اپوزیشن کی تحریک

حسین حقانی
کالم نگار

1 month ago


تحریک کی رفتار برقرار رہی تو صفحے الگ ہو سکتے ہیں

گوجرانوالہ اور کراچی میں دو بڑے جلسوں کے بعد حزب اختلاف کی 11 جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)نے ملک میں سول ملٹری تعلقات کے ازسرنو جائزہ کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی سویلین حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے جلسوں میں مقررین نے عمران خان کو ’سلیکٹڈ‘ قرار دیا جبکہ سینئر جرنیلوں کو ” سلیکٹرز “ قرار دے کر انہیں کھل کر ہدف تنقید بنایا گیا۔


پاکستان کی سیاسی زندگی کی یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام معاملات میں فوج کا گہرا کردار موجود ہے لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ پر کبھی اتنی براہ راست اور کھلے عام تنقید نہیں کی گئی جو اب حزب اختلاف کے سیاستدانوں خصوصاً سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے کی جارہی ہے۔


سپریم کورٹ کو یہ تسلیم کرنے میں 22 سال لگے کہ 1990 کے انتخابات میں واقعتاً فوج نے مداخلت کی، اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ انتخابات میں ہیرا پھیری میں شامل تھے جن میں کچھ سیاستدانوں کو "الیکشن سیل" کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی گئی تھی اور اس کا مقصد بے نظیر بھٹو کے حکومت بنانے کے امکانات کا راستہ روکنا تھا۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کو جنرل بیگ کی طرف سے حمایت فراہم کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم کے عہدے پر پہنچے تھے۔1990 میں فوج کی مدد سے عروج پانے کے بعد نواز شریف اپنے پائوں پر خود کھڑے ہو گئے تھے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل کر لی اور اب وہ سویلین بالادستی کے لئے ایک جمہوری آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

تین بار منتخب ہونے اور تینوں بار ہی عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد نواز شریف نے دیکھا اور سمجھا ہے کہ پاکستان کی فوج سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ایک بار (1999 میں) فوجی بغاوت میں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا لیکن دوسرے دو مواقع پر انہیں بہت واضح طور پر محسوس کئے جانے والے خفیہ منصوبوں کے ذریعے آئینی طریقوں سے عہدے سے ہٹایا گیا۔ 1993 میں سویلین صدر یا 2017 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کی ذمہ داری سپریم کورٹ کے بینچ پر عائد کرنے کی بجائے نواز شریف اب جرنیلوں کے ساتھ اختلافات کے ایک ایک واقعہ کو بیان کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حکومت ختم کی گئی۔


1993 میں سپریم کورٹ نے جب اسحاق خان کے نواز حکومت کی برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تو اس کے بعد نواز شریف کو غلام اسحاق خان کے ساتھ مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔


اپوزیشن اتحاد کی رکن ایک اور جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں کا نشانہ رہی ہے۔ اس کے قائدین چار بار منتخب ہوئے اور ایک بار (1977) میں فوجی بغاوت میں اقتدار سے ہٹا دیئے گئے، انہیں دو بار صدارتی حکم (1990 اور 1996) کے ذریعہ برخاست کیا گیا اور 2012 میں عدلیہ کے ذریعہ مکمل طور پر حکومت کو غیر موثر کر دیا گیا تھا۔

پی ڈی ایم میں شامل دیگر شراکت داروں میں پشتونوں اور بلوچوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف قوم پرست جماعتیں شامل ہیں ان سبھی کو کسی نہ کسی موقع پر پاکستان میں ہم آہنگی کے نظریہ کو قبول کرنے سے انکار پر ’ملک دشمن‘ قرار دیا جا چکا ہے۔


2018 میں فوج کی قیادت نے سوچا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کے خواہش مند سویلین سیاست دانوں کے ساتھ جھگڑا ختم کرنے کے لئے ان سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارہ حاصل کر لےں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے کرکٹ سے سیاست میں آنے والے عمران خان کی حمایت کی جو 1997 سے سیاست میں تھے مگر انہیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی تھی۔

وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے بے چین عمران خان کی کمزور سیاسی حمایت کو جانتے ہوئے یہ فرض کیا گیا کہ اگرنواز شریف کو سیاست سے غائب کردیا جائے اور پیپلز پارٹی کو بھٹو زرداری خاندانوں کے علاقے اندرون سندھ تک محدود کردیا جائے تو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کو ترجیحی پالیسیوں سے مختلف پالیسیوں پر عمل پیرا سویلین رہنمائوں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

حزب اختلاف کی موجودہ تحریک اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سرکاری ملازمین کے ذریعے بنائی اور فوجی افسران کے ذریعے چلائی جانے والی سیاست قابل عمل نہیں۔ اگر موجودہ اپوزیشن کی مہم اپنی رفتار برقرار رکھتی ہے تو فوجی قیادت کو عمران خان کی حمایت سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ پلٹ کر اسٹیبلشمنٹ کے نقاد بن سکتے ہیں لیکن عمران خان کی قربانی دینا آسان راستہ ہوسکتا ہے کیونکہ اپوزیشن کے حملے آرمی چیف ، جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے انٹیلی جنس سربراہ کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ سیاست دان اس قسم کی لڑائی کے عادی ہیں اور فوج کے جرنیل عادی نہیں۔


دنیا کے دوسرے ممالک کے فوجی رہنمائوں کی طرح پاکستان کی فوجی قیادت بھی تنازعات میں پڑنا پسند نہیں کرتی۔ مزید یہ کہ فوجی کمانڈروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی سیاسی گروہ یا پارٹی کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے لڑتے ہوئے دکھائی دیں۔

اپوزیشن کی مہم کے بارے میں پاکستانی فوج اور اس کی طرف سے بٹھائی جانے والی سویلین حکومت نے ابتدائی ردعمل میں فوج کی قیادت کو متنازعہ بنانے کی حزب اختلاف کی کوشش کو مسترد کیا ہے لیکن اس کی ایک حد ہوتی ہے کہ فوج وسیع سیاسی کردار بھی ادا کرے اور اپنی دخل اندازی کو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ بھی رکھے۔

پاکستان1960کی دہائی کے اوائل سے بہت لمبا سفر طے کر چکا ہے جب ایوب خان کے دور میں فوج سے باہر کسی کو بھی فوجی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کا نام تک معلوم نہیں ہوتا تھا کیونکہ فوج کی داخلی تقرریوں کو ماس میڈیا میں مشتہر نہیں کیا جاتا تھا یہاں تک کہ ضیاءالحق کے دور میں فوجی جوان سامنے نہیں آتے تھے اور فوج کے سیاسی کام سویلین رابطہ کاروں کے ذریعے خفیہ طور پر کئے جاتے تھےلیکن اب فوج کے نسبتاً زیادہ نااہل سویلین شراکت داروں نے صرف اپنا جواز بنانے کے لئے اپنے پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کردیا۔

فوجی انٹیلیجنس اداروں کے اہل کاروں کی طرف سے سیاستدانوں اور صحافیوں کو براہ راست کالز اور ٹیکسٹ پیغامات اکثر ان کے سیاسی کردار کے غیر واضح ثبوت تردید کی بہت کم گنجائش چھوڑتے ہیں۔فوج کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی اہلیت کا بڑا انحصار ان کے لئے کام کرنے کو تیار سیاست دانوں اور صحافیوں پر ہے چونکہ اقتدار تک جانے والی راہ جی ایچ کیو سے ہو کر گزرتی ہے اس لئے یہ فطری بات ہے کہ اونچی خواہش رکھنے والے افراد اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لئے جرنیلوں اور انٹیلیجنس افسران کی مدد لیتے ہیں۔

جب انہوں نے اپنا وزن اتنے کھلے عام عمران خان اور ان کی پارٹی کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تو فوج کے بڑوں نے سوچا تھا کہ وہ ایک سویلین حکومت تشکیل دے رہے ہیں جو خود بھی ایک صفحے پر ہے۔ اس عمل میں جرنیلوں نے فوج کو ہر اس شخص سے الگ کرنے کا خطرہ مول لیا جوجرنیلوں کی حمایت کی حامل پاکستان تحریک انصاف کی مخالفت کرتا ہو۔اب جبکہ اپوزیشن نااہل سویلین حکومت اور فوجی قیادت کے مابین اتحاد کی باتیں کررہی ہے تو اس گٹھ جوڑ کی صرف تردید کافی نہیں ہوگا۔


نواز شریف کے حملوں اور اپوزیشن کی تحریک پاکستان کے فوجی رہنمائوں کو سیاست کے بارے میں اپنے موجودہ موقف پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فوج بطور ایک ادارہ 2018 کے انتخابات میں عمران خان کی حمایت کے تنازعہ کو اتنا طول دینا پسند نہیں کرے گا۔ ماضی میں جب بھی پاکستان کی گلیوں میں لوگ جرنیلوں کے سیاسی کردار کے مخالف ہو جاتے ہیں تو نیا نظام آتا ہے۔ موجودہ تحریک کے نتیجے میں کیا نظام بنے گا اس کی ابھی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

غیر مرئی حکومت کا تصور
کیاطالبان جنگ بندی سے انکاری ہیں؟؟
باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت

عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم

3 months ago


شاہ محمود قریشی کے بیان نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا

<p>&nbsp;&nbsp;کشمیرپر تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس کی طلبی کے لئے &nbsp;پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے&nbsp;سعودی عرب کوغیر معمولی الٹی میٹم سے &nbsp;ریاض کے ساتھ عمومی طور پر خوشگوار تعلقات کو خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔ قریشی نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب کی زیرقیادت او آئی سی اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہی تو پاکستان او آئی سی کے بغیر بھی اجلاس بلانے کے لئے تیار ہے۔&nbsp;</p><p>سعودی عرب کے حاکم اس قسم کی دھمکیوں سے صرف نظر نہیں کریں گے اور انہیں مزید غصہ اس بات پر ہو گا کہ دھمکیاں بھی وہ &nbsp;ملک &nbsp;دے رہا ہے &nbsp;جو اس شاہی خاندان کی حکومت سے اکثر مالی امداد لیتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان کے لئے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ کی ادائیگی میں مدد کرنے سے لے کر دو سال قبل ادائیگیوں کے توازن پر قابو پانے میں مدد فراہم کے لئے 6 ارب ڈالر کے قرض تک ہرمشکل وقت میں سعودیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔</p><p>&nbsp;تارکین وطن پاکستانی مزدوروں کو سب سے زیادہ ملازمتیں سعودی عرب نے دی ہوئی ہیں اور اس طرح ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ کچھ پاکستانی رہنما سعودیوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مساجد اور مدارس کی مالی اعانت کے ذریعے ملک میں بنیاد پرستی اور اسلام پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں &nbsp;ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے سعودی معاشی تعلقات نے ایسے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا ہے جو عالمی امورکو ہندوستان اورپاکستان کے تناظر میں دوست یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی تعلقات کی کچھ بنیادی &nbsp;حقیقتوں کو سمجھنے میں دشواری &nbsp;ہے۔ دونوں ممالک کے مابین روایتی تعلقات کی وجہ سے موجودہ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے 2007 میں یہ تبصرہ کیا تھا (وکی لیکس کے ایک لیک کیبل کے مطابق) کہ &nbsp;ہم سعودی عرب &nbsp;والے &nbsp;پاکستان میں مبصر نہیں بلکہ اس میں شراکت دار ہیں۔</p><p>&nbsp;&nbsp;پاکستان خود کو پیداواری معیشت بنانے میں ناکام رہا ہے اس کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ اس کی باہمی تجارت 3.6 ارب ڈالر ہے۔ دوسری طرف بھارت کے ساتھ سعودی تجارت بڑھ کر27 ارب ڈالر ہوگئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب والے پاکستان کو امداد &nbsp;لینے والا ملک سمجھتے ہیں جسے براہ راست بجٹ کے لئے رقم، موخر ادائیگی کی بنیاد پرتیل اورغیر ہنر مند کارکنوں کے لئے کئی لاکھ نوکریوں کی شکل میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لئے ہندوستان ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔</p><p>اس بے جوڑ تعلق کی حقیقت کے پیش نظرپاکستان میں ایک کے بعد آنے والی دوسری حکومت نے اس شاہی حکومت کے ساتھ عاجزانہ رویہ رکھا۔ لیکن عاجزی یا شکرگزاری وزیر اعظم عمران خان کی عوامی حکومت کے بنیادی بیانیہ کے برعکس ہے۔ اس بیانئے کے مطابق پاکستان دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت ہے اورمسلم دنیا کی رہنمائی کرنا اس کا حق ہے اوراس وجہ سے دوسرے مسلم ممالک کو اس کی حمایت کرنا چاہئے۔</p><p>خان پاکستانیوں کو بتاتے ہیں کہ خواندگی اورسکولوں میں داخلہ کی کم شرح کے باوجود وہ عظیم قوم ہیں جنہیں صرف ناقص قیادت نے ہی پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ اب جب کہ انہیں خان کی صورت میں ایک "ایماندار رہنما" مل گیا ہے پاکستان بھارت سے بدلہ لے سکتا ہے، کشمیرکو آزاد کرا سکتا ہے اور عالمی سطح پروہ مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا یہ عظیم ملک حقدار ہے۔</p><p>اس بڑھک بازی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو باہمی مفادات کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے اور اپنےعظیم رہنماعمران خان کی زیرقیادت پاکستان یہ ایجنڈا طے کرے گا کہ دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کریں۔</p><p>اس طرح کی شان و شوکت والی باتیں بہت سے پاکستانیوں کو اچھی لگتی ہوں گی لیکن پاکستان سے باہر اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اس کے نتیجے میں پچھلے دو سالوں میں پاکستان کے سفارت کارعالمی رہنماؤں کی منت سماجت کر رہے ہیں جب کہ خان اور ان کے وزرا دنیا کے دارالحکومتوں میں غم و غصہ اورغلط فہمیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں۔</p><p>&nbsp;شاہ محمود قریشی کی طرف سے برسرعام کی جانے والی توہین کا سعودی عرب کی طرف سے فوری ردعمل یہ ہے کہ ریاض نے مختصر مدت کی بنیاد کے لئے دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگ لیا ہے اورادھار تیل کی فراہمی کے &nbsp;معاہدے کی تجدید &nbsp;کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی قرض کی واپسی شروع کرنے کے لئے پاکستان نے چین سے ایک &nbsp;ارب ڈالر قرض لیا جو زید کو ادائیگی کے لئے بکر سے قرض لینے کی ایک عمدہ مثال ہے۔</p><p>&nbsp;اب یہ کچھ وقت کی ہی بات ہے کہ پاکستانی حکام عمران خان اور قریشی کو سعودی عرب پر پاکستان کے انحصار اور چین کی طرف سے مزید رقم دینے کا نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ اگرچہ چین پاکستان کو قرض کی صورت میں مزید نقد رقم دے سکتا ہے اور ملک پر اپنا اثر مضبوط کرسکتا ہے لیکن اس کے پاس تیل کی رسد کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔</p><p>&nbsp;&nbsp;یہ حیرانی کی بات نہیں ہوگی کہ اگر خان اپنے وزیر خارجہ کی سعودی عرب کے بارے میں سخت باتوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سیاست ، معیشت ، خارجہ تعلقات ، صحت عامہ اور یہاں تک کہ کھیلوں سے متعلق اپنی پہلے کہی ہوئی باتوں سے مکر جانے کی وجہ سے انہیں یوٹرن خان سمیت متعدد ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ایک بارانہوں نے اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانے کی صلاحیت کو عظیم قیادت کا خاصہ &nbsp;قرار دیا تھا۔</p><p>بدقسمتی سے موقف تبدیل کرنے کی وجہ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کی بجائے خان کا انا پرست ہونا، کمزور اور ناقابل اعتماد ہونا ہے۔</p><p>اگر ہم ان کی کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نظر ڈالیں تو ملک کو متحد کرنے اور بحران پر قابو پانے کے لئے قومی حکمت عملی اپنانے کی بجائے خان نے اپنے قول و فعل سے عوام میں الجھن پیدا کی۔ ابتدائی طور پر &nbsp;انہوں نے اس وائرس کو عام زکام قرار دیا تھا جس سے 97 فیصد لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور صرف بزرگ اور کمزور لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ان کے اس بیان کی بعد میں ان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تردید کی۔ اس کے نتیجے میں مختلف صوبوں میں مختلف قسم کے لاک ڈاؤن ڈاؤن ہوئے لیکن قومی لاک ڈاؤن نہیں ہوا۔</p><p>وزیر اعظم بننے سے پہلے خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے کوئی قرض لئے بغیرمعیشت میں بہتری لائیں گے۔ انہوں نے سابق حکومتوں کے ذریعہ اپنایا ہوا محاورہ "بھیک مانگنے والا کشکول" سنڈروم ختم کرنے کا وعدہ کیا اور یہ بھی بڑ ماری تھی کہ وہ سپر پاورز کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود کشی کوترجیح دیں گے۔</p><p>تاہم اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم وقت میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا پیکیج مانگا اوراپریل 2020 میں پاکستان نے آر ایف آئی (ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ) کے تحت آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی درخواست کی۔ مزید یہ کہ پاکستان نے خلیجی ممالک ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے دوست ممالک سے پیسہ لیا۔ یہ سب یقیناً&nbsp;</p><p>چین کے بڑے قرضوں کے علاوہ ہیں۔</p><p>خان وہ شخص ہیں جنہوں نے اکثرامریکی پالیسیوں کے خلاف بیانات جاری کئے، امریکہ مخالف مظاہروں میں حصہ لیا جن میں &nbsp;افغانستان جانے والے نیٹو کے ٹرکوں کوروکا گیا اور خود کو ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو واشنگٹن کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ پھر جولائی 2019 میں وہ مسکراتے ہوئے پاکستان کے لئےامریکی فوجی اورمعاشی امداد کے حصول کے لئے پہنچ گئے۔</p><p>&nbsp;حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے انہوں نے اس وقت کی حکومتوں چاہے &nbsp;پی پی پی برسراقتدار تھی یا مسلم لیگ (ن) تھی، حکومت کو کام کرنے سے روکنے کے لئے بڑے پیمانے پرمظاہروں کا استعمال کیا ۔ مگر گذشتہ دو سالوں کے دوران جب سے خان اقتدار میں آئے ہیں وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے کسی بھی احتجاج پر چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں۔</p><p>پاکستان کو چلانے کے لئے نئے چہرے لانے کا وعدہ کرتے ہوئے خان نے بھی دراصل اسی پرانی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ ٹیکنو کریٹس اور سدا بہار سیاستدانوں کو ساتھ ملا لیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ &nbsp;دعوے کرتے ہوئے کہ صرف نئے چہرے ہی پارٹی کا حصہ ہوں گے انتخابات سے چند ماہ قبل انہوں نے اپنی پارٹی میں بہت سے نام نہاد "الیکٹ ایبلز" (لوٹوں) کا استقبال کرنے کی کوئی عار محسوس نہ کی۔ یہاں تک کہ خان نے یہ کہتے ہوئے اس پالیسی کا دفاع کیا کہ "انتخابات جیتنے کے لئے لڑے جاتے ہیں۔ آپ اچھا بچہ بننے کے لئے الیکشن نہیں لڑتے۔ میں جیتنا چاہتا ہوں. میں یورپ میں نہیں پاکستان میں الیکشن لڑ رہا ہوں۔ میں یورپی سیاستدانوں کو درآمد نہیں کرسکتا۔</p><p>معروف ماہر معاشیات عاطف میاں کو اپنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن کے طور پر لانے کے وعدے کے بعد خان نے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے عاطف میاں کے احمدی عقائد کے خلاف احتجاج &nbsp;پرعمران اپنی بات سے پھر گئے ۔ ایک سال کے اندر ان کے منتخب کردہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو وعدے کے مطابق معاشی اصلاحات کرنے میں ناکام رہنے پرعہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔</p><p>اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف شور مچانے والے خان نے اقتدار میں آنے کے بعد زلفی بخاری اور پرویز خٹک جیسے قریبی دوستوں کو حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں ان کے خلاف مقدمات زیرالتوا ہیں۔ &nbsp;خان پر بھی بنی گالا کی رہائش گاہ کی تعمیر میں غیرقانونی تجاوزات کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور اسے باقاعدہ بنانے کے لئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔ وہ چاہے یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ وہ اور ان کا خاندان بدعنوان نہیں لیکن ان کی بہن علیمہ خان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ</p><p>&nbsp;&nbsp; &nbsp;امریکہ اور برطانیہ میں بے نامی جائیدادوں پر 29.4 ملین روپے ٹیکس اور جرمانے ادا کریں۔</p><p>2010 میں خان نے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دی گئی تین سالہ توسیع پر تنقید کی تھی۔ تاہم انہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دینے میں کوئی پریشانی نہیں تھی،اس مقصد کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے 1952 کے پاک فوج ایکٹ میں ترمیم کی۔</p><p>خان اور ان کے مشیر انتخابات سے قبل اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ پہلے والوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے اوراس کی بجائے تمام سرکاری رہائش گاہوں کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کریں گے۔ مزید یہ کہ وہ &nbsp;پروٹوکول &nbsp;نہیں لیں گے،سائیکل پر دفتر آیا کریں گے، بیرون ملک سفر پررقم ضائع نہیں کریں گے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔</p><p>خان نہ صرف بڑی سرکاری رہائش گاہ میں مقیم ہیں ،ایک ہیلی کاپٹر بنی گالہ میں ان کی نجی رہائش گاہ سے سکریٹریٹ لاتا اور لے جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی 90 دنوں میں خان نے پانچ بیرونی دورے کئے (دو سعودی عرب ، اور یو اے ای ، چین اور ملائشیا کا ایک ایک دورہ کیا)۔ &nbsp;چھوٹی کابینہ رکھنے کے اپنے وعدے کے برعکس ان کی کابینہ میں 50 (20 نہیں) ارکان شامل ہیں اور خان قومی اسمبلی کے صرف 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کرسکے ہیں۔</p><p>یہاں تک کہ اس کا اقلیتوں کے حقوق کا حامی ہونے کا دعوی بھی وقت کے امتحان میں سچا ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کی حکومت اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی اجازت دے گی لیکن مذہبی لابی کے مشتعل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے کو بدل دیا اور اس کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورہ مانگ لیا ہے۔</p><p>تمام سیاستدانوں کو حالات کی بنیاد پر پالیسیاں ایڈجسٹ یا موافق کرنا &nbsp;پڑتی ہیں۔ سیاسی رہنما اکثر انتخابی مہم کے دوران نعرے لگاتے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں &nbsp;یہ صرف ووٹ حاصل کرنے &nbsp;کے لئے لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم خان جس رفتار سے یو ٹرن لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ملکی اور بین الاقوامی دونوں اہم &nbsp;معاملوں میں سمجھ کا فقدان &nbsp;ہے اور وہ یہ بات سمجھنے میں بھی ناکام ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کی ان باتوں سے اکیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔</p>



کورونااورمعیشت

6 months ago


18ویں ترمیم پرچلتے ہوئے خودمختارنشتر

<p>&nbsp;</p><p>یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ملک میں وبائی بیماری نہیں ہے اور پاکستانیوں کوہمیشہ کی طرح عید الفطر کا تہوار منانے کی اجازت ہونی چاہئے، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ٹرین سروس دوبارہ شروع کرنے سمیت دیگر عوامی ٹرانسپورٹ اور شاپنگ سینٹرز کھولنے کا حکم دے دیا جبکہ کوویڈ 19 کے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی ہے اور 22 مئی تک 1067 اموات ہوئیں۔</p><p>پاکستان میں پہلے ہی جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک کے مقابلے میں اس کی مجموعی آبادی کے تناسب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں متاثرہ افراد کی تعداد 30205 رہی اور ہندوستان کی آبادی جو پاکستان سے چھ گنا زیادہ ہے 22 مئی تک 120532 مریض سامنے آئے۔</p><p>وبا کے خلاف عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کی سویلین حکومت کا تاخیر اور جھجھک سے دیا جانے والا ردعمل بھی سپریم کورٹ کی من مانی مداخلت نے ان کا ملک میں بچا کھچا آئینی کردار بھی ختم کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وبائی امراض کے باوجود پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ صوبائی خود مختاری میں اضافہ کرنے والی آئین کی 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔</p><p>اسٹیبلشمنٹ کو امید ہے کہ وہ وسائل صوبائی حکومتوں سے لے کر مرکزی حکومت کو واپس منتقل کرے گی کیونکہ فوجی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اس کی سب سے بڑی تشویش ہے۔</p><p>آنے والے دنوں میں وبائی مرض پاکستان کی کمزوریوں کو مزید بڑھا دے گا۔ اس کی بڑی اور سیاسی طور پر مداخلت کرنے والی فوج اور جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت ، بڑے پیمانے پر معاشی بدحالی کو روکنے میں ناکام رہے گی۔</p><p>معیشت کی بحالی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان مغربی کمپنیوں کو مائل کیا جائے جو چین چھوڑنے کا ارادہ کر رہی ہیں لیکن پاکستان کا سٹریٹجک نظریہ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔</p><p>وزیر اعظم عمران خان کی وفاقی حکومت اس وبائی مرض سے نمٹنے کےلئے آمادہ یا تیار نہیں تھی اور ابتدا میں یہ دکھاوا کیا گیا تھا کہ فکر کرنے کی کوئی سنجیدہ بات نہیں ہے۔ پاکستان نے اپنے شہریوں (بنیادی طور پر طلبا) کو ووہان سے نہیں نکالا اور چین اور ایران جیسے ہاٹ سپاٹ کے مابین پروازوں اور نقل و حرکت کو باقی دنیا کے سفر معطل کرنے کے کافی عرصے بعد تک کھلا رکھا گیا۔</p><p>عمران خان حکومت کو پہلا مریض سامنے آ جانے کے بعد ،حفاظتی اقدامات کا اعلان کرنے ، ایران سے 3000 سے زیادہ مسافروں کو قرنطینہ میں رکھنے ، پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں کو بند کرنے ، بین الاقوامی سفری پابندیاں عائد کرنے اور سماجی تعلقات میں فاصلہ رکھنے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں کئی ہفتے لگے۔ قومی ردعمل کی عدم موجودگی میں بیشتر صوبائی حکومتوں نے لاک ڈائون اور پابندیوں سے متعلق اپنے اپنے اصول بنائے اور اس نے کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی لڑائی کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔</p><p>حکومت کے اقدامات کو مذہبی گروہوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو مذہبی رسومات اور اجتماعات پر کسی قسم کی پابندی نہیں چاہتے۔ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ تبلیغی جماعت جو ایک اسلامی بنیاد پرست گروہ ہے، نے کاویڈ 19 کے دوران سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا اور ان میں سے 20000 کو قرنطینہ میں رکھنا پڑا۔</p><p>سپریم کورٹ کی مداخلت سے پہلے ہی حکومت نے رمضان المبارک میں نماز جمعہ کی اجازت دی تھی جو کئی مسلم ممالک اور اسلام کے اہم مقدس مقامات پر معطل کردی گئی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے علما کے سامنے ہتھیارڈال کررمضان المبارک کے دوران وائرس کے مزید پھیلنے کے امکانات کو بڑھا دیاہے۔</p><p>ملاو¿ں کو بااختیار بنانے کے علاوہ ، کوویڈ 19 کے بحران نے پاکستان میں سویلین حکمرانی کو مزید کمزور کیا ہے۔عمران خان کے دور میں سول ملٹری تعلقات اب تک اچھے تھے کیونکہ وہ واضح طور پر فوج کے زیر اثر تھے لیکن اب فوج کھلے عام بڑے فیصلے لے رہی ہے جو آئینی طور پر سول حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ، یہاں تک کہ سویلین فیصلے کرنے کا دکھاوا بھی ختم کردیا گیا ہے۔</p><p>دریں اثنا پاکستان کی پہلے سے تباہ شدہ معیشت مزید تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق 2020 میں پاکستان کی معیشت مزید سکڑ جائے گی جس کی شرح نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی۔ خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں بھی بہت حد تک کمی کا خدشہ ہے اور اس بات کا امکان نہیں ہے کہ جلد کسی وقت سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔</p><p>مارچ کے آخر میں عمران خان کی حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں میں نقد رقم کی فراہمی اور یہاں تک کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں بھی ریلیف کےلئے پاکستان کے 1200 ارب کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا لیکن اس پیکیج نے معیشت کی بنیادی کمزوری کو دور کرنے میں بہت کم کام کیا جن میں برآمدات ، ترسیلات زر میں کمی اور برے طریقے سے قرضوں میں پھنسا ہونا بھی شامل ہے۔</p><p>اپریل 2020 میں کوویڈ19 پر قابو پانے کےلئے پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایک ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت 1.4 ارب ڈالر کے قرض کی درخواست کی اور اس سے حاصل کیا لیکن پیداوار میں اضافہ کے بغیر مزید قرضے لینا ہی پاکستان کی معاشی بدحالی کو مزید بڑھاوا دے گا۔ پہلے ہی کم ٹیکس وصولی میں مزید کمی کا خدشہ ہے اب کرونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کی آمدن کم ہوگی۔</p><p>پاکستان اپنی سٹریٹجک حیثیت والے رجحان کو تبدیل کرکے ان میں سے کچھ نتائج سے بچ سکتا ہے۔ حکومت قرضوں کی بازی گری پر توجہ دینے کی بجائے ، امریکہ اور جاپانی کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی جرات مندانہ منصوبہ بندی کر سکتی ہے جو اب چین کو چھوڑ رہی ہیں۔ جاپان نے ایسی کمپنیوں کو مراعات کی پیش کش کی ہے جو چین سے باہر پروڈکشن کو منتقل کریں گی اور پاکستان اس تبدیلی کےلئے</p><p>مراعات دے سکتا ہے۔</p><p>اس کےلئے پاکستان کو ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہو گا اور خود کو قومی سلامتی کی ریاست کے علاوہ کچھ اور بنانا ہو گالیکن کویڈ19 کے بارے میں پاکستان کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو اپنے عوام کی دیکھ بھال یا کورونا وائرس کے پھیلائو سے نمٹنے پر فوقیت دیتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی امریکہ اور برطانیہ پر حیاتیاتی اورکیمیائی جنگی تجربات کےلئے کورونا وائرس کو ’تخلیق‘ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سازشی نظریات کا مرکز بن چکا ہے۔</p><p>&nbsp;</p><p>وبائی مرض کے ختم ہونے کے بعد بھی اس پراپیگنڈے کے اثرات موجود رہیں گے اور پاکستان کے عوام اسلام پسندوں کے جذبات سے ہمدرد ہونے کے علاوہ چین کے حامی اور مغرب کے مخالف رہیں گے۔ بیرونی قرضوں اور کثرت سے بیل آئوٹ پر انحصار قومی سلامتی کی ریاست کے طور پر بقا کا یہ بھی ایک نسخہ ہے۔</p>



مہنگے چینی منصوبے

6 months ago


بجلی کے2منصوبوں میں چینی کمپنیوں نے32ارب روپے کاگھپلاکیا،رپورٹ میں انکشاف

<p>پاکستان کی چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہے کہ 62ارب ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )منصوبہ وجودمیں آیاجو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا ایک مجموعہ ہے تاہم اس میں شفافیت موجودنہیں لیکن پاکستانی صارفین کو مہنگی بجلی کی وجوہات کی جانچ پڑتال کےلئے وزیر اعظم عمران خان کی تشکیل کردہ کمیٹی نے بجلی پیداکرنے والے منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانیوں کاپردہ چاک کردیاہے جس میں پاکستان میں چین کے بجلی گھرملوث ہیں۔</p><p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت ہوانینگ شیڈونگ روئی (پاک) انرجی (ایچ ایس آر) ساہیوال اور پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ (پی کیو ای پی سی ایل) کوئلے کے پلانٹوں نے اپنی لاگت کے اخراجات کو بڑھاچڑھاکرپیش کیا۔</p><p>پاکستان کے شہریوں جنہیں ہمیشہ یہ بتایا جاتا ہے کہ چین دنیا میں ان کا قابل بھروسہ دوست ہے نے کس طرح بے رحمی اوربدعنوانی کرتے ہوئے اپنے کاروباری مفادات کوسامنے رکھا۔</p><p>یکے بعد دیگرآنے والی سویلین حکومتوں اور پاکستانی فوج نے چین کو ہندوستان کے خلاف اپنا اصل سرپرست سمجھا۔</p><p>پاکستان کے ایٹمی پروگرام سمیت پاکستا ن کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مددکرنے پرچین کوایک مستقل سٹریٹجک سرپرست سمجھاجاتاہے جبکہ اس کے برعکس امریکہ کوزیادہ شرائط عائدکرنے والااتحادی تصورکیاجاتاہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ چین پاکستان کے عوام کی مدد کےلئے نہیں بلکہ اپنے معاشی مفادات کے حصول کیلئے پاکستان میں موجودہے ۔</p><p>کمیٹی برائے پاور سیکٹر آڈٹ ، سرکلر ڈیٹ ریزرویشن اینڈفیوچر روڈ میپ کے عنوان سے278 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ انڈیپنڈنٹ پاورپروڈیوسرزنے100ارب روپے (625 ملین ڈالر) کاگھپلاکیاہے جس میں کم از کم ایک تہائی حصہ چینی منصوبوں سے متعلق ہے۔</p><p>سی پیک اورمقتدر فوج کے مابین قریبی تعلقات کے پیش نظر سی پیک اتھارٹی کے سربراہ اس وقت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ہیں جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات بھی ہیں ۔ کمیٹی نے چینی کمپنیوں کے سلسلے میں نرم رویہ اختیارکیا۔</p><p>کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کوئلے سے چلنے والے دوپاورپلانٹس نے اپنی تعمیرکی لاگت اورانہیں جلدی تعمیرکرنے کے سلسلے میں 32.46ارب روپے زیادہ وصول کئے۔</p><p>کمپنیوں کیلئے ساہیوال کول پاورپلانٹ کے معاملے میں بظاہر سود میں کٹوتی کی اجازت 48 مہینوں تک تھی جبکہ پلانٹس کو حقیقت میں 27-29 ماہ کے اندر مکمل کرلیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پروجیکٹ کی 30 سالہ زندگی میں 27.4 ملین ڈالر سالانہ اضافی ریٹرن (ایکوئٹی)ادا کرناہوگا۔ &nbsp;</p><p>متوقع زائدادائیگی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان کوڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے میں سالانہ 6 فیصد کمی کرکے 291.04ارب روپے اضافی دیناپڑیں گے۔</p><p>چینی کمپنی ایچ ایس آر نے پوری تعمیراتی مدت کی طوالت کےلئے لائی بوراور4.5 فیصد کی شرح سے &nbsp;</p><p>طویل مدتی قرض پر مبنی تعمیرات کی مدت کے دوران سود کا دعوی ٰکیا ہے حالانکہ اس نے تعمیر کے پہلے سال کے دوران رقم نہیں لی اور دوسرے سال صرف مختصر مدتی قرضے استعمال کئے اوروہ بھی بہت کم شرح سود پرلئے گئے تھے۔</p><p>چینی کمپنیوں کے زیادہ منافع کمانے کی وجہ سے بالاترہے۔ پاکستانی ماہرین کی کمیٹی نے جن دونوں منصوبوں کی جانچ کی تھی ان کی لانچنگ کے وقت لاگت3.8ارب ڈالرلگائی گئی تھی۔</p><p>کمیٹی نے 483.64ارب کی زائدادائیگیاں پکڑی ہیں جوموجودہ شرح تبادلہ سے 3ارب ڈالرزیادہ ہے۔اس میں روپے کی زائد ادائیگی شامل ہے جس سے ایچ ایس آرکو376.71ارب اورپی کیوای پی سی ایل کو 106.93 ارب اضافی سیٹ اپ لاگت دیناپڑی چونکہ اس کام کیلئے اضافی لاگت لگائی تھی تو 30 سال میں منافع بھی دیناپڑے گا۔</p><p>موجودہ فارمولہ کے مطابق پہلے دو سال میں ایچ ایس آرنے اپنی لگائے ہوئے سرمائے کا71.18فیصد منافع کمالیاہے جبکہ پی کیوای پی سی ایل نے پہلے سال کے دوران اپنے سرمائے کا32.46فیصدوصول کرلیاہے۔</p><p>ان کمپنیوں نے بغیرکسی وجہ کے اضافی پیسے کمائے۔اب ذراتصورکریں کے62ارب ڈالرکی لاگت سے بننے والے سی پیک کے منصوبوں میں کس قدر منافع رکھاگیاہوگا۔اعدادوشمارکوذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہناممکن ہی نہیں کہ یہ بدعنوانی کسی ایک پاکستانی یاکمپنی یاان کی چینی ہم منصب کمپنیوں کی طرف سے کیاگیاہے۔</p><p>سری لنکا اور مالدیپ کی حکومتوں کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زائد ادائیگیاں پاکستانی حکومت کے رہنماﺅں کی ملی بھگت اور تمام فریقوں کی مشترکہ لوٹ کھسوٹ کانتیجہ ہے۔</p><p>پاکستان کی معیشت کچھ عرصے سے دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور COVID-19 وبائی امراض نے صورتحال کو اور بھی زیادہ خراب کردیا ہے۔</p><p>پاکستان کے رہنمائوں نے اپنے ملک کی پالیسیوں میں اصلاحات کے بجائے ایک بار پھرکشکول اٹھاتے ہوئے قرضوں پرنظرثانی اورچھوٹ دینے کامطالبہ شروع کردیاہے۔ان کاموقف ہے کہ وبائی بیماری کی وجہ سے چھوٹ دی جائے جس طر ح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بدلے میں مددکی گئی تھی۔</p><p>لیکن عالمی برادری سے توقع کرنا کہ وہ پاکستان کوبارباراقتصادی بحران سے نکالے گی غیرحقیقی تصورہے ۔ بڑے پیمانے پر فوجی اخراجات ،خوفناک بدعنوانی اور احتساب کا فقدان پاکستان کی آمدن اور اخراجات میں پیداہونے والے فرق کی بڑی وجوہات ہیں۔اب ایسا لگتا ہے چینی سرمایہ کاری ایک نیابحران بن چکا ہے۔</p><p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے عہدیداروں پر ٹیکسوں اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کےلئے دبائو ڈال رہا ہے تاکہ چینی وارداتوں کیلئے ادائیگیوں کوممکن بنایاجاسکے۔</p><p>امریکہ اور مغربی مالیاتی اداروں کو پاکستان کے حکمران طبقہ جوکہ اشرافیہ ہے اورعوام سے زیادہ کرنے والے دوسرے فریق چین کی مددنہیں کرنی چاہئے ۔پاکستانی عوام اچھے سلوک کی مستحق ہیں۔</p>