عمل میں کابل حکومت کو نظرانداز کرنے کے معاملے کو بڑی دانائی سے تبدیل کردیا ہے۔ غیر ملکی رہنمائوں سے اپنے پہلے رابطے میں ، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محیب سے بات کی ، جس میں امریکہ طالبان معاہدے پر نظرثانی کا وعدہ کیا گیا۔

 اس جائزے میں طالبان کی جانب سے”دہشت گرد گروہوں سے تعلقات منقطع کرنے ، افغانستان میں تشدد کو کم کرنے اور افغان حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامقصد مذاکرات میں شامل ہونے کے وعدوں کی تکمیل کا جائزہ شامل ہوگا۔“

صدر غنی کے ساتھ علیحدہ سے ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں ، سیکرٹری خارجہ ٹونی بلنکن نے”پائیدار امریکہ افغان شراکت داری“ کے بارے میں بات کی اور”انسانی حقوق ، شہری آزادیوں اور افغان معاشرے میں خواتین کے کردار کے حوالے سے گذشتہ 20 سالوں میں ہونے والی پیشرفت“ کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔”

یہ پچھلی انتظامیہ جس کی توجہ صرف امریکی فوج کی واپسی پر مرکوز تھی ،سے بہت مختلف پیغام تھا۔ خلیل زاد کو، یہ بات تسلیم کرتے ہوئے ان کے عہدے پر برقرار رکھا جا رہا ہے کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ جو روابط استوار کئے ہیں وہ مفید ثابت ہوسکتے ہیں لیکن امریکی خصوصی ایلچی کو اب طالبان کو واضح پیغام دینا ہوگا: انہیں افغانستان کے موجودہ ڈھانچے میں امن کی قیمت کے طور پر ایڈجسٹ کیا جائے گا لیکن وہ افغانستان پر دوبارہ حکمرانی کے خواب چھوڑ دیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

جنرل باجوہ کابیان اورغداری کے سرٹیفکیٹ
جنرل باجوہ پاکستان کوغیرجہادی بنانے کے حامی
اپوزیشن کی تحریک

غیر مرئی حکومت کا تصور

6 months ago


اپوزیشن جماعتیں اس بار کچھ زیادہ مطالبہ کر رہی ہیں

<p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">پاکستان کی <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر وسیع البنیاد اتحاد بنایا ہے۔ <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">اس طرح کے اتحادوں کا آ</span><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial Unicode MS','sans-serif'; mso-bidi-language: ER;">غاز </span><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">پاکستان کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان کے مخالف سیاستدانوں کی طرف سے 1960 کی دہائی میں بننے والے اتحاد سے ہوا تھا ۔ لیکن ماضی کے برعکس اس بار سیاستدان صرف صدر یا وزیراعظم کو ہدف بنانے تک محدود رہنے پر تیار نہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار کی بنیاد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">جنرل قمرجاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج کا خیال تھا کہ وہ ڈرائیورنگ سیٹ پر بیٹھے بغیر اقتدار کا مزہ لے گی جس کی وجہ سے وہ حکومتی اقدامات پر عوام کی براہ راست تنقید سے محفوظ رہے گی ۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کی سویلین حکومت جنرل باجوہ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے فوج کو سیاسی حملوں سے نہیں بچا سکی۔ کمزور سویلین چہرہ سامنے ہونے کی وجہ سے سویلین سیاست دانوں نے' حقیقی جمہوریت' کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">اپوزیشن رہنماؤں میں خامیاں پائی جاتی ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کی عوام میں مقبولیت موجود ہے۔ سیاستدانوں کے حامی <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>چاہتے ہیں کہ ان میں خامیاں موجود رہیں اور وہ ان کوتاہیوں سمیت انہیں قبول کر کے ان کا ساتھ <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>دیتے رہیں۔ دوسری طرف فوج کی حمایت اس مفروضے پر قائم ہے کہ یہ سیاست سے بالاتر ایک ادارہ ہے، تربیت یافتہ ہے اور ملک کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span style="mso-bidi-font-family: Arial; mso-bidi-language: ER;">1951 </span><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">میں جب سے ایوب خان نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا تب سے ہی پاکستان کی فوج سیاست میں <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>ملوث ہے۔ پھر بھی اس کے افسران <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>کو حلف اٹھاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے اور فوج اس بظاہر تاثر کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے کہ یہ کوئی سیاسی ایکٹر نہیں بلکہ ایک قومی ادارہ ہے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">لیکن حال ہی میں <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>پاکستانی ٹیلی وژن چینلز پر باقاعدگی سے آنے والے متعدد ریٹائرڈ جرنیلوں میں سے ایک نے فوج کو &ldquo;پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت&rdquo; قرار دیا ہے۔ اب جبکہ اپوزیشن سیاستدانوں نے فوج کو حریف سیاسی جماعت سمجھتے ہوئے اس پر تنقید کرنا شروع کردی ہے تو جنرل باجوہ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہو گی کہ جس سے عوام کو لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو فوج کی حکومت سمجھتے ہیں اور اس حکومت کے مخالفین اور ناقدین کو پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہیں۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">جیسا کہ میں نے ایک بار انڈین ایکسپریس میں تحریر کیا تھا <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>کہ میجر جنرل (ر) شیر علی خان پٹودی نے 1969 میں پاکستان کے دوسرے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان کو مشورہ دیا تھا کہ ایوب خان کے زوال کے بعد فوج نے سیاسی رہنماؤں سے بازی جیتی وہ اس کی بندوق کی طاقت نہیں تھی بلکہ اس کا سحر تھا۔ </span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">پاکستان آرمی کا سحر وہ قیمتی سیاسی وسیلہ ہے جو ایک بار کھو گیا تو آسانی سے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا ۔</span> <span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin;">شیر علی کے خیال میں کرشمہ فوج کا ایک<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>قیمتی سیاسی<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>وسیلہ ہے<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>جو موجود<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>ہے اسی لئے عوام <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>اسے<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>ایک اساطیری اور جادوئی قوت سمجھتے ہیں جو ضرورت کے اس<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>وقت پر ان کا ساتھ دیتی ہے جب باقی سب ناکام ہوجاتے ہیں۔ جنرل شیر علی کے خیال میں عوام<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ساتھ اکثر میل ملاقات کرتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ وہ بدعنوان اور ظالم ہیں لیکن وہ<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>فوج کو پاکستان اور اس کی<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>فلاح و بہبود کا حتمی ضامن سمجھتے ہیں</span><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">۔ </span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">چیزوں کو اس طرح سے رکھنے کے لئے فوج کو پردے کے پیچھے سے <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ اپنے ہی لوگوں پر گولیاں چلا کر اپنا راستہ نہیں بنا سکتی۔ <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span></span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">فوجی <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>حکمرانوں <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>کے براہ راست حکمرانی کے تمام ادوار ، ایوب خان 1958-69 ، یحییٰ خان 1969-71 ، محمد ضیاء الحق 1977-1988 ، اور پرویز مشرف 1999-2007 <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>، ان سیاستدانوں کی اقتدار میں واپسی کے ساتھ ختم ہوئے جنہیں فوج<span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp; </span>شدت سے نظرانداز کرنا چاہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج کی خواہش ہے کہ وہ خود کو اپنا سحر ختم ہونے کی حد تک لوگوں کے سامنے بے نقاب ہونے سے بچائے رکھے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">لیکن وقت گزرنے کے ساتھ <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>پاک فوج سیاست اور میڈیا میں بہت حد تک ملوث ہو چکی ہے اور اس <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>وجہ سے اس کا سحرختم ہونا شروع ہو گیا ہے جس پر اساطیری ادارہ قرار دیئے جانے کے سلسلے میں فوج انحصار کرتی ہے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">اس بارآرمی کمانڈر براہ راست اقتدار میں بھی نہیں ہے اس کے باوجود فوج کا کردار سیاسی طور پر متنازعہ ہوتا جارہا ہے۔ فوج کو ایک بار پھر نظر آئے بغیر حکمرانی کرنے کے طریقے پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ </span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">جنرل باجوہ نے پہلے ہی یہ کہہ کر فوج کے سیاسی کردار کے ناقدین کے لئے صلح کا پیغام بھیجا ہے کہ مثبت تنقید کو پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ سے گڈ مڈ نہیں ہونا چاہئے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>آپ کو زیادہ تر بلند ہونے والی زیادہ تر آوازیں جو آپ کو <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>سنتی ہیں <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>وہ محبت ، حب الوطنی اور اعتماد کی جگہ سے سنائی دیتی ہیں لہذا ان پر دھیان دینا ہوگا۔</span><span style="mso-bidi-font-family: Arial; mso-bidi-language: ER;">"</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">یہی وہ بات ہے جو ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ پاکستان کے جرنیل بار بار سیاست میں کیوں ناکام رہے ہیں۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">پاک فوج کے کمانڈر ان چیف (1958-1966) جنرل محمد موسیٰ نے وضاحت کی کہ سیاست نے انہیں پریشان کر دیا ہے کیونکہ انہیں "دشمن کا پتہ لگانے اور دشمن کو ختم کرنے" کی تربیت دی گئی تھی۔ " مجھے اپنے افسران کا حکم ماننے اور اپنے ماتحتوں پر حکم چلانے کی تربیت دی گئی تھی لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ اپنے عقائد اور نظریات کے باعث اختلاف کرنے والے "میرے اپنے لوگوں" کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا چاہئے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">سیاست، متبادل حل ، تصورات اور پالیسی آپشنز کے مابین انتخاب کا نام ہے۔ اس میں سمجھوتہ کرنے اور <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>کچھ لو اور کچھ دو کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں قائل کرنے ،حکم نہ چلانے اور تابع داری کرنا ہوتی ہے۔</span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;"><span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span><span lang="ER">اگراپوزیشن جماعتیں بڑے احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو گرانے میں ناکام بھی ہوجاتی ہیں تو بھی باجوہ کا سیاسی کردار انہیں اس حزب اختلاف سے بات چیت پر مجبور کردے گا <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>جس سے وہ حقیر سمجھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ پورے ادارے کے اعتراف کا باعث نہیں بن سکتی کہ وردی میں گزاری جانے زندگی ایک جرنیل کو سیاسی دنیا کے ناہموار اور ٹھوکروں والی زندگی کے لئے تیار نہیں کرتی۔</span></span></p> <p class="MsoNormal"><span dir="RTL" lang="ER" style="font-family: 'Arial','sans-serif'; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-language: ER;">ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اس مضمون پر زیادہ تر پاکستانی فوجیوں کا ردِعمل یہ ہوگا کہ وہ اسے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>صحافتی ادارے میں شائع ہونے والی <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>جلاوطن پاکستانی کی تحریر قرار دے کر مسترد کر دیں گے ، بغیر یہ سوچے کہ لوگوں کو جلاوطنی پر مجبور کیا جاتا ہے اور ہم میں سے بہت سارے افراد کو پاکستان کے اپنے میڈیا میں لکھنے سے کیوں روکا گیا ہے؟</span><span style="mso-bidi-font-family: Arial; mso-bidi-language: ER;"> .</span></p> <p class="MsoNormal"><span style="mso-bidi-font-family: Arial;">&nbsp;</span></p> <p class="MsoNormal"><span style="mso-bidi-font-family: Arial;">&nbsp;</span></p> <p class="MsoNormal"><span style="mso-bidi-font-family: Arial;">&nbsp;</span></p>



کیاطالبان جنگ بندی سے انکاری ہیں؟؟

7 months ago


رہاہونے والوں نے دوبارہ ہتھیاراٹھالئے

<p style="text-align: right;">محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی اور امریکی انخلا کے نظام الاوقات پر عمل پیرا ہونے کے باوجود بھی طالبان جنگ بندی سے انکار کر رہے ہیں۔حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے بہت سے طالبان نے دوبارہ ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور وہ میدان جنگ میں واپس آ گئے ہیں۔ امریکی حکومت کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طالبان نے ابھی تک القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات نہیں توڑے اور امریکیوں کے ساتھ ساتھ افغانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔</p> <p style="text-align: right;">طالبان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت معطل کرنے کا وقت آن پہنچا ہو۔مذاکرات کی معطلی سے یہ تاثر ختم ہوجائے گا کہ امریکی افغانستان سے دستبرداری کے لئے اس قدر بے چین ہیں کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ ان کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار میں واپس آتے ہیں یا نہیں۔مذاکرات معطل کرنے کی حکمت عملی طالبان کو اپنے وعدے پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس سے پاکستان کو بھی یہ اشارہ ملے گا کہ اسے لڑائی ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طالبان کو پناہ گاہ سے محروم ہونے کی دھمکی دینا ہوگی۔</p> <p style="text-align: right;"><br />کسی مشکل سودا بازی کے بغیر طالبان کے تمام مطالبات تسلیم کر کے مذاکرات کی امریکی حکمت عملی نے انہیں مزید شہہ دی ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امن کے بارے میں امریکہ اور طالبان کے نکتہ ہائے نظر بہت مختلف ہیں۔ امریکی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں خونریزی ختم ہو، جبکہ طالبان اپنی فتح کو امن کا آغاز سمجھتے ہیں۔طالبان نیٹو افواج کے انخلا کی حوصلہ افزائی کے لئے ان مذاکرات میں شامل ہوئے تھے جب وہ نائن الیون کے بعد ختم ہونے والے اپنے اسلامی امارت کی بحالی کی آ س لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس امکان کو یقینی بنانے کا راستہ تھا کہ اس کے طفیلی طالبان کابل پر قبضہ کر لیں تاکہ ہمسایہ ملک میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اسے مزید نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />بین ثبوتوں کے باوجود پاکستان برسوں سے اس حقیقت سے انکار کرتا چلا آ رہا ہے کہ اس نے طالبان کی حمایت کی یا اس کی قیادت کو پناہ دی ۔ صدر ٹرمپ کی طالبان سے بات چیت کے لئے آمادگی نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ افغانستان میں اس کے "ڈبل گیم" کے الزامات سے بالاتر ہوکر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے۔انتظامیہ کا طالبان کے آمرانہ نظریات کو نظرانداز کر کے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا عملی حقائق پر مبنی فیصلہ تھا ۔اس کے علاوہ اس جنگ کو طوالت دینے ،امریکی جانوں اور خزانوں کونقصان پہنچانے میں پاکستان کے کردار کو معاف کرنے کی بھی ضرورت تھی۔</p> <p style="text-align: right;"><br />اگر یہ مذاکرات امن قائم کرنے قائم کرنے کا باعث بنتے ہیں تو ان کی یہ قیمت چکانا ایک اچھا سودا ہو سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان جنگ کے خاتمے اورافغانستان کے اقتدارکے ڈھانچے میں شامل ہونے پر راضی نہیں ۔ وہ مطلق طاقت چاہتے ہیں اور اپنی تشریح کے مطابق اسلامی قانون افغان عوام پر مسلط کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے کے صرف پانچ دن بعد طالبان نے 5 مارچ کو ایک فتویٰ جاری کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ، افغانستان کے جائز حکمران اور اس کی "اسلامی حکومت" کے سربراہ ہیں۔</p> <p style="text-align: right;"><br />اس طرح کے بیانات سے افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کے جمہوری آئین کے پابند دیگر افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔طالبان کا موقف سخت ہونے کی وجہ ان کا یہ اندازہ ہے کہ امریکی صدر کا افغانستان سے دستبرداری کا فیصلہ ناقابل واپسی ہے۔ وہ کابل میں سیاسی تقسیم کو بھی اپنے لئے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ ایک بار امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کو توقع ہے کہ وہ اپنے نظریہ کے خلاف کسی بھی مزاحمت کا بے رحمی سے صفایا کردیں گے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />دوسری طرف امریکہ اورطالبان کے رہنماو&iquest;ں کے مابین براہ راست مذاکرات کی سہولت کے بعد پاکستان کو لگتا ہے کہ اب اس کے اپنے ماضی کے طرز عمل کو بھلا دیا گیا ہے۔ پاکستان چاہے گا کہ امریکہ مذاکرات کو جاری رکھے چاہے ان کا کوئی بھی نتیجہ نہ نکل رہا ہو اور پاکستان خود طالبان قیادت پر سمجھوتے کے لئے دباو&iquest; ڈالنے سے انکار کرتا رہے۔ پاکستانی عہدے دار یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ ختم ہو گیا ہے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />حقیقت یہ ہے کہ طالبان رہنما دوحہ میں مذاکرات کے لئے پاکستان سے سفر کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے خاندان قطر یا پاکستان میں رہتے ہیں۔ امریکہ اس بات پر اصرار کرسکتا ہے کہ پاکستان (اور قطر) کو صرف اچھا میزبان ہونے سے آگے بڑھ کر طالبان سے بات کرنا چاہئے اور اگر وہ مذاکرات کے حل کے لئے شرائط کو قبول نہیں کرتے تو طالبان رہنماو&iquest;ں کو ملک بدر کرنے کے دھمکی کا استعمال کرنا چاہئے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />امریکہ کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی لامتناہی جنگ سے نکلنے کی خواہش، اس ملک کی مایوسی اور اپنی افواج کے انخلا کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر آمادگی کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ افغانستان کو طالبان کے زیر اقتدار چھوڑنا ، خاص طور پر جب چین خطے میں اپنی سرمایہ کاری کو بڑھا رہا ہے اور خطے کی غالب طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے، امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔</p> <p style="text-align: right;"><br />جب تک کہ طالبان زیادہ لچک نہ دکھائیں تب تک مذاکرات کی معطلی سے پاکستان کو طالبان کا بازو مروڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ افغانستان سے انخلا کے لئے زیادہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے تو چین (جس کی طالبان کے اقتدار میں واپسی کے خوف کی اپنی وجوہات ہوسکتی ہیں) بھی افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کو زیادہ سنجیدگی سے لے گا۔</p>



باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت

8 months ago


عمران خان شہزادہ محمد کو اپنا حلیف نہیں سمجھتے

<p>پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دو شراکت دار ممالک کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ رنجش کو ختم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ریاض اور اسلام آباد کے مابین اختلافات اس وقت سامنے أئے تھے جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الٹی میٹم دیا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون</p><p>تنظیم کا اجلاس طلب کرے۔</p><p>پاکستان برسوں سے اقتصادی بیل آؤٹ اور غیر ہنر مند مزدوروں کے لئے ملازمتوں کہ جن سے ملنے والی ترسیلات زر پاکستان کے ادائیگیوں کے عدم توازن کے دیرینہ مسئلے سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں کے سلسلے میں سعودی عرب پر انحصار کرتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن اب ناراضی کی وجہ سے سعودی عرب قلیل المدتی قرضوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کررہا ہے</p><p>اور تیل کے معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں بھی گرم جوشی کا اظہار نہیں کر رہا جس کے تحت پاکستان کو رعایتی شرائط تیل مل رہا تھا۔</p><p>تعلقات میں تناؤ کم کرانے کے لئے جنرل باجوہ کی مداخلت اس احساس کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان سعودیوں کو چھوڑنے کا متحمل نہیں ہے۔ پھر قریشی نے کیوں سعودی مخالف بیان بازی کی جس پر قائم نہیں رہا جا سکتا تھا؟</p><p>اس بات کو سمجھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی حد سے بڑھی سادہ لوحی اور بہت سے پاکستانیوں کی خام خیالی کو سمجھنا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ بدلے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کی حیثیت مرکزی ہے۔</p><p>کئی دہائیوں سے خصوصاً 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے سٹرٹیجک امور سے متعلق ریٹائرڈ پاکستانی جرنیل اور سویلین لکھاری جنوبی اور وسطی ایشیا میں’’ نئی گریٹ گیم ‘‘ کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان کو خطے میں سیاسی محور بنا دے گی۔</p><p>یہ تصور برطانوی ماہر جغرافیہ ہالفورڈ میکندر کے نظریہ ہارٹ لینڈ سے لیا گیا جو 1904 میں پیش کیا گیا تھا جس وقت پاکستان کا وجود بھی نہیں تھا، امریکہ ابھی ایک سپر پاور نہیں بنا تھا اور ایئر پاور یا سیٹلائٹ اور سائبر ٹکنالوجیوں کے فوجی استعمال کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔</p><p>افغانستان میں پاکستان کی نائن الیون سے قبل مداخلت، غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے طور پر جہادی عسکریت پسندوں کی حمایت اور چین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات پاکستان کے سٹریٹجک مقام کا فائدہ اٹھانے اور عالمی افق پر اسے ایک بڑا کھلاڑی بنانے کی عظیم حکمت عملی کے حصے کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔</p><p>بعض امریکی اسے بڑا سراب قرار دے کر مسترد کرتے ہیں خصوصاً نائن الیون کے بعد جب پاکستان کو ایک بار پھر امریکہ کا اتحادی بننے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کے معاشی مسائل اور بیرونی طاقتوں پر اس کے مستقل انحصار کے باوجود پاکستان کے ناگزیر ہونے کا نظریہ پاکستانیوں میں برقرار ہے۔</p><p>افغانستان سے امریکی افواج کے جلد ہونے والے انخلا، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے امکان اور معاشی طور پرمضبوط چین سے وابستگی سمیت کئی عناصر نے مل کر اس نظریہ کو تقویت دی ہے کہ پاکستان عالمی انتظام میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پرابھرے گا۔</p><p>اس تناظر میں عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کے زوال اور چین کے عروج سے پاکستان کو فائدہ ہو گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی وجہ سے شاید پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس نے پاکستان اورچین کو مجبوری کےبندھن میں باندھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں بھارت دشمنی کی قدر مشترک ہے لیکن بھارت کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایک جارح اور آمریت پسند چین کے ساتھ جلد ہونے والی اپنی محاذ آرائی میں ایک حلیف سمجھتے ہیں۔</p><p>پاکستان کی ناگزیر سٹریٹجک اہمیت کا یقین رکھنے والوں کو امید ہے کہ افغانستان کے بعد امریکہ مشرق وسطی سے بھی آہستہ آہستہ نکل جائے گا۔ ان کے خیال میں اس کے بعد پاکستان مشرق وسطی سے چین کے رابطے کے طور پر کام کرے گا جس سے مشرق وسطی کے تیل کو نکالنے اور خلیج کے بحری جہازوں کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کو ٹھیکیدار کا کردار مل جائے گا۔</p><p>اس کے بعد پاکستان افغانستان پر بالادستی کے اپنے پرانے خوابوں کو پورا کر سکے گا، ہندوستان کےساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اپنی شرائط پر حل کر سکے گا اور مسلم دنیا کے قدرتی رہنما کا کردار ادا کر سکے گا اور واحد جوہری طاقت کے طور پراپنا صحیح مقام بنا سکتا ہے۔</p><p>وزیر اعظم عمران خان اور ان کے حواریوں سمیت متعدد بااثر لوگوں نے اس طرح کی من گھڑت سوچ پر یقین کر رکھا ہے۔ پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ اور مستقل اسٹیبلشمنٹ میں ان کے اتحادی اس قسم کے تصورات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مزید مثبت قومی بیانیہ بنانے میں مدد ملے گی۔لیکن امیدوں اور حقیقت کے مابین پائے جانے والے فرق کو سمجھنے میں وہ شاید کچھ زیادہ ہی عملیت پسند ہیں۔</p><p>ان دنوں&nbsp; پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز پر بیٹھ کر تجزیئے کرنے والے ماہرین کی اکثریت چین ،روس ، ایران اور پاکستان کےاتحاد میں اس ملک کے آئندہ اہم کردار کا خصوصی تذکرہ کرتے ہیں جس کا مقصود امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کو شکست دینا ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر نے&nbsp; پانچ ممالک کے اتحاد کے بارے میں بات چیت کی حوصلہ افزائی کی اور اس متنوع گروہ میں تعاون کی راہ میں رکاوٹ بننے والے مختلف امور کو یکسر نظر انداز کر گئے۔</p><p>کوویڈ کے بعد کے نئے عالمی نظام کے بارے میں کسی پاکستانی اخبار میں ایسے مضامین کی اشاعت کوئی غیر معمولی بات نہیں جو پاکستانی اسلامی پسندوں کے خوابوں پر مبنی ہو گا۔</p><p>پاکستان میں اس قسم کی بیان بازی ترکی کے اسلام پسند صدر رجب طیب اردوان کے عثمانی دور کے احیا کی بڑ سے مختلف نہیں جو ترکی کی اس وقت کے کمزور معاشی حالت کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔</p><p>عمران خان اردوان کے بہت بڑے پرستار ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت کے مسائل کا حل پین اسلام ازم کو سمجھتے ہیں۔</p><p>پاکستان نے ایک طویل عرصے سے پین اسلام ازم کے راستے پر سفر شروع کیا ہوا ہے لیکن یہ اس قوم کے شناخت کے بحران سے نمٹنے کا ایک ذریعہ تھا جو صرف 73&nbsp; سال پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس سے کچھ ہی عرصہ قبل ہی اس کا تصور کیا گیا تھا۔</p><p>زیادہ تر پاکستانی رہنما اسلامی اتحاد کی حدود کو سمجھتے تھے اور معاشی اور سلامتی وجوہات کی بنا پر مغرب سے اتحاد کرتے رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اپنی ہی بیان بازی پر یقین رکھتے ہیں ۔</p><p>&nbsp;کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان نے پاکستانیوں سے ایک ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھنے کے لئے کہا جو غالباً عثمانی خاندان کے بانی عثمان کے والد کی زندگی پر مبنی ہے۔ ارطغرل کے بارے میں تاریخی ریکارڈ بہت کم ہے لیکن اس شو کے پروڈیوسروں اور کہانی لکھنے والوں نے چند خاکہ نما تاریخیحوالوں کو ایک 150 اقساط کے ڈرامے کی شکل دے دی۔</p><p>اس ڈرامے کے ہیرو کو ایک عظیم مسلمان جنگجو کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں پر قابو پانے کے ابتدائی مرحلے میں فاتح بن کر سامنے آتا ہے جس کو اردوان نے ایک بار جاری ہلال اور صلیب کے درمیان کشمکش قرار دیا تھا۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اردوان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں جو ان سے بھی بڑھ کر سوچتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف اپنی لڑائیاں جیتنے کے علاوہ مغرب کو نیچا دکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p><p>کسی کو عمران خان کے مغرب پسندی کے ظاہری حلیئے سے دھوکا کھاتے ہوئے بے وقوف نہیں بننا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا ان کی زبان کی لغزش تھی۔</p><p>یہ ایسے عالمی منظر نامے کی عکاسی ہے جسے پاکستانیوں میں بہت حمایت حاصل ہے۔ اس پس منظر میں عمران خان اور ان کے پیروکار سعودی عرب کے موجودہ رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی اسلام پسند نیو عثمانی خیالی دنیا جسے وہ چین کی مدد سے بنانے کی امید باندھے ہوئے ہیں کا حلیف نہیں سمجھتے۔</p><p>سعودی اب اسلام پسند اخوان المسلمون کی مخالفت کر رہے ہیں ، ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں&nbsp; اور اسرائیل بلا سوچے سمجھے مخالفت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔</p><p>یہ بات عمران خان کو اتنا ہی پریشان کرتی ہے جتنا اس سے اردوان ناراض ہوتے ہیں۔</p><p>پاکستان کی لین دین کی ضروریات کی وجہ سے خان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہیں بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی کے لئے عارضی طور پر اپنا امریکی مخالف لبادہ اتار دیا تھا۔لیکن ان&nbsp; کے بیشتر حامیوں کی طرح خود ان کے اپنے دل میں ایک ایسے عالمی نظام کی خواہش ہے جس میں چین دنیا پر بالادستی رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر پھلتا پھولتا رہنے دیتا ہو۔</p><p>چین کے ایغوروں&nbsp; کی حالت دیکھ کر پاکستان کے أرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر جہاد کرنے والے جہادیوں کو چین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برداشت کے متعلق کم از کم ایک دو باتیں سمجھ أ ہی گئی ہوں گی۔&nbsp;&nbsp;</p><p>لیکن ابھی تک&nbsp; خان کی آنکھیں بند ہیں اور وزیر خارجہکی شان و شوکت عروج پر ہے۔ دریں اثنا حقیقت کا تقاضا ہے کہ جنرل باجوہ نقصان کو کنٹرول کرنے کے مشنوں میں اسی طرح مصروف رہیں جس طرح وہ ریاض جا رہے ہیں۔</p>