گلتی سڑتی بیوروکریسی

عائشہ صدیقہ
کالم نگار

1 month ago


نظام کےلئے کام کریں عوام کی بھلائی کے لئے نہیں

ایک سرکاری ملازم خورشید احمد خان مروت کے 20 جون کو دی نیوزاخبارکے صفحات پر شائع ہونے والے مضمون نے مجھے بیوروکریسی کے ساتھ اپنے تجربے کی یاد دلادی۔

1992 میں ، ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے مجھے اس وقت کے ایک نئے پروبیشنری آفیسر سے ملنا یاد آیا۔ وہ ہمارے محکمہ میں ممکنہ اچھی پوسٹنگ کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ پہلی نظرمیں ہی یہ واضح ہوگیا کہ وہ پیسہ کمانے کے مواقع اور ایک باس کی تلاش میں تھا جو نظم و ضبط کی اتنی پروا نہ کرے۔

میں ریاستی بیوروکریسی میں شامل ہونے کے پیچھے اس کے حقیقی عزائم ظاہرکرنے میں بے باکی دکھانے پرحیرت زدہ تھی۔ میرے 127 افسروں کی کھیپ میں عام طور پر اپنے عزائم  جو ہمیشہ پیسہ کماناکے بارے میں نہیں تھے لیکن یقینی طور پرمجبورعوام کی خدمت کرنابھی کسی کامطمع نظرنہیں تھالیکن ان عزائم کے بارے میں ہمارے درمیان خاموش رہنے کی رسم تھی۔

ہماری کھیپ میں سندیافتہ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعدادموجودتھی جن میں سے بعض نے معقول تنخواہیں چھوڑکرابتدائی تنخواہ 2800 روپے وصول کرنا منظورکرلیاتھا اور اس دوران وہ اپنے خاندان کی کفالت بھی کررہے تھے۔سرول سروس اکیڈمی میں تربیت کے دوران ہی یہ آرام سے ہی اندازہ لگایاجاسکتاتھا کہ ان کامطمع نظرپیسہ کماناہے حالانکہ وہ لوگ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔

ان میں بعض افراد ایسے شامل تھے جوغصے کی وجہ سے بیوروکریسی میں شامل ہوئے تھے کیونکہ سندیافتہ ڈاکٹراورانجینئرہونے کے باوجودانہیں سرکاری افسروں کے دروازوں پرانتظارکرایاجاتاتھااوروہ بھی افسروں کوحاصل اختیارات اورطاقت کے حصول کیلئے بیوروکریسی میں شامل ہوئے تھے تاکہ بے اختیار لوگوں پراپنے اختیارکی دھونس جماسکیں۔

ان میں سے بہت سوں کا سماجی رتبہ بلند ہوگیا کیونکہ انہیں شادیوں کی منڈی میں بہتررشتے ملنا شروع ہوگئے۔

یہ بات عجیب نہیں کہ طاقتور سیاسی ، کاروباری ، زمیندار اور فوجی گھرانے بھی اپنے بچوں کو سول سروس میں شامل کررہے ہیں یا پھر ان کی شادیاں سول بیوروکریٹس سے کرواتے ہیں۔

ذاتی طور پر ، میں اپنی والدہ کے مشورے پر بیوروکریسی میں شامل ہوئی تھی جو زمینوں کی ملکیت کے سفاک ماحول میں میرے زندگی بسر کرنے کے متعلق فکر مند تھیں۔ میں نے جس سال امتحان پاس کیا تھا وہ اسی سال انتقال کر گئیں اور اس طرح مجھے اپنی والدہ کے میرے زندگی کے متعلق منصوبے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ میں ایک ایسے خاندان کا حصہ بن چکی تھی جو میرے کیریئر کے راستے سے قطع نظر مجھے تحفظ فراہم کرتا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سول سروس میں اصلاحات نے وسیع پیمانے پر پھیلی ریاستی بیوروکریسی کو ایک بہت بڑے خاندان میں تبدیل کردیا تھا۔ یقیناً آپ کا اس حد تک خیال رکھا جاتا ہے کہ آپ اختیارات کے کھیل میں حصہ ڈالتے ہیں جس کے لئے آپ کوتیار کیا گیا ہے۔ نو ماہ کی تربیت میں سے ایک ماہ فوج کے ساتھ لگایا جاتا ہے تاکہ دوسری بیوروکریسی سے واقفیت حاصل کی جا سکے۔

تاہم بھٹو کی سول سروس اصلاحات کے پیچھے بنیادی اچھا مقصد جس پر بدقسمتی سے عملدرآمد نہیں ہوا وہ سی ایس پی کیڈر کی طاقت کو توڑنا تھا جو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کے پیش رو تھے اور نہ صرف یہ کہ وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے بلکہ سول سروس کی بنیادی خامی ایک ایسا ڈیزائن بنی ہوئی ہے جو پولیس کے مقابلے میں ڈی ایم جی کی طاقت کے گرد گھومتی ہے کیونکہ دونوں میں واضح طور پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کافی صلاحیت ہے۔ سول سروس میں اصلاحات کی متعدد کوششیں کوئی خاص تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں۔

پاکستان کی بیوروکریسی کافی حد تک بہتر تربیت یافتہ ہے اور 1960 کی دہائی سے امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کی غیر ملکی تعلیم کے دوروں سے فائدہ اٹھا رہی ہے تاہم یہ تربیت اورڈگریاں ذہنی صلاحیتوں یا پیشہ ورانہ مہارت میں زیادہ تبدیلیاں نہیں لا سکیں۔ سول سروسز اکیڈمی میں بطور سرکاری ملازمین مشترکہ تربیتی پروگرام میں شرکت کرنے والوں کو کامنر کہا جاتا ہے اور وہ سماجی و سیاسی اور سماجی و معاشی جبلتوں پر چلتے ہیں ۔ اگرچہ انکم ٹیکس اور کسٹمز اور ایکسائز جیسی مالیاتی خدمات انتہائی تکنیکی ہیں لیکن ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ (ایم ایل سی) گروپ کے ساتھ مل کر آسان آمدن کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔  

اس میں حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ 1990 کی دہائی کے وسط یا آخر میں فارن سروس کے کچھ افسران جو انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ڈیپوٹیشن پر گئے تھے اپنے محکموں میں واپس نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ایسا گروپ جو تھانہ ، کچہری اور پٹوارخانہ میں مدد نہیں دے سکتا یا غیر ملکی ویزا حاصل کرنے میں بھی مدد نہیں کرسکتا ہے خاص طور پر دیہی یا چھوٹے شہر کے متوسط طبقے کے امیدواروں کے لئے جو بڑی تعداد میں میں شامل ہوئے ہیں کے لئے بہت کم اہمیت کا حامل ہے۔

یہاں تک کہ ملک کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں حصہ بننے کے قابل ہونا بھی اب متاثر کن نہیں رہا کیونکہ یہ کام فارن سروس کے افسر نہیں کرتے تو پھر انفارمیشن ، آڈٹ اور اکائونٹس، ریلویز ، ڈاک ، کامرس اور تجارت جیسے گروپوں کو کون اہمیت دیتا ہے؟  

برصغیر کی سول بیوروکریسی برطانوی نوآبادیاتی ضروریات کے مطابق تشکیل کی گئی ہے جو بدلتی ہوئی ملکی ضروریات اور اپنی اپنی ریاستوں کے سیاسی تناظر کے تابع تبدیل ہوئی۔ اگرچہ مختلف ممالک میں سول سروس کے اختیارات مختلف ہیں لیکن ریاست کو چلانے کے لئے درکار ضروری اس انسانی مشینری کے اختیارات کے مراکز پر انحصار نمایاں طور پر کیا جاتا ہے۔  

لیکن فلپ ووڈرف کی دو جلدوں پر مشتمل”ہندوستان پر حکمرانی کرنے والے لوگ“ پڑھنے سے ایسے دانشورانہ قابلیت کے حامل، مہم جوئی کے جوش اور عیسائیت کی تبلیغ کے جذبے کا احساس ہوتا ہے جو جدید ہندوستان کے معمار تھے۔ محافظوں کی اگلی نسل نے مقامی لوگوں کو ایک ساتھ چلانے کے لئے درکار قوانین اور اصولوں کو تیار کرنے کے لئے سخت محنت کی۔ وہ سفاک اور حالات کے مطابق چلنے والے تھے ، انہوں نے پڑھا اور تخیل سے کام لیا اور نئی دریافتیں کیں کیونکہ سلطنت ان پرانحصار کرتی تھی۔

اگرچہ برطانوی قوانین زیادہ تر اسی طرح برقرار رہے اور ’ مقامی لوگوں‘ کے ساتھ رویہ بھی وہی رہا لیکن  

بیوروکریسی کا فکری معیار تبدیل ہوگیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سول سروس اکیڈمی میں اگر کوئی روزانہ اخبارات یا کتاب پڑھتا ہوا پکڑا جاتا تو اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا کہ وہ زیادہ اختیارات والے گروپ میں جانے کے لئے دوبارہ امتحانات کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ سول سروس اکیڈمی یا اعلیٰ تربیت کے دیگر اداروں میں تربیت کے دوران کتابیں پڑھائی جاتی ہیں لیکن ذہنی فکر کو بلند کرنے کے لئے ضروری دانشورانہ مصروفیات شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں مفکرین پیدا نہیں ہوئے۔ اگرچہ مختار مسعود اور شیخ منظور الٰہی جیسے لوگوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن انتظامیہ ، سیاست یا حتی کہ سابقہ بیوروکریٹس کی لکھی ہوئی خارجہ پالیسی سے متعلق معنی خیز کتابیں بہت ہی کم ہیں۔

یہاں بھی یہ مسئلہ انفرادی بیوروکریٹس کا نہیں ہے بلکہ ایک سماجی و سیاسی نظام ہے جو گہری سوچ کی قدر نہیں کرتا ۔ جنرل (ر) عتیق الرحمن جو شاید فیڈرل سروس کمیشن کے سب سے بہترین چیئرمین تھے، کے بعد بہت سوں نے معیار کو مزید گرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جنرل ضیا الحق کے مقرر کردہ فیڈرل سروس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ایڈمرل (ر) محمد شریف جو پست ذہنی اور فکری صلاحیتوں کے باعث جانے جاتے ہیں کا نام ایف پی ایس سی کا معیار نیچے گرانے والوں کے زمرے میں خصوصی طور پر بتانے کی ضرورت ہے۔ انٹرویو نیلام گھر کی طرح کئے گئے تھے جو امیدواروں کو دعائے قنوت کی تلاوت کرنے کے لئے کہا جاتا یا بنیادی عمومی سائنس کے سوالات پوچھے جاتے تھے۔

سول سروسز اکیڈمی سے باہر نکلتے وقت تک اگر کسی کے جذبے اور آئیڈیلزم باقی بچے ہوتے تو اکثریت کو کچھ ہی وقت میں اس حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ختم کرنا پڑتے ، خاص طور پر جب نوجوان افسران ایسے نظام میں زندہ رہنے کی حقیقت کا مقابلہ کرتے ہیں جو خود ہی کئی عشروں کی سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ آخر میں بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ اس نظام کے لئے کیا کام کرتے ہیں نا کہ عوام کی بھلائی کے لئے کوئی بہتری کا کام کریں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

أیا صوفیہ کا نوحہ
کیارچی بس ایک ہی تھی یااوربھی ہونگی
مذہبی رجحانات کی کروٹیں

سول ملٹری وسائل کی جنگ

3 months ago


18ویں ترمیم ہی کیوں ہے نشانہ

<p>ہر بحران کی طرح کوویڈ۔19 بھی اپنے ساتھ چیلنجز اور مواقع کا ایک مجموعہ لے کر آیاہے۔ یہ سول اور فوجی ضروریات کے مابین موازنے کی بحث شروع کرنے کی وجہ بن سکتاہے۔ عالمی معیشت کے مجموعی</p><p>حجم کے سکڑنے پررہنمائوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ شہریوں کے حقیقی تحفظ یعنی صحت اورترقی پرکتناخرچ کرتاہے اس خرچ کے مقابلے میں جووہ روایتی فوجی سکیورٹی پرکرتےہیں۔یہ تووقت ہی بتائے گاکہ پاکستان ان ترجیحات کی کس طرح درجہ بندی کرتا ہے۔یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کوویڈ 19 گزرنے کے بعددفاعی بجٹ پرنظرثانی کی جائے لیکن اس کی اجازت نہیں ملے گی۔ فوج کی نظرمزید وسائل حاصل کرنے کی راہ میں کھڑی ہونے والی ایک متنازعہ آئینی ترمیم کی منسوخی پرہے جس کی واضح مثال وہ حالیہ اقدام ہے جسے سارا پاکستان دیکھ رہاہے کہ کیسے وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مینجمنٹ ٹیم میں آئی ایس پی آر کے ایک سابق عہدیدار کوتعینات کیاگیاہے۔ یہ وباایک نعمت ہے اگرچہ اس کے دوران ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اسلحے کی ایک غیر متوقع دوڑشروع ہوگئی ہے۔یہ بات ٹھیک ہے کہ اس وباکے دوران نئی دہلی نے ہتھیاروں کے سودوں پر دستخط کئے لیکن اس دوران کوئی جارحانہ کام ممکن نہیں ۔اس وقت جبکہ ساراخطہ وباکاشکارہے توایسے میں موجودہ معاملات سے کسی قسم کی پریشانی پیدانہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کے پاس اس کے سواکوئی آپشن نہیں کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.38 بلین امریکی ڈالرکے قرض سے نجات حاصل کرے۔یہ وسائل زیادہ تر 112 ارب امریکی ڈالر کے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف موڑ دیئے جائیں گے۔ پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نموکوروناوائرس کے پھیلنے سے پہلے ہی کم ہوگئی تھی جومالی سال 2017-18 میں5.7 فیصد تھی گھٹ کر مالی سال 2019-20 میں 2.4 فیصد رہ گئی ۔ یہ اعدادوشمار اسلام آباد کے سکیورٹی کے رجحانات کوتبدیل نہیں کرسکے جوکہ فوجی سکیورٹی سے منسلک ہےں۔ در حقیقت اس وباءکے فورا بعد حکومت نے پاک چین سکیورٹی فورس سائوتھ کے لئے 11.48 بلین ، خصوصی مواصلات کی تنظیم کیلئے 468.2 ملین اور نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کےلئے 90.45 ملین روپے کی ضمنی گرانٹ کا اعلان کیا۔ حقیقت تویہ ہے کہ آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کے مطابق مالی سال 2020-21 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمومزیدکم ہوکر 1.5-ہوجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہواہے کہ اسلام آباد کو اپنے بجٹ میں توازن قائم کرنے یا وسائل کو ترقیاتی علاقوں میں منتقل کرنے کےلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔بظاہر فوج اپنے بجٹ پرنظرثانی کرتے ہوئے کوئی بڑاقدام اٹھانے کیلئے رضامندنظر نظر نہیں آتی۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخارکا دعویٰ ہے کہ فوج 1973 کے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ملک میں تعیناتی کےلئے دیئے جانے والے الائونس میں اضافے کا دعوی ٰنہیں کرے گی لیکن ادارہ اپنا اصل حصہ دینے کیلئے آمادہ نہیں ۔پس یقینی طور پرنظریں آئین کی 18 ویں ترمیم کو منسوخ کرنے پر مرکوزہیںجو 2010 میں منظورکی گئی جس سے صوبوں کو زیادہ مالی خودمختاری حاصل ہے۔ مالی انتظامات کی صلاحیت میں کمی اوردیگربدانتظامی کے باوجودصوبوں کواس خودمختاری کافائدہ پہنچا۔ مثال کے طور پر صحت کے شعبے میں اخراجات سے متعلق مفصل مطالعہ کے بعدیہ بات سامنے آئی کہ تمام صوبوں نے اس شعبے میں زیادہ خرچ کیا لیکن فوج کو سخت تشویش لاحق ہے کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس اس کو دینے کےلئے وسائل کم ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین اصل لڑائی فنڈزہی کی تھی۔ ڈار زیادہ فنڈز نہیں دے سکے تھے کیونکہ فنڈز صوبوں کے پاس تھے۔ جنرل باجوہ نے 18 ویں ترمیم کے خلاف کھل کر بات کی اور اسے 1970 کے عشرے کے اوائل کے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات جیسا قرار دیا۔حیرت کی بات نہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کواس لئے لایا گیا تاکہ وہ عمران خان کےلئے میڈیا مینجمنٹ میں زیادہ مرکزی کردار ادا کریںلیکن یقینا ریٹائرڈ جنرل کو یہ بتانے کےلئے نہیں لایا گیا کہ وہ بتائے کہ ملک کے مختلف حصوں میں وینٹیلیٹرزیا ماسک کی کمی کیوں ہے یا پھر لاک ڈائون میں توسیع کردی گئی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ18ویں ترمیم سے نجات کے بعد رائے عامہ ہموار کرنے میں جنرل کا کردار ہوگا۔غالب امکان ہے کہ عاصم باجوہ ان تمام ہتھکنڈوں کااستعمال کریں گے جووہ فوج میں ہوتے ہوئے کیاکرتے تھے۔کہیں پرنرمی کریں گے کہیں پرسختی تاکہ اخباروں کووہ خبریں چھاپنے سے روکیں جس میں اختلاف رائے موجود ہوگا اسی طرح کالموں کے ساتھ کیاجائے گا۔</p><p>اسی طرح سوشل میڈیاکے محاذپربھی ایک ٹیم کاانتظام کیاجائے گا جبکہ دوسری طرف صحافیوں کورشوت بھی دی جائے گی اسی طر ح اوربہت کچھ کیاجائے گا۔ریٹائرڈ جنرل نے ایک عام سے آرمی چیف ، جنرل راحیل شریف کی امیج بلڈنگ لمبی میں بہت موثر کردار ادا کیا تھا اور اس دوران فوج کے میڈیا ونگ کے کردارکو اس حد تک بڑھایا کہ اس کو سرحد پار سے لوگوں نے محسوس کیااورتعریف بھی کی۔ 2019 میں انڈیا کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عطا حسنین نے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز ، لندن میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی معلومات میں ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت کی تعریف کی تھی۔</p><p>ممکن ہے کہ نئی میڈیا ٹیم اس بات کو یقینی بنائے کہ معاملات سیاسی اور معاشرتی محاذ پر پرسکون ہوں جبکہ 18 ویں ترمیم سے نجات مل جائے۔ اس کو شاید ہائبرڈ جنگ لڑنے کو کہا جائے گا ، یہ تصور فوج میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ صوبائی خودمختاری کے حق میں اٹھنے والی آواز کوریاست کے خلاف دکھایاجائے گااوربھرپوراندازمیں پروپیگنڈا کیاجائے گا جس میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر مہارت رکھتے ہیں۔</p><p>اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی اس حد تک کمزور ہیں کہ عاصم باجوہ کی تقرری کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھاسکیں جس شخص کے پاس بھاری تنخواہ کے ساتھ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین شپ بھی ہے۔حزب اختلاف کی دونوں اہم جماعتوں کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کیساہوگا۔ ایک تزویراتی تبدیلی کیلئے ہونے والی کوششوں پربھی انتہائی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔</p><p>تاہم اچھی میڈیامینجمنٹ کی ضرورت ہوگی جیسے کہ فوج ریاست کی دیگر مالی ضروریات سے لڑتی ہے۔ آرمی جی ایچ کیو سمجھتاہے کہ اس کی ذاتی ضروریات کا بخوبی خیال رکھا گیا ہے۔ سرکاری اراضی کے نظام کواس طرح بنایاگیاہے کہ یہ بات یقینی ہے کہ جب تک کوئی افسرترقی کرکے میجر کے عہدے سے تھری سٹار جنرل بنے تواس کے پاس ایک درجن کے قریب جائیدادیں ہوتی ہیں۔ ہرترقی ، جنگی کورس اور کارکردگی کاانعام مادی طورپردیا جاتا ہے۔ ایک کورکمانڈرکی جائیدادکی مالیت1 ارب روپے ہے (یہ وہ جائیداداوراس کی قیمت ہے جو ایک جنرل ایک میجر کے درجہ سے شروع ہو کر تھری سٹار تک جاتے ہوئے حاصل کرتاہے)۔ آرمی چیف کا درجہ اس سے بھی اونچا ہے۔ زیادہ وسائل کاطلب گار جرنیل زیادہ سے زیادہ فوائد کےلئے دوسرے ذرائع ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اعوان جاسوسی میں ملوث پایاگیاجس کی وجہ سے اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فوجی اکائونٹس ذرائع کے مطابق ، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات نے اپنی دوعہدوں پرخدمات کے بدلے ماہانہ پنشن میں لاکھوں روپے کا بھاری معاوضہ وصول کررہے ہیں۔ برسوں کے دوران افسر کیڈر اور قومی سلامتی کے مابین تعلقات انتہائی مالی معاملہ ہے۔ بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی یا قومی راز کو برقرار رکھنے کے لئے بھاری وسائل کے پیکیج کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ ذاتی حیثیت پر ملتے ہیں اوران کافوج بطورادارہ اس کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگرچہ ان حالات میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطرہ کی سطح قابومیں اور کم رہے گی لیکن فوج کو جدید خطوط پراستوارکرنے کی ضرورت باقی ہے۔ففتھ جنریشن وارکے لئے جہازوں کی تلاش کے علاوہ پاکستان نے چین ، اٹلی ، روس اور ترکی سے فوجی سازوسامان خریدا ہے لیکن ان درآمدات میں صرف بڑے ہتھیاروں کے محدود نظام شامل ہیں اور 2010 کے مقابلے میں اس میں 30 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ فوج اس ضیاع کو کم کرکے اپنی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے جس کا 20-30 فیصد کے درمیان حساب لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ آرمی جی ایچ کیو اپنے اختیارات پر نظر ثانی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اگرچہ فوج اختلاف رائے کو ختم کرنے کے واضح ترین طریقہ کار کا انتخاب کر سکتی ہے لیکن کووڈ 19 جتنی مرضی توجہ حاصل کرلے فوجی اخرجات پرسمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔</p><p>ایک دوست جسے میں عام طور پر غیر سیاسی سمجھتی تھی بحریہ کے حالیہ میزائل تجربے میں سب سے زیادہ پریشان تھا۔ لہذا کووڈ کے گزرنے کے بعدسب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوگی کہ طاقتور ادارے خود پر قابو رکھیں اورزیادہ قربانی دیں۔</p>



تبلیغی جماعت نے انڈیا،پاکستان میں کوروناپھیلایا

4 months ago


حیدرآبا،بہارہ کہواس کی روشن مثالیں ہیں

<p>&nbsp;</p><p>تبلیغی جماعت کولے کر ہندوستان اور پاکستان ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کی طرح جیسے کہ نظام الدین مرکزہے پاکستان میں بھی اس جماعت کو کوروناوائرس کے پھیلائو کے دو بڑے ذرائع میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے 2000 افراد میں سے بہت سارے ملک کے مختلف حصوں میں واپس چلے گئے۔ بھارتی حکومت کاکہنا ہے کہ یہ لوگ ہندوستان میں کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔پنجاب کے اندرمارچ کے وسط میں تقریبا اڑھائی لاکھ لوگوں نے تبلیغی جماعت کے سالانہ پانچ روز ہ اجتماع میں شرکت کی ۔ یہی جگہ ہے جہاں خاص طور پر دیوبندی مکتبہ فکرکے لوگ نماز پڑھنے اوردیگر مذہبی پروگرامات کےلئے اکٹھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں بنیادی طور پر بریلوی اکثریت میں ہیں لیکن تبلیغی جماعت جس کی بنیاد 1926 میں ہندوستان میں رکھی گئی تھی اس کے مشہوراورمضبوط ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ نظریاتی ہے کہ یہ فرقوں کی نفی کرتی ہے اور تمام نظریاتی مکاتب فکر کواپنی طرف راغب کرتی ہے خاص طورپربریلویوں کو جن کا اپنا کوئی مضبوط مذہبی فورم نہیں ہے۔ اگرچہ مولانا طاہرالقادری کی منہاج القرآن یا سیاسی طور پر تحریک لبیک پاکستان جیسی بریلوی تنظیمیں موجود ہیں۔ تبلیغی جماعت پوری دنیا میں مسلمانوں کو راغب کرتی ہے۔ اس سے بڑھ کراورکیاہو سکتا ہے کہ نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اور بعد میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے اجتماعات کی حمایت کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ یہ اچھے لوگ ہیں۔اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت صرف بنیادی مذہبی عبادات پرزوردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ معاشرتی اور معاشی طبقوں میں مقبول ہے۔ ریاست کے طاقتور اداروں ، نامور سیاستدانوں سے لے کر درمیانی اور نچلے متوسط طبقے تک لوگ اس کی مذہبی تعلیمات کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں تبلیغی جماعت پرالزام ہے کہ اس کے انتہا پسند تنظیموں سے تعلقات ہیں لیکن جیش محمد جیسی عسکریت پسند تنظیمیں تبلیغی جماعت کو پسند نہیں کرتیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیش محمد ہراس ادارے سے نفرت کرتی ہے جو جہاد کی ترغیب نہیں دیتا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں کی بڑی تعدادجن کاتعلق دیوبندی مکتبہ فکرسے ہے ان کو عسکریت پسندتنظیموں میں شمولیت کاتحرک اس لئے ملاکہ ان کی مذہب سے شناسائی تبلیغی جماعت کی وجہ سے ہوئی ۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ (مرحوم) لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کابیٹاعبداللہ گل جو پاکستان اور افغانستان میں جہادیوں سے رابطوں کےلئے جانا جاتا ہے میڈیاپرکڑی تنقیدکرتاہے کہ وہ تبلیغی جماعت پرالزام لگارہاہے کہ پاکستان میں کوروناپھیلانے کی ایک وجہ یہ لوگ ہیں۔اس کاکہناہے کہ میڈیا تبلیغی جماعت کے خلاف مسلسل زہر اگل رہا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔اس غیرذمہ دارانہ رویے پرتمام مذہب بے زار نیوز اینکرز ، پروڈیوسرز اور تمام نیوز ڈائریکٹرز کو بھاری جرمانہ کیا جانا چاہئے۔اس کازوراس بات پرتھا کہ شیعہ عقیدت مند ہی وائرس پھیلانے کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ مسئلہ کی وجہ تبلیغی جماعت کے ڈھانچے میں ہے جس کی بنیادمیں ملک اوردنیابھرمیں اجتماع کرناشامل ہے۔یہاں تک کے رائیونڈلاہورمیں ہونے والے سالانہ اجتماع سے قبل ہی تبلیغی جماعتیں ملک اوردنیا بھرمیں پھیل جاتی ہیں۔ تبلیغی جماعت کے نظام کے مطابق ہر ٹیم جس علاقے میں جاتی ہے وہاں کی مسجد میں قیام کرتی ہے اور وہاں پر مذہبی پروگرامات کرتی ہیں۔ یہ دورے سال بھر ہوتے ہیں لیکن سالانہ اجتماع لاہور میں ہوتا ہے ۔لیکن کیا کسی نے تبلیغی جماعت کے غلط اقدام پراس پرالزام لگایاہے یا پنجاب حکومت جو بحران سے نمٹنے میں انتہائی سست ہے؟ وفاقی حکومت نے دنیا بھر کے اپنے ہم منصبوں سے بہت مختلف رویہ اختیار نہیں کیا جنہوں نے اس خطرے سے نمٹنے میںاتنا وقت لیا۔ لاک ڈائون کے حوالے سے اب بھی کنفیوژن برقرار ہے جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان اصرار کرتے ہیں کہ ایساکرناٹھیک نہیں۔حکومت پنجاب اپنی ہدایات کولے کرنہ تو زبردستی کررہی ہے اور نہ ہی واضح ہے ۔ جیسا کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ تبلیغی جماعت انتظامیہ نے اپنی ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپناکام ختم نہیں کرسکتیں (جس ذریعہ سے میں نے بات کی تھی وہ اپنا کام مکمل کرچکا تھا اور اس نے چار مہینے گشت میں گزرے تھے۔ دسمبر سے مارچ تک) ملک بھر کے دیگر مقامات پر جاکر اپنا کام مکمل کریں۔تبلیغی جماعت کے ممبران جن کی میں نے بات کی تھی اس بات پر فخر کررہے تھے کہ وہ رائےونڈ میں کتنے اچھے انداز میں منظم تھے۔دکانوں کو بند کرنے کے احکامات کے بعد تبلیغی جماعت کا ایک علیحدہ دفتر تھا جو ہر گروپ کو ان کے مستقبل کے لائحہ عمل پر رہنمائی کرنا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ جو پہلے ہی چین ، ایران ، برطانیہ ، امریکہ ، سپین اور دیگر کوروناسے متاثرہ ممالک سے آنے والے ممبران سے مل چکے تھے وہ اپنے ساتھ وائرس کو پاکستان کے دوسرے حصوں میں لے گئے۔ پولیس انسپکٹر جنرل سندھ مشتاق مہر نے اپنے صوبے میں واپس آنے والی تمام تبلیغی جماعتوں کوقرنطائن کرنے کااعلان کیاہے خاص طور پر وہ جومساجد میں بیٹھنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو کھانا اور دیگر راشن فراہم کیاجائے گا۔پولیس کوہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی دوسرا فرد ان کے ساتھ رابطہ نہ کرے۔ اس کا مطلب ہے کہ تبلیغ کی تمام سرگرمیوں کوختم کردیاگیاہے۔ایسا حیدرآباد شہر میں 130 سے زائد کیسوں کے مثبت ہونے پرکیاگیا۔دوسری طرف پنجاب یا اسلام آباد نے اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی ۔ اگرچہ اسلام آبادکے مضافاتی علاقے بارہ کہوکو سختی سے اس وقت قرنطائن کیاگیاجب واپس آنےوالے تبلیغی جماعت کے کچھ ممبروں کے ٹیسٹ مثبت آئے ،پنجاب کے دیہاتی علاقوں اورچھوٹے قصبوں کی متعددمساجدمیں ابھی بھی تبلیغی جماعت کے ممبران کی موجودگی اورسرگرم ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔</p>



امریکہ طالبان معاہدہ اور جہادی

4 months ago


عائشہ صدیقہ کا امریکہ طالبان معاہدے پر تجزیہ

<p>امریکہ&nbsp;طالبان معاہدے نے جنوبی ایشیائی عسکریت پسندوں کے بڑے حلقوں میں کافی جوش و خروش پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔ &nbsp;اس کی ایک &nbsp;جھلک جیش محمد کی حالیہ اشاعت ’’ مدینہ مدینہ ‘‘ &nbsp; &nbsp;میں دیکھتی جا سکتی ہے۔ ایک طویل مضمون جس میں طالبان کی فتح اور امریکہ کے خلاف جہاد کی فتح پر &nbsp;اسی طرح خوشیاں منائی جا رہی ہیں جیسے سابقہ سپر پاور سوویت یونین پرجہادیوں نے فتح حاصل کی تھی۔</p><p>&nbsp;امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے بھاگ گئے ہیں… . کیا یہ ایک معمولی فتح ہے؟ وہ امریکہ جو کبھی طالبان کے خون کے پیاسے تھے &nbsp;اب ان سے &nbsp;ہاتھ ملا رہا ہے اور ۔۔افغانستان سے انخلا کے &nbsp;لئے &nbsp;&nbsp;ان کا تعاون حاصل کر رہا ہے۔ اب جو بھی ہو وہ ہمارے لئے پریشانی کی بات نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر دنیا معاہدہ توڑ دیتی ہے تو فائدہ اسلام کا ہوگا… .جس کا فائدہ جہاد کو ہوگا۔ابھی تک کسی [جہادیوں] نے اپنے ہتھیار فروخت&nbsp; نہیں کئے… جتنی نا انصافی بڑھتی ہے اسی قدر جہاد کے عزم میں اضافہ ہوتا ہے۔</p><p>امن معاہدے پر دستخط &nbsp;کے بعد کابل میں جاری تشدد کو نظر میں رکھ کر &nbsp;&nbsp;اس سوچ کا جائزہ لیا جائے تو اس سے دنیا کی اس نوعیت کا اندازہ کیا جا سکتا &nbsp;ہے جو ممکنہ طور پر جنوبی ایشیاء کے شمال مغربی حصے میں ابھرے گی۔</p><p>&nbsp; جیش محمد کا جریدہ ان حالات کی جھلک پیش کرتا ہے جن میں یہ تنظیم زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس کے دو انتہائی اہم حصے ہندوستانی سیاق و سباق میں ہیں۔ سب سے پہلے کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کی ریاست &nbsp;جیش محمد کے دماغ سے باہر نہیں ہے۔ درحقیقت ایک مضمون میں ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اور ان پر ہونے والے تشدد کے بارے میں&nbsp; بھارت کے خلاف جیش محمد کی طرف سے جہاد شروع کرنے کے &nbsp;اعلان کے بغیر بات کی گئی ہے۔&nbsp;</p><p>دوسرا، پوری گفتگو میں جس میں سے ایک دیوبندی طالبان سے متعلق ہے سمیت &nbsp;پورے بریلوی لہجے میں بحث کی گئی ہے۔ پیامبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی جدوجہد کا مستقل حوالہ موجود ہے تاکہ پیغام کو سنسرشپ &nbsp;سے بچایا جاسکے۔ واضح طور پر اس میں موجود پیغام حوالوں کی پرتوں میں &nbsp;لپیٹ کر دیا گیا ہے جو صرف جیش محمد کے کارکن ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس میں ساتھی جہادیوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مقدس جنگ ختم نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ کابل کی سیاست میں طالبان کی شمولیت جہاد &nbsp;کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور مرحلے کا آغاز ہے ۔</p><p>اگرچہ پاکستان میں جہادی گروہوں کا وجود برقرار ہے لیکن انھیں گذشتہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے &nbsp;سے رکاوٹوں کا سامنا &nbsp;ہے۔ لندن اور واشنگٹن میں سرگوشیاں سنی جا سکتی ہیں خاص طور پر اولذکر شہر میں کہا جا رہا ہے کہ پاک فوج کی موجودہ قیادت تعاون کر رہی ہے اور جہادی تنظیموں &nbsp; کو بھی قابو میں رکھا جا رہا ہے۔ یہ رائے زیادہ اہمیت کی حامل &nbsp;ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدام کے باوجود &nbsp;عسکریت پسندی یا فوجی سرگرمیاں نسبتا بہت کم ہیں جس سے اشارہ ملتا کہ &nbsp;&nbsp;پاکستان اس پیش رفت کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری حلقے بھی پالیسی میں اسٹریٹجک تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تاہم &nbsp;&nbsp;پاکستان حکومت کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھارت کے لئے مسئلہ کشمیر واقعتا کبھی حل نہیں ہوگا کیونکہ مزاحمت کشمیریوں کی طرف سے آئے گی اور کشمیر کی آزادی کے مطالبے پر کوئی سمجھوتہ ہونے کا امکان نہیں۔</p><p>افغانستان کو القاعدہ اور داعش جیسی دیگر عسکریت پسند تنظیموں سے &nbsp;محفوظ رکھنے کے بارے میں امریکہ کے ساتھ طالبان کے عہد و پیمان کے باوجود جہادیوں کو فلٹر کرنے کا عمل &nbsp;پیچیدہ ثابت ہوگا۔ &nbsp;جیش محمد جیسے گروپ القاعدہ اور طالبان دونوں سے جڑے ہوئے ہیں جس سے جہادیوں کو زبردست فائدہ ہوگا۔ افغانستان کا &nbsp;اگر ساری دنیا کے جہادیوں کے لئے نہیں تو کم از کم جنوبی ایشیائی علاقائی جہاد یوں کی پناہ گاہ بننے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں مقیم بہت سارے جہادی گروہ پہلے ہی کشمیر یا ہندوستان کی صورتحال پر بڑے پیمانے پر ردعمل ظاہر کرنے میں اپنی ناکامی پر اپنے کارکنوں کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ کراچی میں مقیم صحافی ضیاء الرحمن کے مطابق لشکر طیبہ جماعت الدعو نیٹ ورک داعش کے خلاف مواد شائع کرتی رہی ہیں۔ اس سے ان عسکریت پسند گروپوں پر بڑے دباؤ کی نشاندہی ہوتی ہے جن کے کارکن لڑائی کے لئے تیاری کررہے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔</p><p>امریکیوں سے ان کے وعدوں کے باوجود طالبان کو پاکستان میں ان جہادیوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑے گی جو ان تمام سالوں میں طالبان کی جدوجہد میں مدد دیتے رہے اور ان کا حصہ رہے ہیں۔ نظریاتی طور پر ایسے روابط &nbsp;&nbsp;ہیں جو طالبان توڑ نہیں پائیں گے۔ لیکن اس کے بعد طالبان پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی جڑے ہوئے ہیں جن کی دلچسپی اس ملک کے علاقے کو محفوظ بنانا ہے اور وہ 1990 اور 2000 کی دہائی میں ہونے والے تشدد &nbsp;کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ در حقیقت طالبان کو دوجہتوں میں دیکھنا ہوگا۔</p><p>ایک کا تعلق پاکستان سے ہے جس کے بغیر امریکہ طالبان معاہدہ نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا کابل کی سیاست میں طالبان کی طاقت کا مزید استحکام ہے جس کا اظہار آنے والے مہینوں میں ہو گا۔ ملک اور بیرون ملک بڑی سٹرٹیجک کمیونٹی کے ذرائع نے اگلے چھ ماہ یا ایک سال میں سراج الدین حقانی کو افغان حکومت میں شامل کرنے کے بارے میں بات کرنا شروع کردی ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع حقانی کے مضمون کی اشاعت شاید امریکی سامعین کے لئے اس طرح کی پیش رفت کو ہضم کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔</p><p>جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے &nbsp;جس &nbsp;کے ساتھ طالبان ایک صفحے پر ہیں مؤخر الذکر یا تو پاکستان نواز جہادیوں کو ایڈجسٹ کریں گے یا ان لوگوں کو ختم کردیں گے جو پاکستان کے لئے خطرہ ہیں۔ قاری عبد الجبار کی موت جو کبھی جیش محمد کا حصہ تھا لیکن بعد میں اس نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی ایک اہم واقعہ ہے۔ لیکن تعاون پر مبنی تعلقات کو جہادیوں کے ساتھ طالبان کے براہ راست آپریشنل اور نظریاتی روابط کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ &nbsp;درحقیقت افغانستان میں بہت ساری گفتگو ہو رہی ہے جس کے نتائج جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام &nbsp;پر اثرات مرتب ہوں گے۔</p><p>2011میں اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک جناح انسٹی ٹیوٹ کے تیار کردہ ایک مقالے کی یاد آ رہی ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی حامی پالیسی کے والی اشرافیہ کے خیالات کی بنیاد پراس مقالے میں افغانستان میں کابل حکومت میں حقانی نیٹ ورک کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ خواہش پوری ہوتی معلوم ہو رہی ہے لیکن اس سے علاقائی استحکام کی امید مدھم &nbsp;ہو رہی ہے۔ افغانستان میں جہاد کو ادارہ جاتی شکل دینے اور ہندوستان میں ہندوتوا کی حکومت جنوبی ایشیاء کے خطے میں کوئی ایسا امتزاج نہیں بناسکتی ہے جو دنیا دیکھنا چاہے گی۔ جیو سیاست کا راستہ یقینی طور پر اس راہ پر گامزن ہے &nbsp;جس میں کسی کی فتح کے بجائے انسانیت کے لئے تباہی لانے کا امکان زیادہ ہے۔ &nbsp;ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی اور پالیسی سازوں کی انتہا پسندانہ جبلت پھیلتے ہوئے گہرے سایوں کے خدشات میں اضافہ کرتی ہے۔</p><p>&nbsp;</p>