سیاسی پتلی تماشہ یا خاکی چکر ویو

ڈاکٹرعظمیٰ قدرت
ڈاکٹر

3 weeks ago


کٹھ پتلیاں بارباراپنی جگہ بدل رہی ہیں

ایک بڑی مشہور ہندی کہاوت ہے کہ “جو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں، اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا”۔

کرکشیتر کے میدان میں جب مہابھارت لڑی گئی اور چکر ویو رچایا گیا تو سوائے کرشنا اور ارجن کے کوئی نہیں جانتا تھا کہ چکر ویو کا توڑ کیا ہے؟

سپاہی اس چکر ویو میں داخل ہی نہ ہو پاتے۔ بظاہر وہ مدمقابل کو چت کر بھی دیتے تو پتہ ہی نہ چلتا اور دوسرا تازہ دم جنگجو سامنے آ جاتا۔

پہلے چکر کو توڑنے میں کامیاب شخص کا سامنا تازہ دم اور مزید زور آور مد مقابل سے ہوتا۔

وہ تو تھی مہا بھارت صدیوں پرانی،اب یہ چکر ویو سیاست میں رچے جاتے ہیں، اپنے اپنے انداز میں۔ جو سامنے ہوتا ہے وہ سمجھ نہیں آتا اور جو سمجھ آتا ہے وہ تو کچھ اور ہی ہوتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں ایک کھلاڑی کی آمد ہوئی اور دیکھتے دیکھتے وہ ملک کی سب سے طاقتور کرسی پر براجمان ہو گیا۔

وہ اس کرسی تک پہنچا کیسے؟ کون اسکے پیچھے تھا؟ اسکی کیا اہلیت تھی؟ یہ سب ایک الگ بحث ہے۔ وہ کرسی پر بیٹھا یا بٹھایا گیا اور اس کے ذریعے ایک چکر ویو رچایا گیا ایک کھیل کے میدان کی طرح۔ مختلف کھلاڑی مختلف پوزیشنز پر۔

مقصد صرف یہ کہ تماشائیوں اور مد مقابل کو بس تھکایا جائے مصروف رکھا جائے اور پیچھے سے اپنا اصل کھیل جاری رکھا جائے۔ ایک کھلاڑی کبھی آگے آتا تو دوسرا پیچھے چلا جاتا۔ کبھی ایک دائیں طرف تین قدم ہوتا تو کبھی دوسرا بائیں طرف دو قدم۔

اسد عمر آئے خزانے کا بیڑا غرق کرنے کے بعد دو قدم پیچھے ہوئے اور تازہ دم عبدالحفیظ شیخ کو درآمد کر لیا گیا۔ پیچھے اسد عمر اب ایک سٹینڈنگ کمیٹی سے دوسری، ایک کونسل سے دوسری پر چھلانگیں مار رہے ہیں۔

فواد چوہدری اطلاعات سے دائیں طرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں کھسکے تو فردوس عاشق اعوان آئیں اور فردوس عاشق اعوان تازہ دم ہونے پیچھے ہٹیں تو شبلی فراز آگے آ گئے۔

جہانگیر ترین اپنی خدمات کی وصولی اور شوگر ملوں سے سونا بنانے کے بعد پس منظر میں گئےاور ندیم بابر چونا لگانے تیل اور تیل کی دھار کو اپنی ریفائنری کی طرف موڑنے سامنے آ گئے۔

اس اٹھاپٹک کا حالیہ نمونہ سامنے آیاجب پی ڈی ایم سے نمٹنے کےلئے شیخ رشید کی وزارت داخلہ میں آمد ہوئی بریگیڈئیر اعجاز نے اعظم سواتی کی جگہ سنبھالی اور اعظم سواتی ریلوے کے کرتا دھرتا ہوگئے۔

اس سارے ڈرامے کا مقصد ہے کیا؟ یہ کہ اپوزیشن کو شخصی سیاست میں الجھا کر رکھا جائے؟ کیسی گورننس اور کونسی گورننس؟ نوکریوں کا سیلاب لانے کا دعویٰ کرنے والوں کے دور میں پانچ کروڑ لوگ بیروزگار اور تین کروڑ غربت میں دھنسے ہوئے ہیں۔

ریاست مدینہ میں لوٹا مال درآمد کرنے کے خوشنما نعرے لگانے والوں نے بیرونی قرضہ پچانوے سے تقریباً ایک سو تیرہ بلین ڈالر تک پہنچا دیا۔ ایک وزیر کو اپنا کام سمجھنے میں چھ مہینے سال لگتے ہیں پلاننگ ابھی ہوتی نہیں کچھ کام ہوتا نہیں اور روانگی کا وقت آ جاتا ہے۔

آٹا35سے 75 ہو گیا چینی 55سے 110 تک پہنچ گئی، بجلی گیس پٹرول سب قوت خرید سے باہر اور عوام کی کمر توڑ کر اسے اس سب میں الجھائے رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف اپوزیشن ہر نئے آنے والے وزیر مشیر کی شخصیت کی پرتیں کھولنےاور اپنے خلاف روزانہ کی بنیاد پر بنائے گئے نیب کیسز سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے۔

مزے کی بات اس دوران ہر محکمے ہر حساس عہدے پر خاموشی سے فوجی براجمان ہوتے چلے گئے گوادر پر باڑھ لگنی شروع ہو گئی اور کووڈ سے نمٹنے کے لئے ملی بیرونی امداد تک جرنیلوں کی جیبوں میں پہنچ گئی۔

ایک پتلی تماشہ ہے جس کی ڈوریں اوپر والوں کے ہاتھ میں ہیں۔ مارشل لا کی ٹوپی کی ضرورت ہی کہاں جب سر سہلا کر بھیجا کھایا جا سکتا ہے۔ سب جان کے بھی کچھ نہیں جانتے اور جو جانتے ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی توانائیاں کسی اور سمت میں ضائع کئے جا رہے ہیں۔

کہتے ہیں ارجن کا بیٹا ابھی منیو چکر ویو میں گھسنے کا طریقہ تو جانتا تھا مگر اسے اس سے باہر نکلنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ اس کو دشمن نے تھکا تھکا کر مار ڈالا۔ ہمارے سیاسی چکر ویو میں دشمن کو جانتے بھی ہیں اور پہچانتے بھی ہیں مگر اس تک پہنچنے کا طریقہ کیا کسی کے پاس ہے؟

پی ڈی ایم ڈھائی کروڑ ووٹ کے ہوتے ہوئے بھی بے بس نظر آ رہی ہے۔ اور دو کروڑ ووٹ والی پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتیں سینٹ کے الیکشن بھی ہڑپنے کے در پہ ہیں۔ دھرنا، جلسے، استعفے بظاہر تو بلبلوں کی طرح بیٹھتے نظر آ رہے ہیں۔

کیا ہماری اس مہابھارت کا کوئی ارجن ہے بھی یا سب اس ڈوریں ہلانے والوں اور چکر ویو رچانے والوں کے آگے محض ابھی منیو ہی ہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے