پہلی جامع مسجد پنجاب کا تاریخی اجتماع

محمدنوازطاہر
صحافی،کالم نگار

1 month ago


مجھے میرے سوالات کے جوابات نہیں ملے

مسلماں کتنا ہوں ؟ یہ تو کچھ معلوم نہیں ، مسلمان کیسے ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ ہونا چاہئے تھا یا نہیں ؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب اگر میں خود دینا چاہوں تو مطمئن کرنے والے دو الفاظ لکھنے سے پہلے خود ہی بور ہوکر چھوڑ دوں گا۔ اس کی جملہ وجوہات ہیں جن میں سے اولین یہ کہ میں اپنی مرضی سے مسلمان نہیں ہوا ، پیدائشی مسلمان ہوں ، اب پیدائشی مسلمان ہوں تو کون سا مسلمان ہوں ؟ جی ہاں ! بڑے دھڑلے سے کہتا ہوں کہ بریلوی مسلمان ہوں۔ میرا ایک بھائی دیوبندی مسلمان ہے ،ایک اہلِ تشیع مسلمان ہے۔ خاندان میں قادری بھی ہیں ، نقشبندی بھی ہیں اور مجھ سمیت کچھ ”وارہ بندی “ بھی ہیں۔  

مذہب میں تو وارہ بندی نہیں ہے بلکہ وارہ بندی محکمہ آب پاشی کی اصطلاع ہے جو پانی کی مقدار اور وقت کا تعین کرتی ہے جبکہ تعین کرنا محکمہ انہار کے پٹواری کی ذمہ داری ہے۔  

بچپن سے جن دو تین الفاظ سے واقف ہوں ان میں وارہ بندی ، شیعہ سنی ، وہابی وغیرہ شامل ہیں انہی الفاظ نے زندگی کا گھیرائوکررکھا ہے۔ ان میں سے وارہ بندی کے ماسوا باقی الفاظ کا تعلق مذہب یعنی دین اسلام سے ہے۔ وہ اسلام جس کی تعلیمات میں تفرقے سے منع اور اتحاد پر زوردیا گیا ہے بلکہ پابند کیا گیا ، انہی تعلیمات میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ، کسی عربی کو عجمی پراور کالے کو گورے پر فوقیت نہیں مگر میں نے یہ اسلام کبھی دیکھا ہی نہیں۔۔اس کے قریب تک پھٹکنے نہیں دیا گیا۔

یہاں مجھے وہ لمحہ یاد آرہا ہے جب بارہ ربیع الاول جیسے مقدس دن ایک مولوی صاحب ( ملازم ڈوگر) کی نبی کریم کے متوالوں سے پینتالیس ہزار روپے کے ’جرمانے“(رعایتی فیس برائے تقریر) کے عوض رضا مندی کی اطلاع ملی تو حیرت ہوئے ، مجھے بریلوی مسلمان کی حیثیت سے شدید غصہ آیا کہ نبی کے دیوانوں کو نبی کی شان سنانے کے لئے اتنے پیسے لئے گئے جبکہ اس مقصد کے لئے کسی بھی سکالر سے درخواست کر کے بلامعاوضہ خطاب سنا جاسکتا تھا ۔تب تک چالیس ہزار روپے پیشگی ادا ہوچکے تھے، عین موقع پر غصہ اور رنج شدید ہوگیا جب ماندہ پانچ ہزار روپے وصول کیے بغیر حضرت صاحب نے گاڑی سے اترنے سے انکار کردیا، میں سیخ پا تھا مگر والدہ نے اپنے حکم کی زنجیر سے پون کلومیٹر دور اپنے آبائی ڈیرے پر ہی باندھ کر ’قید‘ کردیا، جب سرکار نے تقریر فرمائی تو ان کے ابتدائی الفاظ تھے ” او بریلوی مسلمانو ! “ میں نے اپنی والدہ سے صرف یہ جاننے کی جسارت کی یہ مدرسہ بریلی کیا قبل از مسیح کا ہے یا اس دین سے الگ کوئی شاخ ہے جس کا اعلان ایک پہاڑ کے سامنے کیا گیا تھا اور اس کی روح کو اسی پہاڑ کے نیچے دفن( نعوز باللہ ) کرنے کی سازش ہے ؟ والدہ نے مجھے گستاخ کہہ کرخاموش کردیا ، وہ تو اللہ بھلا کرے کہ اس وقت پیر ولایت شاہ ( اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، آمین )آف مریدکے بھی ڈیرے پر موجود تھے جنہوں نے میری والدہ کی رہنمائی فرمائی کہ میں نے گستاخی نہیں کی۔ ایسی ہی آوازیں ہم دوسرے مسلمان گروہوں ( فرقوں و مسالک )کے علمائے کرام کی بھی سنتے ہیں اور باربار خود سے سوال کرتے ہیں کہ ہم کون سے مسلمان ہیں؟ کس مسجد میں ہم نماز احسن طریقے سے ادا کرسکتے ہیں ؟ کس مسجد میں داخل ہی نہیں ہوسکتے ؟ جبکہ مسجد اللہ کا گھر بھی قراردی جاتی ہے ؟ جب ہم سنی شیعہ وہابی تینوں بھائی اکٹھے رہتے ، کھاتے پیتے ہیں تو نماز کی ادائیگی کے لئے الگ الگ مسجد کیوں ؟ اللہ کے آخری نبی نے جو تعلیم دی تھی اس میں تو کہیں بھی ایسا نہیں ؟ ہم نے بات نبی کی تعلیمات اور احکامات پر چلنا ہے یا کسی اور کے پیچھے چلنا ہے ؟ میں جب کبھی اپنے بھائیوں سے یہ سوال کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ مجھے ایسے گھورکر دیکھتے ہیں جیسے خدا نخواستہ ان کے قتل کا ارادہ ان کے سامنے ظاہرکردیا ہو ؟  

میں نے اپنے طور پر اپنی تلاش شروع کی اور مسجد ڈھونڈھنے کی کوشش بھی لیکن یہ نہیں کہ ایسی کوئی مسجد نہیں ہوگی جہاں نبی کے دین کے مسلمان ہی ہونگے مگر اپنے ملک میں تو میں ایسی مسجد کا دروازہ پار نہیں کرسکا ، جب مسجد نہ ملی تو آدم زاد تھک گیا اور میناروں کی بنیاد پر عمارت کو مسجد تسلیم کرکے وہاں کے ملائوں سے فرار ہوگیا، اس سال یہ فراری موقوف کردی ، گائوں کی مسجد میں اعتکاف کیا لیکن یہ کیا ؟ یہ تو پچاس سال پہلے والی مسجد نہیں رہی ؟ وسیع ضرور ہوگئی خدا کریم کے حضور جھکنے والے بھی بڑھ گئے مگر پچاس سال پہلے والا امن ، سکون ، سوچ ، قبولیت، احترام ،برداشت سب کچھ ندارد۔۔ فرقہ وارانہ تعصب جیسے بھپرا ہوا سمندر۔۔۔جیسے تیسے آخری عشرہ گزارا، سوچا دوست احباب سے ان ایام پر گفتگو کے بابت شرعی رہنمائی لوں گا لیکن وہ کیا رہنمائی دیں گے جو میری طرح خود سوال کررہے ہیں کہ وہ کون سے مسلمان ہیں ،؟ مسلک ، فرقے ، فرقہ وارانہ تعصب کے یا نبی کے اس دین کے جس میں یہ متذکرہ الفاط دکھائی نہیں دیتے بلکہ ان کی نفی ہوتی ہے، سکونِ قلب ہے ، راحت ہے۔۔۔ میں نے رہنمائی نہ لینے کا فیصلہ کیا اور ارادہ موقوف کردیا۔

ابھی کل ہی 9 جون کی سہ پہر کو مجھے ایک مسجد اتفاق سے مل گئی جسے میں نے اپنے طور پر ’ جامع مسجد پنجاب ‘ کا نام دیدیا ، یہ پنجاب اسمبلی کا ایوان تھا جو کرونا وبا کے باعث اسمبلی کی اپنی عمارت چھوٹی ہونے کی وجہ سے مقامی ہوٹل میں عارضی طور پر بنایا گیا ہے۔  

یہاں میں نے سارے کے سارے مولوی اور غیر مولوی ایک ہی دین والے دیکھے جو کم از کم کسی ایک نکتے( ختم ِ نبوت) پر متفق تھے کسی نے کسی کے ساتھ مسلکی اور فرقہ وارانہ تفریق و تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔ سپیکر چودھری پرویز، الٰہی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سید حسن مرتضیٰ ، راہِ حق پارٹی کے مولانا محمد معاویہ ، مسلم لیگ ن کے(کامریڈ) سمیع اللہ خان ، رانا مشہود احمد ، وزیر قانون بشارت راجہ ، وزیر تعلیم مراد راس اور دیگر سبھی کے سبھی پکے ،سچے راسخ العقیدہ مسلمان دکھائی دیئے،جتنی بھی گفتگو ہوئی ساری کی ساری متفقہ ہوئی اور ” دی پنجاب کیریکلم اینڈٹیکسٹ بک بورڈ ترمیمی بل دو ہزار بیس کی محرک مسلم ق کی خدیجہ عمر سمیت سبھی کے سبھی کسی مسلکی تفریق و تعصب سے بالا دیکھے ،سبھی نے نے مل کر ایک قانون بنایا ہے جس کے تحت حکومت(پنجاب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ ) کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ متحدہ علماءبورڈ کے این او سی کے بغیر کتب شائع نہیں کرسکے گی۔اس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ مذہبی مواد اور خاص طور پر ختمِ نبوت کے حوالے سے کتب میں شامل الفاظ درست طور پر شائع ہوں ، جس طرح نبی کے ساتھ اللہ کے آخری نبی کے الفاظ میں سے ”آخری‘ منہا کردیا گیا ، آئندہ اس کا امکان پیدا نہ ہو سکے اسی طرح مقدس ہستیوں کی حرمت و تکریم اور شان کے برعکس الفاظ کی اشاعت ناممکن بنائی جاسکے۔ اس سے پہلے جب اسمبلی کایہ سیشن شروع ہوا تھا تو تین کتابوں” دی فرسٹ مسلم “، ”شارٹ ہسٹری آف اسلام “ اور ” آفتر دی پرافٹ “پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اسمبلی نے یہ کتابیںگستاخانہ قراردیں، جومسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بھی تھیں۔ ان کتابوں کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی سپیشل کمیٹی نمبر چھ کی رپورٹ میاں شفیع محمد نے پیش کی تھی جو خود بھی مذہبی رحجان رکھتے ہیں اور خواجہ غلام فرید کی دھرتی (خانپور) سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ اس سے پہلے اجلاس میں مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر کی طرف سے ایسے ہی معاملات سے متعلق قانون سازی کے لئے پیش کی گئی قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کی تھی، تب بھی اور اس ساری کارروائی کے دوران جو تقاریر ہوئیں اور جن خدشات و تحفظات کا اظہار کیا گیا ان میں الزام لگایا تھا کہ یہ سب قادیانیوں کی کارستانی ہے لیکن اس میں سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ بہت سا مواد پاکستان کے اندر چھپنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھی شائع ہوکر پاکستان میں تقسیم کیا جارہا ہے پاکستان کی مسلمان نسل کو گمراہ کیا جارہا ہے جس کا راستہ روکنا ہماری سب کی ذمہ داری ہے اسمبلی میں اگرچہ اسلام کے خلاف شرپسندی کو اسلام دشمنوں اور یہودیوں کی سازش قراردیاگیا لیکن اسمبلی نے منصوبہ سازوں اور ذمہ داران کے خلاف اپنی کمیٹی بنا کر کوئی تعزیری ایکشن نہیں لیا۔ اجتماعی طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ نیا قانون بنانے سے ختمِ نبوت اور محترم ہستیوں کے خلاف جاری سازشوں کے سامنے پل باندھ دیا گیا ہے۔اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھی تائیدو حمایت اور تحسین کے ساتھ ساتھ اراکین کو مبارکباد دی۔  

1985 سے لیکر اب تک پنجاب اسمبلی میں مذہبی معاملات کے حوالے سے یہ تاریخی اجتماعی اتفاق دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ اسمبلی وہ نہیں جس کی بنیاد برطانیہ سرکار نے رکھی تھی، اس کا مقصد حکومتی معاملات میں سماجی مشاورت کے نام پر بعض معاملات میں مقامی لوگوں کو شامل کرنا تھا۔ اس کے برعکس پنجاب اسمبلی کایہ منظر تو اسمبلی نہیں مسجد کا دکھائی دے رہا تھا اور میں محسوس کررہا تھا کہ جب قراردادِ مقاصد کو پاکستان کے آئین کاحصہ بنایا گیا تھا تو اسمبلی کو مسجد ڈکلیئر کرنا یاد نہیں رہا ہوگا حالانکہ اس قرارداد مقاصد کی رو سے پاکستان کے رائج آئین ، قانون ، نظامِ عدل اور طریقِ حکومت سمیت موجودہ سارے کا سارا سسٹم اور ڈھانچہ دھڑام سے زمین بوس ہوجاتا ہے۔ نہ کسی کو بلحاظِ منصب من مانی کی اجازت اور استثنیٰ رہتا ہے نہ ہی کوئی انفرادی یا قومی ڈاکہ زنی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔

مجھے پہلی بار اسمبلی کو ایک مسجد دیکھ کر احساس ہوا کہ مسجد ایسی ہونی چاہئے جہاں سبھی اکٹھے ہوسکیں ، مسلمان ہونے کا دعویٰ تبھی کرنا چاہئے جب تمام تقاضے پورے کرنے کی کمٹمنٹ ہو ، ایسی نہیں کہ زکوة جبری طور پر وصول کی جائے ، اس کے پیسوں سے حج عمرے کئے جائیں اور جیسا کہ ماضی میں خبریں آتی رہی ہیں کہ عیاشی کی جائے۔۔ ناجائز منافع خوری ، ذخیرہ اندوزی ، رشوت ، ڈاکہ زنی سے عمرے حج کئے جائیں ، سود خود لیا جائے ، اس نظام کو فروغ دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں لیکن سود کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے جواز گھڑے جائیں ، علمائے کرام باقی معاملات میں اسلام کے لئے خطرات تو محسوس کریں مگر سود پرحکومتی خوشنودی کے لئے خاموش رہیں۔ یہی علماء، رویے اور نظام دیکھ کر میں خودکو مطمئن نہیں کرپاتا کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں ؟ ،ہوناچاہئے یا نہیں ؟ اگر مسلمان ہوں تو میرے سامنے کافرانہ معاملات سرکاری اور مذہبی ذمہ داروں کی نگرانی میں کیسے چل رہے ہیں میں

ان کافروں کا سر قلم کیوں نہیں کردیتا ؟۔ یہ سب مجھے منافق، منافق سے کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ اس ہجوم میں کہیں کہیں مجھے اپنی شبیہہ بھی واضح طور پر دکھائی کیوں دیتی ہے۔  

سوچتا ہوں شائد کبھی پھر”جامع مسجد پنجاب “ میں تاریخی اجتماع ہو اور مجھے میرے سوالوں کا جواب مل سکے ، میرے دماغ کا خناس دور ہوسکے اور میں مانوں کہ ہاں میں غلطی پر تھا ، درحقیقت درست طور پر مسلمان ہوں۔  

اگر یہ اجتماع نہیں ہوتا تو پانی کی وارہ بندی کا اصول مذہبی معاملات پر غالب دکھائی دیتا رہے گا اور میں اپنے باقی بھائیوں کو اعلانیہ بتا دوں گا میں اب تم میں سے نہیں ، میں مسلمان ”وارہ بندی “ہوں ، میرا راستہ صرف اور صرف خدائے واحد، اس کے محبوب آخری نبی ، اس کی کتاب کے سوا کوئی نہیں ، میں بزرگ ہستیوںکااحترام کرتا ہوں اور ان کی تکریم کے منافی امور کی نفی کرتا ہوں ، میرا مسلک ، فرقہ تم سے افضل ہے ، تم صحیح مسلمان نہیں ہو۔۔تم پیسے لے کر مرضی کی تقریریں کرتے ہو ، جس دین کا اعلان جس پہاڑ کے سامنے ہوا تھا تم اسے اسی پہاڑ تلے دبانے کی سازش کررہے ہو، میں تمہارا راستہ روکوں گا اور تمہارے سامنے قرآن ، اللہ کے محبوب کی تعلیمات و حیاتِ طیبہ پیش کروں گا ، غیر مسلم دنیا کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے محبوبِ خدا کے دستِ مبارک والا معاہدہ آئینے کے طور پر پیش کروں گا۔

 


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

احساس کا قتل