عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم

حسین حقانی
کالم نگار

1 month ago


شاہ محمود قریشی کے بیان نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا

  کشمیرپر تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس کی طلبی کے لئے  پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کوغیر معمولی الٹی میٹم سے  ریاض کے ساتھ عمومی طور پر خوشگوار تعلقات کو خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔ قریشی نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب کی زیرقیادت او آئی سی اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہی تو پاکستان او آئی سی کے بغیر بھی اجلاس بلانے کے لئے تیار ہے۔ 

سعودی عرب کے حاکم اس قسم کی دھمکیوں سے صرف نظر نہیں کریں گے اور انہیں مزید غصہ اس بات پر ہو گا کہ دھمکیاں بھی وہ  ملک  دے رہا ہے  جو اس شاہی خاندان کی حکومت سے اکثر مالی امداد لیتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان کے لئے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ کی ادائیگی میں مدد کرنے سے لے کر دو سال قبل ادائیگیوں کے توازن پر قابو پانے میں مدد فراہم کے لئے 6 ارب ڈالر کے قرض تک ہرمشکل وقت میں سعودیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔

 تارکین وطن پاکستانی مزدوروں کو سب سے زیادہ ملازمتیں سعودی عرب نے دی ہوئی ہیں اور اس طرح ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ کچھ پاکستانی رہنما سعودیوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مساجد اور مدارس کی مالی اعانت کے ذریعے ملک میں بنیاد پرستی اور اسلام پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں  ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے سعودی معاشی تعلقات نے ایسے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا ہے جو عالمی امورکو ہندوستان اورپاکستان کے تناظر میں دوست یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی تعلقات کی کچھ بنیادی  حقیقتوں کو سمجھنے میں دشواری  ہے۔ دونوں ممالک کے مابین روایتی تعلقات کی وجہ سے موجودہ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے 2007 میں یہ تبصرہ کیا تھا (وکی لیکس کے ایک لیک کیبل کے مطابق) کہ  ہم سعودی عرب  والے  پاکستان میں مبصر نہیں بلکہ اس میں شراکت دار ہیں۔

  پاکستان خود کو پیداواری معیشت بنانے میں ناکام رہا ہے اس کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ اس کی باہمی تجارت 3.6 ارب ڈالر ہے۔ دوسری طرف بھارت کے ساتھ سعودی تجارت بڑھ کر27 ارب ڈالر ہوگئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب والے پاکستان کو امداد  لینے والا ملک سمجھتے ہیں جسے براہ راست بجٹ کے لئے رقم، موخر ادائیگی کی بنیاد پرتیل اورغیر ہنر مند کارکنوں کے لئے کئی لاکھ نوکریوں کی شکل میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لئے ہندوستان ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

اس بے جوڑ تعلق کی حقیقت کے پیش نظرپاکستان میں ایک کے بعد آنے والی دوسری حکومت نے اس شاہی حکومت کے ساتھ عاجزانہ رویہ رکھا۔ لیکن عاجزی یا شکرگزاری وزیر اعظم عمران خان کی عوامی حکومت کے بنیادی بیانیہ کے برعکس ہے۔ اس بیانئے کے مطابق پاکستان دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت ہے اورمسلم دنیا کی رہنمائی کرنا اس کا حق ہے اوراس وجہ سے دوسرے مسلم ممالک کو اس کی حمایت کرنا چاہئے۔

خان پاکستانیوں کو بتاتے ہیں کہ خواندگی اورسکولوں میں داخلہ کی کم شرح کے باوجود وہ عظیم قوم ہیں جنہیں صرف ناقص قیادت نے ہی پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ اب جب کہ انہیں خان کی صورت میں ایک "ایماندار رہنما" مل گیا ہے پاکستان بھارت سے بدلہ لے سکتا ہے، کشمیرکو آزاد کرا سکتا ہے اور عالمی سطح پروہ مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا یہ عظیم ملک حقدار ہے۔

اس بڑھک بازی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو باہمی مفادات کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے اور اپنےعظیم رہنماعمران خان کی زیرقیادت پاکستان یہ ایجنڈا طے کرے گا کہ دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کریں۔

اس طرح کی شان و شوکت والی باتیں بہت سے پاکستانیوں کو اچھی لگتی ہوں گی لیکن پاکستان سے باہر اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اس کے نتیجے میں پچھلے دو سالوں میں پاکستان کے سفارت کارعالمی رہنماؤں کی منت سماجت کر رہے ہیں جب کہ خان اور ان کے وزرا دنیا کے دارالحکومتوں میں غم و غصہ اورغلط فہمیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

 شاہ محمود قریشی کی طرف سے برسرعام کی جانے والی توہین کا سعودی عرب کی طرف سے فوری ردعمل یہ ہے کہ ریاض نے مختصر مدت کی بنیاد کے لئے دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگ لیا ہے اورادھار تیل کی فراہمی کے  معاہدے کی تجدید  کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی قرض کی واپسی شروع کرنے کے لئے پاکستان نے چین سے ایک  ارب ڈالر قرض لیا جو زید کو ادائیگی کے لئے بکر سے قرض لینے کی ایک عمدہ مثال ہے۔

 اب یہ کچھ وقت کی ہی بات ہے کہ پاکستانی حکام عمران خان اور قریشی کو سعودی عرب پر پاکستان کے انحصار اور چین کی طرف سے مزید رقم دینے کا نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ اگرچہ چین پاکستان کو قرض کی صورت میں مزید نقد رقم دے سکتا ہے اور ملک پر اپنا اثر مضبوط کرسکتا ہے لیکن اس کے پاس تیل کی رسد کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

  یہ حیرانی کی بات نہیں ہوگی کہ اگر خان اپنے وزیر خارجہ کی سعودی عرب کے بارے میں سخت باتوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سیاست ، معیشت ، خارجہ تعلقات ، صحت عامہ اور یہاں تک کہ کھیلوں سے متعلق اپنی پہلے کہی ہوئی باتوں سے مکر جانے کی وجہ سے انہیں یوٹرن خان سمیت متعدد ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ایک بارانہوں نے اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانے کی صلاحیت کو عظیم قیادت کا خاصہ  قرار دیا تھا۔

بدقسمتی سے موقف تبدیل کرنے کی وجہ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کی بجائے خان کا انا پرست ہونا، کمزور اور ناقابل اعتماد ہونا ہے۔

اگر ہم ان کی کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نظر ڈالیں تو ملک کو متحد کرنے اور بحران پر قابو پانے کے لئے قومی حکمت عملی اپنانے کی بجائے خان نے اپنے قول و فعل سے عوام میں الجھن پیدا کی۔ ابتدائی طور پر  انہوں نے اس وائرس کو عام زکام قرار دیا تھا جس سے 97 فیصد لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور صرف بزرگ اور کمزور لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ان کے اس بیان کی بعد میں ان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تردید کی۔ اس کے نتیجے میں مختلف صوبوں میں مختلف قسم کے لاک ڈاؤن ڈاؤن ہوئے لیکن قومی لاک ڈاؤن نہیں ہوا۔

وزیر اعظم بننے سے پہلے خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے کوئی قرض لئے بغیرمعیشت میں بہتری لائیں گے۔ انہوں نے سابق حکومتوں کے ذریعہ اپنایا ہوا محاورہ "بھیک مانگنے والا کشکول" سنڈروم ختم کرنے کا وعدہ کیا اور یہ بھی بڑ ماری تھی کہ وہ سپر پاورز کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود کشی کوترجیح دیں گے۔

تاہم اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم وقت میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا پیکیج مانگا اوراپریل 2020 میں پاکستان نے آر ایف آئی (ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ) کے تحت آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی درخواست کی۔ مزید یہ کہ پاکستان نے خلیجی ممالک ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے دوست ممالک سے پیسہ لیا۔ یہ سب یقیناً 

چین کے بڑے قرضوں کے علاوہ ہیں۔

خان وہ شخص ہیں جنہوں نے اکثرامریکی پالیسیوں کے خلاف بیانات جاری کئے، امریکہ مخالف مظاہروں میں حصہ لیا جن میں  افغانستان جانے والے نیٹو کے ٹرکوں کوروکا گیا اور خود کو ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو واشنگٹن کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ پھر جولائی 2019 میں وہ مسکراتے ہوئے پاکستان کے لئےامریکی فوجی اورمعاشی امداد کے حصول کے لئے پہنچ گئے۔

 حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے انہوں نے اس وقت کی حکومتوں چاہے  پی پی پی برسراقتدار تھی یا مسلم لیگ (ن) تھی، حکومت کو کام کرنے سے روکنے کے لئے بڑے پیمانے پرمظاہروں کا استعمال کیا ۔ مگر گذشتہ دو سالوں کے دوران جب سے خان اقتدار میں آئے ہیں وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے کسی بھی احتجاج پر چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستان کو چلانے کے لئے نئے چہرے لانے کا وعدہ کرتے ہوئے خان نے بھی دراصل اسی پرانی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ ٹیکنو کریٹس اور سدا بہار سیاستدانوں کو ساتھ ملا لیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ  دعوے کرتے ہوئے کہ صرف نئے چہرے ہی پارٹی کا حصہ ہوں گے انتخابات سے چند ماہ قبل انہوں نے اپنی پارٹی میں بہت سے نام نہاد "الیکٹ ایبلز" (لوٹوں) کا استقبال کرنے کی کوئی عار محسوس نہ کی۔ یہاں تک کہ خان نے یہ کہتے ہوئے اس پالیسی کا دفاع کیا کہ "انتخابات جیتنے کے لئے لڑے جاتے ہیں۔ آپ اچھا بچہ بننے کے لئے الیکشن نہیں لڑتے۔ میں جیتنا چاہتا ہوں. میں یورپ میں نہیں پاکستان میں الیکشن لڑ رہا ہوں۔ میں یورپی سیاستدانوں کو درآمد نہیں کرسکتا۔

معروف ماہر معاشیات عاطف میاں کو اپنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن کے طور پر لانے کے وعدے کے بعد خان نے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے عاطف میاں کے احمدی عقائد کے خلاف احتجاج  پرعمران اپنی بات سے پھر گئے ۔ ایک سال کے اندر ان کے منتخب کردہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو وعدے کے مطابق معاشی اصلاحات کرنے میں ناکام رہنے پرعہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف شور مچانے والے خان نے اقتدار میں آنے کے بعد زلفی بخاری اور پرویز خٹک جیسے قریبی دوستوں کو حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں ان کے خلاف مقدمات زیرالتوا ہیں۔  خان پر بھی بنی گالا کی رہائش گاہ کی تعمیر میں غیرقانونی تجاوزات کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور اسے باقاعدہ بنانے کے لئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔ وہ چاہے یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ وہ اور ان کا خاندان بدعنوان نہیں لیکن ان کی بہن علیمہ خان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ

    امریکہ اور برطانیہ میں بے نامی جائیدادوں پر 29.4 ملین روپے ٹیکس اور جرمانے ادا کریں۔

2010 میں خان نے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دی گئی تین سالہ توسیع پر تنقید کی تھی۔ تاہم انہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دینے میں کوئی پریشانی نہیں تھی،اس مقصد کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے 1952 کے پاک فوج ایکٹ میں ترمیم کی۔

خان اور ان کے مشیر انتخابات سے قبل اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ پہلے والوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے اوراس کی بجائے تمام سرکاری رہائش گاہوں کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کریں گے۔ مزید یہ کہ وہ  پروٹوکول  نہیں لیں گے،سائیکل پر دفتر آیا کریں گے، بیرون ملک سفر پررقم ضائع نہیں کریں گے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔

خان نہ صرف بڑی سرکاری رہائش گاہ میں مقیم ہیں ،ایک ہیلی کاپٹر بنی گالہ میں ان کی نجی رہائش گاہ سے سکریٹریٹ لاتا اور لے جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی 90 دنوں میں خان نے پانچ بیرونی دورے کئے (دو سعودی عرب ، اور یو اے ای ، چین اور ملائشیا کا ایک ایک دورہ کیا)۔  چھوٹی کابینہ رکھنے کے اپنے وعدے کے برعکس ان کی کابینہ میں 50 (20 نہیں) ارکان شامل ہیں اور خان قومی اسمبلی کے صرف 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کرسکے ہیں۔

یہاں تک کہ اس کا اقلیتوں کے حقوق کا حامی ہونے کا دعوی بھی وقت کے امتحان میں سچا ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کی حکومت اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی اجازت دے گی لیکن مذہبی لابی کے مشتعل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے کو بدل دیا اور اس کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورہ مانگ لیا ہے۔

تمام سیاستدانوں کو حالات کی بنیاد پر پالیسیاں ایڈجسٹ یا موافق کرنا  پڑتی ہیں۔ سیاسی رہنما اکثر انتخابی مہم کے دوران نعرے لگاتے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں  یہ صرف ووٹ حاصل کرنے  کے لئے لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم خان جس رفتار سے یو ٹرن لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ملکی اور بین الاقوامی دونوں اہم  معاملوں میں سمجھ کا فقدان  ہے اور وہ یہ بات سمجھنے میں بھی ناکام ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کی ان باتوں سے اکیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت
کورونااورمعیشت
مہنگے چینی منصوبے

امریکہ طالبان معاہدہ افغانستان میں امن نہیں لاسکتا

6 months ago


امن معاہدے پرامریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی کامضمون

<p>امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معاہدے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے لیکن اس کے ذریعے افغانستان میں امن آنے کا امکان نہیں ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے تشدد میں کمی جس نے اس معاہدے کو ایک ” امن معاہدے “ کے طور پر پیش کرنے کے لئے بنیاد مہیا کی تھی وہ پہلے ہی ملک بھر میں طالبان کے نئے حملوں کے باعث ختم ہو چکا ہے۔</p><p>اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ” لامتناہی جنگوں “ کے خاتمے کے اپنے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ افغانستان میں ان بین الاقوامی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے گیا تھا جنہوں نے امریکہ پر حملہ کیا تھا۔ اب جب کہ القاعدہ کا خطرہ کم ہوچکا ہے اور امریکہ نے خود کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے دیگر ذرائع تیار کرلیے ہیں تو افغانستان میں مزید خون اور خزانے کو کیوں ضائع کیا جائے؟</p><p>تاہم یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ آیا طالبان افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں یا افراد کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔ دوحہ معاہدے میں طالبان کی طرف سے دی جانے والی یہ واحد بڑی رعایت تھی۔ &nbsp;</p><p>طالبان اپنے طور پر خود کو ایک سپر پاور کے خلاف فاتح فریق سمجھتے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام پسند عسکریت پسند بھی افغانستان کے نتیجہ کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔</p><p>امریکیوں کے آنے سے پہلے مطلق العنان نظریاتی گروہ کی حیثیت سے طالبان، افغان عوام کو اذیت دے رہے تھے۔ وہ امریکی فوج کے انخلا کو اپنی اسی امارت کی بحالی کے امکان کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کی مدد سے قائم کی تھی۔</p><p>طالبان کے ذہنوں میں ان کی امارت اب بھی وجود رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان کے معاہدے کے دوران ، ’اسلامی امارت اسلامیہ افغانستان کے متعدد حوالہ جات موجود ہیں جنھیں امریکہ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا لیکن طالبان اسے ریاست سمجھتے ہیں۔</p><p>معاہدے کے پارٹ ٹو کی شق 5 میں کہا گیا ہے کہ امارت / طالبان "ان لوگوں کو جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ ہیں کو افغانستان میں داخلے کے لئے ویزا ، پاسپورٹ ، سفری اجازت نامہ ، یا دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کریں گے۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ یہ کام صرف حکومتیں انجام دیتی ہیں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ امارت کو کسی دن امریکہ جائز تسلیم کر سکتا ہے۔</p><p>یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ امن معاہدے کےلئے کچھ لو اور کچھ دو کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی فریق کو خوش کرنے والے الفاظ سفارتی مذاکرات کا لازمی حصہ ہوتے ہیں لیکن 'افغانستان میں امن لانے کےلئے معاہدہ' کے عنوان سے دستاویز پرٹیلیویژن سکرینوں کے سامنے دستخط کرنے کی تقریب کے انعقاد کے لئے لگتا ہے کہ یہ بات سرے سے ہی نظرانداز کر دی گئی کہ اس مبہم منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا۔</p><p>مثال کے طور پر دوحہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے "پانچ ہزار (5000) قیدیوں" کو انٹرا افغان مذاکرات سے پہلے"10 مارچ ، 2020 تک رہا کیا جائے گا ۔ لیکن یہ وعدہ افغان حکومت کے پیشگی ا تفاق رائے کے بغیر کیا گیا ہے جس کے پاس حقیقت میں قیدی موجود ہیں۔</p><p>اسلامی جمہوریہ افغانستان کے طور پر تسلیم شدہ کابل حکومت کے متوازی مشترکہ اعلامیے میں قیدیوں کے موضوع کو مختلف انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں صرف "امریکی سہولت کاری کے تحت طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات پر گفتگو کے بارے میں بات کی گئی ہے تاکہ دونوں طرف سے معقول تعداد میں قیدیوں کو رہا کرنے کے امکان کا تعین کیا جاسکے۔</p><p>معاہدے کے اندر ایسی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ کس طرح اس سے منحرف ہوا جا سکتا ہے جس طرح یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اس پر دستخط ہی کیوں کیے گئے تھے۔</p><p>امریکہ میں عمومی طور پر یہ جذبات پائے جاتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت نہیں سکتا تھا یا اس سے بھی آگے یہ کہا جاتا ہے کہ جنگ ہاری جا چکی ہے اور یہ کہ"افغانستان اب امریکہ کو درپیش سب سے زیادہ ضروری یا اہم قومی سلامتی کا چیلنج نہیں ہے"۔ امریکی عوام یا ان کے کچھ رہنماو¿ں میں انتظار اور تاریخ کے شعور کی خوبیاں زیادہ تر امریکیوں میں نہیں پائی جاتیں۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ یہ نیا معاہدہ ویتنام میں امن کی بحالی کےلئے 27 جنوری 1973 کو پیرس میں ہونے والے 67 صفحات پر مشتمل جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی طرز پر کیا گیا ہے جس میں ’انڈوچائنا‘ میں امریکی فوجی مداخلت کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے دو سال بعد ، 1975 میں ، اس معاہدے کے دستخط کرنے والوں میں سے ایک ، جنوبی ویت نام کی عبوری انقلابی حکومت (ویت کانگ) نے اس معاہدے کے ایک اور دستخط کنندہ ، کمیونسٹ ڈیموکریٹک جمہوریہ ویتنام کی مدد سے ، امریکہ کے حمایت یافتہ جنوبی ویتنام کو زیر کر لیا تھا۔</p><p>اس میں کئی نمایاں چیزیں مختلف ہیں تازہ ترین دستاویز ضخامت کے اعتبار سے ہی نہیں ، جو صرف چار ٹائپ شدہ صفحات پر مشتمل ہے۔ شمالی ویتنام کے پیرس امن معاہدے پر دستخط کرنے کے برعکس ، طالبان کے اصل حمایتی پاکستان کے اس معاہدے پر دستخط نہیں ہیں۔</p><p>مزید برآں پیرس معاہدے پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ولیم پیئرس روجرز نے ہنری کسنجر کے ذریعہ مذاکرات کے بعد دستخط کیے تھے جبکہ موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دوحہ معاہدے پر اس کے مذاکرات کار زلمے خلیل زاد سے دستخط کرائے۔ اگر یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ اس کا سہرا اپنے سر باندھے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو خلیل زادکو اس کا مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔</p><p>افغانستان جنوبی ویتنام نہیں ہے۔ افغان قوم دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے جو امریکی تعاون سے یا اس کے بغیر بھی طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مقابلہ کرے گی۔ بہت سارے امریکی رہنما خاص طور پر فوج اور انٹیلیجنس کمیونٹی میں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا آسان ویتنام سے بھاگنا تھا۔</p>



بلیک لسٹ سے گرے لسٹ بہتر ہے

6 months ago


پاکستان کو مستقل اقدامات کی ضرورت ہے

<p>فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کا مقصد ممالک کو دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں &nbsp;کی تعمیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ کوئی بھی ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ شامل ہونا نہیں چاہتا &nbsp;جس میں پابندیاں عائد ہوتی ہیں &nbsp;جن کے باعث عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کم ہوجاتی ہے۔</p><p>گرے لسٹ میں شامل ہونے والے ممالک دہشت گرد گروہوں &nbsp;کی فنڈز تک رسائی کو مکمل طور پر بند کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان جو گزشتہ عشرے میں کم از کم تین بار گرے لسٹ میں شامل ہو چکا ہے لگتا ہے کہ محض اتنے ہی اقدامات کر تا ہے تاکہ بلیک لسٹ سے بچ سکے۔ جب ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں جون 2020 تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی مدت میں توسیع کی گئی تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ بھارت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے میں ناکام ہو گیا۔</p><p>پاکستان کو گرے لسٹ میں برقراررکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی فہرست میں شامل دہشت گرد گروپوں جن میں طالبان ، القاعدہ ، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیموں کی مالی اعانت کو مکمل طور پر بند کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ عالمی برادری پاکستان سے ان رہنماؤں کی فنڈز تک غیر قانونی رسائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے اور دہشت گرد گروہوں سے متعلق قوانین اور بینکاری سیکیورٹی ضوابط کو سخت کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔</p><p>لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ بیشتر بڑے ممالک پاکستان پر وہ سخت بینکاری اور بین الاقوامی مالیات کی پابندیاں عائد کرنے سے گریزاں ہیں جو اس وقت صرف ایران اور شمالی کوریا پر ہی لاگو ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کو لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف مکمل پابندیاں عائد کر کے اسے مجبور کئے جانے کی بجائے مانیٹرنگ اور دباؤکے ذریعے پاکستان سے مزید تعاون کے زیادہ امکانات ہیں۔ دوسرے ممالک جیسے ترکی ، سعودی عرب ، اور متحدہ عرب امارات ہیں وہ اپنے مسلمان پاکستانی بھائیوں پر مالی پابندیوں کے اثرات سے پریشان ہوتے ہیں۔اس وقت گرے لسٹ میں 12 ممالک شامل ہیں اور اسے باضابطہ طور پر نگرانی کا ذریعہ قرار دیا جانا ایک الگ معاملہ ہے۔اس میں شامل ممالک کے دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ روکنے کے &nbsp;لئے ان کےاقدامات کا مستقل جائزہ لیا جاتا ہے۔</p><p>مثالی صورتحال تو ہوتی کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کرتاکیونکہ اس کے باعث ایسے مطالبات سامنے آتے ہیں کہ وہ ان جہادی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جن کو پاکستان کم از کم تین دہائیوں سے حمایت اور حفاظت کر رہا ہے۔ لیکن گرے لسٹ بلیک لسٹ سے بہتر ہے خاص طور پر جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا فوری طور کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ جہاد کو مکمل طور پر بند کردے ۔</p><p>چونکہ کسی ملک کو ہمیشہ کے لئے گرے لسٹ میں رکھنا مشکل ہے لہذا اس بات کا ایک قوی امکان ہے کہ پاکستان ایک مناسب وقفے اور سطحی قسم کے متعدد اقدامات کے بعد اس لسٹ سے نکل جائے۔</p><p>اس طرح پاکستان دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق عالمی برادری کے ساتھ چوہے بلی کاکھیل کھیلتا رہتا ہے۔ 1992 میں جب امریکیوں نے ہندوستان کو نشانہ بنانے والے جہادی گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی پرورش کرنے پرپہلی بار انتباہ کیا تھا تب سے یہ دباؤ کا مقابلہ کرنے میں بہت طاق ہو گیا ہے ۔ حرکت الانصار نامی ایک گروپ کے ہاتھوں ایک امریکی سیاح کے اغوا کے بعد پاکستان نے اس گروہ پر پابندی عائد کردی اور وہی گروپ بعد میں حرکت المجاہدین کے نام سے منظر عام پر آ گیا۔ تب سے اب تک یہی ایک معروف طریقہ چل رہا ہے۔ پاکستانی عہدیدار جہادی گروہوں کو مستقل طور پر بند کیے بغیر فوری دباؤ سے بچنے کے لئے ضروری چند ایک اقدامات کرتے ہیں۔ پاکستانی اہلکار مالی پابندیوں کے خوف پرسنجیدگی سے غور کرتے ہیں لیکن اس کے تحت بھی صرف اس قدر ہی اقدامات کئے جاتے ہیں جن سے وقتی طور پر قانونی اور تکنیکی ضروریات پوری ہوتی ہوں۔</p><p>پاکستان بین الاقوامی دباؤسے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے ایک قدم آگے بڑھاتا ہے ، اور دباؤ ختم ہونے کے بعد دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے اور دباوؤ دوبارہ شروع ہونے پر ایک قدم پھر آگے بڑھتا ہے۔ آخر میں انتہائی مہارت سے تیار کردہ ہتھکنڈے ملک کو اسی جگہ پر لا کھڑا کرتے ہیں۔</p><p>یو این ایس سی کی قرارداد 1267 جس کے تحت تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قرار داد میں شامل افراد اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کریں ،پاکستان نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ۔ اس لسٹ میں لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور ان کے ’اسلامی خیراتی ادارے ،’ داؤد ابراہیم ، جیش محمد اور اس کے رہنما مولانا مسعود اظہر شامل ہیں۔</p><p>افغان طالبان اور سراج حقانی نیٹ ورک بھی برسوں سے اس فہرست میں شامل تھے لیکن افغانستان &nbsp;سے انخلا کی کوشش میں امریکہ کی جانب سے ان سے مذاکرات کے لئے آمادگی کے پیش نظر ان کی حیثیت تبدیل ہونے والی ہے۔ سیاسی مجبوریاں واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ &nbsp;ین الاقوامی اتفاق رائے ختم کررہی ہیں۔</p><p>ایف اے ٹی ایف جیسا کثیرالجہتی ادارہ بھی اپنے رکن ممالک کی سیاسی مجبوریوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اسے اپنے تکنیکی تعمیل کے اعلی معیار ات پر عملدرآمد پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ یہ کسی ملک یا حکومت کے ارادوں کا جائزہ لینے اور کئی سالوں کے پچھلے ریکارڈ کی بنیاد پر کام نہیں کرتا ہے۔</p><p>سن دو ہزار آٹھ میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دیاجس میں منی لانڈرنگ کے بہت زیادہ خطرات تھے اور وہ دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق بین الاقوامی قوانین کو نافذ کرنے میں عدم تعاون کا مظاہرہ کررہا تھا ۔ لیکن اس وقت صرف چند تکنیکی اقدامات کے بعد ہی پاکستان کو چھوڑ دیا گیا۔</p><p>سن دو ہزار بارہ &nbsp;میں پاکستان کے طرز عمل پر ایک بار پھر سوال اٹھایا گیا تھا اور اسے گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا تھا جہاں پاکستان سن دو ہزار پندرہ تک رہا۔ اس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق معاملات میں مثبت تبدیلی آنے کے بعد ملک کو گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔</p><p>اس بار پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر عمل پیرا ہونے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ آگے بڑ ھ کر اقدامات کئے ہیں ۔ اس کی ممکنہ وجہ ہندو ستان ، فرانس اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ تھا۔ پاکستان نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی اعانت کے چند جرائم کا &nbsp;مجرم قرار دیا ہے لیکن ممبئی حملوں یا ان کی طرف سے کئے گئے دوسرے حملوں میں انہیں سزا نہیں دی گئی۔ایک بار جب پاکستان پھر گرے لسٹ میں سے نکل جائے اور بلیک لسٹ کا خطر ٹل جائے تو اس سزا کو با آسانی ختم کیا جاسکتا ہے۔</p>



مکالمہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

6 months ago


امریکیوں کی خوشامد میں بھارتی پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے

<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ&nbsp; بھارت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے &nbsp; ہندوستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے اس عمل کا&nbsp; نتیجہ ہے جس کا آغاز کرتے ہوئے اس وقت کے&nbsp; امریکی صدر براک اوباما نے اسے اکیسویں صدی کی&nbsp; فیصلہ کن شراکت داری قرار دیا تھا۔</p><p>اس عمل کا آغاز دو دہائی قبل ہوا تھا&nbsp; لیکن اس کے لئے نئے غیر معمولی اظہار کی ضرورت تھی جیسا کہ کچھ لوگوں نے ٹرمپ کے&nbsp; دورہ کے بارے میں ایسا کہا بھی ہے۔ اس کی ضرورت اس لئے تھی تاکہ پہلے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پیدا ہونے والی کئی نفسیاتی&nbsp; رکاوٹوں کو ہٹایا جا سکے۔</p><p>سرکاری طور پر برصغیر کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے دسمبر 1959 کے&nbsp; دورہ کے دوران نظر آنے والے تحفظات کے بالکل برعکس فروری 2020 میں صدر ٹرمپ کی تعریف میں ہندوستان رطب اللسان تھا۔</p><p>&nbsp; اگرچہ صدر آئزن ہاور کے عوامی جلسہ سے خطاب سننے کے لئے لاکھوں ہندوستانی دہلی کے راملیلا میدان میں آئے تھے&nbsp; &nbsp; لیکن پاکستان کے ساتھ اس وقت بڑھتے ہوئے امریکی اتحاد کی وجہ سے بھارت کو کم تر سمجھا جاتا تھا۔</p><p>آئزن ہاور نے اگرچہ پاکستان ، افغانستان اوربھارت کا سفر کیا لیکن انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ&nbsp; بنیادی طور پر بھارت کی کشش تھی کہ جس نے انہیں اس خطے کی طرف راغب کیا تھا۔</p><p>اس وقت بھارت کے چین کے ساتھ تعلقات خراب ہونا شروع ہوگئے تھے اور غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کے برعکس ہندوستان نے دلائی لامہ کے حامیوں کی قیادت میں تبتی بغاوت کی حمایت کے لئے امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔</p><p>اسی سفر کے دوران دونوں ممالک کا دورہ کرکے&nbsp; آئزن ہاور نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔ انہیں توقع تھی کہ وہ دونوں ممالک کو کمیونزم کی راہ میں بند باندھنے کے لئے امریکہ کے شراکت دار بننے کے لئے راضی کرسکتے ہیں۔</p><p>ٹرمپ نے دورہ بھارت کے دوران پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں بہتری کا ذکر کیا جو امریکہ کے اس مسلسل اعتقاد کا اظہار ہے کہ امریکہ دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p><p>لیکن ٹرمپ نے ابھی تک پاکستان جانے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا، بھارت پاکستان کو دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں&nbsp; کا سرپرست&nbsp; سمجھتا ہے۔ احمد آباد کے موتیرا اسٹیڈیم میں اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ دہشت گردوں اور ان کے نظریات سے لڑنے کے لئے پرعزم ہیں۔</p><p>انہوں نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوششوں کو "انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں کے خطرات کے خلاف" لڑنے سے&nbsp; منسلک کیا۔ انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ "میری انتظامیہ پاکستان کے ساتھ کام کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔"</p><p>&nbsp; ان کی رجائیت پسندی اگر انہیں کبھی پاکستان&nbsp; لے گئی تو ٹرمپ کو پتہ چل جائے گا کہ پاکستانی ان کی اور امریکہ کی&nbsp; خوشامد میں بھارت کو پیچھے چھوڑنے کی پوری کوشش کریں گے۔</p><p>آئزن ہاور کی 1959 میں کراچی آمد پر محمد ایوب خان اور ان کی انتظامیہ نے بھی اس بات پر یقین دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ پاکستان امریکہ کا قابل اعتماد حلیف ہے۔</p><p>مہمان نوازی لاجواب تھی۔ امریکی صدر کے دورے کے موقع پر اس شہر کو جھنڈیوں سے سجایا گیا اور رات کو روشن کیا گیا تھا۔ ایوان صدر میں ایک میوزیکل فاؤنٹین بنایا گیا تھا جہاں انہوں نے قیام کرنا تھا۔</p><p>&nbsp;&nbsp; &nbsp; ساڑھے سات لاکھ پاکستانی کراچی ہوائی اڈے سے لے کر شہر کے مرکز تک 25 کلومیٹر طویل سڑکوں پر قطاریں بنا کر کھڑے تھے اور پرچم لہرا رہے تھے جہاں سے ایوب اور آئزن ہاور&nbsp; گزرے تھے۔</p><p>آخری میل صدر أئزن ہاور، ایوب خان کی سرکاری رہائش گاہ&nbsp; تک ایک کھلی&nbsp; گھوڑا گاڑی میں سوار ہوئے&nbsp; جس میں ان کے چاروں طرف&nbsp; لوگ خیرمقدمی نعرے لگا رہے تھے۔ امریکی صدر خوش ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔</p><p>لیکن 60 سال پہلے دونوں صدور کے مابین ہونے والی گفتگو کے نوٹس سے یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر اب بھی وہیں کھڑا ہے جہاں اس وقت کھڑا تھا اور اس میں امریکیوں کے لئے ایٹمی ہتھیاروں اور دہشت گردی کے متعلق خدشات کا مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔</p><p>آئزن ہاور نے پاکستانیوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی فوجی تیاریاں عقلی تقاضوں کے مطابق رکھیں اور انہیں بتایا گیا کہ یہ پاکستان کے ساتھ موروثی ہندوستانی دشمنی کے خاتمے تک نہیں ہوسکتا۔</p><p>ایوب خان نے کمیونسٹ خطرے سے نمٹنے کے لئے ایف 104 طیارے ، راڈار کے سازوسامان ، طیارہ شکن توپیں ، نائک ایجیکس میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے سائیڈونڈر میزائلوں کا مطالبہ کیا حالانکہ امریکی عہدیداروں پر یہ واضح تھا کہ پاکستانی کن کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں۔</p><p>پاکستان کے فوجی رہنما اب بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کی قربت کو اس پیمانے سے ناپتے ہیں کہ وہ امریکیوں سے کتنی فوجی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔</p><p>اس کے علاوہ ایوب خان نے آئزن ہاور سے اپنی ملاقات میں کشمیر پر امریکی ثالثی کا مطالبہ کیا جس طرح عمران خان ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں کر رہے ہیں۔</p><p>ایوب نے ملفوف انداز میں یہ بھی درخواست کی کہ پاکستان کو افغانستان کے موثر محافظ کی حیثیت سے دیکھا جائے اور یہ آج تک پاکستان کی پالیسی کا بنیادی ستون بنا ہوا ہے۔</p><p>آئزن ہاور نے ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو بتایا تھا کہ ان کا تاثر ہے کہ”جنرل ایوب خلوص نیت کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ امن سے رہنے کی خواہش رکھتے ہیں اور وہ ان مسائل کا حل چاہتے ہیں جو دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو متاثر کررہے ہیں۔" ٹرمپ کی طرح&nbsp; انہوں نے بھی " ہر ممکن مدد کی پیش کش کی جو اس مقصد کے حصول میں معاون ہو۔”</p><p>توازن برقرار رکھنے کی خواہش اگرچہ واشنگٹن کے کچھ گوشوں میں اب بھی زندہ ہوسکتی ہے لیکن دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے جو اب ہندوستان اور امریکہ کی شراکت کو آگے بڑھا رہا ہے۔</p><p>چین کے عروج کو محدود کرنے خاص طور پر بحر ہند اور بحرالکاہل میں محدود کرنے کی امریکی مجبوری ، بھارت کو ایک اہم شراکت دار بنا دیتی ہے۔ ہندوستان امریکہ دوطرفہ تجارت&nbsp; 150 ارب ڈالر ہے اور آنے والے سالوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔</p><p>بھارت اور امریکہ کے مشترکہ فوجی خدشات کا مرکز پاکستان نہیں چین ہوگا۔ امریکہ جلد ہی بھارت کو 3 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان فروخت کرے گا جبکہ پاکستان مہنگے سسٹم خریدنے سے قاصر ہے کیونکہ اب اسے امریکی اتحادی کی حیثیت سے ملنے والی غیر ملکی ملٹری فنڈنگ (ایف ایم ایف) نہیں مل رہی ہے۔ اور ہندوستان ابھی تک اس معاملے میں محتاط رہا ہے کہ شراکت داری، محتاجی میں تبدیل نہ ہونے پائے۔</p><p>امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا اور اسے برقرار رکھنا بھی چاہئے لیکن اب تعلقات نے اپنی اولیت کو کھو دیا ہے۔ اگر افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا کام ہوجاتا ہے تو&nbsp; ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں ان کی انتظامیہ سے یہ توقع نہیں کی جا سکے گی کہ وہ پاکستان پر اتنا وقت اور توانائی خرچ کرے جتنا آئزن ہاور انتظامیہ نے پاکستان پر خرچ کیا تھا۔</p><p>1959 کے برعکس ، امریکہ کو سوویت یونین پر سی آئی اے کے یو 2 اڑانے کے لئے پاکستان میں خفیہ اڈوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے رہنما اس مکالمے کو تبدیل کریں جو اس وقت سے برقرار ہے۔</p>