باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت

حسین حقانی
کالم نگار

1 month ago


عمران خان شہزادہ محمد کو اپنا حلیف نہیں سمجھتے

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دو شراکت دار ممالک کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ رنجش کو ختم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ریاض اور اسلام آباد کے مابین اختلافات اس وقت سامنے أئے تھے جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الٹی میٹم دیا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون

تنظیم کا اجلاس طلب کرے۔

پاکستان برسوں سے اقتصادی بیل آؤٹ اور غیر ہنر مند مزدوروں کے لئے ملازمتوں کہ جن سے ملنے والی ترسیلات زر پاکستان کے ادائیگیوں کے عدم توازن کے دیرینہ مسئلے سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں کے سلسلے میں سعودی عرب پر انحصار کرتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن اب ناراضی کی وجہ سے سعودی عرب قلیل المدتی قرضوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کررہا ہے

اور تیل کے معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں بھی گرم جوشی کا اظہار نہیں کر رہا جس کے تحت پاکستان کو رعایتی شرائط تیل مل رہا تھا۔

تعلقات میں تناؤ کم کرانے کے لئے جنرل باجوہ کی مداخلت اس احساس کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان سعودیوں کو چھوڑنے کا متحمل نہیں ہے۔ پھر قریشی نے کیوں سعودی مخالف بیان بازی کی جس پر قائم نہیں رہا جا سکتا تھا؟

اس بات کو سمجھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی حد سے بڑھی سادہ لوحی اور بہت سے پاکستانیوں کی خام خیالی کو سمجھنا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ بدلے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کی حیثیت مرکزی ہے۔

کئی دہائیوں سے خصوصاً 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے سٹرٹیجک امور سے متعلق ریٹائرڈ پاکستانی جرنیل اور سویلین لکھاری جنوبی اور وسطی ایشیا میں’’ نئی گریٹ گیم ‘‘ کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان کو خطے میں سیاسی محور بنا دے گی۔

یہ تصور برطانوی ماہر جغرافیہ ہالفورڈ میکندر کے نظریہ ہارٹ لینڈ سے لیا گیا جو 1904 میں پیش کیا گیا تھا جس وقت پاکستان کا وجود بھی نہیں تھا، امریکہ ابھی ایک سپر پاور نہیں بنا تھا اور ایئر پاور یا سیٹلائٹ اور سائبر ٹکنالوجیوں کے فوجی استعمال کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

افغانستان میں پاکستان کی نائن الیون سے قبل مداخلت، غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے طور پر جہادی عسکریت پسندوں کی حمایت اور چین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات پاکستان کے سٹریٹجک مقام کا فائدہ اٹھانے اور عالمی افق پر اسے ایک بڑا کھلاڑی بنانے کی عظیم حکمت عملی کے حصے کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔

بعض امریکی اسے بڑا سراب قرار دے کر مسترد کرتے ہیں خصوصاً نائن الیون کے بعد جب پاکستان کو ایک بار پھر امریکہ کا اتحادی بننے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کے معاشی مسائل اور بیرونی طاقتوں پر اس کے مستقل انحصار کے باوجود پاکستان کے ناگزیر ہونے کا نظریہ پاکستانیوں میں برقرار ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے جلد ہونے والے انخلا، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے امکان اور معاشی طور پرمضبوط چین سے وابستگی سمیت کئی عناصر نے مل کر اس نظریہ کو تقویت دی ہے کہ پاکستان عالمی انتظام میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پرابھرے گا۔

اس تناظر میں عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کے زوال اور چین کے عروج سے پاکستان کو فائدہ ہو گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی وجہ سے شاید پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس نے پاکستان اورچین کو مجبوری کےبندھن میں باندھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں بھارت دشمنی کی قدر مشترک ہے لیکن بھارت کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایک جارح اور آمریت پسند چین کے ساتھ جلد ہونے والی اپنی محاذ آرائی میں ایک حلیف سمجھتے ہیں۔

پاکستان کی ناگزیر سٹریٹجک اہمیت کا یقین رکھنے والوں کو امید ہے کہ افغانستان کے بعد امریکہ مشرق وسطی سے بھی آہستہ آہستہ نکل جائے گا۔ ان کے خیال میں اس کے بعد پاکستان مشرق وسطی سے چین کے رابطے کے طور پر کام کرے گا جس سے مشرق وسطی کے تیل کو نکالنے اور خلیج کے بحری جہازوں کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کو ٹھیکیدار کا کردار مل جائے گا۔

اس کے بعد پاکستان افغانستان پر بالادستی کے اپنے پرانے خوابوں کو پورا کر سکے گا، ہندوستان کےساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اپنی شرائط پر حل کر سکے گا اور مسلم دنیا کے قدرتی رہنما کا کردار ادا کر سکے گا اور واحد جوہری طاقت کے طور پراپنا صحیح مقام بنا سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کے حواریوں سمیت متعدد بااثر لوگوں نے اس طرح کی من گھڑت سوچ پر یقین کر رکھا ہے۔ پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ اور مستقل اسٹیبلشمنٹ میں ان کے اتحادی اس قسم کے تصورات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مزید مثبت قومی بیانیہ بنانے میں مدد ملے گی۔لیکن امیدوں اور حقیقت کے مابین پائے جانے والے فرق کو سمجھنے میں وہ شاید کچھ زیادہ ہی عملیت پسند ہیں۔

ان دنوں  پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز پر بیٹھ کر تجزیئے کرنے والے ماہرین کی اکثریت چین ،روس ، ایران اور پاکستان کےاتحاد میں اس ملک کے آئندہ اہم کردار کا خصوصی تذکرہ کرتے ہیں جس کا مقصود امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کو شکست دینا ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر نے  پانچ ممالک کے اتحاد کے بارے میں بات چیت کی حوصلہ افزائی کی اور اس متنوع گروہ میں تعاون کی راہ میں رکاوٹ بننے والے مختلف امور کو یکسر نظر انداز کر گئے۔

کوویڈ کے بعد کے نئے عالمی نظام کے بارے میں کسی پاکستانی اخبار میں ایسے مضامین کی اشاعت کوئی غیر معمولی بات نہیں جو پاکستانی اسلامی پسندوں کے خوابوں پر مبنی ہو گا۔

پاکستان میں اس قسم کی بیان بازی ترکی کے اسلام پسند صدر رجب طیب اردوان کے عثمانی دور کے احیا کی بڑ سے مختلف نہیں جو ترکی کی اس وقت کے کمزور معاشی حالت کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔

عمران خان اردوان کے بہت بڑے پرستار ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت کے مسائل کا حل پین اسلام ازم کو سمجھتے ہیں۔

پاکستان نے ایک طویل عرصے سے پین اسلام ازم کے راستے پر سفر شروع کیا ہوا ہے لیکن یہ اس قوم کے شناخت کے بحران سے نمٹنے کا ایک ذریعہ تھا جو صرف 73  سال پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس سے کچھ ہی عرصہ قبل ہی اس کا تصور کیا گیا تھا۔

زیادہ تر پاکستانی رہنما اسلامی اتحاد کی حدود کو سمجھتے تھے اور معاشی اور سلامتی وجوہات کی بنا پر مغرب سے اتحاد کرتے رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اپنی ہی بیان بازی پر یقین رکھتے ہیں ۔

 کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان نے پاکستانیوں سے ایک ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھنے کے لئے کہا جو غالباً عثمانی خاندان کے بانی عثمان کے والد کی زندگی پر مبنی ہے۔ ارطغرل کے بارے میں تاریخی ریکارڈ بہت کم ہے لیکن اس شو کے پروڈیوسروں اور کہانی لکھنے والوں نے چند خاکہ نما تاریخیحوالوں کو ایک 150 اقساط کے ڈرامے کی شکل دے دی۔

اس ڈرامے کے ہیرو کو ایک عظیم مسلمان جنگجو کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں پر قابو پانے کے ابتدائی مرحلے میں فاتح بن کر سامنے آتا ہے جس کو اردوان نے ایک بار جاری ہلال اور صلیب کے درمیان کشمکش قرار دیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اردوان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں جو ان سے بھی بڑھ کر سوچتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف اپنی لڑائیاں جیتنے کے علاوہ مغرب کو نیچا دکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

کسی کو عمران خان کے مغرب پسندی کے ظاہری حلیئے سے دھوکا کھاتے ہوئے بے وقوف نہیں بننا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا ان کی زبان کی لغزش تھی۔

یہ ایسے عالمی منظر نامے کی عکاسی ہے جسے پاکستانیوں میں بہت حمایت حاصل ہے۔ اس پس منظر میں عمران خان اور ان کے پیروکار سعودی عرب کے موجودہ رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی اسلام پسند نیو عثمانی خیالی دنیا جسے وہ چین کی مدد سے بنانے کی امید باندھے ہوئے ہیں کا حلیف نہیں سمجھتے۔

سعودی اب اسلام پسند اخوان المسلمون کی مخالفت کر رہے ہیں ، ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں  اور اسرائیل بلا سوچے سمجھے مخالفت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

یہ بات عمران خان کو اتنا ہی پریشان کرتی ہے جتنا اس سے اردوان ناراض ہوتے ہیں۔

پاکستان کی لین دین کی ضروریات کی وجہ سے خان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہیں بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی کے لئے عارضی طور پر اپنا امریکی مخالف لبادہ اتار دیا تھا۔لیکن ان  کے بیشتر حامیوں کی طرح خود ان کے اپنے دل میں ایک ایسے عالمی نظام کی خواہش ہے جس میں چین دنیا پر بالادستی رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر پھلتا پھولتا رہنے دیتا ہو۔

چین کے ایغوروں  کی حالت دیکھ کر پاکستان کے أرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر جہاد کرنے والے جہادیوں کو چین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برداشت کے متعلق کم از کم ایک دو باتیں سمجھ أ ہی گئی ہوں گی۔  

لیکن ابھی تک  خان کی آنکھیں بند ہیں اور وزیر خارجہکی شان و شوکت عروج پر ہے۔ دریں اثنا حقیقت کا تقاضا ہے کہ جنرل باجوہ نقصان کو کنٹرول کرنے کے مشنوں میں اسی طرح مصروف رہیں جس طرح وہ ریاض جا رہے ہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم
کورونااورمعیشت
مہنگے چینی منصوبے

امریکہ طالبان معاہدہ افغانستان میں امن نہیں لاسکتا

6 months ago


امن معاہدے پرامریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی کامضمون

<p>امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معاہدے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے لیکن اس کے ذریعے افغانستان میں امن آنے کا امکان نہیں ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے تشدد میں کمی جس نے اس معاہدے کو ایک ” امن معاہدے “ کے طور پر پیش کرنے کے لئے بنیاد مہیا کی تھی وہ پہلے ہی ملک بھر میں طالبان کے نئے حملوں کے باعث ختم ہو چکا ہے۔</p><p>اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ” لامتناہی جنگوں “ کے خاتمے کے اپنے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ افغانستان میں ان بین الاقوامی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے گیا تھا جنہوں نے امریکہ پر حملہ کیا تھا۔ اب جب کہ القاعدہ کا خطرہ کم ہوچکا ہے اور امریکہ نے خود کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے دیگر ذرائع تیار کرلیے ہیں تو افغانستان میں مزید خون اور خزانے کو کیوں ضائع کیا جائے؟</p><p>تاہم یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ آیا طالبان افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں یا افراد کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔ دوحہ معاہدے میں طالبان کی طرف سے دی جانے والی یہ واحد بڑی رعایت تھی۔ &nbsp;</p><p>طالبان اپنے طور پر خود کو ایک سپر پاور کے خلاف فاتح فریق سمجھتے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام پسند عسکریت پسند بھی افغانستان کے نتیجہ کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔</p><p>امریکیوں کے آنے سے پہلے مطلق العنان نظریاتی گروہ کی حیثیت سے طالبان، افغان عوام کو اذیت دے رہے تھے۔ وہ امریکی فوج کے انخلا کو اپنی اسی امارت کی بحالی کے امکان کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کی مدد سے قائم کی تھی۔</p><p>طالبان کے ذہنوں میں ان کی امارت اب بھی وجود رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان کے معاہدے کے دوران ، ’اسلامی امارت اسلامیہ افغانستان کے متعدد حوالہ جات موجود ہیں جنھیں امریکہ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا لیکن طالبان اسے ریاست سمجھتے ہیں۔</p><p>معاہدے کے پارٹ ٹو کی شق 5 میں کہا گیا ہے کہ امارت / طالبان "ان لوگوں کو جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ ہیں کو افغانستان میں داخلے کے لئے ویزا ، پاسپورٹ ، سفری اجازت نامہ ، یا دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کریں گے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ یہ کام صرف حکومتیں انجام دیتی ہیں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ امارت کو کسی دن امریکہ جائز تسلیم کر سکتا ہے۔</p><p>یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ امن معاہدے کےلئے کچھ لو اور کچھ دو کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی فریق کو خوش کرنے والے الفاظ سفارتی مذاکرات کا لازمی حصہ ہوتے ہیں لیکن 'افغانستان میں امن لانے کےلئے معاہدہ' کے عنوان سے دستاویز پرٹیلیویژن سکرینوں کے سامنے دستخط کرنے کی تقریب کے انعقاد کے لئے لگتا ہے کہ یہ بات سرے سے ہی نظرانداز کر دی گئی کہ اس مبہم منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا۔</p><p>مثال کے طور پر دوحہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے "پانچ ہزار (5000) قیدیوں" کو انٹرا افغان مذاکرات سے پہلے"10 مارچ ، 2020 تک رہا کیا جائے گا ۔ لیکن یہ وعدہ افغان حکومت کے پیشگی ا تفاق رائے کے بغیر کیا گیا ہے جس کے پاس حقیقت میں قیدی موجود ہیں۔</p><p>اسلامی جمہوریہ افغانستان کے طور پر تسلیم شدہ کابل حکومت کے متوازی مشترکہ اعلامیے میں قیدیوں کے موضوع کو مختلف انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں صرف "امریکی سہولت کاری کے تحت طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات پر گفتگو کے بارے میں بات کی گئی ہے تاکہ دونوں طرف سے معقول تعداد میں قیدیوں کو رہا کرنے کے امکان کا تعین کیا جاسکے۔</p><p>معاہدے کے اندر ایسی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ کس طرح اس سے منحرف ہوا جا سکتا ہے جس طرح یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اس پر دستخط ہی کیوں کیے گئے تھے۔</p><p>امریکہ میں عمومی طور پر یہ جذبات پائے جاتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا تھا یا اس سے بھی آگے یہ کہا جاتا ہے کہ جنگ ہاری جا چکی ہے اور یہ کہ"افغانستان اب امریکہ کو درپیش سب سے زیادہ ضروری یا اہم قومی سلامتی کا چیلنج نہیں ہے"۔ امریکی عوام یا ان کے کچھ رہنماو¿ں میں انتظار اور تاریخ کے شعور کی خوبیاں زیادہ تر امریکیوں میں نہیں پائی جاتیں۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ یہ نیا معاہدہ ویتنام میں امن کی بحالی کےلئے 27 جنوری 1973 کو پیرس میں ہونے والے 67 صفحات پر مشتمل جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی طرز پر کیا گیا ہے جس میں ’انڈوچائنا‘ میں امریکی فوجی مداخلت کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے دو سال بعد ، 1975 میں ، اس معاہدے کے دستخط کرنے والوں میں سے ایک ، جنوبی ویت نام کی عبوری انقلابی حکومت (ویت کانگ) نے اس معاہدے کے ایک اور دستخط کنندہ ، کمیونسٹ ڈیموکریٹک جمہوریہ ویتنام کی مدد سے ، امریکہ کے حمایت یافتہ جنوبی ویتنام کو زیر کر لیا تھا۔</p><p>اس میں کئی نمایاں چیزیں مختلف ہیں تازہ ترین دستاویز ضخامت کے اعتبار سے ہی نہیں ، جو صرف چار ٹائپ شدہ صفحات پر مشتمل ہے۔ شمالی ویتنام کے پیرس امن معاہدے پر دستخط کرنے کے برعکس ، طالبان کے اصل حمایتی پاکستان کے اس معاہدے پر دستخط نہیں ہیں۔</p><p>مزید برآں پیرس معاہدے پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ولیم پیئرس روجرز نے ہنری کسنجر کے ذریعہ مذاکرات کے بعد دستخط کیے تھے جبکہ موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دوحہ معاہدے پر اس کے مذاکرات کار زلمے خلیل زاد سے دستخط کرائے۔ اگر یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ اس کا سہرا اپنے سر باندھے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو خلیل زادکو اس کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔</p><p>افغانستان جنوبی ویتنام نہیں ہے۔ افغان قوم دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو امریکی تعاون سے یا اس کے بغیر بھی طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مقابلہ کرے گی۔ بہت سارے امریکی رہنما خاص طور پر فوج اور انٹیلیجنس کمیونٹی میں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا آسان ویتنام سے بھاگنا تھا۔</p>



بلیک لسٹ سے گرے لسٹ بہتر ہے

6 months ago


پاکستان کو مستقل اقدامات کی ضرورت ہے

<p>فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کا مقصد ممالک کو دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں &nbsp;کی تعمیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ کوئی بھی ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ شامل ہونا نہیں چاہتا &nbsp;جس میں پابندیاں عائد ہوتی ہیں &nbsp;جن کے باعث عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کم ہوجاتی ہے۔</p><p>گرے لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک دہشت گرد گروہوں &nbsp;کی فنڈز تک رسائی کو مکمل طور پر بند کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان جو گزشتہ عشرے میں کم از کم تین بار گرے لسٹ میں شامل ہو چکا ہے لگتا ہے کہ محض اتنے ہی اقدامات کر تا ہے تاکہ بلیک لسٹ سے بچ سکے۔ جب ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں جون 2020 تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی مدت میں توسیع کی گئی تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ بھارت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے میں ناکام ہو گیا۔</p><p>پاکستان کو گرے لسٹ میں برقراررکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی فہرست میں شامل دہشت گرد گروپوں جن میں طالبان ، القاعدہ ، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کی مالی اعانت کو مکمل طور پر بند کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ عالمی برادری پاکستان سے ان رہنماؤں کی فنڈز تک غیر قانونی رسائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور دہشت گرد گروہوں سے متعلق قوانین اور بینکاری سیکیورٹی ضوابط کو سخت کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔</p><p>لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ بیشتر بڑے ممالک پاکستان پر وہ سخت بینکاری اور بین الاقوامی مالیات کی پابندیاں عائد کرنے سے گریزاں ہیں جو اس وقت صرف ایران اور شمالی کوریا پر ہی لاگو ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کو لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف مکمل پابندیاں عائد کر کے اسے مجبور کئے جانے کی بجائے مانیٹرنگ اور دباؤکے ذریعے پاکستان سے مزید تعاون کے زیادہ امکانات ہیں۔ دوسرے ممالک جیسے ترکی ، سعودی عرب ، اور متحدہ عرب امارات ہیں وہ اپنے مسلمان پاکستانی بھائیوں پر مالی پابندیوں کے اثرات سے پریشان ہوتے ہیں۔اس وقت گرے لسٹ میں 12 ممالک شامل ہیں اور اسے باضابطہ طور پر نگرانی کا ذریعہ قرار دیا جانا ایک الگ معاملہ ہے۔اس میں شامل ممالک کے دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ روکنے کے &nbsp;لئے ان کےاقدامات کا مستقل جائزہ لیا جاتا ہے۔</p><p>مثالی صورتحال تو ہوتی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کرتاکیونکہ اس کے باعث ایسے مطالبات سامنے آتے ہیں کہ وہ ان جہادی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جن کو پاکستان کم از کم تین دہائیوں سے حمایت اور حفاظت کر رہا ہے۔ لیکن گرے لسٹ بلیک لسٹ سے بہتر ہے خاص طور پر جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا فوری طور کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ جہاد کو مکمل طور پر بند کردے ۔</p><p>چونکہ کسی ملک کو ہمیشہ کے لئے گرے لسٹ میں رکھنا مشکل ہے لہذا اس بات کا ایک قوی امکان ہے کہ پاکستان ایک مناسب وقفے اور سطحی قسم کے متعدد اقدامات کے بعد اس لسٹ سے نکل جائے۔</p><p>اس طرح پاکستان دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق عالمی برادری کے ساتھ چوہے بلی کاکھیل کھیلتا رہتا ہے۔ 1992 میں جب امریکیوں نے ہندوستان کو نشانہ بنانے والے جہادی گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی پرورش کرنے پرپہلی بار انتباہ کیا تھا تب سے یہ دباؤ کا مقابلہ کرنے میں بہت طاق ہو گیا ہے ۔ حرکت الانصار نامی ایک گروپ کے ہاتھوں ایک امریکی سیاح کے اغوا کے بعد پاکستان نے اس گروہ پر پابندی عائد کردی اور وہی گروپ بعد میں حرکت المجاہدین کے نام سے منظر عام پر آ گیا۔ تب سے اب تک یہی ایک معروف طریقہ چل رہا ہے۔ پاکستانی عہدیدار جہادی گروہوں کو مستقل طور پر بند کیے بغیر فوری دباؤ سے بچنے کے لئے ضروری چند ایک اقدامات کرتے ہیں۔ پاکستانی اہلکار مالی پابندیوں کے خوف پرسنجیدگی سے غور کرتے ہیں لیکن اس کے تحت بھی صرف اس قدر ہی اقدامات کئے جاتے ہیں جن سے وقتی طور پر قانونی اور تکنیکی ضروریات پوری ہوتی ہوں۔</p><p>پاکستان بین الاقوامی دباؤسے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے ایک قدم آگے بڑھاتا ہے ، اور دباؤ ختم ہونے کے بعد دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے اور دباوؤ دوبارہ شروع ہونے پر ایک قدم پھر آگے بڑھتا ہے۔ آخر میں انتہائی مہارت سے تیار کردہ ہتھکنڈے ملک کو اسی جگہ پر لا کھڑا کرتے ہیں۔</p><p>یو این ایس سی کی قرارداد 1267 جس کے تحت تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قرار داد میں شامل افراد اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کریں ،پاکستان نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ۔ اس لسٹ میں لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور ان کے ’اسلامی خیراتی ادارے ،’ داؤد ابراہیم ، جیش محمد اور اس کے رہنما مولانا مسعود اظہر شامل ہیں۔</p><p>افغان طالبان اور سراج حقانی نیٹ ورک بھی برسوں سے اس فہرست میں شامل تھے لیکن افغانستان &nbsp;سے انخلا کی کوشش میں امریکہ کی جانب سے ان سے مذاکرات کے لئے آمادگی کے پیش نظر ان کی حیثیت تبدیل ہونے والی ہے۔ سیاسی مجبوریاں واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ &nbsp;ین الاقوامی اتفاق رائے ختم کررہی ہیں۔</p><p>ایف اے ٹی ایف جیسا کثیرالجہتی ادارہ بھی اپنے رکن ممالک کی سیاسی مجبوریوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اسے اپنے تکنیکی تعمیل کے اعلی معیار ات پر عملدرآمد پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ یہ کسی ملک یا حکومت کے ارادوں کا جائزہ لینے اور کئی سالوں کے پچھلے ریکارڈ کی بنیاد پر کام نہیں کرتا ہے۔</p><p>سن دو ہزار آٹھ میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دیاجس میں منی لانڈرنگ کے بہت زیادہ خطرات تھے اور وہ دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق بین الاقوامی قوانین کو نافذ کرنے میں عدم تعاون کا مظاہرہ کررہا تھا ۔ لیکن اس وقت صرف چند تکنیکی اقدامات کے بعد ہی پاکستان کو چھوڑ دیا گیا۔</p><p>سن دو ہزار بارہ &nbsp;میں پاکستان کے طرز عمل پر ایک بار پھر سوال اٹھایا گیا تھا اور اسے گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا تھا جہاں پاکستان سن دو ہزار پندرہ تک رہا۔ اس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق معاملات میں مثبت تبدیلی آنے کے بعد ملک کو گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔</p><p>اس بار پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر عمل پیرا ہونے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ آگے بڑ ھ کر اقدامات کئے ہیں ۔ اس کی ممکنہ وجہ ہندو ستان ، فرانس اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ تھا۔ پاکستان نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی اعانت کے چند جرائم کا &nbsp;مجرم قرار دیا ہے لیکن ممبئی حملوں یا ان کی طرف سے کئے گئے دوسرے حملوں میں انہیں سزا نہیں دی گئی۔ایک بار جب پاکستان پھر گرے لسٹ میں سے نکل جائے اور بلیک لسٹ کا خطر ٹل جائے تو اس سزا کو با آسانی ختم کیا جاسکتا ہے۔</p>



مکالمہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

6 months ago


امریکیوں کی خوشامد میں بھارتی پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے

<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ&nbsp; بھارت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے &nbsp; ہندوستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے اس عمل کا&nbsp; نتیجہ ہے جس کا آغاز کرتے ہوئے اس وقت کے&nbsp; امریکی صدر براک اوباما نے اسے اکیسویں صدی کی&nbsp; فیصلہ کن شراکت داری قرار دیا تھا۔</p><p>اس عمل کا آغاز دو دہائی قبل ہوا تھا&nbsp; لیکن اس کے لئے نئے غیر معمولی اظہار کی ضرورت تھی جیسا کہ کچھ لوگوں نے ٹرمپ کے&nbsp; دورہ کے بارے میں ایسا کہا بھی ہے۔ اس کی ضرورت اس لئے تھی تاکہ پہلے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پیدا ہونے والی کئی نفسیاتی&nbsp; رکاوٹوں کو ہٹایا جا سکے۔</p><p>سرکاری طور پر برصغیر کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے دسمبر 1959 کے&nbsp; دورہ کے دوران نظر آنے والے تحفظات کے بالکل برعکس فروری 2020 میں صدر ٹرمپ کی تعریف میں ہندوستان رطب اللسان تھا۔</p><p>&nbsp; اگرچہ صدر آئزن ہاور کے عوامی جلسہ سے خطاب سننے کے لئے لاکھوں ہندوستانی دہلی کے راملیلا میدان میں آئے تھے&nbsp; &nbsp; لیکن پاکستان کے ساتھ اس وقت بڑھتے ہوئے امریکی اتحاد کی وجہ سے بھارت کو کم تر سمجھا جاتا تھا۔</p><p>آئزن ہاور نے اگرچہ پاکستان ، افغانستان اوربھارت کا سفر کیا لیکن انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ&nbsp; بنیادی طور پر بھارت کی کشش تھی کہ جس نے انہیں اس خطے کی طرف راغب کیا تھا۔</p><p>اس وقت بھارت کے چین کے ساتھ تعلقات خراب ہونا شروع ہوگئے تھے اور غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کے برعکس ہندوستان نے دلائی لامہ کے حامیوں کی قیادت میں تبتی بغاوت کی حمایت کے لئے امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔</p><p>اسی سفر کے دوران دونوں ممالک کا دورہ کرکے&nbsp; آئزن ہاور نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔ انہیں توقع تھی کہ وہ دونوں ممالک کو کمیونزم کی راہ میں بند باندھنے کے لئے امریکہ کے شراکت دار بننے کے لئے راضی کرسکتے ہیں۔</p><p>ٹرمپ نے دورہ بھارت کے دوران پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں بہتری کا ذکر کیا جو امریکہ کے اس مسلسل اعتقاد کا اظہار ہے کہ امریکہ دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p><p>لیکن ٹرمپ نے ابھی تک پاکستان جانے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا، بھارت پاکستان کو دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں&nbsp; کا سرپرست&nbsp; سمجھتا ہے۔ احمد آباد کے موتیرا اسٹیڈیم میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ دہشت گردوں اور ان کے نظریات سے لڑنے کے لئے پرعزم ہیں۔</p><p>انہوں نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوششوں کو "انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں کے خطرات کے خلاف" لڑنے سے&nbsp; منسلک کیا۔ انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ "میری انتظامیہ پاکستان کے ساتھ کام کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔"</p><p>&nbsp; ان کی رجائیت پسندی اگر انہیں کبھی پاکستان&nbsp; لے گئی تو ٹرمپ کو پتہ چل جائے گا کہ پاکستانی ان کی اور امریکہ کی&nbsp; خوشامد میں بھارت کو پیچھے چھوڑنے کی پوری کوشش کریں گے۔</p><p>آئزن ہاور کی 1959 میں کراچی آمد پر محمد ایوب خان اور ان کی انتظامیہ نے بھی اس بات پر یقین دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ پاکستان امریکہ کا قابل اعتماد حلیف ہے۔</p><p>مہمان نوازی لاجواب تھی۔ امریکی صدر کے دورے کے موقع پر اس شہر کو جھنڈیوں سے سجایا گیا اور رات کو روشن کیا گیا تھا۔ ایوان صدر میں ایک میوزیکل فاؤنٹین بنایا گیا تھا جہاں انہوں نے قیام کرنا تھا۔</p><p>&nbsp;&nbsp; &nbsp; ساڑھے سات لاکھ پاکستانی کراچی ہوائی اڈے سے لے کر شہر کے مرکز تک 25 کلومیٹر طویل سڑکوں پر قطاریں بنا کر کھڑے تھے اور پرچم لہرا رہے تھے جہاں سے ایوب اور آئزن ہاور&nbsp; گزرے تھے۔</p><p>آخری میل صدر أئزن ہاور، ایوب خان کی سرکاری رہائش گاہ&nbsp; تک ایک کھلی&nbsp; گھوڑا گاڑی میں سوار ہوئے&nbsp; جس میں ان کے چاروں طرف&nbsp; لوگ خیرمقدمی نعرے لگا رہے تھے۔ امریکی صدر خوش ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔</p><p>لیکن 60 سال پہلے دونوں صدور کے مابین ہونے والی گفتگو کے نوٹس سے یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر اب بھی وہیں کھڑا ہے جہاں اس وقت کھڑا تھا اور اس میں امریکیوں کے لئے ایٹمی ہتھیاروں اور دہشت گردی کے متعلق خدشات کا مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔</p><p>آئزن ہاور نے پاکستانیوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی فوجی تیاریاں عقلی تقاضوں کے مطابق رکھیں اور انہیں بتایا گیا کہ یہ پاکستان کے ساتھ موروثی ہندوستانی دشمنی کے خاتمے تک نہیں ہوسکتا۔</p><p>ایوب خان نے کمیونسٹ خطرے سے نمٹنے کے لئے ایف 104 طیارے ، راڈار کے سازوسامان ، طیارہ شکن توپیں ، نائک ایجیکس میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے سائیڈونڈر میزائلوں کا مطالبہ کیا حالانکہ امریکی عہدیداروں پر یہ واضح تھا کہ پاکستانی کن کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں۔</p><p>پاکستان کے فوجی رہنما اب بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کی قربت کو اس پیمانے سے ناپتے ہیں کہ وہ امریکیوں سے کتنی فوجی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔</p><p>اس کے علاوہ ایوب خان نے آئزن ہاور سے اپنی ملاقات میں کشمیر پر امریکی ثالثی کا مطالبہ کیا جس طرح عمران خان ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں کر رہے ہیں۔</p><p>ایوب نے ملفوف انداز میں یہ بھی درخواست کی کہ پاکستان کو افغانستان کے موثر محافظ کی حیثیت سے دیکھا جائے اور یہ آج تک پاکستان کی پالیسی کا بنیادی ستون بنا ہوا ہے۔</p><p>آئزن ہاور نے ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو بتایا تھا کہ ان کا تاثر ہے کہ”جنرل ایوب خلوص نیت کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ امن سے رہنے کی خواہش رکھتے ہیں اور وہ ان مسائل کا حل چاہتے ہیں جو دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو متاثر کررہے ہیں۔" ٹرمپ کی طرح&nbsp; انہوں نے بھی " ہر ممکن مدد کی پیش کش کی جو اس مقصد کے حصول میں معاون ہو۔”</p><p>توازن برقرار رکھنے کی خواہش اگرچہ واشنگٹن کے کچھ گوشوں میں اب بھی زندہ ہوسکتی ہے لیکن دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے جو اب ہندوستان اور امریکہ کی شراکت کو آگے بڑھا رہا ہے۔</p><p>چین کے عروج کو محدود کرنے خاص طور پر بحر ہند اور بحرالکاہل میں محدود کرنے کی امریکی مجبوری ، بھارت کو ایک اہم شراکت دار بنا دیتی ہے۔ ہندوستان امریکہ دوطرفہ تجارت&nbsp; 150 ارب ڈالر ہے اور آنے والے سالوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔</p><p>بھارت اور امریکہ کے مشترکہ فوجی خدشات کا مرکز پاکستان نہیں چین ہوگا۔ امریکہ جلد ہی بھارت کو 3 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان فروخت کرے گا جبکہ پاکستان مہنگے سسٹم خریدنے سے قاصر ہے کیونکہ اب اسے امریکی اتحادی کی حیثیت سے ملنے والی غیر ملکی ملٹری فنڈنگ (ایف ایم ایف) نہیں مل رہی ہے۔ اور ہندوستان ابھی تک اس معاملے میں محتاط رہا ہے کہ شراکت داری، محتاجی میں تبدیل نہ ہونے پائے۔</p><p>امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا اور اسے برقرار رکھنا بھی چاہئے لیکن اب تعلقات نے اپنی اولیت کو کھو دیا ہے۔ اگر افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا کام ہوجاتا ہے تو&nbsp; ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں ان کی انتظامیہ سے یہ توقع نہیں کی جا سکے گی کہ وہ پاکستان پر اتنا وقت اور توانائی خرچ کرے جتنا آئزن ہاور انتظامیہ نے پاکستان پر خرچ کیا تھا۔</p><p>1959 کے برعکس ، امریکہ کو سوویت یونین پر سی آئی اے کے یو 2 اڑانے کے لئے پاکستان میں خفیہ اڈوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے رہنما اس مکالمے کو تبدیل کریں جو اس وقت سے برقرار ہے۔</p>