عضو،،کاٹ تحریک،، ،،کاٹناہے یالٹکاناہے؟؟؟

ثاقب مجاہدبیگ
نیوزایڈیٹر،صحافی وتجزیہ نگار

1 month ago


کیاانتہائی سزائوں سے معاشرہ متشددتونہیں بن جائے گا؟؟

ایک ہی شورکاٹ دو،،،،کاٹ دو،،،،ماردو،،،ماردو،،،،کیایہ کسی مسئلے کاحل ہے؟کیاکسی بھی مسئلے پر بحث ومباحثہ کے بعداس نتیجہ پرنہیں پہنچناچاہئے کہ اصل مسئلہ کیاہے ؟اس کی نوبت کیوں پیش آتی ہے؟اس کاحل کیسے ممکن ہے؟


موٹروے زیادتی کیس کے بعدسے ملزمان کے اعضاءکاٹنے اورسرعام پھانسی کی باتیں ہورہی ہیں۔ اصل بات تویہ ہے کہ وزیراعظم،سپیکرقومی اسمبلی اوردیگربہت سی اہم شخصیات ان چیزوں کی کہیں نہ کہیں حامی ہیں۔لیکن کوئی بھی مسئلے کی وجہ یااس کاحل تلاش نہیں کررہانہ اس پربات ہورہی ہے۔کہیں ایسے نہ ہوکہ معصوم زندگیاں جذبات کی بھینٹ چڑھ جائیں۔اس خوف کی فضا میں کوئی بھی اپنی دشمنی کواس طرح کے معاملات کی آڑمیں پوراکرسکتاہے جیسے کسی بھی خواتین یابچیوں کے تعلیمی ادارے کے قریب سے گزرتے ہوئے کسی بھی شخص کے ساتھ کیاہوسکتاہے۔ اگردوچارلوگ ہی ایک شخص کوپکڑکرشورمچادیں کہ یہ کچھ غلط کرنے یہاں آیاہے توسوچیں کیابنے گااس کا۔


انسان کی سب سے پہلی ضرورت بھوک کوقراردیاجاتاہے جسے مٹانے کے لئے وہ کچھ بھی کرسکتاہے اور کسی بھی حدتک جاسکتاہے۔اس معاملے میں توایک وقت پرحلال حرام کامسئلہ بھی نہیں رہتا۔خوراک کی ضرورت پوری ہونے کے بعدانسا ن کی دوسری سب سے اہم ضرورت جسمانی تعلق کوسمجھاجاتاہے۔ اس کے لئے شادی کاراستہ موجودہے جسے اچھاسمجھاجاتاہے۔مگریہ آسان نہیں ہے یقین نہ آئے تواپنے اردگردنظریں گھماکردیکھ لیں کہ کیاچل رہاہے۔ ایسے میں ایک نوجوان کیاکرے گااگراس کویہ ضرورت پوراکرناپڑگئی؟ظاہرہے وہ کسی غلط راستے کا انتخاب ہی کرے گا۔

کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ اس مسئلے کاحل سیکس ورکرزکی ریگولرائزیشن ہے جوبظاہر ٹھیک بھی لگتاہے اورکچھ لوگ تواس کومعیشت سے بھی جوڑرہے ہیں کہ کسی کے روزگارکے ساتھ امن بھی آجائے گااورزیادتی واقعات کوکنٹرول کرنے میں مددملے گی لیکن اس طرف کسی کاکوئی دھیان نہیں صرف ملوث لوگوں کونشان عبرت بنانے کی جلدی ہے۔اب گواہوں کی بجائے ڈی این اے پربہت زوردیاجارہاہے کہ اگرکسی مردکاڈی این اے میچ کرجائے تویہی مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہے گواہوں کی ضرورت نہیں۔سائنس ترقی کرگئی ہے۔ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔اس میں توکسی کوبھی ملوث کیاجاسکتاہے۔

مثال کے طورپروقوعہ سے ملنے والے خون کے نشانات ڈی این اے میں مدددیں گے مگرکیاکسی بھی شخص کے خون کے نمونے جائے وقوعہ پرموجودہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث ہے۔کیااس معاملے کومینج نہیں کیاجاسکتا؟؟اگرکسی عورت کے کسی مردسے تعلقات ہیں اورکسی وجہ سے تنازع بن گیاتوکیاوہ عورت اس ڈی این اے والے معاملے کوشورمچاکراپنے حق میں استعمال نہیں کرسکتی؟؟؟جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔وہ نہ ہوکہ اگراس طرح کاکوئی قانون بن گیاتوکسی بے گناہ کاکٹ ہی نہ جائے یاوہ خودلٹک جائے۔ اس سے ملتی جلتی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں جس میں کسی کوبھی ملوث کیا جاسکتاہے۔ڈی این اے والامعاملہ اتناسادہ نہیں جتنابتایاجارہاہے۔


جوسزائیں کسی بھی جرم کی موجودہیں بس ان پرعملدرآمدکی ضرورت ہے ۔ہاں یہ بات بھی قابل بحث ہے کہ سزاسرعام ملے گی یانہیں۔کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ زینب کیس میں سزاتوہوگئی مگرمعاشرے پراس کااثرنہیں ملااگرسزاسرعام ہوتی تواس کااثرہوتااوربہت سے لوگ جرم کرنے سے رک جاتے ۔کسی کوتونشان عبرت بنایاجائے مگرکسی بے گناہ کونہیں۔اب سزاتومجرم کودینی نہیں مجرم کاتعین بھی ٹھیک سے نہیں کرنا نئی سزاتجویزکروکہ سامان کاٹ دو۔یہ کاٹ دینے کی سوچ معاشرے کے متشددہونے کی طرف بھی اشارہ ہے جواچھی بات تونہیں۔لاہورکاوہ واقعہ تویاد ہو گاجس میں دونوجوانوں کودہشتگرد سمجھ کرجان سے ہی ماردیاگیاتھاپھرمارنے والے کس گھٹن کاشکارہوگئے کہ اب ہمیں بطورکمیونٹی نہ نشانہ بنایاجائے تویہ سوچ ان دوبےگناہوں کومارتے وقت کیوں نہ آئی۔


تمام پہلوﺅں سے بات کی جائے توذمہ داری ریاست کی ہے کہ ان چیزوں پرغورکرے اورکوئی حل نکالے تاکہ عورتیں اوربچے محفوظ ہوسکیں۔یہاں بھی دوہرامعیارنظرآتاہے کہ عمران خان صاحب جب اپوزیشن میں تھے تواس طرح کے واقعات پرخوب شورمچاتے تھے اوران کے ہمنوابھی خوب ساتھ نبھاتے تھے۔زینب کیس اورماڈل ٹائون توانگلیوں پرگن لیاکرتے تھے لیکن جب وہ حکومت میں آئے توبس یہ فقرے سننے کوملے۔۔۔۔۔جان اللہ کودینی ہے۔۔۔۔توکیابنااس فقرے کاجس جرم کامجرم نہ ملے توریاست ذمہ دارہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیابناپھرساہیوال کیس کا؟؟؟ کیا مجرموں کوسزائیں مل گئیں؟؟

اب موٹروے کیس پربھی صورتحال مضحکہ خیزبیانات کی نذرہورہی ہے۔۔ چھاپہ ماراتومجرم بھاگ گیا۔ ۔کیا؟؟؟کہاں بھاگ گیاکیسے بھاگ گیاپکڑاکیوں نہیں۔۔عورتیں رات کونہ نکلیں ۔۔۔۔پٹرول چیک کیوں نہ کیا۔۔۔۔۔اوپرسے حکومت ان عجیب وغریب بیانات کی حمایت میں خم ٹھونک کرآگئی ۔ ایک دوست اورتھے عمران خان آئے گی اور200ارب ڈالرپتہ نہیں کس کس کے منہ پرمارے گی ۔۔جی ہاں وزیرمواصلات ہیں۔۔ہرمسئلے پرپورازورلگاکرآنکھیں باہرنکال کرشورمچاتے ہیں مگرجب اپنی وزارت کے ماتحت آنے والی موٹروے پرجرم ہواتوکہیں خاموش سے ہوگئے نہ جانے کیاچپ لگ گئی تھی۔


جب عوامی پریشربناتولگے سب شورمچانے کے کاٹ دو۔۔۔بس کاٹ دو۔۔۔ارے بھائی کیامولی گاجر ہے جوبس کاٹ دو۔ان تمام معاملات میں پولیس کاکردارسب سے اہم ہوتاہے کیوں کہ عدالت میں ثبوت توپولیس نے فراہم کرنے ہوتے ہیں اگرپولیس نے کہیں بھی تھوڑی سی بھی غفلت کی توکیس خراب اورملزم چھوٹ جاتا ہے اورلوگ عدالتوں کوبرابھلاکہنے لگتے ہیں۔عدالت تودستیاب ثبوتوں پرفیصلے دیتی ہے کسی کی خواہش پرتونہیں۔اس مسئلے کاحل یہ ہے کہ پولیس کاکام صرف ایف آئی آرکے اندراج تک ہو۔ تحقیقات کے لئے علیحدہ سے ادارہ ہوناچاہئے جس کاکام ثبوتوں کی فراہمی اورتحقیقات کرنا ہو۔اس طرح پولیس کے کرپٹ ہونے کاتاثربھی ختم ہوجائے گا۔اگرپولیس ہی سب کچھ کرے گی توپھرمسئلہ خراب ہوجائے گااسی لئے اس طرح کے کیسزمیں خاطرخواہ کامیابی آج تک نہیں ملی۔اس کے لئے پولیس ریفارمزبھی ضروری ہیں مگرپنجاب والی نہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے