شاہ محمود کی تلخ نوائی کہاں گئی

علی عواض العسیری
سفارت کار

1 month ago


سعودی پاک شراکت داری ناکام نہیں ہو سکتی

حالیہ دنوں میں پاکستانی میڈیا میں پریشان کن خبریں منظرعام پر آئیں اور پھرغیر ملکی میڈیا نے انہیں اٹھایا جس کا مقصد سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تاریخی شراکت کو سبوتاژکرنا ہے۔ان کا واضح مقصد کشمیر کے بارے میں اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی)کے اصولی موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے اور اسے سعودی عرب کی پاکستان سے اقتصادی مدد سے جوڑ کر امت مسلمہ میں پھوٹ پیدا کرنا ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ نقصان دہ اطلاعات 5 اگست کو ایک مقامی نئے چینل کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے تبصرے پر مبنی ہیں۔

اس انٹرویو میں انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر او آئی سی وزرا خارجہ کی کونسل کااجلاس بلانے کے لئے پاکستان کی توقع کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو وہ وزیر اعظم عمران خان سے ان اسلامی ممالک کا اجلاس طلب کرنے کے لئے کہنے پر مجبور ہوں گے جو مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں کھڑے ہونے کے لئے تیار ہیں۔

وزیر خارجہ قریشی کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں پرمبنی باتیں شروع ہو گئیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لئے ہنگامی معاشی مدد معطل کر دی ہیں۔ یہاں تک کہ او آئی سی اور اس کے بانی سعودی عرب پرالزام لگایا گیا کہ وہ کشمیر کے لئے خاطر خواہ کام نہیں کررہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی نے بھی ان دو معاملات پر سعودی نقطہ نظر معلوم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جن کا آپس میں دور تک کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ بات حقیقت پر مبنی ہے۔ لہٰذا ریکارڈ کو درست رکھنے کےلئے وضاحت بہت ضروری ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ مشترکہ مذہبی ، ثقافتی اورمعاشرتی اقدار پر مبنی تعلقات اور دوستی قائم رہی ہے۔ان سب سے نرالے تعلقات کی جڑیں عوام کی باہمی محبت میں پیوست ہیں اور اسی وجہ سے تاریخی طور پر دونوں عظیم اقوام میں حکومت یا قیادت میں کسی قسم کی تبدیلیوں کا ان پر اثر نہیں پڑا۔

یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے عشرے کے ساتھ سعودی پاک تعلقات سیاسی سلامتی اور معاشی میدانوں میں تعاون کئی گنا بڑھتے گئے۔فروری 2019 میں ان تزویراتی تعلقات نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کرلی جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا جہاں وزیراعظم عمران خان اسلام آباد ایئرپورٹ سے ان کی گاڑی خود چلا کر انہیں وزیراعظم ہائوس لے کر گئے تھے۔

ایک سال کے متواتر رابطوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے مزاج کوسمجھنے سے فائدہ ہوا کیوں کہ ولی عہد نے پاکستان کے لئے 6.2 ارب ڈالرکے ہنگامی معاشی امدادی پیکیج پر دستخط کئے جس میں 3 ارب ڈالر قرض اوراگلے تین سال کے لئے 3.2 ارب ڈالر کا تیل موخر ادائیگی پر فراہمی کی سہولت شامل ہے۔ یہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے اورادائیگیوں کے بحران کو روکنے کے لئے دی گئی تھی۔

یہ ایمرجنسی ریلیف پیکیج گذشتہ دو دہائیوں سے جاری اس روایت کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان جب بھی معاشی مشکل میں پڑتا ہے تو سعودی عرب موخر ادائیگیوں پر تیل مہیا کرتا چلا آ رہا ہے۔ تاہم اس بار معاشی بحران بہت زیادہ خراب تھا کیونکہ پاکستان کا غیرملکی قرضوں کی ذمہ داریوں کوپورا کرنے میں ناکام ہونے کا خطرہ تھا۔

لہٰذا سعودی عرب سب سے پہلے نومبر 2018 میں 6.2 ارب ڈالر کے ریلیف پیکیج کی پیش کش لے کر آگے بڑھا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی بعد میں ہاتھ بٹایا۔ یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے جولائی 2019 میں پاکستان کے لئے اس کے 6 ارب ڈالر کے بیل آئوٹ کی منظوری سے کئی مہینے پہلے کی بات کی ہے تاہم ولی عہد شہزادہ کے دورے کے دوران اس سے کہیں زیادہ اہم پیشرفت ہوئی جب پاکستان میں 20 ارب ڈالر کے اب تک کے سب سے بڑے سعودی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط ہوئےتھے جن میں گوادر میں آئل ریفائنری شامل ہے جس میں ارب ڈالر کی لاگت ہے اور باقی سرمایہ کاری پیٹرو کیمیکل کمپلیکس ،کان کنی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی طویل المدت اقتصادی ترقی کے حامل چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آخری سٹریٹجک مقام گوادر بندرگاہ میں دلچسپی لے رہا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین سعودی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اورسعودی عرب چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) میں شرکت کے ذریعے اور ایشیا کی باقی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کووسعت دے کر اپنے عالمی معاشی روابط کو متنوع بنا رہا ہے۔

اس طرح اگرچہ سعودی پاک اقتصادی تعاون میں حالیہ توسیع باہمی ہے اور یہ بی آر آئی یا سی پیک کے ساتھ مشترکہ مقاصد سے متصادم نہیں ہے لیکن یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ دونوں برادر مسلمان ممالک مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر 1990 میں پاکستان نے کویت پر عراقی جارحیت کے موقع پرسعودی عرب کے دفاع کے لئے اپنی زمینی افواج بھیجی تھیں۔ تین دہائیوں بعدپاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے اکتالیس اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں۔  

حرمین شریفین کے تقدس کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے تک پاکستان ہمیشہ ایک اہم سعودی شراکت دار اور ایک اہم مسلمان کھلاڑی رہا ہے۔

2001 سے 2009 کے تکلیف دہ دور میں پاکستان میں سعودی سفیر کی حیثیت سے کام کے دوران تواتر سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی ہر تفصیل میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہے جس کا نائن الیون کے بعد دونوں ممالک کو سامنا کرنا پڑا تھا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی انتہا کے دنوں میں ہم نے اس دہشت گردی کا کس طرح سامنا کیا تھا۔

پاکستان نے سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے میں نے سویلین اورفوجی قیادت کے ساتھ قریبی روابط رکھے۔ مجھے وہ قیامت خیز دن بھی یاد ہیں جب آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں آنے والے ایک تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور سعودی عرب نے فوری طور پر ایئر کوریڈور قائم کیا تاکہ متاثرین کی ہنگامی امداد فراہم کی جاسکے۔

افغانستان اور کشمیر میں علاقائی امن و استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے سعودی عرب اور پاکستان قریبی تعاون کرتے چلے ?ئے ہیں۔ اس طرح 5 اگست کو جب پاکستان نے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یوم استحصال کشمیر منایا تو میں نے اپنے ذاتی خیالات سے مغلوب ہو کر ان کالموں میں کشمیری مسلمانوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لئے ایک مضمون لکھا تھا جس میں کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا تھا۔

تاہم اگلی ہی صبح مجھے کشمیر میں او آئی سی کے کردار پر وزیر خارجہ قریشی کا تبصرہ دیکھ کر دکھ ہوا جس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر سے متعلق او آئی سی کے رابطہ گروپ نے سعودی سفیر یوسف الضوبئے کی قیادت میں رواں سال مارچ میں لائن آف کنٹرول سمیت آزاد جموں و کشمیر کا ایک ہفتے کا دورہ کیا تھا۔اس کے بعد رابطہ گروپ نے جون میں ایک ورچوئل اجلاس منعقد کیا جس کا افتتاح او آئی سی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف اے العثیمین نے کیا جنھوں نے او ?ئی سی کی متعلقہ قراردادوں وزرا خارجہ کی کونسل ، اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جموں و کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے او آئی سی کے عزم کا اعادہ کیا۔

نیز 5 اگست کے بعد کشمیر سے متعلق پاکستانی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے رابطہ گروپ کے اجلاس کے بعد جموں و کشمیر تنظیم نو آرڈر 2020 اور جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رولز 2020 کو مسترد کرنے کا بیان جاری کیا جس کا کشمیر میں ٓبادی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔

اس نے جموں وکشمیر کے عوام کے لئے او آئی سی کی مسلسل حمایت کی توثیق کی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لئے اپنے عہدے کا استعمال کریں۔

کشمیر کے بارے میں او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اور رابطہ گروپ کے کشمیر کے جاری سانحے کے بارے میں اس طرح کے پرعزم بیانات اور کارروائیوں کے بعد جموں کشمیر کے متعلق حقائق کے لئے بنائے گئے مشن سے پہلے کشمیر کے بارے میں وزرا خارجہ کی کونسل کے ایک اور اعلان کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔

مزید یہ کہ عالمی وبائی مرض نے بڑے سفارتی اجتماعات منعقد کرنے کی گنجائش کو محدود کردیا تھا۔ پھر بھی شاہ محمود قریشی نے وزرا خارجہ کے اجلاس پر اصرار کرکے او آئی سی کی ساکھ کو داغدار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک سال پہلے ہندوستان کی طرف سے جموں و کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے اعلان اور متنازعہ علاقے میں لاک ڈائون نافذ کرنے کے فوراً بعد ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقد کر کے حقیقت میں پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔

بدقسمتی سے اس وقت سے مسٹر قریشی کی سربراہی میں وزارت خارجہ کشمیر سے متعلق بین الاقوامی سفارت کاری میں اس ابتدائی کامیابی پر اپنے مقدمے کوآگے بڑھانے میں ناکام ہے۔ لہٰذا او آئی سی کو مورد الزام ٹھہرانے کے لئے ان کے مایوس کن بیانات کی ایک وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ وہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو چھپانا چاہتے ہیں۔

تاہم سعودی نقطہ نظر سے شاہ محمود قریشی کی جانب سے او آئی سی مینڈیٹ کے بغیر کشمیر پر اسلامی ممالک کا اجلاس منعقد کرنے کی دھمکی زیادہ تشویشناک ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلام کے سب سے مقدس مقامات ہونے کی وجہ سے سعودی عرب اسلام کا مرکز ہے۔ لہٰذا اس نے ہمیشہ کسی بھی کوشش یا واقعات کے خلاف جدوجہد کی جس کا مقصد امت مسلمہ کو تقسیم کرنا ہو۔

پچھلے دسمبر میں پاکستان نے کوالالمپور میں ایسے ہی ایک اجتماع کا بائیکاٹ کرتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا تھا جو ترکی اور ایران کی طرف سے او آئی سی کی قیادت کو چیلنج کرنے کی بنیادی کوشش تھی۔

اگر شاہ محمود قریشی کا در پردہ حوالہ کسی بھی ایسے اجلاس کی طرف ہے تو یہ ایک خطرناک تجویز ہے جس سے کسی برادر ملک سے توقع نہیں کی جاسکتی ہے جس کے عوام ترکی اور ایران کی طرح ہمیشہ امت کے اتحاد کو ترس رہے ہیں۔

اس طرح کے اقدام سے موجودہ ترک اور ایرانی حکومتوں اور رہنمائوں کو فائدہ پہنچے گا جو امت کو تقسیم کر کے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ عراق اور شام سے لے کرلبنان اور لیبیا تک ان کے ہاتھ مصائب کا شکار مسلم آبادی کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ وہ دہشت گرد پراکسیوں کی حمایت کرتے ہیں اور مسلم سرزمین میں گندگی اور تباہی پھیلاتے ہیں۔

40 سالوں سے ایران نے گھنائونے مقاصد کے لئے عرب امور میں دخل اندازی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے سلامتی کونسل کو جون کی پیش کردہ اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایران یمن میں باغی حوثیوں کو مسلح کررہا ہے اور سعودی عرب پر اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی سرپرستی کررہا ہے۔

گذشتہ ماہ شاہ محمود قریشی نے خود اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے ساتھ فون پر بات چیت کی اور سعودی عرب کے خلاف مسلح حملوں پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پھر اب وہ تہران کے زیر اہتمام ایک آپشن پر کیسے غور کر سکتے ہیں؟

ترکی کے لئے یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ اس کی قیادت خبط عظمت کے شکار فرد کے ہاتھ میں ہےجو ماضی کی عثمانی سلطنت کا احیا چاہتے ہیں جن کی ملک کے اندر کنٹرول اور علاقائی تسلط کی ہوس کی کوئی حد نہیں۔ تقریباً دو دہائیوں سے رجب طیب اردوان نے پرانے زخم تازہ کر کے ملکی امن اور علاقائی جغرافیائی سیاست کو تلپٹ کر رکھا ہے۔ عالم اسلام کو تقسیم کرنے میں ان کے ذاتی جوش و خروش نے حال ہی میں زور پکڑ لیا ہے۔

پاکستان کو اس جال میں کیوں پھنسنا چاہئے؟دو قومی ریاستوں کے مابین سٹریٹجک شراکت قائم کرنے کے لئے سالوں کا صبر آزما کام درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کا امکان نہیں ہے کہ وہ کسی گمراہ فرد کی بے بنیاد بیان بازی کا شکار ہوں جو سعودی - پاک تعلقات میں مبینہ طور پر پائے جانے والےتنازعہ کی بنیاد بن گئی۔ باہمی اشتراک کی ایک مثالی روح ان تعلقات کی نمایاں خوبی ہے جس کے تحت ریاض اور اسلام آباد دونوں ایک دوسرے کی قومی حساسیت اور حدود کو سمجھتے ہیں۔

اسی وجہ سے جب 2015 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے لئے اپنی فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو سعودی عرب نے اس پر بھووئیں نہیں چڑھائیں۔ کشمیر کے معاملے میں ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو سعودی عرب اور نہ ہی اس کے خلیجی اتحادیوں کی طرف سے کسی کی بھی ایسی خواہش ہے کہ پاکستانی مفادات یا کشمیری امنگوں کے خلاف برعکس کوئی عمل ہو۔ اس سب کچھ کے باوجود کوئی بھی کشمیر کے لئے خاطر خواہ کام نہ کرنے پر ان پر الزام لگانے کے بارے میں سوچا بھی کیسے جا سکتا ہے؟

بے شک یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے ایشیا کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کے حصے کے طور پر ہندوستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارت کے سعودی عرب میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد اگر پاکستان سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی ضرور ہے جتنے پاکستانی مزدور سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں جن کی تعداد 30 لاکھ کے قریب ہے اور وہ ترسیلات زر میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں۔

کیا اتنے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات یا باہمی انحصار سے سعودی عرب کو مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے ہندوستان کی پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لئے حقیقت پسندانہ جواز فراہم نہیں کرتا ہے؟ نیز کیا خود پاکستان نے بھی کبھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے یکطرفہ طور پر بھارت کے ساتھ کشمیر کے تصفیے کے لئے دو طرفہ عمل ترک کیا؟

جہاں تک پاکستان کے لئے سعودی ایمرجنسی معاشی امدادی پیکج کی مبینہ طور پر بات کی جارہی ہے تو سب سے پہلے تو میڈیا نے سرکاری سعودی ذرائع سے ان کی تصدیق ہی نہیں کی۔ خلیجی اتحادی ممالک کی طرح سعودی عرب کی معیشت بھی کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے باعث سخت دبائو کا شکار ہوگئی ہے۔ عوام اور غیر ملکی کارکنان اس کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

پھر وبائی مرض کے باوجود پاکستان کو ایسی معاشی مشکلات پیش نہیں آئیں جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی معاہدے سے قبل تھیں۔اس کے باوجود اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے اس مسئلے پر کوئی اختلافات پیدا ہوئے ہیں تو معیاری طریقہ کار یہ ہے کہ دونوں ممالک دستیاب متعدد سیاسی اور سفارتی چینلز کے ذریعے باہمی طور پر اسے حل کریں۔

جب شاہ محمود قریشی مسئلہ کشمیر پر اوآئی سی کے موقف اور سعودی عرب کی معاشی امداد کے متعلق میڈیا کی غیر مصدقہ خبروں پر مبنی اختلافات کو غم و غصے کے انداز میں جذباتی طریقے سے عوامی سطح پر لائے تو انہوں نے دونوں اقوام کے مفادات کی مخالف قوتوں کو سبوتاژ کرنے کی اجازت دی۔

خوش قسمتی سے سعودی پاک تعلقات لوگوں کی گہری مذہبی ، سیاسی اور معاشرتی امنگوں میں اس حد تک جڑے ہوئے ہیں کہ وہ موجودہ صورتحال جیسے ناخوشگوار واقعات سے متاثر نہیں ہوتے۔

در حقیقت سعودی-پاک دفاعی تعاون کی سطح اتنی گہری اور وسیع ہے کہ وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترنے والے ہمارے تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کی موجودہ سازش بھی اسی تیزی سے ناکام ہو جائے گی جس تیزی سے یہ منظر عام پر آئی ہے۔

اس میں زیادہ حیرانی کی بات نہیں کہ پاک فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے موجودہ دورے کے موقع پر تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے واضح طور پر کہا ہے: سعودی پاک تعلقات تاریخی ہیں جو بہت اہم ہیں اور ہمیشہ شاندار رہے ہیں اور رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے… کسی کو بھی سعودی عرب کی مسلم دنیا میں مرکزی پر شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے دل سعودی عرب کے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات پر کوئی سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے بعد وزیر خارجہ قریشی کی تلخ نوائی کہاں کھڑی ہے؟ کیوں کہ ہمارے برادرانہ تعلقات کو کوئی نقصان ہمارے متعلقہ قومی مفادات اور عوامی امنگوں کے منافی ہے، کیا وزیر اعظم عمران خان انہیں مستقبل میں محتاط رہنے کی ہدایت کریں گے؟

چونکہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کو تیل سے ہٹ کر دوسرے شعبوں میں لانا چاہتا ہے یہ سٹریٹجک منصوبہ ہمارے نوجوان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سوچ ہے ، ہم توقع کرتے ہیں کہ مزید لاکھوں پاکستانی سعودی انفراسٹرکچر اور تکنیکی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ سعودی حکومت نے اس عظیم موقع کے لئے پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت دینے کے لئے پہلے ہی متعدد وظائف میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ہمارے پاس پاکستان میں طویل المدتی سیاسی اور معاشی مفادات ہیں اور پچھلے کچھ سالوں میں دونوں ممالک کے تاجروں اور تاجروں کے مابین زیادہ سے زیادہ باہمی رابطے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال کے باوجود بھی ، سعودی عرب میں پاکستانی برآمدات میں جون میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے؟

میں یہ کہتے ہوئے بات ختم کروں گا کہ سعودی پاک تاریخی شراکت اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ جو کو ناکام نہیں ہو سکتی۔ یہ مستقبل میں ایسے پھلے پھولے گی جس طرح تاریخ میں پہلے بھی ہوتا آیا ہے کہ راستے میں آنے والی ہر سازش کو ہمارے دونوں ممالک کے لوگوں کی محبت اور عقیدت نے شکست دی۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے