کیاطالبان جنگ بندی سے انکاری ہیں؟؟

حسین حقانی
کالم نگار

2 weeks ago


رہاہونے والوں نے دوبارہ ہتھیاراٹھالئے

محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی اور امریکی انخلا کے نظام الاوقات پر عمل پیرا ہونے کے باوجود بھی طالبان جنگ بندی سے انکار کر رہے ہیں۔حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے بہت سے طالبان نے دوبارہ ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور وہ میدان جنگ میں واپس آ گئے ہیں۔ امریکی حکومت کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طالبان نے ابھی تک القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات نہیں توڑے اور امریکیوں کے ساتھ ساتھ افغانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

طالبان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت معطل کرنے کا وقت آن پہنچا ہو۔مذاکرات کی معطلی سے یہ تاثر ختم ہوجائے گا کہ امریکی افغانستان سے دستبرداری کے لئے اس قدر بے چین ہیں کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ ان کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار میں واپس آتے ہیں یا نہیں۔مذاکرات معطل کرنے کی حکمت عملی طالبان کو اپنے وعدے پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس سے پاکستان کو بھی یہ اشارہ ملے گا کہ اسے لڑائی ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طالبان کو پناہ گاہ سے محروم ہونے کی دھمکی دینا ہوگی۔


کسی مشکل سودا بازی کے بغیر طالبان کے تمام مطالبات تسلیم کر کے مذاکرات کی امریکی حکمت عملی نے انہیں مزید شہہ دی ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امن کے بارے میں امریکہ اور طالبان کے نکتہ ہائے نظر بہت مختلف ہیں۔ امریکی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں خونریزی ختم ہو، جبکہ طالبان اپنی فتح کو امن کا آغاز سمجھتے ہیں۔طالبان نیٹو افواج کے انخلا کی حوصلہ افزائی کے لئے ان مذاکرات میں شامل ہوئے تھے جب وہ نائن الیون کے بعد ختم ہونے والے اپنے اسلامی امارت کی بحالی کی آ س لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس امکان کو یقینی بنانے کا راستہ تھا کہ اس کے طفیلی طالبان کابل پر قبضہ کر لیں تاکہ ہمسایہ ملک میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اسے مزید نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


بین ثبوتوں کے باوجود پاکستان برسوں سے اس حقیقت سے انکار کرتا چلا آ رہا ہے کہ اس نے طالبان کی حمایت کی یا اس کی قیادت کو پناہ دی ۔ صدر ٹرمپ کی طالبان سے بات چیت کے لئے آمادگی نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ افغانستان میں اس کے "ڈبل گیم" کے الزامات سے بالاتر ہوکر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے۔انتظامیہ کا طالبان کے آمرانہ نظریات کو نظرانداز کر کے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا عملی حقائق پر مبنی فیصلہ تھا ۔اس کے علاوہ اس جنگ کو طوالت دینے ،امریکی جانوں اور خزانوں کونقصان پہنچانے میں پاکستان کے کردار کو معاف کرنے کی بھی ضرورت تھی۔


اگر یہ مذاکرات امن قائم کرنے قائم کرنے کا باعث بنتے ہیں تو ان کی یہ قیمت چکانا ایک اچھا سودا ہو سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان جنگ کے خاتمے اورافغانستان کے اقتدارکے ڈھانچے میں شامل ہونے پر راضی نہیں ۔ وہ مطلق طاقت چاہتے ہیں اور اپنی تشریح کے مطابق اسلامی قانون افغان عوام پر مسلط کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے کے صرف پانچ دن بعد طالبان نے 5 مارچ کو ایک فتویٰ جاری کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ، افغانستان کے جائز حکمران اور اس کی "اسلامی حکومت" کے سربراہ ہیں۔


اس طرح کے بیانات سے افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کے جمہوری آئین کے پابند دیگر افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔طالبان کا موقف سخت ہونے کی وجہ ان کا یہ اندازہ ہے کہ امریکی صدر کا افغانستان سے دستبرداری کا فیصلہ ناقابل واپسی ہے۔ وہ کابل میں سیاسی تقسیم کو بھی اپنے لئے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ ایک بار امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کو توقع ہے کہ وہ اپنے نظریہ کے خلاف کسی بھی مزاحمت کا بے رحمی سے صفایا کردیں گے۔


دوسری طرف امریکہ اورطالبان کے رہنماو¿ں کے مابین براہ راست مذاکرات کی سہولت کے بعد پاکستان کو لگتا ہے کہ اب اس کے اپنے ماضی کے طرز عمل کو بھلا دیا گیا ہے۔ پاکستان چاہے گا کہ امریکہ مذاکرات کو جاری رکھے چاہے ان کا کوئی بھی نتیجہ نہ نکل رہا ہو اور پاکستان خود طالبان قیادت پر سمجھوتے کے لئے دباو¿ ڈالنے سے انکار کرتا رہے۔ پاکستانی عہدے دار یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ ختم ہو گیا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ طالبان رہنما دوحہ میں مذاکرات کے لئے پاکستان سے سفر کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے خاندان قطر یا پاکستان میں رہتے ہیں۔ امریکہ اس بات پر اصرار کرسکتا ہے کہ پاکستان (اور قطر) کو صرف اچھا میزبان ہونے سے آگے بڑھ کر طالبان سے بات کرنا چاہئے اور اگر وہ مذاکرات کے حل کے لئے شرائط کو قبول نہیں کرتے تو طالبان رہنماو¿ں کو ملک بدر کرنے کے دھمکی کا استعمال کرنا چاہئے۔


امریکہ کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی لامتناہی جنگ سے نکلنے کی خواہش، اس ملک کی مایوسی اور اپنی افواج کے انخلا کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر آمادگی کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ افغانستان کو طالبان کے زیر اقتدار چھوڑنا ، خاص طور پر جب چین خطے میں اپنی سرمایہ کاری کو بڑھا رہا ہے اور خطے کی غالب طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے، امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔


جب تک کہ طالبان زیادہ لچک نہ دکھائیں تب تک مذاکرات کی معطلی سے پاکستان کو طالبان کا بازو مروڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ افغانستان سے انخلا کے لئے زیادہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے تو چین (جس کی طالبان کے اقتدار میں واپسی کے خوف کی اپنی وجوہات ہوسکتی ہیں) بھی افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کو زیادہ سنجیدگی سے لے گا۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

غیر مرئی حکومت کا تصور
باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت
عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم

کورونااورمعیشت

4 months ago


18ویں ترمیم پرچلتے ہوئے خودمختارنشتر

<p>&nbsp;</p><p>یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ملک میں وبائی بیماری نہیں ہے اور پاکستانیوں کوہمیشہ کی طرح عید الفطر کا تہوار منانے کی اجازت ہونی چاہئے، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ٹرین سروس دوبارہ شروع کرنے سمیت دیگر عوامی ٹرانسپورٹ اور شاپنگ سینٹرز کھولنے کا حکم دے دیا جبکہ کوویڈ 19 کے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور 22 مئی تک 1067 اموات ہوئیں۔</p><p>پاکستان میں پہلے ہی جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک کے مقابلے میں اس کی مجموعی آبادی کے تناسب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں متاثرہ افراد کی تعداد 30205 رہی اور ہندوستان کی آبادی جو پاکستان سے چھ گنا زیادہ ہے 22 مئی تک 120532 مریض سامنے آئے۔</p><p>وبا کے خلاف عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کی سویلین حکومت کا تاخیر اور جھجھک سے دیا جانے والا ردعمل بھی سپریم کورٹ کی من مانی مداخلت نے ان کا ملک میں بچا کھچا آئینی کردار بھی ختم کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وبائی امراض کے باوجود پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ صوبائی خود مختاری میں اضافہ کرنے والی آئین کی 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔</p><p>اسٹیبلشمنٹ کو امید ہے کہ وہ وسائل صوبائی حکومتوں سے لے کر مرکزی حکومت کو واپس منتقل کرے گی کیونکہ فوجی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اس کی سب سے بڑی تشویش ہے۔</p><p>آنے والے دنوں میں وبائی مرض پاکستان کی کمزوریوں کو مزید بڑھا دے گا۔ اس کی بڑی اور سیاسی طور پر مداخلت کرنے والی فوج اور جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت ، بڑے پیمانے پر معاشی بدحالی کو روکنے میں ناکام رہے گی۔</p><p>معیشت کی بحالی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان مغربی کمپنیوں کو مائل کیا جائے جو چین چھوڑنے کا ارادہ کر رہی ہیں لیکن پاکستان کا سٹریٹجک نظریہ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔</p><p>وزیر اعظم عمران خان کی وفاقی حکومت اس وبائی مرض سے نمٹنے کےلئے آمادہ یا تیار نہیں تھی اور ابتدا میں یہ دکھاوا کیا گیا تھا کہ فکر کرنے کی کوئی سنجیدہ بات نہیں ہے۔ پاکستان نے اپنے شہریوں (بنیادی طور پر طلبا) کو ووہان سے نہیں نکالا اور چین اور ایران جیسے ہاٹ سپاٹ کے مابین پروازوں اور نقل و حرکت کو باقی دنیا کے سفر معطل کرنے کے کافی عرصے بعد تک کھلا رکھا گیا۔</p><p>عمران خان حکومت کو پہلا مریض سامنے آ جانے کے بعد ،حفاظتی اقدامات کا اعلان کرنے ، ایران سے 3000 سے زیادہ مسافروں کو قرنطینہ میں رکھنے ، پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں کو بند کرنے ، بین الاقوامی سفری پابندیاں عائد کرنے اور سماجی تعلقات میں فاصلہ رکھنے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں کئی ہفتے لگے۔ قومی ردعمل کی عدم موجودگی میں بیشتر صوبائی حکومتوں نے لاک ڈائون اور پابندیوں سے متعلق اپنے اپنے اصول بنائے اور اس نے کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی لڑائی کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔</p><p>حکومت کے اقدامات کو مذہبی گروہوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو مذہبی رسومات اور اجتماعات پر کسی قسم کی پابندی نہیں چاہتے۔ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ تبلیغی جماعت جو ایک اسلامی بنیاد پرست گروہ ہے، نے کاویڈ 19 کے دوران سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا اور ان میں سے 20000 کو قرنطینہ میں رکھنا پڑا۔</p><p>سپریم کورٹ کی مداخلت سے پہلے ہی حکومت نے رمضان المبارک میں نماز جمعہ کی اجازت دی تھی جو کئی مسلم ممالک اور اسلام کے اہم مقدس مقامات پر معطل کردی گئی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے علما کے سامنے ہتھیارڈال کررمضان المبارک کے دوران وائرس کے مزید پھیلنے کے امکانات کو بڑھا دیاہے۔</p><p>ملاو¿ں کو بااختیار بنانے کے علاوہ ، کوویڈ 19 کے بحران نے پاکستان میں سویلین حکمرانی کو مزید کمزور کیا ہے۔عمران خان کے دور میں سول ملٹری تعلقات اب تک اچھے تھے کیونکہ وہ واضح طور پر فوج کے زیر اثر تھے لیکن اب فوج کھلے عام بڑے فیصلے لے رہی ہے جو آئینی طور پر سول حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ، یہاں تک کہ سویلین فیصلے کرنے کا دکھاوا بھی ختم کردیا گیا ہے۔</p><p>دریں اثنا پاکستان کی پہلے سے تباہ شدہ معیشت مزید تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق 2020 میں پاکستان کی معیشت مزید سکڑ جائے گی جس کی شرح نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی۔ خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں بھی بہت حد تک کمی کا خدشہ ہے اور اس بات کا امکان نہیں ہے کہ جلد کسی وقت سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔</p><p>مارچ کے آخر میں عمران خان کی حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں میں نقد رقم کی فراہمی اور یہاں تک کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں بھی ریلیف کےلئے پاکستان کے 1200 ارب کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا لیکن اس پیکیج نے معیشت کی بنیادی کمزوری کو دور کرنے میں بہت کم کام کیا جن میں برآمدات ، ترسیلات زر میں کمی اور برے طریقے سے قرضوں میں پھنسا ہونا بھی شامل ہے۔</p><p>اپریل 2020 میں کوویڈ19 پر قابو پانے کےلئے پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایک ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت 1.4 ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کی اور اس سے حاصل کیا لیکن پیداوار میں اضافہ کے بغیر مزید قرضے لینا ہی پاکستان کی معاشی بدحالی کو مزید بڑھاوا دے گا۔ پہلے ہی کم ٹیکس وصولی میں مزید کمی کا خدشہ ہے اب کرونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کی آمدن کم ہوگی۔</p><p>پاکستان اپنی سٹریٹجک حیثیت والے رجحان کو تبدیل کرکے ان میں سے کچھ نتائج سے بچ سکتا ہے۔ حکومت قرضوں کی بازی گری پر توجہ دینے کی بجائے ، امریکہ اور جاپانی کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی جرات مندانہ منصوبہ بندی کر سکتی ہے جو اب چین کو چھوڑ رہی ہیں۔ جاپان نے ایسی کمپنیوں کو مراعات کی پیش کش کی ہے جو چین سے باہر پروڈکشن کو منتقل کریں گی اور پاکستان اس تبدیلی کےلئے</p><p>مراعات دے سکتا ہے۔</p><p>اس کےلئے پاکستان کو ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہو گا اور خود کو قومی سلامتی کی ریاست کے علاوہ کچھ اور بنانا ہو گالیکن کویڈ19 کے بارے میں پاکستان کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو اپنے عوام کی دیکھ بھال یا کورونا وائرس کے پھیلائو سے نمٹنے پر فوقیت دیتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی امریکہ اور برطانیہ پر حیاتیاتی اورکیمیائی جنگی تجربات کےلئے کورونا وائرس کو ’تخلیق‘ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سازشی نظریات کا مرکز بن چکا ہے۔</p><p>&nbsp;</p><p>وبائی مرض کے ختم ہونے کے بعد بھی اس پراپیگنڈے کے اثرات موجود رہیں گے اور پاکستان کے عوام اسلام پسندوں کے جذبات سے ہمدرد ہونے کے علاوہ چین کے حامی اور مغرب کے مخالف رہیں گے۔ بیرونی قرضوں اور کثرت سے بیل آئوٹ پر انحصار قومی سلامتی کی ریاست کے طور پر بقا کا یہ بھی ایک نسخہ ہے۔</p>



مہنگے چینی منصوبے

5 months ago


بجلی کے2منصوبوں میں چینی کمپنیوں نے32ارب روپے کاگھپلاکیا،رپورٹ میں انکشاف

<p>پاکستان کی چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہے کہ 62ارب ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )منصوبہ وجودمیں آیاجو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا ایک مجموعہ ہے تاہم اس میں شفافیت موجودنہیں لیکن پاکستانی صارفین کو مہنگی بجلی کی وجوہات کی جانچ پڑتال کےلئے وزیر اعظم عمران خان کی تشکیل کردہ کمیٹی نے بجلی پیداکرنے والے منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانیوں کاپردہ چاک کردیاہے جس میں پاکستان میں چین کے بجلی گھرملوث ہیں۔</p><p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت ہوانینگ شیڈونگ روئی (پاک) انرجی (ایچ ایس آر) ساہیوال اور پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ (پی کیو ای پی سی ایل) کوئلے کے پلانٹوں نے اپنی لاگت کے اخراجات کو بڑھاچڑھاکرپیش کیا۔</p><p>پاکستان کے شہریوں جنہیں ہمیشہ یہ بتایا جاتا ہے کہ چین دنیا میں ان کا قابل بھروسہ دوست ہے نے کس طرح بے رحمی اوربدعنوانی کرتے ہوئے اپنے کاروباری مفادات کوسامنے رکھا۔</p><p>یکے بعد دیگرآنے والی سویلین حکومتوں اور پاکستانی فوج نے چین کو ہندوستان کے خلاف اپنا اصل سرپرست سمجھا۔</p><p>پاکستان کے ایٹمی پروگرام سمیت پاکستا ن کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مددکرنے پرچین کوایک مستقل سٹریٹجک سرپرست سمجھاجاتاہے جبکہ اس کے برعکس امریکہ کوزیادہ شرائط عائدکرنے والااتحادی تصورکیاجاتاہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ چین پاکستان کے عوام کی مدد کےلئے نہیں بلکہ اپنے معاشی مفادات کے حصول کیلئے پاکستان میں موجودہے ۔</p><p>کمیٹی برائے پاور سیکٹر آڈٹ ، سرکلر ڈیٹ ریزرویشن اینڈفیوچر روڈ میپ کے عنوان سے278 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ انڈیپنڈنٹ پاورپروڈیوسرزنے100ارب روپے (625 ملین ڈالر) کاگھپلاکیاہے جس میں کم از کم ایک تہائی حصہ چینی منصوبوں سے متعلق ہے۔</p><p>سی پیک اورمقتدر فوج کے مابین قریبی تعلقات کے پیش نظر سی پیک اتھارٹی کے سربراہ اس وقت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ہیں جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات بھی ہیں ۔ کمیٹی نے چینی کمپنیوں کے سلسلے میں نرم رویہ اختیارکیا۔</p><p>کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کوئلے سے چلنے والے دوپاورپلانٹس نے اپنی تعمیرکی لاگت اورانہیں جلدی تعمیرکرنے کے سلسلے میں 32.46ارب روپے زیادہ وصول کئے۔</p><p>کمپنیوں کیلئے ساہیوال کول پاورپلانٹ کے معاملے میں بظاہر سود میں کٹوتی کی اجازت 48 مہینوں تک تھی جبکہ پلانٹس کو حقیقت میں 27-29 ماہ کے اندر مکمل کرلیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پروجیکٹ کی 30 سالہ زندگی میں 27.4 ملین ڈالر سالانہ اضافی ریٹرن (ایکوئٹی)ادا کرناہوگا۔ &nbsp;</p><p>متوقع زائدادائیگی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان کوڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے میں سالانہ 6 فیصد کمی کرکے 291.04ارب روپے اضافی دیناپڑیں گے۔</p><p>چینی کمپنی ایچ ایس آر نے پوری تعمیراتی مدت کی طوالت کےلئے لائی بوراور4.5 فیصد کی شرح سے &nbsp;</p><p>طویل مدتی قرض پر مبنی تعمیرات کی مدت کے دوران سود کا دعوی ٰکیا ہے حالانکہ اس نے تعمیر کے پہلے سال کے دوران رقم نہیں لی اور دوسرے سال صرف مختصر مدتی قرضے استعمال کئے اوروہ بھی بہت کم شرح سود پرلئے گئے تھے۔</p><p>چینی کمپنیوں کے زیادہ منافع کمانے کی وجہ سے بالاترہے۔ پاکستانی ماہرین کی کمیٹی نے جن دونوں منصوبوں کی جانچ کی تھی ان کی لانچنگ کے وقت لاگت3.8ارب ڈالرلگائی گئی تھی۔</p><p>کمیٹی نے 483.64ارب کی زائدادائیگیاں پکڑی ہیں جوموجودہ شرح تبادلہ سے 3ارب ڈالرزیادہ ہے۔اس میں روپے کی زائد ادائیگی شامل ہے جس سے ایچ ایس آرکو376.71ارب اورپی کیوای پی سی ایل کو 106.93 ارب اضافی سیٹ اپ لاگت دیناپڑی چونکہ اس کام کیلئے اضافی لاگت لگائی تھی تو 30 سال میں منافع بھی دیناپڑے گا۔</p><p>موجودہ فارمولہ کے مطابق پہلے دو سال میں ایچ ایس آرنے اپنی لگائے ہوئے سرمائے کا71.18فیصد منافع کمالیاہے جبکہ پی کیوای پی سی ایل نے پہلے سال کے دوران اپنے سرمائے کا32.46فیصدوصول کرلیاہے۔</p><p>ان کمپنیوں نے بغیرکسی وجہ کے اضافی پیسے کمائے۔اب ذراتصورکریں کے62ارب ڈالرکی لاگت سے بننے والے سی پیک کے منصوبوں میں کس قدر منافع رکھاگیاہوگا۔اعدادوشمارکوذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہناممکن ہی نہیں کہ یہ بدعنوانی کسی ایک پاکستانی یاکمپنی یاان کی چینی ہم منصب کمپنیوں کی طرف سے کیاگیاہے۔</p><p>سری لنکا اور مالدیپ کی حکومتوں کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زائد ادائیگیاں پاکستانی حکومت کے رہنماﺅں کی ملی بھگت اور تمام فریقوں کی مشترکہ لوٹ کھسوٹ کانتیجہ ہے۔</p><p>پاکستان کی معیشت کچھ عرصے سے دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور COVID-19 وبائی امراض نے صورتحال کو اور بھی زیادہ خراب کردیا ہے۔</p><p>پاکستان کے رہنمائوں نے اپنے ملک کی پالیسیوں میں اصلاحات کے بجائے ایک بار پھرکشکول اٹھاتے ہوئے قرضوں پرنظرثانی اورچھوٹ دینے کامطالبہ شروع کردیاہے۔ان کاموقف ہے کہ وبائی بیماری کی وجہ سے چھوٹ دی جائے جس طر ح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بدلے میں مددکی گئی تھی۔</p><p>لیکن عالمی برادری سے توقع کرنا کہ وہ پاکستان کوبارباراقتصادی بحران سے نکالے گی غیرحقیقی تصورہے ۔ بڑے پیمانے پر فوجی اخراجات ،خوفناک بدعنوانی اور احتساب کا فقدان پاکستان کی آمدن اور اخراجات میں پیداہونے والے فرق کی بڑی وجوہات ہیں۔اب ایسا لگتا ہے چینی سرمایہ کاری ایک نیابحران بن چکا ہے۔</p><p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے عہدیداروں پر ٹیکسوں اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کےلئے دبائو ڈال رہا ہے تاکہ چینی وارداتوں کیلئے ادائیگیوں کوممکن بنایاجاسکے۔</p><p>امریکہ اور مغربی مالیاتی اداروں کو پاکستان کے حکمران طبقہ جوکہ اشرافیہ ہے اورعوام سے زیادہ کرنے والے دوسرے فریق چین کی مددنہیں کرنی چاہئے ۔پاکستانی عوام اچھے سلوک کی مستحق ہیں۔</p>



امریکہ طالبان معاہدہ افغانستان میں امن نہیں لاسکتا

7 months ago


امن معاہدے پرامریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی کامضمون

<p>امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معاہدے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے لیکن اس کے ذریعے افغانستان میں امن آنے کا امکان نہیں ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے تشدد میں کمی جس نے اس معاہدے کو ایک ” امن معاہدے “ کے طور پر پیش کرنے کے لئے بنیاد مہیا کی تھی وہ پہلے ہی ملک بھر میں طالبان کے نئے حملوں کے باعث ختم ہو چکا ہے۔</p><p>اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ” لامتناہی جنگوں “ کے خاتمے کے اپنے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ افغانستان میں ان بین الاقوامی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے گیا تھا جنہوں نے امریکہ پر حملہ کیا تھا۔ اب جب کہ القاعدہ کا خطرہ کم ہوچکا ہے اور امریکہ نے خود کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے دیگر ذرائع تیار کرلیے ہیں تو افغانستان میں مزید خون اور خزانے کو کیوں ضائع کیا جائے؟</p><p>تاہم یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ آیا طالبان افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں یا افراد کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔ دوحہ معاہدے میں طالبان کی طرف سے دی جانے والی یہ واحد بڑی رعایت تھی۔ &nbsp;</p><p>طالبان اپنے طور پر خود کو ایک سپر پاور کے خلاف فاتح فریق سمجھتے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام پسند عسکریت پسند بھی افغانستان کے نتیجہ کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔</p><p>امریکیوں کے آنے سے پہلے مطلق العنان نظریاتی گروہ کی حیثیت سے طالبان، افغان عوام کو اذیت دے رہے تھے۔ وہ امریکی فوج کے انخلا کو اپنی اسی امارت کی بحالی کے امکان کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کی مدد سے قائم کی تھی۔</p><p>طالبان کے ذہنوں میں ان کی امارت اب بھی وجود رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان کے معاہدے کے دوران ، ’اسلامی امارت اسلامیہ افغانستان کے متعدد حوالہ جات موجود ہیں جنھیں امریکہ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا لیکن طالبان اسے ریاست سمجھتے ہیں۔</p><p>معاہدے کے پارٹ ٹو کی شق 5 میں کہا گیا ہے کہ امارت / طالبان "ان لوگوں کو جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ ہیں کو افغانستان میں داخلے کے لئے ویزا ، پاسپورٹ ، سفری اجازت نامہ ، یا دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کریں گے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ یہ کام صرف حکومتیں انجام دیتی ہیں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ امارت کو کسی دن امریکہ جائز تسلیم کر سکتا ہے۔</p><p>یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ امن معاہدے کےلئے کچھ لو اور کچھ دو کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی فریق کو خوش کرنے والے الفاظ سفارتی مذاکرات کا لازمی حصہ ہوتے ہیں لیکن 'افغانستان میں امن لانے کےلئے معاہدہ' کے عنوان سے دستاویز پرٹیلیویژن سکرینوں کے سامنے دستخط کرنے کی تقریب کے انعقاد کے لئے لگتا ہے کہ یہ بات سرے سے ہی نظرانداز کر دی گئی کہ اس مبہم منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا۔</p><p>مثال کے طور پر دوحہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے "پانچ ہزار (5000) قیدیوں" کو انٹرا افغان مذاکرات سے پہلے"10 مارچ ، 2020 تک رہا کیا جائے گا ۔ لیکن یہ وعدہ افغان حکومت کے پیشگی ا تفاق رائے کے بغیر کیا گیا ہے جس کے پاس حقیقت میں قیدی موجود ہیں۔</p><p>اسلامی جمہوریہ افغانستان کے طور پر تسلیم شدہ کابل حکومت کے متوازی مشترکہ اعلامیے میں قیدیوں کے موضوع کو مختلف انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں صرف "امریکی سہولت کاری کے تحت طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات پر گفتگو کے بارے میں بات کی گئی ہے تاکہ دونوں طرف سے معقول تعداد میں قیدیوں کو رہا کرنے کے امکان کا تعین کیا جاسکے۔</p><p>معاہدے کے اندر ایسی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ کس طرح اس سے منحرف ہوا جا سکتا ہے جس طرح یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اس پر دستخط ہی کیوں کیے گئے تھے۔</p><p>امریکہ میں عمومی طور پر یہ جذبات پائے جاتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا تھا یا اس سے بھی آگے یہ کہا جاتا ہے کہ جنگ ہاری جا چکی ہے اور یہ کہ"افغانستان اب امریکہ کو درپیش سب سے زیادہ ضروری یا اہم قومی سلامتی کا چیلنج نہیں ہے"۔ امریکی عوام یا ان کے کچھ رہنماو¿ں میں انتظار اور تاریخ کے شعور کی خوبیاں زیادہ تر امریکیوں میں نہیں پائی جاتیں۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ یہ نیا معاہدہ ویتنام میں امن کی بحالی کےلئے 27 جنوری 1973 کو پیرس میں ہونے والے 67 صفحات پر مشتمل جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی طرز پر کیا گیا ہے جس میں ’انڈوچائنا‘ میں امریکی فوجی مداخلت کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے دو سال بعد ، 1975 میں ، اس معاہدے کے دستخط کرنے والوں میں سے ایک ، جنوبی ویت نام کی عبوری انقلابی حکومت (ویت کانگ) نے اس معاہدے کے ایک اور دستخط کنندہ ، کمیونسٹ ڈیموکریٹک جمہوریہ ویتنام کی مدد سے ، امریکہ کے حمایت یافتہ جنوبی ویتنام کو زیر کر لیا تھا۔</p><p>اس میں کئی نمایاں چیزیں مختلف ہیں تازہ ترین دستاویز ضخامت کے اعتبار سے ہی نہیں ، جو صرف چار ٹائپ شدہ صفحات پر مشتمل ہے۔ شمالی ویتنام کے پیرس امن معاہدے پر دستخط کرنے کے برعکس ، طالبان کے اصل حمایتی پاکستان کے اس معاہدے پر دستخط نہیں ہیں۔</p><p>مزید برآں پیرس معاہدے پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ولیم پیئرس روجرز نے ہنری کسنجر کے ذریعہ مذاکرات کے بعد دستخط کیے تھے جبکہ موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دوحہ معاہدے پر اس کے مذاکرات کار زلمے خلیل زاد سے دستخط کرائے۔ اگر یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ اس کا سہرا اپنے سر باندھے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو خلیل زادکو اس کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔</p><p>افغانستان جنوبی ویتنام نہیں ہے۔ افغان قوم دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو امریکی تعاون سے یا اس کے بغیر بھی طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مقابلہ کرے گی۔ بہت سارے امریکی رہنما خاص طور پر فوج اور انٹیلیجنس کمیونٹی میں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا آسان ویتنام سے بھاگنا تھا۔</p>