قیادت کو وبائوں کی تاریخ پڑھاناپڑے گی

اسلم ڈوگر
چیف نیوزایڈیٹر

1 month ago


عالمی جنگوں کی تاریخ،بھارتی جارحانہ رویہ عوام کاپیٹ نہیں بھرتا

اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران ایک جاپانی ڈاکٹر سے تعارف ہوا۔ یہ غالباً 2005 کی بات ہے۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر نے ماسک پہنا ہوا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں کسی قسم کی الرجی ہے یا کوئی بیماری ہے تو انہوں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں وہ محض حفاظتی طور پر ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی تو میں نے ان سے بحث شروع کر دی۔ بحث کے دوران انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ وبا کے بارے میں میرا علم بالکل بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے ای میل ایڈریس پوچھ کر محفوظ کر لیا اور دوسرے دن سپینش فلو کے بارے میں ایک دستاویز بھیجی۔ اس دستاویز کو پڑھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ہونے والی کل ہلاکتوں کو ملا کر بھی سپیشن فلو کے باعث زیادہ انسانی جانی نقصان ہوا تھا۔ بعد میں ہونے والی چند ایک ملاقاتوں کے دوران ان ڈاکٹر صاحب نے مجھے مزید وبائوں کے بارے میں بتایا اور مجھے اس بات پر شرمندگی ہوتی تھی کہ یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مجھے انسانیت پر گزرنے والے ان عظیم سانحات کا علم تک نہیں تھااور تو اور برصغیر میں سپینش فلو سے ہونے والی اندازہً ڈیڑھ سے دو کروڑ ہلاکتوں کا بھی علم نہیں تھا اور نہ ہی چار مختلف لہروں میں آنے والی ہیضے کی وبا کا علم تھا جس نے برصغیر کو تقریباً نصف صدی بیمار کئے رکھا اور ان میں کئی لاکھ انسان ہلاک ہو گئے۔  

جاپانی ڈاکٹر جب بھی ملتے وہ صحت عامہ کے بارے میں ضرور پوچھتے اور لوگوں کی عمومی صحت کا اندازہ لگانے کے لئے میرے خاندان کے ہر فرد کی صحت کے بارے میں فرداً فرداً پوچھتے تھے۔ میری صحت عامہ کے بارے میں تعلیم تھی اور نہ ہی تربیت تھی نہ میں نے اس سلسلے میں کبھی زیادہ دلچسپی لی تھی۔ مجھے البتہ یہ ضرور علم تھا کہ فلاں پیر کے دم سے فلاں بیماری ختم ہو جاتی ہے اور فلاں چِلّے سے فلاں مشکل دور ہو جاتی ہے۔ حالانکہ یہ علوم میرے نصاب کا حصہ نہیں تھے مگر سکولوں میں اساتذہ مساجد میں مولوی حضرات اور پھر ان علوم سے متاثر ماہرین جو اپنے اخباری کالموں میں اپنا علم ہم تک پہنچاتے تھے۔ مجھے اگر سارے کے سارے علم پر یقین نہیں بھی تھا تو اس میں سے بہت سے کو میں کسی حد تک موثر ضرور سمجھتا تھا ۔ اس دوران ایک بار امریکہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک صاحب نے مجھے رات کے کھانے پر اپنے گھر بلایا۔ کھانے کے بعد گفتگو گھومتی پھرتی صحت عامہ کے موضوع پر آ گئی۔ حیرت انگیز طور پر امریکیوں کو پورے اعداد و شمار کے ساتھ برصغیر میں وبائوں کے بارے میں علم تھا اور وہ کسی ممکنہ نئی وبا سے اسی طرح محتاط تھے جیسے جاپانی ڈاکٹر صاحب تھے۔ ایک بار پھر میرے لئے یہ دلچسپی کا موضوع نہ ہونے کی وجہ سے میں نے جلدی میں موضوع بدل دیا۔  

ہمیں صحت عامہ کے بارے میں تعلیم اور تربیت دینے کا ذمہ دار کون ہے؟ ہمیں قائد اعظم کے لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس کے میز کے کونوں کے بارے تو پڑھایاجاتاہے مگر خود قائد اعظم کے شہر بمبئے اور کلکتہ میں پھیلنے والی وبائوں کے بارے میں سارے پاکستانی عمومی طور پر لاعلم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب انہیں کرونا ایک انہونی شے اور سازش معلوم ہو رہی ہے۔ کوئی اسے امریکہ کوئی چین کی سازش کہہ رہا ہے اور کوئی ہماری اپنی حکومت کی سازش کہہ رہا ہے جو اموات کو عالمی بینک سے پیسے لینے کے لئے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔  

اس وبا کے بارے میں خود وزیر اعظم کا علم بھی میری طرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ کبھی اسے معمولی فلو کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ بس کمزور متاثر ہوں گے اور مضبوط جسم رکھنے والوں کو تو پتہ بھی نہیں چلے۔ اسی لئے انہوں نے اس وبا کو سنجیدہ نہیں لیا اور محض مذاق سمجھا۔  

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کرونا کی وبا کی دوسری لہر آ سکتی ہے وہ برصغیر میں پھیلنے والی ہیضے کی وبا کی چار لہروں کو سامنے رکھ کر کہہ رہے ہیں۔ برصغیر میں 1817 سے لے کر 1875 تک ہیضے کی وبا کی چار لہریں آئیں جن سے لاکھوں لوگ مارے گئے اور کروڑوں موت کے منہ سے واپس آئے۔  

یہ محض اتفاق ہی ہے کہ پاکستان میں جو قیادت اس وقت فیصلے کر رہی ہے تقریباً اسی قسم کی ذہنیت کی حامل قیادت امریکہ کے مقدر کے فیصلے کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہنا مشکل ہو رہا تھا کہ صرف پاکستانی قیادت کرونا وبا پر قابو پانے میں غیر سنجیدہ ہے۔ اب تو دنیا کی مختلف تنظیموں نے پاکستانی قیادت کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے کہ اس کے اقدامات بیماری کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے عید پر شاپنگ سنٹرز کھولنے کا حکم دیا تھا اور اب بیماری کے پھیلائو کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔  

بنیادی طور پر ساری قیادت کو بٹھاکر چند ایک گھنٹے وبائوں کی تاریخ پڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں علم ہو سکے کہ دو عالمی جنگیں ہمیں بہت پڑھائی جاتی ہیں۔ بھارت کا جارحانہ رویہ ہمارے میڈیا کا دن رات کا چارہ ہے مگر اس وقت سب سے زیادہ جانی نقصان وبا سے ہو رہا ہے اور اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر اس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔  


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

جہنم میں جائیں
جہنم میں جائیں
جہنم میں جائیں

کورونااورارطغرل

3 months ago


18ویں ترمیم سے نجات کیلئےچلاکشی

<p>پرانے وقتوں میں صوفیا، اولیا، جوگی، سادھو، سنت، فقیر اور بعض معاملوں میں درویشوں نے چلّے کاٹے اور ان مسائل کا حل پیش کیا جو عام لوگ سمجھنے سے قاصر تھے۔ &nbsp;</p><p>چِلّا کشی کو مذاہب کے پیروکاروں نے صرف مذہبی مسائل تک ہی محدود کر دیا حالانکہ اس طریقے سے دنیاوی مسائل بھی حل کئے گئے۔ اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ صوفیا ،اولیا اور دوسرے درویشوں نے مذہبی پیرائے میں ہی اپنی دانش کا اظہار کیا ۔ &nbsp;</p><p>کرونا کے زبردستی مسلط کردہ چِلّا نے پوری دنیا کے لوگوں کو اپنے ذاتی مسائل اور مواقع کے علاوہ اجتماعی امور پر غور کا موقع دیا ہے۔ &nbsp;</p><p>کرونیائی چِلّا کے دوران پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت رسا دماغ اور اچھی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ مثلاً باوجوہ ڈاکٹرائن میں جس اٹھارہویں ترمیم کو ملک کےلئے مجیب کے چھ نکات سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا تھا اسے ختم کرنے کا عزم موجودہ حکومت کی طرف سے سامنے آ گیا ہے۔ &nbsp;</p><p>اس کرونا کے بحران کے دوران یہ بھی واضح ہو کر سامنے آیا ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان کا سب سے فوری حل طلب مسئلہ قادیانی فتنہ ہے اس لئے اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ ساتھ اس فتنے کی بیخ کنی اولین ترجیح قرار پائی ہے۔ &nbsp;</p><p>کیونکہ چِلّے کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ے کہ ملک میں سب کام ٹھیک چل رہے ہیں مگر ان کی تشہیر اور ابلاغ ٹھیک سے نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس لئے اچھا ہوا کہ مناسب وقت پر وزارت اطلاعات ماہر ہاتھوں میں دے دی گئی ہے۔ &nbsp;</p><p>پاکستان کے صفِ اوّل کے شاعر احمد فراز کے فرزندِ ارجمند شبلی فراز نے وزارت اطلاعات کا نمائشی عہدہ سنبھالتے ہی فرمایا ہے کہ صوبائیت کو بھلا کر ہمیں ایک قوم بننا ہو گا۔ &nbsp;</p><p>شبلی صاحب کی یاد دہانی کے لئے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ باوجوہ ڈاکٹرائن کا اہم نکتہ ہے اور یہ ترمیم صوبوں سے ہی متعلق ہے۔ &nbsp;</p><p>میں خود بھی اس دوران جزوی چِلّا کشی کرتا رہا ہوں اس لئے اس جسارت کے اہل نہ ہونے کے باوجود یہ تجویز پیش کر رہا ہوں کہ صوبوں کا ٹنٹنا مکا دینا چاہئے۔ ایوب خان کی طرح ہمیں ون یونٹ کی طرف لوٹنا چاہئے تاکہ صوبائیت کا خاتمہ ہو۔ &nbsp;</p><p>صوبوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ صوبائی اور علاقائی زبانوں پر بھی پابندی لگا دی جائے اور ایک سرکاری زبان اردو نافذ کی جائے جو برصغیر کے مسلمانوں کی زبان ہے۔ &nbsp;</p><p>علاقائی زبانوں کی جگہ عربی کو دوسری قومی زبان کے طور پر لاگو کیا جائے اس سے ہمیں ثواب ملے گا اور خلیجی ممالک میں نوکریاں بھی ملیں گی۔ &nbsp;</p><p>انگریزی فرنگی کی زبان ہے بحالت مجبوری اسے بھی سیکھا جا سکتے ہے اور ویسے بھی فرنگی انکل سام بن کر بہت سے مواقع پر پاکستان کے کام آیا ہے۔ &nbsp;</p><p>فارسی زبان کو کسی صورت پاکستانیوں کے کانوں میں نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ اس سے ایران اور افغانستان کے لوگوں کے ساتھ پاکستانی عوام کے تعلقات پیدا ہو جائیں اور یہ قومی سلامتی کے لیے بالکل ویسے ہی خطرات پیدا کر دیں گے جیسے پنجابی زبان سے مسلمانوں اورسکھوں کی قربت کی صورت میں پیدا ہوئے تھے۔ &nbsp;</p><p>سیاسی نظام میں فوری طور پر اصلاحات درکار ہیں اور پاکستان کے کامیاب صدارتی نظام کو واپس لایا جائے۔ پاکستان میں ایوب، یحیٰ، ضیا اور مشرف کے ادوار میں معاشی ترقی ہوئی۔ بعض نادان یہ کہتے ہیں کہ وہ ترقی غیر ملکی امداد کی وجہ سے ہوتی رہی اور اس ترقی کے عوض پاکستان کو نقصانات بھی اٹھانا پڑے۔ ترقی کے مقابلے میں نقصانات زیادہ معنیٰ نہیں رکھتے۔ چند دریا بھارت کو دینے ، چند فوجی اڈے اور چند افراد کو امریکہ کے حوالے کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں دوبارہ صدارتی نظام کی طرف لوٹنا چاہئے ۔ &nbsp;</p><p>تعلیم کے شعبے میں ہمارے ادارے پہلے ہی اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ ایک معمولی تبدیلی مطالعہ پاکستان میں کرنے کی ضرورت ہے اور صرف نسیم حجازی کا ترک متبادل ارطغرل قسم کا ماڈل بھی شامل کر لیا جائے۔ &nbsp;</p><p>ہمیں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو ایک اعلیٰ ترین عہدہ دے کر تقاریر کے لئے رکھ لینا چاہئے اور وہ چین امریکہ وغیرہ کو لیکچر دیں اور انہیں بتائیں کہ اقوام ترقی کیسے کرتی ہیں۔اگر ملکی معیشت نہ چل رہی ہو تو پہلے سے بے روزگار لوگوں سے پیسے واپس کیسے لینے ہیں۔ &nbsp;</p><p>کرونا کے زبردستی مسلط کردہ چِلّا کے جتنے فوائد سامنے آئے ہیں اس وبا کے ٹل جانے کے بعد ہر سال ایک ہفتہ کے لئے زبردستی لاک ڈائون منایا جانا چاہئے تاکہ لوگ اسی طرح اچھی تجاویز سوچ سکیں اور حکومتیں بحرانوں سے نمٹنے کے نادر نسخے آزماتی رہیں۔</p>



دوحہ معاہدہ، پاکستان کو کیا ملا

5 months ago


ٹرمپ نے پاکستان کا بازو مروڑا

<p>امریکہ&nbsp; اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے سمجھوتے میں فریقین کے لئے خوش ہونے کا سامان موجود ہے۔اس مبہم اور غیر واضح معاہدے کے نتیجے میں جن کے ہاتھ باکل کچھ نہیں &nbsp;أیا وہ پاکستان اور بھارت ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دوحہ میں اس تقریب میں بالکل اس عبداللہ دیوانے کی مانند موجود تھے جو دوسروں کی شادی میں بلاوجہ ناچ رہے ہوتے ہیں۔</p><p>بھارت نے محض پاکستان کو مغربی سرحدوں پر الجھانے میں اربوں ڈالر خرچ کئے اور اس کے باوجود کابل کے ایک محدود حلقے اور شمالی اتحاد کے چند گروہوں کی حمایت حاصل کرنے کے سوا بھارت کا افغانستان میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔</p><p>امریکی صدر ٹرمپ نے پہلی بار صدارت کے لئے چلائی گئی اپنی انتخابی مہم میں امریکی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ بیرون ملک سے اپنی افواج کو واپس لائیں گے اور دوسرے ممالک کو دی جانے والی بلاوجہ امریکی امداد پر نظر ثانی کریں گے۔</p><p>دوحہ میں ہونے والا سمجھوتہ امریکہ کےلئے اس لئے خوش أئند ہے کہ اس میں صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدے کی تکمیل نظر أتی ہے جبکہ طالبان پر امید ہیں کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد جب افغانستان میں طاقت کا خلا پیدا ہو گا تو اس میں ان کے لئے بہت سے مواقع ہوں گے۔</p><p>دستخط کی تقریب سے پہلے اپنی مختصر تقریر میں طالبان کےنمائندے ملا عبدالغنی برادر نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ادھر کابل میں اسی روز ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کی تقریب جس میں افغان صدر اشرف غنی اور امریکہ کے وزیر دفاع کے علاوہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل بھی شریک ہوئے، اس محفل میں کئی ہمسایہ ممالک میں تعینات اہم ممالک کے سفارت کار بھی شریک ہوئے۔ یہاں بھی امریکہ طالبان معاہدے کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کا تذکرہ رہا۔</p><p>خود دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے اس معاہدے کے سلسلے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔</p><p>اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ساری دنیا بھی یہ تسلیم کر رہی ہے اور پاکستان کا بھی دعوی ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا کر امریکہ کے سامنے بٹھانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کردار کی ادائیگی پر پاکستان کو کیا ملا؟</p><p>کیا پاکستان اس کے بدلے میں اپنے اہم ترین مسئلہ یعنی کشمیر پر امریکہ سے اس قسم کی سہولت کاری کی یقین دہانی حاصل کر سکا ہے؟</p><p>پچھلے ہفتے صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے فورا بعد بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ جب ملاقات کے دروان وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے ان کے کشمیر پر ثالثی کے بیان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اس قسم کا بار بار مطالبہ کرتی رہتی ہے تاہم ان کا اپنا کشمیر پر ثالثی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اگر بھارتی میڈیا اور ان کے ذرائع کی خبر کو یکسر مسترد بھی کر دیا جائے تو عملا امریکی صدر نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے اور وہاں کئی ماہ سے جاری پابندیوں پر کوئی بھی سخت ردعمل نہیں دیا الٹا وزیر اعظم مودی کے دعوت پر بھارت کے دورے پر أئے اور تین ارب ڈالر کا اسلحہ بیچ کر چلے گئے۔</p><p>دوسرا مسئلہ پاکستان کی اقتصادیات کا ہے جس میں فوری طور پر بڑی رقم کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں ماضی کے امریکی صدور کے برعکس صدر ٹرمپ نے پاکستان کو بالکل کورا جواب دے دیا ہے الٹا وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کو دیئے گئے اڑتیس ارب ڈالر کا حساب مانگتے نظر أتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں واحد رعایت یہ کی کہ پاکستان کو أئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔گزشتہ ماہ پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں اس لئے رکھا گیا تاکہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے۔ جون میں جب ایف اے ٹی ایف کا أئندہ اجلاس ہونا طے پایا ہے اس وقت تک پاکستان، افغانستان کے اندر ہر وہ اقدام کرے گا جس کے لئے امریکہ انہیں کہے گا۔</p><p>ماضی کی افغان خانہ جنگی کے برعکس پاکستان اس بار امن کا جھنڈا لئے امریکی افواج کی واپسی کا راستہ ہموار کر رہا ہو گا۔&nbsp;</p>



کالی لہر (آخری قسط)

5 months ago


ہم اس سے مختلف مستقبل چاہتے ہیں جو حکمرانوں نے ہم پر مسلط کر رکھا ہے

<p>اکتوبر 2019 میں اہسے لمحات عراق اور لبنان میں آئے جب نہ صرف بدعنوانی اور غربت کے خلاف غیر معمولی مظاہرے ہوئے بلکہ ان میں فرقہ واریت کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔ دونوں ممالک میں ایک ہی وقت میں لاکھوں افراد نے کئی ہفتوں تک مظاہرے کئے۔ مظاہرین گا رہے تھے، شعر پڑھ رہے تھے موسیقی سن رہے تھے ہاتھوں میں پھول لئے ہوئے تھے اور مزاح پیدا کر رہے تھے اور وہ زندگی کو واپس لانے کے لئے گولیوں اور لاٹھیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے تمام سماجی اور فرقہ وارانہ تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو حکمرانوں کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی۔ لبنان میں شمالی قصبہ تریپولی کے سنیوں نے جنوبی قصبہ نباطیہ میں مظاہرے کرنے والے شیعہ لوگوں کے حق میں آواز بلند کی۔&nbsp;یہ ایسا انقلاب ہے جو کبھی نہیں مرے گا۔ ان مظاہروں کا ہدف ایران کی لبنان میں آلہ کار حزب اللہ تھی اور عراق میں مظاہرین براہ راست ایران کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے اوران مظاہروں میں شیعہ علما پیش پیش تھے جو ایرانی اثر و نفوذ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ بعض جذباتی مظاہرین نے تو کربلا میں ایرانی قونصل خانے کی دیواریں پھلانگ کرایرانی قونصل خانے کی چھت پر چڑھ کر عراقی جھنڈا لہرا دیا۔ اس کے بعد خود ایران کے اندر مظاہرے شروع ہو گئے جو 2009 اور 2017 کے مظاہروں کی بازگشت تھے۔ ایرانی حکام کا ردعمل بے رحمانہ تھا۔ انٹرینٹ بند کر دیا گیا اور چند روز میں 300 لوگوں کو سپاہ نے قتل کر دیا اور ان میں سے کئی ایک کے سروں میں گولیاں ماری گئیں۔</p><p>عراق میں بھی کریک ڈاؤن ہوا جس میں 500 لوگوں کا خون ہوا۔ ایک شخص جس نے مظاہرین کے خلاف بربریت کی منصوبہ سازی کی وہ القدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی تھا۔ جب 3 جنوری کو وہ ایک امریکی حملے میں مارا گیا تو ہزاروں عراقی عوام نے جشن منایا۔شام کے جن قصابات میں لوگوں نے آمر بشار الاسد کے معاون قاسم سلیمانی کی عیاری کا قہر جھیلا ہے وہاں بھی اس کی ہلاکت کی خبر نے لوگوں کو سرشار کیا۔ ایران میں سلیمانی کی موت میں عارضی طور پر اتحاد دیکھنے کو ملا جو شاید ان دیکھے مستقبل کا خوف تھا کہ شاید ایک اور جنگ مسلط ہو رہی ہے۔ اس شخص کہ جس نے نہ صرف ایران کے نام پر خطے میں تباہی پھیلائی بلکہ ایران کے اندر میں مظاہرین کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا کی موت پر لوگ مسرور تھے۔ اس موت کے بعد ایران، عراق اور لبنان میں کچھ وقت کے لئے مظاہرے تھم گئے اور پھر اس سے زیادہ شدت سے شروع ہو گئے جن میں مزید تشدد ہوا۔&nbsp;</p><p>سعودی عرب کے علاقائی اثر و نفوذ کا اظہار بالکل مختلف ہے۔ یمن کی جنگ کے باوجود سعودی عرب کا اثرونفوذ پوشیدہ ہے۔&nbsp; اس کی کوئی آلہ کار تنظیم نہیں لیکن اس کے پاس پیسے اور میڈیا کی طاقت ہے جس کے ذریعے وہ ماضی میں مذہب کے متعلق لوگوں کی فہم کو بھی متاثر کر چکے ہیں۔ اس طرح سعودی بادشاہ اپنے تنگ نظر اور عدم برادشت والے اسلام کی تعبیر نافذ کر چکے ہیں۔&nbsp;</p><p>ظالم حکمران عدم برداشت کو جنم دیتے ہیں اور عدم برداشت سے تشدد جنم لیتا ہے۔ ہر دہشت گرد حملے کے بعد مغرب، یورپ اور امریکہ میں بہت آرام سے یہ سوال اٹھانے لگتےہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے مسلمان اور عرب کہاں ہیں؟یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ بہت چھوٹی سی اقلیت کی جانب سے کئے جانے والے ایسے واقعات پر تمام مسلمان اور ان کے ہم عقیدہ معافی مانگیں اور ذمہ داری قبول کریں۔ اہم ترین سوال نظر انداز کر جاتے ہیں کہ خود اپنے ملکوں میں ان عناصر چاہے وہ ظالم حکمران ہیں یا دہشت گرد ہیں، کے خلاف طویل جدوجہد کرنے والے کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں؟ مشرق وسطی سے کئی ایک روشن دماغ لوگ دہائیوں پہلے اپنی جان بچا کر چلے گئے ہیں کیونکہ ان کے وطن تاریکی کے قوتوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ ایسی تاریکی کے علمبردار 1980 کی دہائی میں پاکستان میں جنرل ضیا الحق اور مصر میں موجودہ عہد میں فتح السیسی ہیں جنہیں امریکہ کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جہاد کا سب سے بڑا&nbsp; نشانہ خود مسلمان ہیں۔&nbsp;</p><p>تخت الٹنے سے لے کر آمروں کی حمایت تک امریکی کارروائیوں نے مقامی حرکیات کو انگیخت دی۔ سعودی عرب اور ایران کے بھی مفادات ہیں جو انہیں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے بڑھاتے ہیں اور مقامی حرکیات کو تبدیل کرتےہیں۔ یہ نہ ختم ہونے والی دشمنی کا منحوس چکر آسانی سے ٹوٹنے والا نہیں لیکن عرب اور ایران کی نوجوان نسل مختلف مستقبل کے خواہشمند ہیں۔&nbsp;</p><p>ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ میرے ہم عمر اور ہم سے چھوٹے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا اور ہمارے والدین نے اس سب کچھ کو ہونے سے روکا کیوں نہیں؟ ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے رواداری اور متنوع ثقافت والے ماضی کی یادیں ابھی ختم نہیں ہوئیں اور یہ کہ ایک ایسی دنیا کے قیام کی خواہش کسی ماضی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ ہے کہ بہتر مستقبل عین ممکن امر ہے جو ایران اور سعودی عرب کے حکمرانوں اور ان کی سپاہ کے ہم پر مسلط کردہ حالات سے قطعی مختلف ہو۔&nbsp;جیسا کہ ڈنمارک کے فلسفی سورن کریک گارڈ نے لکھا ہے کہ " یہ بالکل سچ ہے کہ زندگی ماضی کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ زندہ مستقبل میں رہا جاتا ہے"۔&nbsp;</p><p>کم گھٹاس لبنانی نژاد ہالینڈ کی صحافی ہیں جو مختلف عالمی خبر رساں اداروں کے لئے امریکی محکمہ خارجہ میں رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ موجودہ مضمون ان کی جلد آنے والی کتاب "کالی لہر" سے اخذ کیا گیا ہے۔ &nbsp;</p>