بڑھتی ہوئی فوجی مداخلت

مدیحہ افضل
محققہ،مصنفہ

1 month ago


معمول کا سویلین ملٹری کھیل جاری

کمزورمعیشت کے ہوتے ہوئے آج تک پاکستان میں کوویڈ19 سے 283000 سے زیادہ متاثرین اور 6061 اموات وبائی مرض سے ہوئی ہیں جو اس ملک کی ڈگمگاتی ہوئی جمہوریت کے لئے ایک اور دھچکہ ہے۔ اگرچہ پاکستان گذشتہ ماہ کرونا وائرس کے نئے مریضوں اوراموات پر قابو پا چکا ہے لیکن وبائی مرض کے اثرات نے ملک کی موجودہ سویلین حکومت کو مزید کمزور کردیا ہے اور اس کے نتیجے میں  فوج کا حوصلہ بڑھ گیا ہے اور وہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈائون تیز کر چکی ہے۔صحت عامہ کے ماہرین اور دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح میں خود بھی پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے کورونا وائرس کے خلاف کمزور اور متزلزل ابتدائی ردعمل پر تنقید کرنے والوں میں شامل تھی۔ انہوں نے ملک بھر میں لاک ڈاون نافذ کرنے سے انکار کردیا اور پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے اپنے طریقے سے لاک ڈائون لاگو کرنے کی اجازت دے دی۔ صوبائی اقدامات نے وائرس کو محدود کردیا۔ خان نے اس کی بجائے کورونا وائرس کے متعلق حکومت پیغام پھیلانے کے لئے نوجوانوں پر مشتمل "ٹائیگر فورس" بنانے پر توجہ دی۔ ان کی حکومت نے پہلے دائیں بازو کی مذہبی قدامت پسندی میں پناہ لینے کی کوشش میں رمضان المبارک کے دوران مساجد کو کھلا رکھنے کی اجازت دی اور پھر مئی میں رمضان کے اختتام پر عید کی تیاریوں کے لئے بازاروں کو بہت تیزی سے دوبارہ کھولنے کی اجازت دی۔ اس کے نتیجے میں جون میں ملک بھر میں نئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جس سے ہسپتال اور ڈاکٹراپنی آخری حدوں تک پہنچ گئے تھے۔ اس دوران خان کا پیغام غیر مربوط ہو چکا تھا۔ملک کی طاقتور فوج مبینہ طور پر خان کے وبائی مرض کے خلاف ردعمل اور اس پرہونے تنقید سے ناخوش تھی اور اس نے کھلے عام سخت لاک ڈائون کی حمایت کہ جبکہ عمران خان مارچ میں اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اس کے بعد فوج نے کورونا وائرس کے ردعمل میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ جب جون میں یہ لگتا تھا کہ وائرس کنٹرول سے باہر ہو رہا ہے تو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) جو سویلین-ملٹری مشترکہ ادارہ ہے اور یہ  قومی کوویڈ ردعمل کو مربوط کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے جس میں اعلٰی عہدے دار فوجی افسران نمایاں طور پر  نظر آنے والا کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک بھر میں ملک بھر کے سیکڑوں ہاٹ سپاٹ علاقوں میں "سمارٹ" لاک ڈاون کیا۔ فوج کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے کورونا کے مریضوں کی نگرانی اور رابطوں کو تلاش کرنے میں مدد دی۔اگرچہ  خان اب بھی قومی رابطہ کمیٹی این سی او سی کے فیصلہ ساز بازو کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں لیکن آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی ان اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔  

فوج کی مداخلت بڑھ رہی ہے وبائی مرض اپنی پہلی لہر کے بعد ملک میں کم از کم فی الحال قابو میں آ گئی ہے۔ وبائی ردعمل کا مواصلاتی پہلو یقینی طور پر بہتر انداز میں چل رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کا امتحان ہے ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت سے کہیں بڑھ کر بہتر صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ ٹیسٹ کئے جانے والے مریضوں میں بھی وائرس کی موجودگی کم ہوئی ہے۔ اگرچہ مریضوں کی کم ہوتی تعداد اور اموات میں کمی کے پیچھے کی وجوہات پوری طرح سے واضح نہیں ہیں - یہاں تک کہ خان نے تسلیم کیا کہ وہ اس کمی کی رفتار سے حیران ہیں - اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ یہ کمی کتنے عرصے تک جاری رہے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ "سمارٹ" ہاٹ سپاٹ لاک ڈاونز کی حکومتی حکمت عملی ہے جس کے تحت پورے ملک میں ریسٹورینٹس کی بندش اور بڑے بند مقامات (جیسے شادی ہال) کو بند رکھنے جیسے اقدامات نے مل کر اثر دکھایا  کیا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں اس کمی نے ان کے نقطہ نظر کو درست ثابت کیا ہے کہ مکمل لاک ڈاون نہیں ہونا چاہئے۔  

سابقہ اور موجودہ فوجی افسر کوویڈ کے خلاف ردعمل میں نمایاں نظر آتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ایک میجرجنرل ہیں۔ خان کی کابینہ میں سابق فوجی افسروں کی تعداد مسلسل بڑھ  رہی ہے۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ جو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ) کے سابق سربراہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی کے موجودہ سربراہ ہیں، اپریل میں وزیر اعظم کے نئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر ہوئے تھے۔ سویلین امور میں فوج کا بڑھتا ہوا کردار دیگرشعبوں میں بھی دکھائی دیتا ہے:جون میں وزیر اعظم عمران خان کی جگہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کابل کے دورے پر گئےاور صدر اشرف غنی اور چیف مذاکرات کار عبداللہ عبد اللہ سے ملاقات کی۔ افغان امن عمل کے متعلق جنرل قمر باجوہ نے پاکستان کی طرف سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے مذاکرات کئے۔

ایسا لگتا ہے کہ کوویڈ کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کے ردعمل اور ان کی ابتدائی کارکردگی کے نتیجے میں فوج کا کنٹرول بڑھا۔ جیسا کہ ایک ریٹائرڈ جرنیل نے فنانشل ٹائمز کو بتایا: حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے وقت ایک بہت بڑا خلا پیدا کر دیا تھا۔ فوج نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر عوامل بھی کار فرما تھے: خان کی عوام میں مقبولیت میں واضح کمی ، چینی کی صنعت میں سکینڈل کا انکشاف ، خان کی پارٹی میں انتشاراور پارلیمنٹ میں ان کے کمزور اتحاد میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان کی فوج ماضی میں بھی پردے کے پیچھے سے جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اس قسم کے بہانے بازی کرتی رہی ہے۔ وہی عمل ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔

جون میں ، اسلام آباد میں یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ خان کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے اور شاید وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے زیادہ دیر تک نہ چل پائیں۔ایسے میں وہ قومی اسمبلی کے فلور پر آئے اور اپنی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ایک لمبی غیر مربوط تقریر کر ڈالی۔ خان نے اسی تقریر میں حزب اختلاف کے "مائنس ون" فارمولا کے مطالبے کا بھی ذکر کیا۔ اس کا تصور یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو راضی کرنے کے لئے وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں جب کہ ان کی جماعت اپنی مدت پوری کرے۔ یہ بنیادی طور پر اسی طرح ہے کہ جیسے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی نے ان کے بغیر بھی اپنی مدت پوری کی تھی-اپنی تقریر میں عمران خان نے اصرار کیا کہ وہ اپنی مدت پوری کریں گے۔

ماضی میں اپوزیشن کے سیاستدان کی حیثیت سے خان کے اپنے سخت حربے اب حکومت میں ہوتے ہوئے ان کے موجودہ حزب اختلاف سے نمٹنے کے معاملے میں کام نہیں آ رہے۔ 2014 میں چار ماہ تک جاری رہنے والے دھرنے کے دوران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر ہر رات نواز شریف کی برطرفی کا مطالبہ کرتے تھے اور اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ بویا تھا وہی کاٹ رہے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کا ایک حصہ پاکستان میں سویلین فوجی تعلقات کا ڈھانچہ بھی ہے: پاکستان کی طاقت ور فوج اپنے لئے بلکہ سویلین حکومتوں کی کارکردگی کے جواز پر انحصار کرتی ہے اور جب ان کی کارکردگی خراب ہوجاتی ہے تو وہ فوری طور پر بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ فوج عام شہریوں کے ووٹ کے ذریعے حکومت کو نکالنے کا انتظار نہیں کرتی بلکہ یا تو آہستہ آہستہ خود اقتدار پر قبضہ کر لیتی ہے اور یا سویلین حکومتوں کو چلتا کرتی ہے جیسا کہ 1990 کی دہائی میں پاکستان کے پورے جمہوری نظام کوعدم استحکام کا شکار کرتی رہی ہے۔ اس کھیل میں حزب اختلاف کی جماعتیں اکثر فوج کے لئے پیادوں کے طور پر کام کرتی ہیں جو پارلیمنٹ سے ہٹ کر اس کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوتی ہیں۔

 "کثیر الجماعتی کانفرنسوں" یا محلاتی سازشوں کے سودوں کے ذریعے یہ کام کئے جاتے ہیں - موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے حالیہ ہفتوں میں موجودہ اپوزیشن جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ان طے شدہ کرداروں میں بالکل پوری اتر رہی ہیں۔ عوام بھی اس گھن چکر کے عادی ہوچکے ہیں اور انتخابات کا انتظار کرنے کی بجائے حکومت کی مدت ختم ہونے ہونے سے پہلے ہی بے صبر ہو جاتے ہیں۔جب پاکستان کی بات آتی ہے تو فوج کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کی کہانیاں ایک دوسرے میں گڈ مڈ نظر آتی ہیں۔ کیا اس بار کچھ مختلف ہے؟ 2018 کے انتخابات میں خان فوج کے پسندیدہ امیدوار تھے اور اس نے ان کے انتخاب کی راہ ہموار کردی۔ وہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے بہت دور تک گئے تاکہ فوج کے ساتھ تعلقات بہتر رہیں۔ ان کے انتخاب کے بعد کچھ عرصے کے لئے ایسا لگتا تھا کہ خان کی فوج کے ساتھ قربت انہیں ملکی پالیسیوں کو نافذ کرنے کی جگہ دے سکتی ہے جو وہ چاہتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ مہلت ختم ہو چکی ہے۔ خان اب واضح طور پر ایک ایسی فوج کے ہاتھوں مجبور ہیں جس کا کردار خان کی مدت حکومت کے دوران بتدریج بڑھ رہا ہے اور وبائی امراض کے دوران اس کا اثر ملکی پالیسیوں تک پھیل چکا ہے۔ خان کے معاونین اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خان اب بھی فوج کی مدد سے فیصلے کر رہے ہیں- خان کے ساتھیوں کا منتر جاری ہے کہ وہ ایک ہی صفحے پر ہیں۔  

جب خان نے اس موسم بہار میں صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران تنہا چھوڑ دیا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے وبائی مرض حقیقت میں پاکستان میں جمہوری استحکام میں معاون ہوسکتی ہے۔ اس کی بجائے اس نے صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں پر ایک بڑی حد تک غیر تعمیری اور بے نتیجہ بحث کا آغاز کیا۔ 18 ویں ترمیم پر تنقید کسی حد تک جائز ہے لیکن یہ کوئی راز نہیں ہے کہ فوج اس آئینی شق کو پسند نہیں کرتی جو وفاقی سطح سے اقتدارچھین کر صوبوں کو دیتی ہے اور فوج کی طاقت کو کم کرتی ہے اور اس کے  مالی وسائل کے لئے خطرہ ہے۔ صوبائی خودمختاری جو وبا کے خلاف پاکستان کے ابتدائی ردعمل کے دوران نظر آئی تھی اب پوری طرح سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر اور نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے ہاتھ میں ہے۔فوج کا کنٹرول بڑھنے سے اختلاف رائے اور آزادی صحافت کے خلاف کریک ڈاون میں اضافہ بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر خان کی حکومت پوری طرح خاموش ہے۔ 21 جولائی کو فوج اور حکومت پر تنقید کرنے والے ایک مشہور صحافی مطیع اللہ جان کو دن کی روشنی میں اسلام آباد سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ بین الاقوامی شور شرابہ کے بعد انہیں اسی رات رہا کر دیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کا اغوا ان قوتوں کا کام ہے جو جمہوریت کی مخالف ہیں۔ اور اس میں ان خدشات کا ذکر نہیں کیا کہ خفیہ ایجنسیاں کس طرح کرونا وائرس کے مریضوں اور ان کے رابطوں کا سراغ لگانے کے لئے عسکریت پسندوں سے باخبر رہنے کی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں اور انہیں ناقدین کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے امکانی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی صوبائی حکومتوں نے بھی اس وقت کو رجعت پسند سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ موافق ماحول سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام کا بل منظور کیا جس سے صوبے کے ڈائریکٹر جنرل برائے تعلقات عامہ کو یہ اختیار مل  گیا ہے  کہ وہ صوبے میں کسی بھی کتاب پر پابندی لگا سکتا ہے جسے وہ قومی مفاد کے خلاف سمجھے چاہے وہ مقامی طور پر شائع ہوئی ہو یا درآمد کی گئی ہو۔ اسی طرح پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے سربراہ نے نجی سکولوں میں "پاکستان مخالف" یا "توہین آمیز" مواد پر مبنی درسی کتب پر پابندی عائد کرنا شروع کردی۔ دونوں پیشرفت واضح طور پر رجعت پسند ہیں اور پاکستان میں آزادی کو ایک دھچکا ہے۔

پچھلے ہفتے پاکستان میں صحت کے وزیر مملکت نے سیاسی دبائواور حزب اختلاف کی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ اس موسم گرما میں وبائی حالت میں پاکستان کا معمول کا سویلین ملٹری کھیل جاری ہے ایک بااختیار فوج اور اپوزیشن جماعتیں بھی حکمران جماعت کو کمزور کرنے میں مدد کے لئے کھیل کھیلنے پر آمادہ ہیں۔ خان کا سیاسی دائرہ اب اتنا ہی رہ گیا ہے جتنا سابق وزرا اعظم  کا ہوتا تھا۔ مگر ایک فرق ہے: وہ بظاہر سیاسی طور پر اپنے تحفظ کے لئے فوج کو جگہ دینے کے لئے تیار ہیں۔  دیگر ممالک  کی طرح پاکستان میں وبائی مرض کا طویل المدتی نقصان واضح ہوتا جارہا ہے اور یہ خسارہ اس کی جمہوریت کے لئے ہے۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے