ترک سعودی تعلقات:کیابرف پگھل رہی ہے؟

علی باکیر
سیاسی تجزیہ کار

1 month ago


جوبائیڈن انتظامیہ کی ریاض بارے پالیسی ، متحدہ عرب امارات کا ردعمل اہم کرداراداکریں گے

30 اکتوبر کو سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں مغربی ترکی میں زلزلے کے بعد ازمیر میں ہونے والی درجنوں ہلاکتوں اور زخمیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔

زیادہ ترمبصرین نے اس بیان پر بہت کم توجہ دی اور اسے روایتی اقدام سمجھا،خاص طور پر چونکہ سعودی بادشاہت میں ترکی کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا غیر سرکاری مطالبہ اس وقت عروج پر تھاتاہم چھ دن بعد سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی کہ شاہ سلمان نے شاہ سلمان امدادی مرکز اور ریلیف سینٹر کو ہدایت کی تھی کہ ترکی میں متاثرہ بھائیوں کو فوری امداد بھیجیں۔

اگرچہ یہ اعلان افسوسناک زلزلے کے ایک ہفتہ بعد آیا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی لیکن یہ اب بھی اہم اشارہ تھا۔ ایک ایسا اشارہ جو سعودی عرب کی طرف سے ترکی کے ساتھ سرد مہری کے خاتمے کے ایک وسیع تر اقدام کا حصہ تھا۔ سعودی عرب کا یہ اقدام 7 نومبر کو امریکی صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی فتح کے ساتھ ہی اٹھایا گیا تھا۔

اس کے بعد12 نومبر کو ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے بحرین کے شاہ حمادبن عیسیٰ خلیفہ کو فون کیاتاکہ منامہ کے سب سے طویل عرصے سے کام کرنے والے وزیراعظم کی وفات پر اظہار تعزیت کر سکیں ۔ ترکی کی وزارت مواصلات کے ایک بیان میں کہا گیا کہ اردوان اور بحرین کے شاہ نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں ترک صدر کے حوالے سے کہا گیا کہ ترکی اور خلیجی ممالک کے مابین گہرے تاریخی، سماجی اور ثقافتی تعلقات پر مبنی تعلقات خطے کو درپیش بہت سے مشترکہ مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کریں گے ۔

بحرین کی سفارتی پالیسیاں اکثر سعودی عرب کی طرف سے وضع کردہ حدود کے اندر رہتی ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ آیا بحرین کی اپنی بھی کوئی آزاد خارجہ پالیسی ہے؟ منامہ کو سعودی عرب کی جانب سے اہم امور میں پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

21 نومبر کو ریاض میں ہونے والے ورچوئل جی 20 سربراہی اجلاس سے قبل سعودی بادشاہ کی ترک صدر سے غیر معمولی فون کال میں دونوں رہنمائوں نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور مسائل کے خاتمے کے لئے بات چیت کے چینلز کو کھلا رکھنے پر اتفاق کیا۔

اس کے گھنٹوں بعد سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے رائٹرز کو بتایا کہ ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے اور خوشگوار ہیں۔انہوں نے اس سے بات سے بھی انکار کیا کہ ریاض کی طرف سے ترک مصنوعات کا غیر رسمی بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

پچھلے فون پر ہونے والی گفتگو واضح طور پر سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں سلسلہ وار مثبت پیشرفت کا باعث بنی تھی۔ ورچوئل اجتماع کے اختتام پر اردوان نے جی 20 سمٹ کی کامیابی پر سعودی عرب کو مبارکباد پیش کی۔

پانچ دن بعد ترکی کے وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کی کونسل کے 47 ویں اجلاس میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ملاقات اخلاص سے بھرپور اور مضبوط ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور سعودی شراکت سے نہ صرف ہمارے ممالک بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہے۔

ان چھوٹے اقدامات کو دونوں ریاستوں کی جانب سے بائیڈن آنے والی انتظامیہ کے متوقع دباو¿ سے نمٹنے کی تیاری کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ریاض کے اقدام پر ترکی کا مثبت ردعمل مشترکہ مفادات کے وجود اور باہمی تعلقات کو درست کرنے کی باہمی خواہش کا ثبوت ہے۔ اگرچہ اب تک اٹھائے گئے اقدامات مکمل مفاہمت کے مترادف نہیں ہیں لیکن انہوں نے دونوں ریاستوں کو صحیح راستے پر کھڑا کردیا۔

جہاں تک ان اقدامات کے مقاصد کی بات ہے تو ترکی کے بارے میں سعودی رویے میں اچانک یو ٹرن بنیادی طور پر امریکی سیاست میں حالیہ تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ٹرمپ اور اس کے داماد جیرڈ کشنر کے سعودی عہدیداروں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ انتخابات میں شکست کھانے والے امریکی صدر نے امریکی روایت کے بالکل برعکس اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے ریاض کا انتخاب کیا تھا۔

انہوں نے بادشاہ کے بیٹے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنے مخالفین ، کنبہ کے افراد ، تاجروں ، دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی کھلی چھوٹ دیئے رکھی۔

جمال خشوگی کے قتل کے بعد ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو تحفظ فراہم کیا اور انہیں استنبول میں اپنے ملک کے قونصل خانے میں سعودی صحافی کے قتل کی تحقیقات سے بچایا۔ انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ کے یمن میں سعودی عرب کو اپنی فوجی مہم جاری رکھنے کی اجازت دی اور ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا دفاع کرنے کے لئے سعودی عرب میں اپنے فوجی بھیجے۔

اس تناظر میں نو منتخب صدر جو بائیڈن ہارنے والے صدر ٹرمپ کی طرح نہیں ہوں گے اور ان کی آنے والی انتظامیہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ یمن جنگ ، خلیجی بحران اور خشوگی قتل سمیت دیگر داخلی و خارجہ امور سے متعلق امور پر بادشاہ اور ان کے بیٹے پر دباو¿ ڈالیں گے۔ بائیڈن نے یہ بات کبھی راز میں نہیں رکھی کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کو بحال کر دیں گے۔

اگر یہ سب کچھ اسی طرح ہوا جیسا کہ سابق صدر بارک اوبامہ نے کیا تھا تو پھر سعودی عرب خطے میں الگ تھلگ ہوجائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے ڈی فیکٹو حکمران ، محمد بن زید اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مابین مضبوط تعلقات اب اس سلطنت کے لئے فائدہ مند نہیں ہوں گے کیونکہ ابو ظہبی نے ایران کو راضی کرنے اور اسرائیل کے ساتھ اعلانیہ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کا انتخاب کیا ہے جبکہ ریاض کے لئے ایسا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

اسی طرح اپنی انتخابی مہم کے دوران بائیڈن نے ترک حکومت کے خلاف معاندانہ موقف اختیار کیا۔ وہ ماضی میں عراق کی تقسیم اور شام میں کرد گروہوں کی حمایت کے لئے جانے جاتے ہیں جس میں پی کے کے کی ایک شاخ بھی شامل ہے جسے امریکہ ، یورپی یونین اور نیٹو نے دہشت گرد گروہ کے طور پر نامزد کیا ہوا ہے۔

بائیڈن روس کے ساتھ ایس 400 معاہدے کی بھی مخالفت کرتے ہیں اور غالبا مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے ساتھ ایک ہی صفحے پر نہیں ہوں گے۔ یونانی ، آرمینیائی اور اسرائیلی لابی کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات کے پیش نظر یہ قوی تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر وہ دوسرے اوباما بننے کا انتخاب کرتے ہیں اور مشترکہ وجوہات پر انقرہ کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کرتے ہیں توترکی امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

مثبت پیشرفت کے باوجود توقع کی جارہی ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے مابین تعلقات کو آگے بڑھنے میں متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر دو اہم عوامل اس عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پہلے اگر بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے توسعودی حکمران یہ سوچ سکتے ہیں کہ اب ترکی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو موجودہ حالت میں برقرار رکھ سکتے ہیں۔

دوسری ممکنہ رکاوٹ سعودی عرب مفاہمت کے عمل سے متعلق متحدہ عرب امارات کا مو¿قف ہے۔ اگر ریاض اور انقرہ کے مابین تعلقات 2015 کی سطح پر واپس آئے تو ابو ظہبی کو ان دونوں علاقائی کھلاڑیوں کے مابین نئے انتظامات میں سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔

پچھلے چار سالوں میں اور سعودی عرب کو اس کی طرف راغب کرنے کی کوشش میں ابو ظہبی نے ٹرمپ ، محمد بن سلمان کے ساتھ اپنے تعلقات بنانے اور ریاض اور انقرہ کے مابین پھوٹ پیدا کرنے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ ابوظہبی خطے میں ترکی مخالف کیمپ کی قیادت کر رہا ہے اور اسے یقیناً سعودی ترک تعلقات کو بہتر دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس لئے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ابوظہبی کے محمد بن زید اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے جو کچھ بھی کر سکے وہ کریں گے۔

سعودی عرب کی طرف سے ترکی کے ساتھ سرد مہری ختم کر کے تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ شاہ سلمان کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ ابھی تک محمد بن سلمان جو سعودی عرب میں محمد بن زید کے حامی سمجھے جاتے ہیں اس عمل میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی محمد بن سلمان کے لئے متبادل پیش کش یہ ہو گی کہ وہ سعودی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لئے دبائو ڈالیں گے تاکہ اس کے جواب میں تل ابیب ایک طرف اسے بائیڈن انتظامیہ کے متوقع دبائو سے بچانے کے لئے ضروری تحفظ فراہم کرے اور دوسری طرف انہیں امریکی کانگریس اور انتظامیہ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں مدد فراہم کرے۔

شاہ سلمان اور اردوان کے مابین فون کال کے چند ہی دن بعد اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ نیتن یاھو خفیہ طور پر سعودی عرب پہنچے ہیںاور نیوم میں محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ سعودی عرب نے اس خبر کی تردید کی لیکن متعدد ذرائع نے اس کی تصدیق کی۔

یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا محمد بن زید نے محمد بن سلمان اور نیتن یاہو کے مابین ملاقات کرانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے یا نہیں لیکن تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث متحدہ عرب امارات کو اس بات سے براہ راست دلچسپی تھی کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آئیں۔

بائیڈن انتظامیہ کی ریاض کے بارے میں پالیسی اور اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے ردعمل کا یہ فیصلہ کرنے میں ایک اہم کردار ہو گا کہ آیا اگلے مرحلے کے دوران ترکی اور سعودی مفاہمت کا تسلسل برقرار رہے گا یا نہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے