غیر مرئی حکومت کا تصور

حسین حقانی
کالم نگار

6 days ago


اپوزیشن جماعتیں اس بار کچھ زیادہ مطالبہ کر رہی ہیں

پاکستان کی  اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر وسیع البنیاد اتحاد بنایا ہے۔  دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس طرح کے اتحادوں کا آغاز پاکستان کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان کے مخالف سیاستدانوں کی طرف سے 1960 کی دہائی میں بننے والے اتحاد سے ہوا تھا ۔ لیکن ماضی کے برعکس اس بار سیاستدان صرف صدر یا وزیراعظم کو ہدف بنانے تک محدود رہنے پر تیار نہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار کی بنیاد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

جنرل قمرجاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج کا خیال تھا کہ وہ ڈرائیورنگ سیٹ پر بیٹھے بغیر اقتدار کا مزہ لے گی جس کی وجہ سے وہ حکومتی اقدامات پر عوام کی براہ راست تنقید سے محفوظ رہے گی ۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کی سویلین حکومت جنرل باجوہ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے فوج کو سیاسی حملوں سے نہیں بچا سکی۔ کمزور سویلین چہرہ سامنے ہونے کی وجہ سے سویلین سیاست دانوں نے' حقیقی جمہوریت' کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں میں خامیاں پائی جاتی ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کی عوام میں مقبولیت موجود ہے۔ سیاستدانوں کے حامی  چاہتے ہیں کہ ان میں خامیاں موجود رہیں اور وہ ان کوتاہیوں سمیت انہیں قبول کر کے ان کا ساتھ  دیتے رہیں۔ دوسری طرف فوج کی حمایت اس مفروضے پر قائم ہے کہ یہ سیاست سے بالاتر ایک ادارہ ہے، تربیت یافتہ ہے اور ملک کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہے۔

1951 میں جب سے ایوب خان نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا تب سے ہی پاکستان کی فوج سیاست میں  ملوث ہے۔ پھر بھی اس کے افسران  کو حلف اٹھاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے اور فوج اس بظاہر تاثر کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے کہ یہ کوئی سیاسی ایکٹر نہیں بلکہ ایک قومی ادارہ ہے۔

لیکن حال ہی میں  پاکستانی ٹیلی وژن چینلز پر باقاعدگی سے آنے والے متعدد ریٹائرڈ جرنیلوں میں سے ایک نے فوج کو “پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت” قرار دیا ہے۔ اب جبکہ اپوزیشن سیاستدانوں نے فوج کو حریف سیاسی جماعت سمجھتے ہوئے اس پر تنقید کرنا شروع کردی ہے تو جنرل باجوہ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہو گی کہ جس سے عوام کو لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو فوج کی حکومت سمجھتے ہیں اور اس حکومت کے مخالفین اور ناقدین کو پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے ایک بار انڈین ایکسپریس میں تحریر کیا تھا  کہ میجر جنرل (ر) شیر علی خان پٹودی نے 1969 میں پاکستان کے دوسرے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان کو مشورہ دیا تھا کہ ایوب خان کے زوال کے بعد فوج نے سیاسی رہنماؤں سے بازی جیتی وہ اس کی بندوق کی طاقت نہیں تھی بلکہ اس کا سحر تھا۔

پاکستان آرمی کا سحر وہ قیمتی سیاسی وسیلہ ہے جو ایک بار کھو گیا تو آسانی سے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا ۔ شیر علی کے خیال میں کرشمہ فوج کا ایک  قیمتی سیاسی  وسیلہ ہے  جو موجود  ہے اسی لئے عوام  اسے  ایک اساطیری اور جادوئی قوت سمجھتے ہیں جو ضرورت کے اس  وقت پر ان کا ساتھ دیتی ہے جب باقی سب ناکام ہوجاتے ہیں۔ جنرل شیر علی کے خیال میں عوام  بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ساتھ اکثر میل ملاقات کرتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ وہ بدعنوان اور ظالم ہیں لیکن وہ  فوج کو پاکستان اور اس کی  فلاح و بہبود کا حتمی ضامن سمجھتے ہیں۔

چیزوں کو اس طرح سے رکھنے کے لئے فوج کو پردے کے پیچھے سے  طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ اپنے ہی لوگوں پر گولیاں چلا کر اپنا راستہ نہیں بنا سکتی۔  

فوجی  حکمرانوں  کے براہ راست حکمرانی کے تمام ادوار ، ایوب خان 1958-69 ، یحییٰ خان 1969-71 ، محمد ضیاء الحق 1977-1988 ، اور پرویز مشرف 1999-2007  ، ان سیاستدانوں کی اقتدار میں واپسی کے ساتھ ختم ہوئے جنہیں فوج  شدت سے نظرانداز کرنا چاہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج کی خواہش ہے کہ وہ خود کو اپنا سحر ختم ہونے کی حد تک لوگوں کے سامنے بے نقاب ہونے سے بچائے رکھے۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ  پاک فوج سیاست اور میڈیا میں بہت حد تک ملوث ہو چکی ہے اور اس  وجہ سے اس کا سحرختم ہونا شروع ہو گیا ہے جس پر اساطیری ادارہ قرار دیئے جانے کے سلسلے میں فوج انحصار کرتی ہے۔

اس بارآرمی کمانڈر براہ راست اقتدار میں بھی نہیں ہے اس کے باوجود فوج کا کردار سیاسی طور پر متنازعہ ہوتا جارہا ہے۔ فوج کو ایک بار پھر نظر آئے بغیر حکمرانی کرنے کے طریقے پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔

جنرل باجوہ نے پہلے ہی یہ کہہ کر فوج کے سیاسی کردار کے ناقدین کے لئے صلح کا پیغام بھیجا ہے کہ مثبت تنقید کو پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ سے گڈ مڈ نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  آپ کو زیادہ تر بلند ہونے والی زیادہ تر آوازیں جو آپ کو  سنتی ہیں  وہ محبت ، حب الوطنی اور اعتماد کی جگہ سے سنائی دیتی ہیں لہذا ان پر دھیان دینا ہوگا۔"

یہی وہ بات ہے جو ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ پاکستان کے جرنیل بار بار سیاست میں کیوں ناکام رہے ہیں۔

پاک فوج کے کمانڈر ان چیف (1958-1966) جنرل محمد موسیٰ نے وضاحت کی کہ سیاست نے انہیں پریشان کر دیا ہے کیونکہ انہیں "دشمن کا پتہ لگانے اور دشمن کو ختم کرنے" کی تربیت دی گئی تھی۔ " مجھے اپنے افسران کا حکم ماننے اور اپنے ماتحتوں پر حکم چلانے کی تربیت دی گئی تھی لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ اپنے عقائد اور نظریات کے باعث اختلاف کرنے والے "میرے اپنے لوگوں" کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا چاہئے۔

سیاست، متبادل حل ، تصورات اور پالیسی آپشنز کے مابین انتخاب کا نام ہے۔ اس میں سمجھوتہ کرنے اور  کچھ لو اور کچھ دو کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں قائل کرنے ،حکم نہ چلانے اور تابع داری کرنا ہوتی ہے۔

 اگراپوزیشن جماعتیں بڑے احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو گرانے میں ناکام بھی ہوجاتی ہیں تو بھی باجوہ کا سیاسی کردار انہیں اس حزب اختلاف سے بات چیت پر مجبور کردے گا  جس سے وہ حقیر سمجھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ پورے ادارے کے اعتراف کا باعث نہیں بن سکتی کہ وردی میں گزاری جانے زندگی ایک جرنیل کو سیاسی دنیا کے ناہموار اور ٹھوکروں والی زندگی کے لئے تیار نہیں کرتی۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اس مضمون پر زیادہ تر پاکستانی فوجیوں کا ردِعمل یہ ہوگا کہ وہ اسے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک  صحافتی ادارے میں شائع ہونے والی  جلاوطن پاکستانی کی تحریر قرار دے کر مسترد کر دیں گے ، بغیر یہ سوچے کہ لوگوں کو جلاوطنی پر مجبور کیا جاتا ہے اور ہم میں سے بہت سارے افراد کو پاکستان کے اپنے میڈیا میں لکھنے سے کیوں روکا گیا ہے؟ .

 

 

 


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

کیاطالبان جنگ بندی سے انکاری ہیں؟؟
باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت
عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم

کورونااورمعیشت

4 months ago


18ویں ترمیم پرچلتے ہوئے خودمختارنشتر

<p>&nbsp;</p><p>یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ملک میں وبائی بیماری نہیں ہے اور پاکستانیوں کوہمیشہ کی طرح عید الفطر کا تہوار منانے کی اجازت ہونی چاہئے، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ٹرین سروس دوبارہ شروع کرنے سمیت دیگر عوامی ٹرانسپورٹ اور شاپنگ سینٹرز کھولنے کا حکم دے دیا جبکہ کوویڈ 19 کے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور 22 مئی تک 1067 اموات ہوئیں۔</p><p>پاکستان میں پہلے ہی جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک کے مقابلے میں اس کی مجموعی آبادی کے تناسب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں متاثرہ افراد کی تعداد 30205 رہی اور ہندوستان کی آبادی جو پاکستان سے چھ گنا زیادہ ہے 22 مئی تک 120532 مریض سامنے آئے۔</p><p>وبا کے خلاف عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کی سویلین حکومت کا تاخیر اور جھجھک سے دیا جانے والا ردعمل بھی سپریم کورٹ کی من مانی مداخلت نے ان کا ملک میں بچا کھچا آئینی کردار بھی ختم کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وبائی امراض کے باوجود پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ صوبائی خود مختاری میں اضافہ کرنے والی آئین کی 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔</p><p>اسٹیبلشمنٹ کو امید ہے کہ وہ وسائل صوبائی حکومتوں سے لے کر مرکزی حکومت کو واپس منتقل کرے گی کیونکہ فوجی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اس کی سب سے بڑی تشویش ہے۔</p><p>آنے والے دنوں میں وبائی مرض پاکستان کی کمزوریوں کو مزید بڑھا دے گا۔ اس کی بڑی اور سیاسی طور پر مداخلت کرنے والی فوج اور جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت ، بڑے پیمانے پر معاشی بدحالی کو روکنے میں ناکام رہے گی۔</p><p>معیشت کی بحالی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان مغربی کمپنیوں کو مائل کیا جائے جو چین چھوڑنے کا ارادہ کر رہی ہیں لیکن پاکستان کا سٹریٹجک نظریہ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔</p><p>وزیر اعظم عمران خان کی وفاقی حکومت اس وبائی مرض سے نمٹنے کےلئے آمادہ یا تیار نہیں تھی اور ابتدا میں یہ دکھاوا کیا گیا تھا کہ فکر کرنے کی کوئی سنجیدہ بات نہیں ہے۔ پاکستان نے اپنے شہریوں (بنیادی طور پر طلبا) کو ووہان سے نہیں نکالا اور چین اور ایران جیسے ہاٹ سپاٹ کے مابین پروازوں اور نقل و حرکت کو باقی دنیا کے سفر معطل کرنے کے کافی عرصے بعد تک کھلا رکھا گیا۔</p><p>عمران خان حکومت کو پہلا مریض سامنے آ جانے کے بعد ،حفاظتی اقدامات کا اعلان کرنے ، ایران سے 3000 سے زیادہ مسافروں کو قرنطینہ میں رکھنے ، پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں کو بند کرنے ، بین الاقوامی سفری پابندیاں عائد کرنے اور سماجی تعلقات میں فاصلہ رکھنے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں کئی ہفتے لگے۔ قومی ردعمل کی عدم موجودگی میں بیشتر صوبائی حکومتوں نے لاک ڈائون اور پابندیوں سے متعلق اپنے اپنے اصول بنائے اور اس نے کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی لڑائی کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔</p><p>حکومت کے اقدامات کو مذہبی گروہوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو مذہبی رسومات اور اجتماعات پر کسی قسم کی پابندی نہیں چاہتے۔ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ تبلیغی جماعت جو ایک اسلامی بنیاد پرست گروہ ہے، نے کاویڈ 19 کے دوران سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا اور ان میں سے 20000 کو قرنطینہ میں رکھنا پڑا۔</p><p>سپریم کورٹ کی مداخلت سے پہلے ہی حکومت نے رمضان المبارک میں نماز جمعہ کی اجازت دی تھی جو کئی مسلم ممالک اور اسلام کے اہم مقدس مقامات پر معطل کردی گئی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے علما کے سامنے ہتھیارڈال کررمضان المبارک کے دوران وائرس کے مزید پھیلنے کے امکانات کو بڑھا دیاہے۔</p><p>ملاو¿ں کو بااختیار بنانے کے علاوہ ، کوویڈ 19 کے بحران نے پاکستان میں سویلین حکمرانی کو مزید کمزور کیا ہے۔عمران خان کے دور میں سول ملٹری تعلقات اب تک اچھے تھے کیونکہ وہ واضح طور پر فوج کے زیر اثر تھے لیکن اب فوج کھلے عام بڑے فیصلے لے رہی ہے جو آئینی طور پر سول حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ، یہاں تک کہ سویلین فیصلے کرنے کا دکھاوا بھی ختم کردیا گیا ہے۔</p><p>دریں اثنا پاکستان کی پہلے سے تباہ شدہ معیشت مزید تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق 2020 میں پاکستان کی معیشت مزید سکڑ جائے گی جس کی شرح نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی۔ خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں بھی بہت حد تک کمی کا خدشہ ہے اور اس بات کا امکان نہیں ہے کہ جلد کسی وقت سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔</p><p>مارچ کے آخر میں عمران خان کی حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں میں نقد رقم کی فراہمی اور یہاں تک کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں بھی ریلیف کےلئے پاکستان کے 1200 ارب کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا لیکن اس پیکیج نے معیشت کی بنیادی کمزوری کو دور کرنے میں بہت کم کام کیا جن میں برآمدات ، ترسیلات زر میں کمی اور برے طریقے سے قرضوں میں پھنسا ہونا بھی شامل ہے۔</p><p>اپریل 2020 میں کوویڈ19 پر قابو پانے کےلئے پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایک ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت 1.4 ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کی اور اس سے حاصل کیا لیکن پیداوار میں اضافہ کے بغیر مزید قرضے لینا ہی پاکستان کی معاشی بدحالی کو مزید بڑھاوا دے گا۔ پہلے ہی کم ٹیکس وصولی میں مزید کمی کا خدشہ ہے اب کرونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کی آمدن کم ہوگی۔</p><p>پاکستان اپنی سٹریٹجک حیثیت والے رجحان کو تبدیل کرکے ان میں سے کچھ نتائج سے بچ سکتا ہے۔ حکومت قرضوں کی بازی گری پر توجہ دینے کی بجائے ، امریکہ اور جاپانی کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی جرات مندانہ منصوبہ بندی کر سکتی ہے جو اب چین کو چھوڑ رہی ہیں۔ جاپان نے ایسی کمپنیوں کو مراعات کی پیش کش کی ہے جو چین سے باہر پروڈکشن کو منتقل کریں گی اور پاکستان اس تبدیلی کےلئے</p><p>مراعات دے سکتا ہے۔</p><p>اس کےلئے پاکستان کو ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہو گا اور خود کو قومی سلامتی کی ریاست کے علاوہ کچھ اور بنانا ہو گالیکن کویڈ19 کے بارے میں پاکستان کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو اپنے عوام کی دیکھ بھال یا کورونا وائرس کے پھیلائو سے نمٹنے پر فوقیت دیتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی امریکہ اور برطانیہ پر حیاتیاتی اورکیمیائی جنگی تجربات کےلئے کورونا وائرس کو ’تخلیق‘ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سازشی نظریات کا مرکز بن چکا ہے۔</p><p>&nbsp;</p><p>وبائی مرض کے ختم ہونے کے بعد بھی اس پراپیگنڈے کے اثرات موجود رہیں گے اور پاکستان کے عوام اسلام پسندوں کے جذبات سے ہمدرد ہونے کے علاوہ چین کے حامی اور مغرب کے مخالف رہیں گے۔ بیرونی قرضوں اور کثرت سے بیل آئوٹ پر انحصار قومی سلامتی کی ریاست کے طور پر بقا کا یہ بھی ایک نسخہ ہے۔</p>



مہنگے چینی منصوبے

5 months ago


بجلی کے2منصوبوں میں چینی کمپنیوں نے32ارب روپے کاگھپلاکیا،رپورٹ میں انکشاف

<p>پاکستان کی چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہے کہ 62ارب ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )منصوبہ وجودمیں آیاجو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا ایک مجموعہ ہے تاہم اس میں شفافیت موجودنہیں لیکن پاکستانی صارفین کو مہنگی بجلی کی وجوہات کی جانچ پڑتال کےلئے وزیر اعظم عمران خان کی تشکیل کردہ کمیٹی نے بجلی پیداکرنے والے منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانیوں کاپردہ چاک کردیاہے جس میں پاکستان میں چین کے بجلی گھرملوث ہیں۔</p><p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت ہوانینگ شیڈونگ روئی (پاک) انرجی (ایچ ایس آر) ساہیوال اور پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ (پی کیو ای پی سی ایل) کوئلے کے پلانٹوں نے اپنی لاگت کے اخراجات کو بڑھاچڑھاکرپیش کیا۔</p><p>پاکستان کے شہریوں جنہیں ہمیشہ یہ بتایا جاتا ہے کہ چین دنیا میں ان کا قابل بھروسہ دوست ہے نے کس طرح بے رحمی اوربدعنوانی کرتے ہوئے اپنے کاروباری مفادات کوسامنے رکھا۔</p><p>یکے بعد دیگرآنے والی سویلین حکومتوں اور پاکستانی فوج نے چین کو ہندوستان کے خلاف اپنا اصل سرپرست سمجھا۔</p><p>پاکستان کے ایٹمی پروگرام سمیت پاکستا ن کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مددکرنے پرچین کوایک مستقل سٹریٹجک سرپرست سمجھاجاتاہے جبکہ اس کے برعکس امریکہ کوزیادہ شرائط عائدکرنے والااتحادی تصورکیاجاتاہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ چین پاکستان کے عوام کی مدد کےلئے نہیں بلکہ اپنے معاشی مفادات کے حصول کیلئے پاکستان میں موجودہے ۔</p><p>کمیٹی برائے پاور سیکٹر آڈٹ ، سرکلر ڈیٹ ریزرویشن اینڈفیوچر روڈ میپ کے عنوان سے278 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ انڈیپنڈنٹ پاورپروڈیوسرزنے100ارب روپے (625 ملین ڈالر) کاگھپلاکیاہے جس میں کم از کم ایک تہائی حصہ چینی منصوبوں سے متعلق ہے۔</p><p>سی پیک اورمقتدر فوج کے مابین قریبی تعلقات کے پیش نظر سی پیک اتھارٹی کے سربراہ اس وقت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ہیں جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات بھی ہیں ۔ کمیٹی نے چینی کمپنیوں کے سلسلے میں نرم رویہ اختیارکیا۔</p><p>کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کوئلے سے چلنے والے دوپاورپلانٹس نے اپنی تعمیرکی لاگت اورانہیں جلدی تعمیرکرنے کے سلسلے میں 32.46ارب روپے زیادہ وصول کئے۔</p><p>کمپنیوں کیلئے ساہیوال کول پاورپلانٹ کے معاملے میں بظاہر سود میں کٹوتی کی اجازت 48 مہینوں تک تھی جبکہ پلانٹس کو حقیقت میں 27-29 ماہ کے اندر مکمل کرلیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پروجیکٹ کی 30 سالہ زندگی میں 27.4 ملین ڈالر سالانہ اضافی ریٹرن (ایکوئٹی)ادا کرناہوگا۔ &nbsp;</p><p>متوقع زائدادائیگی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان کوڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے میں سالانہ 6 فیصد کمی کرکے 291.04ارب روپے اضافی دیناپڑیں گے۔</p><p>چینی کمپنی ایچ ایس آر نے پوری تعمیراتی مدت کی طوالت کےلئے لائی بوراور4.5 فیصد کی شرح سے &nbsp;</p><p>طویل مدتی قرض پر مبنی تعمیرات کی مدت کے دوران سود کا دعوی ٰکیا ہے حالانکہ اس نے تعمیر کے پہلے سال کے دوران رقم نہیں لی اور دوسرے سال صرف مختصر مدتی قرضے استعمال کئے اوروہ بھی بہت کم شرح سود پرلئے گئے تھے۔</p><p>چینی کمپنیوں کے زیادہ منافع کمانے کی وجہ سے بالاترہے۔ پاکستانی ماہرین کی کمیٹی نے جن دونوں منصوبوں کی جانچ کی تھی ان کی لانچنگ کے وقت لاگت3.8ارب ڈالرلگائی گئی تھی۔</p><p>کمیٹی نے 483.64ارب کی زائدادائیگیاں پکڑی ہیں جوموجودہ شرح تبادلہ سے 3ارب ڈالرزیادہ ہے۔اس میں روپے کی زائد ادائیگی شامل ہے جس سے ایچ ایس آرکو376.71ارب اورپی کیوای پی سی ایل کو 106.93 ارب اضافی سیٹ اپ لاگت دیناپڑی چونکہ اس کام کیلئے اضافی لاگت لگائی تھی تو 30 سال میں منافع بھی دیناپڑے گا۔</p><p>موجودہ فارمولہ کے مطابق پہلے دو سال میں ایچ ایس آرنے اپنی لگائے ہوئے سرمائے کا71.18فیصد منافع کمالیاہے جبکہ پی کیوای پی سی ایل نے پہلے سال کے دوران اپنے سرمائے کا32.46فیصدوصول کرلیاہے۔</p><p>ان کمپنیوں نے بغیرکسی وجہ کے اضافی پیسے کمائے۔اب ذراتصورکریں کے62ارب ڈالرکی لاگت سے بننے والے سی پیک کے منصوبوں میں کس قدر منافع رکھاگیاہوگا۔اعدادوشمارکوذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہناممکن ہی نہیں کہ یہ بدعنوانی کسی ایک پاکستانی یاکمپنی یاان کی چینی ہم منصب کمپنیوں کی طرف سے کیاگیاہے۔</p><p>سری لنکا اور مالدیپ کی حکومتوں کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زائد ادائیگیاں پاکستانی حکومت کے رہنماﺅں کی ملی بھگت اور تمام فریقوں کی مشترکہ لوٹ کھسوٹ کانتیجہ ہے۔</p><p>پاکستان کی معیشت کچھ عرصے سے دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور COVID-19 وبائی امراض نے صورتحال کو اور بھی زیادہ خراب کردیا ہے۔</p><p>پاکستان کے رہنمائوں نے اپنے ملک کی پالیسیوں میں اصلاحات کے بجائے ایک بار پھرکشکول اٹھاتے ہوئے قرضوں پرنظرثانی اورچھوٹ دینے کامطالبہ شروع کردیاہے۔ان کاموقف ہے کہ وبائی بیماری کی وجہ سے چھوٹ دی جائے جس طر ح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بدلے میں مددکی گئی تھی۔</p><p>لیکن عالمی برادری سے توقع کرنا کہ وہ پاکستان کوبارباراقتصادی بحران سے نکالے گی غیرحقیقی تصورہے ۔ بڑے پیمانے پر فوجی اخراجات ،خوفناک بدعنوانی اور احتساب کا فقدان پاکستان کی آمدن اور اخراجات میں پیداہونے والے فرق کی بڑی وجوہات ہیں۔اب ایسا لگتا ہے چینی سرمایہ کاری ایک نیابحران بن چکا ہے۔</p><p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے عہدیداروں پر ٹیکسوں اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کےلئے دبائو ڈال رہا ہے تاکہ چینی وارداتوں کیلئے ادائیگیوں کوممکن بنایاجاسکے۔</p><p>امریکہ اور مغربی مالیاتی اداروں کو پاکستان کے حکمران طبقہ جوکہ اشرافیہ ہے اورعوام سے زیادہ کرنے والے دوسرے فریق چین کی مددنہیں کرنی چاہئے ۔پاکستانی عوام اچھے سلوک کی مستحق ہیں۔</p>



امریکہ طالبان معاہدہ افغانستان میں امن نہیں لاسکتا

7 months ago


امن معاہدے پرامریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی کامضمون

<p>امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معاہدے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے لیکن اس کے ذریعے افغانستان میں امن آنے کا امکان نہیں ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے تشدد میں کمی جس نے اس معاہدے کو ایک ” امن معاہدے “ کے طور پر پیش کرنے کے لئے بنیاد مہیا کی تھی وہ پہلے ہی ملک بھر میں طالبان کے نئے حملوں کے باعث ختم ہو چکا ہے۔</p><p>اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ” لامتناہی جنگوں “ کے خاتمے کے اپنے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ افغانستان میں ان بین الاقوامی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے گیا تھا جنہوں نے امریکہ پر حملہ کیا تھا۔ اب جب کہ القاعدہ کا خطرہ کم ہوچکا ہے اور امریکہ نے خود کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے دیگر ذرائع تیار کرلیے ہیں تو افغانستان میں مزید خون اور خزانے کو کیوں ضائع کیا جائے؟</p><p>تاہم یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ آیا طالبان افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں یا افراد کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔ دوحہ معاہدے میں طالبان کی طرف سے دی جانے والی یہ واحد بڑی رعایت تھی۔ &nbsp;</p><p>طالبان اپنے طور پر خود کو ایک سپر پاور کے خلاف فاتح فریق سمجھتے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام پسند عسکریت پسند بھی افغانستان کے نتیجہ کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔</p><p>امریکیوں کے آنے سے پہلے مطلق العنان نظریاتی گروہ کی حیثیت سے طالبان، افغان عوام کو اذیت دے رہے تھے۔ وہ امریکی فوج کے انخلا کو اپنی اسی امارت کی بحالی کے امکان کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کی مدد سے قائم کی تھی۔</p><p>طالبان کے ذہنوں میں ان کی امارت اب بھی وجود رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان کے معاہدے کے دوران ، ’اسلامی امارت اسلامیہ افغانستان کے متعدد حوالہ جات موجود ہیں جنھیں امریکہ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا لیکن طالبان اسے ریاست سمجھتے ہیں۔</p><p>معاہدے کے پارٹ ٹو کی شق 5 میں کہا گیا ہے کہ امارت / طالبان "ان لوگوں کو جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ ہیں کو افغانستان میں داخلے کے لئے ویزا ، پاسپورٹ ، سفری اجازت نامہ ، یا دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کریں گے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ یہ کام صرف حکومتیں انجام دیتی ہیں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ امارت کو کسی دن امریکہ جائز تسلیم کر سکتا ہے۔</p><p>یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ امن معاہدے کےلئے کچھ لو اور کچھ دو کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی فریق کو خوش کرنے والے الفاظ سفارتی مذاکرات کا لازمی حصہ ہوتے ہیں لیکن 'افغانستان میں امن لانے کےلئے معاہدہ' کے عنوان سے دستاویز پرٹیلیویژن سکرینوں کے سامنے دستخط کرنے کی تقریب کے انعقاد کے لئے لگتا ہے کہ یہ بات سرے سے ہی نظرانداز کر دی گئی کہ اس مبہم منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا۔</p><p>مثال کے طور پر دوحہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے "پانچ ہزار (5000) قیدیوں" کو انٹرا افغان مذاکرات سے پہلے"10 مارچ ، 2020 تک رہا کیا جائے گا ۔ لیکن یہ وعدہ افغان حکومت کے پیشگی ا تفاق رائے کے بغیر کیا گیا ہے جس کے پاس حقیقت میں قیدی موجود ہیں۔</p><p>اسلامی جمہوریہ افغانستان کے طور پر تسلیم شدہ کابل حکومت کے متوازی مشترکہ اعلامیے میں قیدیوں کے موضوع کو مختلف انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں صرف "امریکی سہولت کاری کے تحت طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات پر گفتگو کے بارے میں بات کی گئی ہے تاکہ دونوں طرف سے معقول تعداد میں قیدیوں کو رہا کرنے کے امکان کا تعین کیا جاسکے۔</p><p>معاہدے کے اندر ایسی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ کس طرح اس سے منحرف ہوا جا سکتا ہے جس طرح یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اس پر دستخط ہی کیوں کیے گئے تھے۔</p><p>امریکہ میں عمومی طور پر یہ جذبات پائے جاتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا تھا یا اس سے بھی آگے یہ کہا جاتا ہے کہ جنگ ہاری جا چکی ہے اور یہ کہ"افغانستان اب امریکہ کو درپیش سب سے زیادہ ضروری یا اہم قومی سلامتی کا چیلنج نہیں ہے"۔ امریکی عوام یا ان کے کچھ رہنماو¿ں میں انتظار اور تاریخ کے شعور کی خوبیاں زیادہ تر امریکیوں میں نہیں پائی جاتیں۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ یہ نیا معاہدہ ویتنام میں امن کی بحالی کےلئے 27 جنوری 1973 کو پیرس میں ہونے والے 67 صفحات پر مشتمل جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی طرز پر کیا گیا ہے جس میں ’انڈوچائنا‘ میں امریکی فوجی مداخلت کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے دو سال بعد ، 1975 میں ، اس معاہدے کے دستخط کرنے والوں میں سے ایک ، جنوبی ویت نام کی عبوری انقلابی حکومت (ویت کانگ) نے اس معاہدے کے ایک اور دستخط کنندہ ، کمیونسٹ ڈیموکریٹک جمہوریہ ویتنام کی مدد سے ، امریکہ کے حمایت یافتہ جنوبی ویتنام کو زیر کر لیا تھا۔</p><p>اس میں کئی نمایاں چیزیں مختلف ہیں تازہ ترین دستاویز ضخامت کے اعتبار سے ہی نہیں ، جو صرف چار ٹائپ شدہ صفحات پر مشتمل ہے۔ شمالی ویتنام کے پیرس امن معاہدے پر دستخط کرنے کے برعکس ، طالبان کے اصل حمایتی پاکستان کے اس معاہدے پر دستخط نہیں ہیں۔</p><p>مزید برآں پیرس معاہدے پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ولیم پیئرس روجرز نے ہنری کسنجر کے ذریعہ مذاکرات کے بعد دستخط کیے تھے جبکہ موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دوحہ معاہدے پر اس کے مذاکرات کار زلمے خلیل زاد سے دستخط کرائے۔ اگر یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ اس کا سہرا اپنے سر باندھے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو خلیل زادکو اس کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔</p><p>افغانستان جنوبی ویتنام نہیں ہے۔ افغان قوم دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو امریکی تعاون سے یا اس کے بغیر بھی طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مقابلہ کرے گی۔ بہت سارے امریکی رہنما خاص طور پر فوج اور انٹیلیجنس کمیونٹی میں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا آسان ویتنام سے بھاگنا تھا۔</p>