چین آ نہیں رہا، چین آ چکا ہے

جیوتی ملہوترہ
کالم نگار

2 weeks ago


گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ اوربھارت

بھارتی اہل نظر گلگت بلتستان میں ہونے والی پیش رفت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اس مضمون میں اس کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ایڈیٹر


امریکہ کی سیاست دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے لیکن ہم واپس جنوبی ایشیا کی طرف آتے ہیں جہاں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کے روز گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ اعلان وضاحت کا متقاضی ہے خصوصاً بھارت نے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے کیونکہ بھارت کا موقف ہے کہ غیر منقسم ریاست جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس لئے اس کی حیثیت میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

ایسے میں عمران خان کے اعلان کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے گزشتہ سال بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا ردعمل ہو سکتا ہے؟ کیا پاکستان نے اپنا دیرینہ یہ موقف کہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے بالاخر ترک کر دیا ہے؟


عمران خان کا یہ فیصلہ حقیقت میں شطرنج کی اس گریٹ گیم میں ایک دفاعی چال ہے جو 1877 میں شروع ہوئی تھی جب برطانیہ کی حکومت نے جموں و کشمیر کے مہاراجہ پر دبائوڈال کر گلگت ایجنسی بنائی تھی اور یہاں اپنا ایجنٹ مقرر کر دیا تھا جس کا مقصد روسی سلطنت کی پائوں پھیلا کر بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی کی خواہش کو روکا جا سکے۔


شطرنج کا یہ کھیل چلتا ہوا اگست 2019 تک پہنچ گیا جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ملک کے آئین کا آرٹیکل 370 منسوخ کر دیا جس کے تحت اس ریاست کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ مودی نے ریاست جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اسے براہ راست نئی دہلی کا تابع کر دیا۔


پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اگر بھارت یکطرفہ طور پر اس کمزور سے پردے کو ہٹا کر پرے رکھ کر جموں و کشمیر اور لداخ کودہلی کے براہ راست ماتحت کر سکتا ہے تو پاکستان گلگت بلتستان میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟


مزید برآں چین بھی موجود ہے جس کا 60 ارب ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) گلگت بلتستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور جنوب کی طرف پاکستان سے گزر کر گوادر پورٹ پر بحریہ عرب تک پہنچتا ہے۔ چین کئی سال سے پاکستان پر دبائو ڈالتا چلا آ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ سی پیک کو تحفظ دیا جا سکے کیونکہ یہ منصوبہ چینی صدر شی جن پنگ کے بین الاقوامی اثر کے حامل بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا اہم ذریعہ ہے۔


یقینی طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) جس کے منشور میں ہمیشہ سے نمایاں طور پر یہ بات شامل تھی کہ وہ آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کریں گی لیکن انہوں نے کبھی اس عمل کے نتائج پر غور ہی نہیں کیا۔ یا اگر بھارت کی خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو اسٹیبلشمنٹ نے سیاست دانوں کو اس سلسلے میں خبردار بھی کیا تو ان کی بات پر دھیان ہی نہیں دیا گیالیکن دنیا کے اس خطے میں جغرافیائی حقائق سیاست پر غالب آ گئے۔


یہ شاہراہ ریشم کا ملک ہے جہاں سے صدیوں سے اشیا تبدیل ہوتی سرحدوں والے ممالک کو پہنچائی جاتی رہی ہیں اور ان کی معیشت کو خوشحالی بخشی جاتی رہی ہے۔ سنکیانگ کے اوغر، لیہہ اور جنوبی کشمیر کے سنی، کرگل سکردو اور گلگت کے شیعہ اور گلگت بلتستان کے اسماعیلی اور نور بخشی چین، تبت اور مہاراجہ ڈوگرہ کی بدلتی سلطنتوں میں زندگیاں گزارتے اور مرتے رہے۔


گلگت بلتستان میں کشمیری مسلمان اور پنجابی کشمیری مسلمانوں کے علاوہ، شنز، گاشغری، یشکن، پامیری، پٹھان اور کوہستانی اپنی علیحدہ زبانوں اور روایات کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ پھر ضیا الحق نے 1980 کی دہائی میں قانون بنا دیا جس کے تحت پاکستان کے کسی بھی حصے سے آ کر لوگ پاکستان جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں رہ سکتے ہیں۔ اس طرح اس خطے کی آبادی کی نوعیت تبدیل ہو گئی، بالکل اسی طرح جیسے مودی سرکار جموں و کشمیر میں قوانین تبدیل کر کے اب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


گلگت بلتستان کے نقشے پر صرف ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلے گا کہ یہ خطہ کس قدر امکانات اور خغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے اس میں حیرت کی بات نہیں کہ کیسے سو سال پہلے یہ علاقہ گریٹ گیم کا حصہ بن گیا تھا۔


1947 تک غیر منقسم ریاست جموں و کشمیر مغرب میں گلگت بلتستان افغان علاقے کی زبان واخان راہداری کے ساتھ ملتی تھی۔ شمال میں یہ وسطی ایشیا کے ان پانچ مسلمان ممالک کے ساتھ ملتی ہے جن کے نام ستان پر ختم ہوتے ہیں اور یہ ممالک 1991 میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد اپنی روسی شناخت سے نکل کر نئی شناخت بنانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جبکہ شمال اور شمال مشرق میں اسے چین کے سنکیانگ صوبے کے نزدیک پہاڑوں کی طوفانوں ناموں والی اور بہشت سے اتاری گئی چوٹیوں نے گھیرا ہوا ہے جن میں کو-رم ال-تائی اور تیان-شان شامل ہیں۔


1947 کا منظر ذہن میں لائیں۔ اس میں حیرت کی بات نہیں کہ کشمیر کے ہندو مہاراجہ نے جنگ کے دو فریقین بھارت اور پاکستان میں جنگ بندی کے لئے پینترا بدلا۔ کوئی اپنی اتنی بڑی بادشاہت کیوں ختم کرنا چاہے گا جہاں اس وقت تک ہر کوئی امن اور آرام سے رہ رہا تھا۔


لیکن جب کابلی یا قبائلی عسکریت پسندوں اور کچھ لوگوں کے مطابق پاک فوج کے تربیت یافتہ لوگوں نے قبائلیوں کے بھیس میں 22 اکتوبر 1947 میں جموں و کشمیر کی سرحد پار کی تو 26 اکتوبر 1947 کو اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے الحاق کا معاہدہ کر لیا۔

اس کے ایک ہفتہ بعد یعنی یکم نومبر کو گلگت سکائوٹس نے اپنے برطانوی کمانڈر کی قیادت میں مہاراجہ کے خلاف بغاوت کر دی اور ایک الگ صوبائی حکومت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جس کی آزادی کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر عمران خان نے اتوار کے روز گلگت میں تقریر کی۔

یکم جنوری 1948 کو جواہر لعل نہرو کشمیر کا تنازعہ لے کر اقوام متحدہ گئے۔ 1948 کے وسط تک بھارتی افواج کافی حد تک کشمیر کا علاقہ واپس لے چکی تھیں۔ہری سنگھ کی بادشاہت کو مختلف طریقے سے چلانے کے لئے تقسیم کیا گیا۔ بھارت نے جموں و کشمیر اور لداخ کو خصوصی حیثیت دی اور اسے آئین کے آرٹیکل 370 کے ذریعے تحفظ دیا جبکہ پاکستان نے اپنے حصے کے کشمیر کو آزاد کشمیر قرار دیا اور اس کا اپنا صدر، وزیر اعظم اور یک ایوانی مقننہ بنائی گئی۔


گلگت بلتستان کو برائے نام آزادی خود مختاری دی گئی لیکن اسے نہ تو اپنے ساتھ ملایا گیا اور نہ ہی اس میں قانون ساز اسمبلی بنائی گئی۔ یہاں براہ راست راولپنڈی اور اسلام آباد سے حکومت کی جاتی رہی۔ یہ سلطنت کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اسے مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے۔


مزید یہ کہ پاکستانی اور آزاد کشمیر کے رہنمائوں کو خوف ہے کہ اگر گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کا ارادہ بھی کیا گیا تو اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کا حق خود ارادیت کا مقدمہ دم توڑ دے گالیکن 5 اگست 1947 کو یہ سب کچھ ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گیا۔


مودی سرکار کے ملکی سیاسی وجوہات کی بنا پر آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے فیصلے سے آہستہ رفتار سے زلزلہ شروع ہوا۔ اس علاقے کے خدوخال جن کا ابھی تک کماحقہ سمجھا نہیں گیا ہے اور اب وہ سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ اگر مودی بیک جنبش قلم اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس اپنے ملک میں شامل کر سکتا ہے تو پاکستان گلگت بلتستان کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟


اہم بات یہ ہے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حزب اختلاف کی تمام اہم سیاسی جماعتوں سے ستمبر میں ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان میں فوج کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ چین نے پاکستان پر دبائو ڈالا ہوا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو کسی قسم کی قانونی حیثیت دے تاکہ اس ملک سے گزرنے والے سی پیک منصوبے کو تحفظ مل سکے۔ معروف امریکی صحافی سلیگ ہیریسن کے مطابق گلگت بلتستان میں چینی فوجی اہلکار کئی سال پہلے سے تعینات ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ چین نے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کا یہ مطلب لیا ہے کہ اس حرکت کے ذریعے بھارت نے چین اور پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا ہے اور اس اقدام کے بعد چین کے پاکستان کے ساتھ اور چین کے بھارت کے باہمی تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

یقینی طور پر چین کو دوسروں سے زیادہ علم ہے کہ کسی دوسرے کے علاقے پر جارحیت کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔ مزید یہ کہ چین کو اگر اتنی زیادہ فکر مندی تھی تو وہ بھارت سے 5 اگست کے اقدام کی وضاحت مانگ سکتا تھا۔

چینیوں نے آسان راستے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اس کا مطلب یہ لیا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل ہونے سے نئی دہلی ہمسایہ اکسائے چن کے علاقے میں سخت اقدام کر سکتا ہے کیونکہ اب یہ علاقہ سری نگر کی بجائے براہ راست نئی دہلی کے تابع ہے۔ اکسائے چن کا کنٹرول 1963 سے لے کر اب تک چین کے پاس ہے جس نے یہاں کئی ہائی ویز تعمیر کر کے اسے تبت سے ملا دیا ہے۔

عمران خان کے اقدام میں ایک اور پیغام ہے جس پر دنیا نے اب تک زیادہ توجہ نہیں دی وہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ پاکستان کا حصہ بنانے سے پاکستان آہستہ آہستہ اپنے کشمیر کے متنازعہ علاقے کے بارے میں دیرینہ موقف سے پیچھ ہٹ رہا ہے۔

عمران خان فوج کے ذریعے سے یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ مودی کی طرف سے جموں و کشمیر کی وادی اور لداخ کو بھارت میں شامل کرنے کے عمل کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جو 1947 سے اس کے قبضہ میں ہے کو اپنے ساتھ شامل کر لے۔

مودی کا اقدام دراصل سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی طرف سے کارگل تنازعہ کے دوران کہے جانے والے الفاظ کی عملی تفسیر ہے کہ برصغیر میں نقشہ سازی کا کام اب بند ہونا چاہئے۔

واجپائی اور جسونت سنگھ نے 2001 میں آگرہ میں جنرل پرویز مشرف کو اور اس کے بعد بار بار یہ پیغام دینے کی کوشش کی لیکن پاکستان نے نہیں سنا۔ اس کے تقریباً 20 سال بعد چین نے اپنے دوست ملک پاکستان کو وہی بات کہی۔

چلیں اس علاقے کے نقشے پر آج نظر ڈالتے ہیں۔ چین نے بھارتی علاقے لداخ کا بڑا علاقہ قبضے میں لیا ہوا ہے اور اس سے ملحقہ شکسگم کی وادی جو پاکستان نے 1962 میں چین بھارت جنگ میں بھارت کی شکست کے بعد 1963 میں چین کے حوالے کی تھی اور اب سی پیک کے ذریعے گلگت بلتستان دیا جا رہا ہے۔
چین آ نہیں رہا۔ چین آ چکا ہے۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

کابل پرکون قابض ہوگا
بھارت افغانستان سے کیوں باہر رہ گیا