ایران،مذہب اورسیکولرلوگ

آمنہ خان
وکیل،لکھاری

1 month ago


زیر زمین میٹرو ،حجاب میں چھپاحسن اورکہیں نہیں ملتا

میں جتنے ممالک میں گھوم چکی ہوں(اگرچہ میں نے زیادہ ممالک نہیں دیکھے)جتنے دلچسپ لوگ مجھے ایرانی لگے، ایمانداری سے کہوں تو اور کہیں اتنے متاثر کن لوگ نہیں ملے۔

ایران کے سفر کے دوران مجھے مشہد،تہران بابو سر اور اصفہان جانے کا موقع ملا۔ ان میں سے سب سے کم مجھے مشہد متاثر کن لگا کیونکہ یہاں بہت زیادہ مذہبی ماحول تھا جبکہ اصفہان سب سے زیادہ بھایا۔

اس ملک کے سفر کے بعدکچھ مشاہدات ہیں جنہیں لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں۔ایران میں خواتین کی معاشرے میں شرکت بہت زیادہ ہے۔ خواتین سڑکوں پر ہر جگہ نظر آئیں گی بلکہ آپ کو بسیں چلانے والی خواتین ڈرائیور نظر آئیں گی۔

مجھے یاد ہے کہ وہاں قیام کے دوران ایک بار نلکا ٹھیک کرنے کے لئے پلمبر کو بلایا تو میرے والد نے مجھے اندر جانے اور چادر اوڑھنے کےلئے کہا۔ ہماری حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب ہمیں معلوم ہوا کہ پلمبر مرد نہیں بلکہ نوجوان خاتون ہے۔

حیران کن امریہ تھاکہ سڑکوں پرجابجامردوخواتین اظہارمحبت کرتے نظرآتے ہیں جومیں نے پاکستان میں چاردیواری کے اندربھی نہیں دیکھا۔ گلیوں میں تقریباً سبھی جوڑوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے۔یہ ہمارے لئے کافی عجیب منظر تھا کیونکہ میں نے اپنے یہاں کبھی ایسا ماحول نہیں دیکھا تھا۔

میری نظرمیں مرد اورعورت کی تفریق غلط ہے لیکن بعض اوقات اس کے کچھ فوائدبھی سامنے آتے ہیں۔ ہماراخاندان جب بھی چھٹیوں پرباہر جاتاتھاتومجھے والدین کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ایک طرف بیٹھ کراپنے بھائیوں کو سرگرمیاں کرتے کھیلتے کودتے اور پانی میں چلانگیں لگاتے دیکھنا پڑتا تھا کیونکہ خواتین اس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لی سکتیں۔

جب ہم بحر کے کنارے بابوسر شہر گئے تو میرے والدنے کہا کہ چلو سمندر کنارے چلتے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ وہاں بھی مجھے فاصلے پر بیٹھ کر لڑکوں کو لطف اندوز ہوتے دیکھنے کے لئے بیٹھنا پڑے گا لیکن یہاں مردوں اور عورتوں کے لئے الگ الگ بیچ بنے ہوئے تھے۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر چاہوں تو میں بھی سمندر میں تیر سکتی تھی اور اگر بغیر کپڑوں کے نہاناچاہوں تو یہ سہولت بھی حاصل تھی۔ اسی طرح واٹر پارکس میں جتنے دن مردوں کےلئے مخصوص تھے اتنے ہی دن عورتوں کے لئے مختص تھے۔

ایک روز مشہد میں قیام کے دوران عورتوں کے لئے واٹر پارک میں جانے کا دن مخصوص تھا۔ میرے بھائیوں کو یہ سخت ناگوار گزر رہا تھا اور میں ان کے سیخ پا ہونے پر خوش ہو رہی تھی۔

ایک اور مشاہدہ جس نے مجھے حیران کیا وہ یہ تھا کہ وہاں مولوی کی اہمیت ہے لیکن بڑے شہروں میں لوگ سیکولر ہیں۔ مجھے یہ پاکستان کے بالکل برعکس معلوم ہوا کیونکہ یہاں امرا اور متوسط طبقات بھی بہت زیادہ مذہب سے وابستہ ہیں۔اس کی مثال آپ کو ان کے آرٹ اور سینما گھروں میں دیکھنے کو ملے گی۔

ایک اور بات بہت چونکا دینے والی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایران کی قومی خوراک پیزا ہونا چاہئے کیونکہ وہاں کے لوگ پیزے کی محبت میں دیوانہ ہیں۔ ہر گلی کی نکر پر آپ کو پیزے کی دکان ملے گی۔ میرے والد نے تنگ آ کر ہم پر پیزا کھانے پر پابندی لگا دی تھی۔

جب میں ایران گئی تھی اس وقت احمد ی نژاد صدر تھے اور وہ عوام میں بے حد غیر مقبول تھے۔وہ مذہبی پولیس کے سہارے اپنی حکومت چلا رہے تھے۔ ایران کی مذہبی پولیس بھی پنجاب پولیس جیسی ہے۔

میرا ان سے اس وقت واسطہ پڑا جب میں سمندر میں سپیڈ بوٹ چلا رہی تھی اور نزدیکی کشتی سے مجھے ہارن کی آواز سنائی دی۔ یہ پولیس کی کشتی تھی جو سمندر میں یہ دیکھنے کے لئے تعینات تھی کہ آیا خواتین سمندر میں کشتیاں چلاتی ہوئی حجاب کر رہی ہیں کہ نہیں۔ میرا دوپٹہ شاید تھوڑا سا کھسک گیا تھا۔

ایران میں اماموں کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے۔ وہ ان کے پیدائش کے ایام کو قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔جب میں یہ کہہ رہی ہوں کہ وہ بہت زیادہ احترام کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دوسرے دن وہاں جشن ہوتا ہے اور مفت مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ آپ تصور نہیں کر سکتے ہیں کہ ایران میں قومی سطح پر کتنی چھٹیاں ہوتی ہوں گی۔


مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیوں کے باعث آپ کو وہاں بین الاقوامی برانڈ کی اشیا نہیں ملیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کولا کولا، پیپسی، میکڈونلڈ، کے ایف سی اور سنیکرز جیسی اشیا بالکل بھی نہیں ملیں گی۔وہاں ہر شے مقامی طور پر تیار کردہ ہے۔

یہ میرے ملٹی نیشنل کلچر میں رہنے کے عادی دماغ کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا لیکن پھر ماحول کے مطابق ہم بھی ڈھل گئے تھے۔ وہاں کوک کی بجائے ایک مقامی طور پر تیار کردہ مشروب ہے جس کا نام خوشگوار ہے اور جب بھی یہ مشروب سامنے آتا تو میرے ذہن میں آتا کہ یہ تو اردو کا لفظ ہے۔ اسی طرح وہاں فانٹا اور سنیکرز وغیرہ کے بھی متبادل ہیں۔

ایران میں مرد جب آپس میں ملتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی گالوں کو دونوں طرف سے چومتے ہیں۔ میرے والد کو ایرانی مردوں کی یہ حرکت سخت ناپسند تھی کیونکہ ان کا خاندان پس منظر پشتون ہے۔

ہم قریباً دس سال پہلے ایران گئے تو اس وقت ہمیں ویزا بہت آسانی سے مل گیا تھا کیونکہ ایرانی اپنے ہاں سیاحوں کو لانے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے۔ایرانی بڑی لجاجت سے ہمیں یہ پوچھتے تھے کہ ان کے ملک کے بارے میں ہماری کیا رائے ہے۔ ان میں یہ احساس بڑی شدت سے پایا جاتا تھا کہ دنیا انہیں غلط سمجھتی ہے۔

میرے والد کا نام عمر ہے۔ ایران جانے کے فوراً بعد انہوں نے ہم تمام بچوں کو اکٹھے کر کے کہا کہ اگر کوئی تم سے اگر کوئی میرا نام پوچھے تو صرف محمد خان بتانا کیونکہ ہمیں یہاں گفتگو کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا ہو گا اور یہ مت بھولنا کہ ہم سنی ہیں۔

وہاں جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ایران اور برصغیر کے لوگوں میں بہت فرق ہے۔ ایک عادت جو مجھے وہاں مشترک نظر آئی وہ یہ ہے کہ گلی سے گزرتا ہر شخص بات بات پر شعر کہتا ہے اور ان کی گفتگو کا خاصہ ہے۔

ہم فردوسی کے مزار پر بھی حاضر ہوئے لیکن کاش مجھے اس عمر میں ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم حافظ اور شمس کے مزارات پر بھی حاضری دیتے۔ جس طرح چین کی ہر دکان میں مائوزے تنگ کی تصویر لگی ہوتی ہے بالکل اسی طرح ایران میں آیت اللہ کی تصاویر آویزاں ہوتی ہیں۔

جیسے ہی آپ مشہد کے ہوائی اڈے سے نکلتے ہیں تو آپ کو بڑے بڑے بل بورڈ نظر آئیں گے جن پر انقلاب زندہ باد اور مرگ بر دشمنان انقلاب کے نعرے لکھے ہوں گے۔

وہاں جتنے نوجوانوں سے میں نے بات کی ان کی اکثریت ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں بالکل پاکستانیوں کی طرح ان کی بھی سوچ یہی ہے۔ ان میں سے اکثر نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور وہاں ملازمتیں نہیں ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت زیادہ آزادی کے حق میں ہیں اور وہاں کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت سے متفق نہیں ہیں۔

ایران میں قیام کے دوران ہمیں ایک بہت مضحکہ خیز صورتحال کا سامنا ہوا۔ ہمارے پاس ایام حیض کے پیڈ ختم ہو گئے اور ہمیں ان کی ضرورت پڑ گئی۔ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک قدامت پسند شہر میں ہوں جہاں لوگ آپ کی زبان نہ سمجھتے ہوں اور آپ پیڈ تلاش کرتی پھر رہی ہوں۔

گھنٹوں کی تلاش کے بعد جب ہمیں نہ ملے تو میرے والد کو الجھن ہونے لگی کہ ہم پتہ نہیں کیا تلاش کر رہی ہیں۔ میری والدہ کسی طرح اشاروں کی زبان سے ایک کھوکھے والے کو سمجھانے میں کامیاب رہیں کہ ہمیں پیڈز کی تلاش ہے کیونکہ یہ رات کا وقت تھا اور مالز بند تھے اس لئے ہمیں چھوٹے کھوکھوں پر پیڈز تلاش کرنا پڑے تھے۔

میں نے ترکی، بھارت، اٹلی، برطانیہ اور چین کے سفر کئے ہیں لیکن مجھے سب سے زیادہ خوبصورت ایرانی خواتین لگیں۔ ان کا لباس پہننے کا سلیقہ مجھے بہت اچھا لگا۔جب میں واٹر پارکس میں گئی اور عورتوں نے اپنے حجاب اتارے تو مجھے ان کے حسن نے خیرہ کر دیا۔ اگرچہ ایران میں خواتین اپنے بالوں کی رنگتی ہیں۔

تہران کی زیر زمین میٹرو بہت صاف تھی اور وہ اس وقت اصفہان میں بھی بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی بسوں میں صفائی کا بہت اہتمام تھا اور بہت عمدہ معیار کی تھیں۔

مختلف شہروں میں حجاب پہننے کی پابندی پر عمل درآمد کا معیار بھی مختلف ہے۔ مشہد میں ایک جگہ میں چھڑی کے ٹہوکے سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے کا کہا گیا۔خواتین تہران میں ریحام خان دوپٹہ سٹائل کی لمبی لمبی چادریں کھینچتی چلتی ہیں۔ تہران اور اصفہان کی دکانوں میں میکسی اور مختصر لباس عام فروخت ہوتے ہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے