بلوچ رہنمائوں نے مددکی بھارتی پیشکش مستردکردی

ساشانکا ایس بینرجی
سابق بھارتی سفارت کار

2 weeks ago


پاکستان کے مزیدٹکڑے کرنے کی سازش ناکام ہوگئی

25 مارچ 1971 کو شروع ہونے والا فوجی آپریشن نو مہینوں کے اندر ہی بنگلہ دیش کی آزادی اور پاکستانی افواج کی شکست پر ختم ہوا۔

اس فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج پرقتل عام اور اجتماعی عصمت دری جیسے سنگین الزامات لگے۔ ان سنگین واقعات پر کئی محققین تحقیقات کے بعد بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔

مغربی جمہوریتوں کی نام نہاد مہذب دنیا نے اس وقت مصلحتوں کے تحت بنگلہ دیش کے عوام کے خلاف جابرانہ اقدامات پر چپ سادھے رکھی۔

بنگالیوں کی فوجی آمریت کے شکنجے سے آزاد ہو کر ایک خودمختار آزاد قوم بننے کی خواہش کو گناہ قرار دیا گیا اور مغرب نے نکسن انتظامیہ کی پاک فوج کی کھل کر حمایت کرنے کی پالیسی کی پیروی کی۔

اپنے عوام کے خلاف جابرانہ اقدامات پر بنگالی قیادت عمومی اور ان میں سے سخت موقف رکھنا والا طبقہ خاص طور پر پاکستان کے خلاف مخاصمت کا رویہ اختیار کئے ہوئے تھا۔ ایسے ہی غصے کا شکار عبد الصمد آزاد تھے ، جنہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے جلاوطنی کے دوران وزیر خارجہ نامزد کیا تھا۔

16دسمبر 1971 کو جب پاکستان کی شکست خوردہ افواج ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال رہی تھیں تو عبد الصمد آزاد لندن میں تھے۔اسی دن آزاد نے لندن کے ٹریفلگر سکوائر کے قریب چیئرنگ کراس ہوٹل میں ایک اجلاس بلایا۔

یہ بند کمرے کا انتہائی خفیہ اجلاس تھا جس میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد باقی بچ جانے والے پاکستان کے چھوٹے صوبوں کی قومیتوں کے سینئر رہنمائوں کو مدعو کیا گیا تھا۔یہ رہنما فوجی حکومت کے اقدامات کے خوف سے تقریباً ایک سال سے لندن میں پناہ گزین تھے۔

ایک ایسی قوم کہ جو ایک روز قبل آزاد ہوئی تھی اس کے وزیر خارجہ اگرچہ تنہا اس اجلاس میں موجود تھے لیکن اس کا امکان نہیں کہ انہوں نے یہ اجلاس اپنے طور پر ہی بلایا تھا۔

تمام امکانات سے یہی لگتا ہے کہ انہیں اپنی جلاوطن حکومت کی جانب سے وطن واپسی سے پہلے ایسا کرنے کی ہدایات موصول ہوئی تھیں۔

مدعو کئے جانے والوں میں صوبہ خیبر پختونخوا سے سرکردہ پشتون رہنما،نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ ، خان عبد الولی خان جو خان عبدالغفار خان کے بیٹے تھے جنہیں سرحدی گاندھی بھی کہا جاتا تھا۔

بلوچستان کے بگٹی قبیلے کے رہنما نواب اکبر خان بگٹی، مری قبیلے کے سردار نواب زادہ خیر بخش مری ، مینگل قبیلے کے رہنما عطا اللہ مینگل، اور سندھ سے جی ایم سیدکے نامعلوم نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے کیونکہ جی ایم سید اس وقت جیل میں تھے۔ اس خفیہ اجلاس کا موضوع غیر معمولی طور پر حساس تھا۔

اجلاس میں عبد الصمد آزاد ، ان کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کی جماعت عوامی لیگ کو ان تمام رہنمائوں نے بھر پور مبارکباد پیش کی۔

آزاد نے اجلاس میں شریک پاکستان کے رہنمائوں کو متنبہ کیا کہ بنگلہ دیش میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اس بات کا امکان تھا کہ پاکستانی فوج غصے میں اور انتقام کے جذبے کے تحت بلوچ ، پشتون اور سندھی قومیتوں کے خلاف مشرقی پاکستان جیسے پرتشدد فوجی کریک ڈائون کا آغاز کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کا انتہائی نوعیت کا ناقابل برداشت معاشی اور سیاسی استحصال ہوسکتا ہے ۔ آزاد اجلاس میں شریک سیاسی رہنمائوں کی رائے جاننا چاہتے تھے کہ کیا چھوٹے صوبوں کی قیادت ان کے تجزیے سے متفق ہے یا نہیں۔

اس کے بعد آزاد نے پاکستان میں چھوٹی اقلیتوں کی آزادی کی جدوجہد کا ایک مشترکہ محاذ قائم کرنے کی تجویز پیش کی جس کا مقصد پاکستان سے الگ ہونا ہو۔ اس تجویز کے بعد انہوں نے پوچھا کہ کیا انہیں یہ تجویز منظور ہے؟

پاکستان شکست سے دوچار تھا ، ہندوستانی فوج لاہور کے نواح تک پہنچی ہوئی تھی ، لہذا اس وقت حملہ کرنے کا یہ سب سے زیادہ مناسب موقع تھااور اگر وہ اتفاق کرتے ہیں تو بنگلہ دیش ان کی جدوجہد کے پورے انفراسٹرکچر قائم کرنے ، سیاسی ، سفارتی اور سب سے اہم مادی وسائل فراہم کرنے کے لئے تیار تھا۔

اس پر تمام شرکا نے بیک وقت سوال کیا: ہندوستان کا کیا موقف ہوگا؟ آزاد نے انہیں یقین دلایا کہ اگر وہ ہندوستان کی حمایت چاہتے ہیں ، جس کا انہیں یقین ہے کہ بنگلہ دیش کے تجربے سے ناگزیر اور حکمت عملی کے لحاظ سے بھی اہم ہوگا۔

عوامی لیگ کی قیادت نئی دہلی سے بات کر سکتی ہے اور ہنگامی طور پر ہندوستان کی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس پر تمام پاکستانی رہنمائوں نے کہا تھا اب وقت بہت کم ہے اور اس سلسلے میں ان کی تیاری ہے اور نہ ہی آزادی کی جدوجہد کے لئے مطلوبہ انتظامی انفراسٹرکچر موجود ہے۔

ان سب کے بعد نواب اکبر خان بگٹی نے بڑے جذبے اور افسوس کے ساتھ کہا: "مجھے ڈر ہے کہ ہندوستان کو ہماری حفاظت کے لئے پاکستان کے ساتھ ایک اور جنگ لڑنا پڑے گی۔

دو دیگر رہنمائوں ، خان عبد الولی خان اور خیر بخش مری نے بگٹی کی بات کی تائید کی۔

اس اجلاس کے اختتام کے فوراً بعد آزاد نے ملاقات کی تفصیلات اپنے اور ہندوستانی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کے سامنے پیش کیں جو اس وقت لندن میں موجود تھے۔

اجلاس کی تفصیلات سے ظاہر تھاکہ بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔ یہ بھی ظاہر تھا کہ خفیہ اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی بھی جلد بازی میںکی گئی تھی۔

اس سلسلے میں پہلے کوئی مشاورت نہیں ہوئی تھی۔ جنگ کے نتائج سے متعلق غیر یقینی صورتحال یقیناً اس کی بنیادی وجہ تھی۔ اس لئے اس خیال کو اتنی تاخیر سے سامنے لایا گیا۔

بنگلہ دیش جنگ کے اختتام پر مجیب کو 8 جنوری 1972 کو راولپنڈی کی میانوالی جیل سے رہا کیا گیا اور اگلے ہی دن وہ لندن پہنچے۔

ان سے میری طویل رفاقت رہی۔ میری شیخ مجیب الرحمن سے پہلی ملاقات 1962 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں ان کے ساتھ دہلی کے راستے وی آئی پی فلائٹ پر دہلی جائوں جس کا برطانوی حکومت نے بندوبست کیا تھا۔ میں نے ان سے 1973 میں دوبارہ لندن میں ملاقات کی جب وہ وزیراعظم تھے۔

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے طور پر وہ یہاں اپنے آپریشن کے لئے آئے تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ کیا وہ 16 دسمبر 1971 کے خفیہ اجلاس کے بارے میں جانتے تھے جو عبد الصمد آزاد نے بلایا تھا۔

انہوں نے تصدیق کی: ہاں ، میں اس سے پوری طرح آگاہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قیادت کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے بلوچ عوام آزادی کے اپنے تاریخی موقع سے محروم ہوگئے۔

میں نے خود مجیب الرحمن سے جو کچھ سنا اس کے مطابق جلاوطنی میں بنگلہ دیشی حکومت 16 دسمبر 1971 کو لندن میں ہونے والے اس اجلاس سے آگاہ تھی۔

اجلاس کی خبریں نئی دہلی بھی پہنچ گئیں لیکن وزیراعظم اندرا گاندھی نے پہلے ہی یکطرفہ طور پر مغربی محاذ پر جنگ بندی کا اعلان کرنے کا ایک سیاسی فیصلہ لیا تھا جس کے نتیجے میں 1971 ءکی ہندوستان پاکستان جنگ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

ایسی صورتحال میں کہ جب بھارت کو بالادستی حاصل تھی اور اس کے پاس ترانوے ہزار جنگی قیدی بھی تھے اس ہنگامی اور غیر ضروری جنگ بندی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کچھ اہم معاملات کوحل کئے بغیر چھوڑ دیا، ان میں سب سے اہم کشمیر کا مسئلہ تھا۔

بھارت میں عمومی نقطہ نظر یہ تھا کہ ہندوستان یہ جنگ جیت گیا تھا مگر وہ مستقل امن کا موقع گنوا بیٹھا ہے۔ 1972 کا شملہ معاہدہ اس ناکامی کی یادگار ہے۔

بہر حال ، ہندوستان میں تحقیقی سکالرز نے اعتراف کیا ہے کہ اندرا گاندھی کے مغربی محاذ پر یکطرفہ جنگ بندی کرنے کا فیصلہ ،جس کے باعث 1971 کی بنگلہ دیش کی جنگ بند ہوئی، یقیناًعالمی طاقتوں کے دبائو کے زیر اثر نہیں ہوا تھا۔

کیا لندن کے اس ناکام اجلاس نے اندرا گاندھی کے یکطرفہ فیصلے میں کوئی کردار ادا کیا ہو گا کیونکہ اس کی خبریں وزیر اعظم تک ضرور پہنچی ہوں گی؟

ہم شاید کبھی نہیں جان سکیں گے اور نہ ہی ہمیں کبھی یہ معلوم ہوگا کہ اگر لندن کی اس میٹنگ میں موجود تمام رہنما یا کم از کم بلوچ رہنمائوں نے آزاد کی تجویز کو قبول کرلیا ہوتا تو پھر ہندوستان کی حکمت عملی کیا ہوتی؟

مکتی باہنی کے لئے ہندوستانی فوجی مدد فراہم کرنا آسان تھا کیونکہ ہندوستان پاکستان کے دو حصوں کے مابین سینڈویچ تھا۔ غالباً بنگالیوں جیسی بلوچ تحریک کا معاملہ شاید مختلف ہوتا۔

(یہاں بیان کردہ واقعات کے وقت ساشانکا ایس بینرجی لندن میں بطور ہندوستانی سفارت کار تعینات تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ 20 اکتوبر 2013 کو وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انہیں 'بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوست ' کے ریاستی اعزاز سے بھی نوازا تھا)۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے