أیا صوفیہ کا نوحہ

عائشہ صدیقہ
کالم نگار

5 months ago


وہ أنسو جو اس وقت نہ بہے جب ترکی کی ریاستی أمریت معاشرے کو اس طرف دھکیل رہی تھی

ایک دوست نے حال ہی میں شکوہ کیا کہ میں نے رجب طیب اردوان کے أیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر کیوں نہ أہ و زاریاں کیں۔ کئی دہائیوں کی فوجی آمریت کے رد عمل کے طور پر ترکی میں آہستہ آہستہ اسلام پسندی کےعروج کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں کئی برسوں سے چلاتی آ  رہی ہوں۔

میں نے اپنی کتاب ملٹری  انکارپوریٹڈ: انسائیڈ پاکستانز ملٹری اکانومی کا پہلا مسودہ لکھنے کے دوران 2007 میں کہا تھا کہ بار بار فوجی آمریت کے حامل تین مسلمان ممالک - ترکی ، پاکستان اور انڈونیشیا ایسی اقوام ہیں جہاں مذہبی انتہا پسندی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ تینوں ممالک کی افواج نے بڑی مالی ایمپائرز  قائم کر لی ہیں  جو مسلح افواج کو منافع بخش بنانے کے لئے نہیں  بلکہ  مالی خود مختاری حاصل کرنے کے لئے قائم کی گئی ہیں جس سے أمریت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےاور اس کے نیتجے میں معاشرے میں عجیب و غریب رد عمل پیدا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک واضح اثر یقینی طور پر مذہبی بنیاد پرستی ہے۔

حتمی تجزیہ میں، پوری دنیا میں عبادت گاہوں کی تبدیلی ، تباہی ، یا تعمیر نو، زیادہ تر مذہبی بنیاد پرستی سے فائدہ اٹھانے والے رہنماؤں کے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ عبادت گاہوں کی عمارتوں کے ساتھ جو کرتے وہ صرف اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ معاشروں کے ساتھ پہلے ہی کر چکے ہیں۔

آج رجب طیب اردوان نے أیا صوفیہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اسے سمجھنے کے لئے ہمیں یہ سمجھنے کے لئے حوصلہ پیدا کرنا ہو گا کہ مصطفی کمال اتاترک نے ترک معاشرے پر تقریباً ایک صدی قبل سیکولر ازم کے نام پر کیا مسلط کر رکھا تھا اور اس کے بارے میں  زیادہ تر سیکولر ذہن رکھنے والے لوگ حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے۔

اردوان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ، اے کے پی کا عروج ، جو  اسلام پسندی کو ظاہر کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی وجہ سے پیچیدہ ہے ، اور اس کا سرا ترکی کی برسوں پر محیط سول اور فوجی أمریت کی تاریخ میں ملتا ہے اور اس کا سلسلہ خود اتاترک تک پہنچتا ہے۔ "سیکولر ترکی" کے بانی کے ساتھ لوگوں کے لگاؤ کے باوجود ، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کے شہریوں پر ایک نئی ثقافت کو زبردستی ایک ایسے انداز میں تھونپا کیا گیا تھا جیسے اردوان اس کو واپس موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جدید ترکی کے بانی اور مذہبی قوم پرستی کو واپس لانے والے، دونوں نے اپنے اپنے طریقے سے لوگوں کی ثقافتی شناخت کو صلیب پر چڑھایا۔

اتاترک نے یقینی طور پر سلطنت عثمانیہ کے بچے کھچے ملک ترکی کو  مزید ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا اور ایک نئی ریاست بنائی۔ تب اتاترک کے لئے خلافت کو ختم کرنا ضروری تھا ، جو انہوں نے سلطنت سے چھٹکارا پانے کے بعد کیا۔ .ایچ أر آرمسٹرونگ کی تحریر کردہ اتاترک کی سوانح عمری ، جو 1932 میں شائع ہوئی ، کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اتاترک ابتدا میں خلافت کے ساتھ لوگوں کے لگاؤ کی وجہ سے اسے ختم کرنے کے بارے میں بہت محتاط تھے۔ بعد میں خلافت کے خاتمے  کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ اس سے ترک ریاست اور اس کی قومیت کو خطرہ لاحق ہے۔ عوام نے یہ بات تسلیم کر لی۔ اس کے بعد ہی اتاترک نے ریاست کو سیکولر بنا دیا اور ان لوگوں پر کمال ازم مسلط کر دیا جس کے لئے عوام تیار نہ تھے۔

اتاترک نے اعلان کیا تھا کہ وہ "ترکی سے مذہب ایسے اکھاڑے پھینکیں گے جس طرح چھوٹے پودے کو بچانے کے لئے أکاس بیل کو اکھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔ اس عمل میں انہوں نے ایک نئی ثقافت تو نافذ کی مگر  انہوں نے لوگوں سے وہ کچھ چھین لیا جس کے ساتھ وہ صدیوں سے وابستہ تھے۔ ترکی ٹوپی کی بجائے مغربی ہیٹ پہننے کی پابندی نے مضحکہ خیز صورتحال پیدا کر دی اور مردوں نے مغربی خواتین کے ہیٹ بھی پہننا شروع کر دیئے۔ رسم الخط کو تبدیل کر کے انہوں نے نظام تو بدل دیا جو ثقافتی اقدار میں ایک تبدیلی کا باعث بنا لیکن وہ لوگوں کو نہ بدل سکے جو ان کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔

ایک پاکستانی دوست جو 1980 کی دہائی کے دوران ترکی گیا ، اس نے مجھے روایتی ترک رسم الخط کے لئے عام ترک لوگوں کی عقیدت کے متعلق بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اردو میں ایک کتاب پڑھ رہے تھے تو ان کے گرد کئی ترک لوگ جمع ہو گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اردو رسم الخط میں ان کے نام لکھ کر دیں جو ان سے چھین لیا گیا تھا۔ یہ جدیدیت، آمرانہ سوچ کی حامل فوج  جسے اتاترک کے ثقافتی انقلاب کی حفاظت کا کام سونپا گیا تھا کی طرف سے مسلط کی گئی تھی۔

مصطفیٰ کمال اتاترک کے انتقال  کے بعد ، ترک مسلح افواج ترک ریاست اور قائد کے اصول، دونوں کی نگہبان بن گئیں ، جس نے پورے سیکولرائزیشن کے عمل کو مجروح کردیا۔ ہر طاقتور فوجی بیوروکریسی کی طرح ، گذشتہ برسوں کے دوران طاقت حاصل کرنے کی  کی دوڑ میں ادارہ کی توجہ اصولوں سے ہٹ گئی۔ زیادہ سے زیادہ فوجی اثر و رسوخ حاصل کرنا ہی دراصل نیا اصول بن گیا تھا۔

1960 کی پہلی فوجی بغاوت کے نتیجے میں وزیر اعظم عدنان مندریس کو پھانسی دی گئی۔ 1961 میں قومی سلامتی کونسل قائم کرکے فوج نے خود کو سویلین ڈھانچے میں مزید اندر تک شامل کر لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1980 کے اس وقت کے صدر ضیاء الحق کے قتل کی ناکام بغاوت کے بعد سے ، پاکستان کی مسلح افواج نے رسمی ریاستی اقتدار حاصل کرنے کے لئے خود کو ریاستی ڈھانچے میں مزید شامل کرنے کے لئے ایسی ہی کونسل کے قیام کے لئے جدوجہد  شروع کر دی تھی۔ دوسری طرف ، انڈونیشیا کی فوج نے 1945 کے آئین ، پینسیلا (ریاستی نظریہ) ، اور سپتا مارگہ ، کو مسلح افواج کے وقار کے ضابطہ کی توثیق کے ساتھ ریاست کے تحفظ کے اپنے کردار کو باضابطہ طور پر باقاعدہ شکل دی۔

1971میں ترکی میں ایک اور بغاوت ہوئی لیکن 1980 میں جنرل کنعان ایورن کی فوجی مداخلت نے معاشرے کو اپنی موجودہ شکل کی طرف موڑنے میں زیادہ اثر ڈالا۔ ملک میں طلبا یونینوں اور بائیں بازو کے گروپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ریاستی تشدد اور طاقت کا استعمال ہوا۔ پاکستانی صحافی سے  سیاستدان  بننے والے مشاہد حسین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے ضیاء الحق نے اس عرصے کے دوران ترکی کا دورہ کیا تھا اور تعلیمی اداروں میں بدامنی سے نمٹنے کے لئے ترک  فوج کے طریقوں کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ ان دونوں افواج نے بے دردی سے تشدد کا بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے یقینی طور پر ایک دوسرے سے سیکھا۔ مثال کے طور پر ترک فوج نے اپنی فوجی کاروباری فاؤنڈیشن کے قیام میں پاکستانی ماڈل کی پیروی کی۔

لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ضیاء الحق اور کنعان ایورین دونوں نے ایک مشترکہ اقدام  اٹھایا اور وہ یہ تھا کہ اسلام پسندوں کو یونیورسٹی کے کیمپس پر مسلط کیا گیا۔ جن ذرائع سے میں نے اس تاریخ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح ترکی میں بنیاد پرست مذہبی اقدار کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ وہ بائیں بازو کی طرف سے کسی بھی مزاحمت کو پسپا کر سکیں، جیسا کہ پاکستان میں جماعت اسلامی کا طلبہ ونگ ، جو پہلے ہی پاکستان کے بہت سے تعلیمی اداروں میں داخل ہوچکا تھا کی مزید حوصلہ افزائی کی گئی تھی.

اگرچہ پاکستان فوج کا ہدف کبھی سیکولرازم یا اسلام پسندی کا تحفظ نہیں تھا ، لیکن مذہبی قوم پرستی کو بنانے اور اس کے تحفظ میں اس کا بہت بڑا کردار ہے ، جس کو میں پاک اسلام ازم کہتی ہوں۔ اسی طرح 1980 کی دہائی کے دوران ترک فوج سیکولرازم کی نہیں بلکہ اپنی طاقت کی محافظ بن چکی تھی۔ مزید برآں ، کمیونسٹ سوویت یونین سے لڑنے کے لئے امریکہ کے ساتھ شراکت داری نے دونوں ممالک میں مذہبی سیاست کی حوصلہ افزائی کرنا زیادہ اہم بنا دیا۔ 1980 کی دہائی پاکستان اور ترکی دونوں میں مذہبی بنیاد پرستی کو تیزی سے ایک معاشرتی جبلت کی بجائے ان کے عسکریت پسندوں کے عزائم کی وجہ سے مسلط کرنے کی ایک اہم دہائی ہے۔

فوج کے اقتدار کی ہوس کے باعث مذہبی بنیاد پرستی کو آپس میں جوڑنا مذہب کو سیاسی مکالمے کی فطری جگہ بنا دیا۔ اردوان کی اے کے پی اسی مقام سے نکلی، جس سے وہ أیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کرنے کے اپنے متنازعہ اقدام سے مزید   أگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ترکی میں فوج اور اتاترک نے ایک آمرانہ رویہ پیدا کیا جو بالآخر اسے کھا گیا۔ اردوان محض ایک نیا متبادل ہے۔ پاکستان میں ، جہاں فوج ایک مختلف تاریخی تجربہ کر رہی ہے اور اس سے فائدہ بھی اٹھا رہی ہے جس میں کسی ایک مذہبی جماعت کو فائدہ پہنچنے کی بجائے مجموعی طور پر بنیاد پرستی پھیل رہی ہے۔اس کا افسوسناک نتیجہ یہ ہے کہ عوام کی ساری توجہ ایک یادگار پر مرکوز ہے جبکہ  ترکی بہت کچھ کھو چکا ہے۔ أیا صوفیہ کے بارے میں فیصلہ شاید کئی دہائیوں تک تبدیل نہ ہو۔ شکوے کئے جا سکتے ہیں لیکن ان آنسوں کے بارے میں بھی افسوس کا اظہار کیا جانا چاہئے جو اس وقت نہیں بہے تھے جب ترکی کو ریاستی آمریت اس سمت دھکیل رہی تھی۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

پاکستانی سیاست اورمذہب کااستعمال
پاک فوج کمزور نہیں
فرقہ وارانہ تشدددروازے پردستک دے رہاہے

گلتی سڑتی بیوروکریسی

6 months ago


نظام کےلئے کام کریں عوام کی بھلائی کے لئے نہیں

<p>ایک سرکاری ملازم خورشید احمد خان مروت کے 20 جون کو دی نیوزاخبارکے صفحات پر شائع ہونے والے مضمون نے مجھے بیوروکریسی کے ساتھ اپنے تجربے کی یاد دلادی۔</p><p>1992 میں ، ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے مجھے اس وقت کے ایک نئے پروبیشنری آفیسر سے ملنا یاد آیا۔ وہ ہمارے محکمہ میں ممکنہ اچھی پوسٹنگ کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ پہلی نظرمیں ہی یہ واضح ہوگیا کہ وہ پیسہ کمانے کے مواقع اور ایک باس کی تلاش میں تھا جو نظم و ضبط کی اتنی پروا نہ کرے۔</p><p>میں ریاستی بیوروکریسی میں شامل ہونے کے پیچھے اس کے حقیقی عزائم ظاہرکرنے میں بے باکی دکھانے پرحیرت زدہ تھی۔ میرے 127 افسروں کی کھیپ میں عام طور پر اپنے عزائم &nbsp;جو ہمیشہ پیسہ کماناکے بارے میں نہیں تھے لیکن یقینی طور پرمجبورعوام کی خدمت کرنابھی کسی کامطمع نظرنہیں تھالیکن ان عزائم کے بارے میں ہمارے درمیان خاموش رہنے کی رسم تھی۔</p><p>ہماری کھیپ میں سندیافتہ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعدادموجودتھی جن میں سے بعض نے معقول تنخواہیں چھوڑکرابتدائی تنخواہ 2800 روپے وصول کرنا منظورکرلیاتھا اور اس دوران وہ اپنے خاندان کی کفالت بھی کررہے تھے۔سرول سروس اکیڈمی میں تربیت کے دوران ہی یہ آرام سے ہی اندازہ لگایاجاسکتاتھا کہ ان کامطمع نظرپیسہ کماناہے حالانکہ وہ لوگ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔</p><p>ان میں بعض افراد ایسے شامل تھے جوغصے کی وجہ سے بیوروکریسی میں شامل ہوئے تھے کیونکہ سندیافتہ ڈاکٹراورانجینئرہونے کے باوجودانہیں سرکاری افسروں کے دروازوں پرانتظارکرایاجاتاتھااوروہ بھی افسروں کوحاصل اختیارات اورطاقت کے حصول کیلئے بیوروکریسی میں شامل ہوئے تھے تاکہ بے اختیار لوگوں پراپنے اختیارکی دھونس جماسکیں۔</p><p>ان میں سے بہت سوں کا سماجی رتبہ بلند ہوگیا کیونکہ انہیں شادیوں کی منڈی میں بہتررشتے ملنا شروع ہوگئے۔</p><p>یہ بات عجیب نہیں کہ طاقتور سیاسی ، کاروباری ، زمیندار اور فوجی گھرانے بھی اپنے بچوں کو سول سروس میں شامل کررہے ہیں یا پھر ان کی شادیاں سول بیوروکریٹس سے کرواتے ہیں۔</p><p>ذاتی طور پر ، میں اپنی والدہ کے مشورے پر بیوروکریسی میں شامل ہوئی تھی جو زمینوں کی ملکیت کے سفاک ماحول میں میرے زندگی بسر کرنے کے متعلق فکر مند تھیں۔ میں نے جس سال امتحان پاس کیا تھا وہ اسی سال انتقال کر گئیں اور اس طرح مجھے اپنی والدہ کے میرے زندگی کے متعلق منصوبے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ میں ایک ایسے خاندان کا حصہ بن چکی تھی جو میرے کیریئر کے راستے سے قطع نظر مجھے تحفظ فراہم کرتا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سول سروس میں اصلاحات نے وسیع پیمانے پر پھیلی ریاستی بیوروکریسی کو ایک بہت بڑے خاندان میں تبدیل کردیا تھا۔ یقیناً آپ کا اس حد تک خیال رکھا جاتا ہے کہ آپ اختیارات کے کھیل میں حصہ ڈالتے ہیں جس کے لئے آپ کوتیار کیا گیا ہے۔ نو ماہ کی تربیت میں سے ایک ماہ فوج کے ساتھ لگایا جاتا ہے تاکہ دوسری بیوروکریسی سے واقفیت حاصل کی جا سکے۔</p><p>تاہم بھٹو کی سول سروس اصلاحات کے پیچھے بنیادی اچھا مقصد جس پر بدقسمتی سے عملدرآمد نہیں ہوا وہ سی ایس پی کیڈر کی طاقت کو توڑنا تھا جو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کے پیش رو تھے اور نہ صرف یہ کہ وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے بلکہ سول سروس کی بنیادی خامی ایک ایسا ڈیزائن بنی ہوئی ہے جو پولیس کے مقابلے میں ڈی ایم جی کی طاقت کے گرد گھومتی ہے کیونکہ دونوں میں واضح طور پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کافی صلاحیت ہے۔ سول سروس میں اصلاحات کی متعدد کوششیں کوئی خاص تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں۔</p><p>پاکستان کی بیوروکریسی کافی حد تک بہتر تربیت یافتہ ہے اور 1960 کی دہائی سے امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کی غیر ملکی تعلیم کے دوروں سے فائدہ اٹھا رہی ہے تاہم یہ تربیت اورڈگریاں ذہنی صلاحیتوں یا پیشہ ورانہ مہارت میں زیادہ تبدیلیاں نہیں لا سکیں۔ سول سروسز اکیڈمی میں بطور سرکاری ملازمین مشترکہ تربیتی پروگرام میں شرکت کرنے والوں کو کامنر کہا جاتا ہے اور وہ سماجی و سیاسی اور سماجی و معاشی جبلتوں پر چلتے ہیں ۔ اگرچہ انکم ٹیکس اور کسٹمز اور ایکسائز جیسی مالیاتی خدمات انتہائی تکنیکی ہیں لیکن ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ (ایم ایل سی) گروپ کے ساتھ مل کر آسان آمدن کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ &nbsp;</p><p>اس میں حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ 1990 کی دہائی کے وسط یا آخر میں فارن سروس کے کچھ افسران جو انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ڈیپوٹیشن پر گئے تھے اپنے محکموں میں واپس نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ایسا گروپ جو تھانہ ، کچہری اور پٹوارخانہ میں مدد نہیں دے سکتا یا غیر ملکی ویزا حاصل کرنے میں بھی مدد نہیں کرسکتا ہے خاص طور پر دیہی یا چھوٹے شہر کے متوسط طبقے کے امیدواروں کے لئے جو بڑی تعداد میں میں شامل ہوئے ہیں کے لئے بہت کم اہمیت کا حامل ہے۔</p><p>یہاں تک کہ ملک کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں حصہ بننے کے قابل ہونا بھی اب متاثر کن نہیں رہا کیونکہ یہ کام فارن سروس کے افسر نہیں کرتے تو پھر انفارمیشن ، آڈٹ اور اکائونٹس، ریلویز ، ڈاک ، کامرس اور تجارت جیسے گروپوں کو کون اہمیت دیتا ہے؟ &nbsp;</p><p>برصغیر کی سول بیوروکریسی برطانوی نوآبادیاتی ضروریات کے مطابق تشکیل کی گئی ہے جو بدلتی ہوئی ملکی ضروریات اور اپنی اپنی ریاستوں کے سیاسی تناظر کے تابع تبدیل ہوئی۔ اگرچہ مختلف ممالک میں سول سروس کے اختیارات مختلف ہیں لیکن ریاست کو چلانے کے لئے درکار ضروری اس انسانی مشینری کے اختیارات کے مراکز پر انحصار نمایاں طور پر کیا جاتا ہے۔ &nbsp;</p><p>لیکن فلپ ووڈرف کی دو جلدوں پر مشتمل”ہندوستان پر حکمرانی کرنے والے لوگ“ پڑھنے سے ایسے دانشورانہ قابلیت کے حامل، مہم جوئی کے جوش اور عیسائیت کی تبلیغ کے جذبے کا احساس ہوتا ہے جو جدید ہندوستان کے معمار تھے۔ محافظوں کی اگلی نسل نے مقامی لوگوں کو ایک ساتھ چلانے کے لئے درکار قوانین اور اصولوں کو تیار کرنے کے لئے سخت محنت کی۔ وہ سفاک اور حالات کے مطابق چلنے والے تھے ، انہوں نے پڑھا اور تخیل سے کام لیا اور نئی دریافتیں کیں کیونکہ سلطنت ان پرانحصار کرتی تھی۔</p><p>اگرچہ برطانوی قوانین زیادہ تر اسی طرح برقرار رہے اور ’ مقامی لوگوں‘ کے ساتھ رویہ بھی وہی رہا لیکن &nbsp;</p><p>بیوروکریسی کا فکری معیار تبدیل ہوگیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سول سروس اکیڈمی میں اگر کوئی روزانہ اخبارات یا کتاب پڑھتا ہوا پکڑا جاتا تو اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا کہ وہ زیادہ اختیارات والے گروپ میں جانے کے لئے دوبارہ امتحانات کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ سول سروس اکیڈمی یا اعلیٰ تربیت کے دیگر اداروں میں تربیت کے دوران کتابیں پڑھائی جاتی ہیں لیکن ذہنی فکر کو بلند کرنے کے لئے ضروری دانشورانہ مصروفیات شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔</p><p>افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں مفکرین پیدا نہیں ہوئے۔ اگرچہ مختار مسعود اور شیخ منظور الٰہی جیسے لوگوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن انتظامیہ ، سیاست یا حتی کہ سابقہ بیوروکریٹس کی لکھی ہوئی خارجہ پالیسی سے متعلق معنی خیز کتابیں بہت ہی کم ہیں۔</p><p>یہاں بھی یہ مسئلہ انفرادی بیوروکریٹس کا نہیں ہے بلکہ ایک سماجی و سیاسی نظام ہے جو گہری سوچ کی قدر نہیں کرتا ۔ جنرل (ر) عتیق الرحمن جو شاید فیڈرل سروس کمیشن کے سب سے بہترین چیئرمین تھے، کے بعد بہت سوں نے معیار کو مزید گرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جنرل ضیا الحق کے مقرر کردہ فیڈرل سروس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ایڈمرل (ر) محمد شریف جو پست ذہنی اور فکری صلاحیتوں کے باعث جانے جاتے ہیں کا نام ایف پی ایس سی کا معیار نیچے گرانے والوں کے زمرے میں خصوصی طور پر بتانے کی ضرورت ہے۔ انٹرویو نیلام گھر کی طرح کئے گئے تھے جو امیدواروں کو دعائے قنوت کی تلاوت کرنے کے لئے کہا جاتا یا بنیادی عمومی سائنس کے سوالات پوچھے جاتے تھے۔</p><p>سول سروسز اکیڈمی سے باہر نکلتے وقت تک اگر کسی کے جذبے اور آئیڈیلزم باقی بچے ہوتے تو اکثریت کو کچھ ہی وقت میں اس حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ختم کرنا پڑتے ، خاص طور پر جب نوجوان افسران ایسے نظام میں زندہ رہنے کی حقیقت کا مقابلہ کرتے ہیں جو خود ہی کئی عشروں کی سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ آخر میں بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ اس نظام کے لئے کیا کام کرتے ہیں نا کہ عوام کی بھلائی کے لئے کوئی بہتری کا کام کریں۔</p>



کیارچی بس ایک ہی تھی یااوربھی ہونگی

7 months ago


پیپلزپارٹی رہنمائوں پرالزامات کو18ویں ترمیم کی عینک سے دیکھناکیساہے

<p>بھارتی میڈیا چین کے مسئلے میں الجھا ہوا ہے اور پاکستان کے میڈیا کو سنتھیا کے مسئلے نے پریشان کر رکھا ہے۔ پاکستان میں مقیم ایک امریکی خاتون سنتھیا ڈیوڈ رچی کے پاکستان پیپلز پارٹی یا پیپلز پارٹی کے متعدد رہنمائوں پر مبینہ طور پر جنسی استحصال کرنے کے الزامات کی شہ سرخیاں بن رہی ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ سنتھیا رچی کون ہے؟ الیکٹرانک سے لے کر سوشل میڈیا تک رچی کے باعث سب اپنی سکرینوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔</p><p>میڈیا جو ویسے تو بہت حد تک کنٹرول ہے لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ امریکی خاتون اور اس کے مبینہ جنسی استحصال کی تفصیلات کو بہت تشہیر مل رہی ہے خاص طور پر ان اینکروں سے جو اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ اس کی کچھ کہانیوں میں صداقت ہوسکتی ہیں لیکن رچی کی کہانی جاگیردارانہ ذہنیت والے مردوں کی طرف سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مخصوص پارٹی کو بدنام کرنے کے لئے ہے اور عمران خان کی حکومت کی طرف سے کووڈ 19 بحران سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک نئی سرگرمی ہے۔</p><p>سنتھیا رچی کا پیپلز پارٹی کے تین رہنمائوں رحمن ملک ،مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے زیادتی کرنے یا ان سے بدسلوکی میں ملوث ہونے کے بارے میں الزامات ناقابل یقین نہیں ہیں لیکن بہت سی باتیں وضاحت طلب ہیں۔ مبینہ زیادتی کے الزامات کے باوجود انہوں نے اپنے وی لاگ میں پاکستان کو بہت محفوظ ملک قرار دیا۔ ان کے بارے میں تفصیل اور معلوم حقائق والی زندگی کی کہانی ان کے ایک میزبان (ٹیکساس میں وال مارٹ میں کام کرنے والی ایک خاتون جو بعد میں پاکستان آئی ) نے سنائی کہ وہ دولت کمانے کے لئے پاکستان آئی۔ درحقیقت ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران انہوں نے رحمان ملک کی طرف سے زیادتی کے بعد2000 پاونڈ ادا کرنے کا ذکر کیا (وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے نقد رقم نہیں پکڑی بلکہ ان کی کار میں پھینک دی گئی تھی جسے آخر کار انہوں نے رکھ لیا) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اس فعل میں رضامندی نہ بھی شامل ہو لیکن وہ بالواسطہ طور پر اس سے فائدہ اٹھانے اور تقریباً نو سال تک اس واقعہ کو اس وقت تک راز رکھنے پر رضامند ہو گئیں جب انہوں نے خود یا کسی کی حوصلہ افزائی پر اس کا بھانڈا پھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا۔</p><p>سنتھیا رچی کے بزنس ویزا کا سپانسر کون تھا یا ان کے 2010 سے پاکستان میں قیام کے بارے میں دیگر معلومات بہت کم دستیاب ہیں لیکن اس میں شک کی گنجائش بہت کم ہے کہ اپنی کہانی منظر عام پر لانے کے لئے سنتھیا رچی کی حوصلہ افزائی کی گئی یا انہیں اس خاص موقع پر منظم انداز میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پیچھے لگایا گیا۔ &nbsp;</p><p>در حقیقت انہوں نے جنوری میں بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے خلاف بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا پھیلانا شروع کیا تھا اس کے بعد مئی میں سابق وزیر اعظم کے خلاف بھی اتنے ہی نازیبا الزامات لگائے گئے جس کے نتیجے میں ان کے اور پیپلز پارٹی کے میڈیا ونگ کے مابین سوشل میڈیا پر تکرار کا تبادلہ جاری ہے اور اس کے بعد مزید غلاظت سامنے آرہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اپنی مذہبی شناخت کا بہت خیال کرتا ہے انہیں بغیر کسی سنسرشپ کے ٹیلی ویژن پر جو تفصیلات جاری کرنے کی اجازت دی گئی ایسا اجازت کے بغیرہونا ممکن ہی نہیں تھا۔</p><p>سنتھیا رچی کا دعویٰ ہے کہ وہ تقریباً 10 سال پہلے پاکستان آئی تھیں لیکن انہیں حقیقت میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے دور میں دو تین سال قبل شہرت ملنا شروع ہوئی تھی۔ تب ہی وہ سوشل میڈیا پر نہ صرف پاکستان کی اچھی شناخت کو متعارف کرا رہی تھیں بلکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کا بھی پیچھا کرنے لگی تھیں۔ آئی ایس پی آر ٹرولز کے گروپ میں ان کی بات چیت دیکھ کر میں نے انہیں بلاک کر دیا تھا۔ رچی ڈی جی آئی ایس پی آر کے بندوبست اور انوکھے انداز کے لئے موزوں تھیں جنہوں نے ایک گفتگو کے دوران اکیڈمک سکالرشپ کو فحاشی سے تعبیر کیا تھا۔</p><p>آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیم کا رچی کے ساتھ فطری رشتہ تھا جن کی مدد سے اس ادارے کو پاکستان کا مثبت امیج بنانے یا بیرون ملک اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کو عام کرنے کی ضرورت تھی۔ شاید رچی والا تجربہ نیا تھا کیونکہ ماضی میں اس مقصد کے لئے استعمال ہونے والی خواتین پاکستانی تھیں اور انہوں نے بہت سے کام انجام دیئے تھے، بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پیش کرنے سے لے کر غیر ملکی سفارت کاروں اور صحافیوں کو پھنسانے تک۔</p><p>2009-10 کے لگ بھگ پاکستانی تشہیر کی ضرورت پر بے حد زور دیا گیا۔ صحافی سے سفارتکار بننے والی ملیحہ لودھی نے ایک کتاب (پاکستان: ایک بحرانی ریاست سے آگے) لکھی جس میں انہوں نے پاکستان کی مثبت شناخت کی ضرورت کا تذکرہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ میجر جنرل غفور اس تجویز کے زبردست گرویدہ ہو گئے تھے اور زبردست طریقے سے اس پر عمل درآمد شروع کر چکے تھے۔ دسمبر 2016 تک جب انہوں نے آئی ایس پی آر کا چارج سنبھالا تو یہ ثابت کرنے کا بہت بڑا چیلنج تھا کہ پاکستان تنہا نہیں۔دیرینہ حریف بھارت نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی مہم چلائی تھی جس میں نریندر مودی حکومت ناکام ہوگئی تھی۔</p><p>آئی ایس پی آر کے لئے رچی حکمت عملی کا ایک نیا ورژن تھا جو پاک فوج کا پبلسٹی ونگ طویل عرصے سے استعمال کرتا آ رہا ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخر سے آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے سفید فام غیر ملکی تعلیمی ماہرین کے ساتھ تعلقات بڑھائے تاکہ انہیں فوج اور پاکستان کے بارے میں مثبت پیرائے میں لکھنے کی ترغیب دے سکیں۔ عام طور پر فوجی معلومات کے سلسلے میں پاکستانی ماہرین پر بھروسہ نہیں کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ ملک ریاست کے لئے اہم پہلوئوں پر تحقیق میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ خاص طور پر اسی سوچ کی وجہ سے بہت سارے معاملات پر ٹھوس تحقیق کی شدید کمی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ہندوستان کی نسبت بہت کم علمی مواد ملے گا۔ ریٹائرڈ سفارت کاروں کی فہرست تک رسائی حاصل کرنا بھی ناممکن ہے تاریخی دستاویزات کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔</p><p>اسٹیبلشمنٹ کو چند ایک مواقع پر دھوکے ملنے کے باوجود پاکستانیوں کے مقابلے میں سفید فام غیر ملکیوں پر بھروسہ کرنے کی حکمت عملی بدستور جاری ہے۔ اسی رویہ کے باعث ماہرین تعلیم ،میڈیا والوں اور (سنتھیا رچی کے معاملے میں) بے حیثیت لوگوں کے لئے اس امید پر معلومات، رقوم اور دیگر آسائشات کی بارش کی کہ اس سے ملک کے اندر اور عالمی سطح پر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں گے۔</p><p>تاہم رچی کا کام شاید اختلاف رائے کی تاثیر کو ختم کرنا یا کم کرنے میں مدد کرنا تھا اور نسبتاً خواندہ متوسط طبقے میں اس کے پھیلائو کا مقابلہ کرنا تھا۔ ماضی کے برعکس جب انگریزی اخبارات ، جرائد یا رائے پر مبنی مضامین کو نظر انداز کیا جاتا تھا آئی ایس پی آر اب ہر زبان میں متبادل نظریات کا مقابلہ کرنے میں پوری طرح مصروف ہے۔</p><p>لگتا ہے کہ رچی کو بھی فوج کی طرح پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور پی پی پی سے نفرت ہے جن کے خلاف وہ تقریباً ایک سال سے صف آرا ہیں۔ اگرچہ پی ٹی ایم قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمام فورموں پر فوج مخالف اور اسے بدنام کر رہی ہے، لگتا ہے کہ پی پی پی پاک فوج کا نیا چھوٹا سا جنون ہے۔</p><p>ان دو حقائق کے باوجود کہ پیپلز پارٹی کے خلاف فوج کی نفرت 1970 کے دہائی کے وسط سے جاری ہے اور اس سے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو کوئی خطرہ بھی نہیں ہے اس کی موجودہ ناراضگی1973 کے آئین میں 2010 کے دوران کی جانے والی 18 ویں ترمیم کو منظور کرنے میں پیپلز پارٹی کے کردارکی وجہ سے دکھائی دیتی ہے۔ اس سے صوبوں کو مالی خود مختاری مل گئی ہے اور اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ وفاقی حکومت کے پیسوں کے حصے میں بھی کمی واقع ہوئی ہے یہ ایسا اختیار ہے جس کا براہ راست اثر مسلح افواج پر پڑتا ہے خاص طور پر کورونا وائرس پھیلنے کے بعد یہ اثر کچھ زیادہ ہی محسوس کیا گیا ہے۔</p><p>2019 میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے 18 ویں ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شیخ مجیب کے چھ نکاتی فارمولے کے مترادف قرار دیا تھا جو فوج کے جی ایچ کیو کی نظر میں پاکستان کے ٹوٹنے کا باعث بنے تھے۔ ترمیم کی خالق ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی اس کو ختم کرنے کی منظوری نہیں دے سکتی۔ پارٹی کی فطری کمزوری کے باوجود وہ سمجھوتہ کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے اپنے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حمایت مزید کمزور ہو جائے گی۔</p><p>حال ہی میں مایوسی کا شکار فوج نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی شرائط میں تبدیلی لا کر قومی وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں ردوبدل کرنے کے تصور سے چھیڑ چھاڑ شروع کی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے وفاقی حکومت اور ریاست کے چار صوبے فنڈز کی تقسیم پر اتفاق کرتے ہیں۔ عمران خان حکومت نے اب 10 ویں این ایف سی ایوارڈ کی شرائط کے حوالہ (ٹی او آر) میں ایک متنازعہ معاملہ کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ صوبائی حکومتوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) کے اخراجات کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائیں جس کا مطلب اے جے کے / جی بی کو این ایف سی ٹیبل پر نشست دینا ہے۔</p><p>اگرچہ اس اقدام کے پیچھے کار فرما سوچ وفاقی حکومت کے لئے کچھ مالی سہولت پیدا کرنا ہے لیکن اس کے سیاسی مضمرات دور رس ہیں۔ نظریاتی طور پر اے جے کے/ جی بی کو این ایف سی میں بیٹھنے کی اجازت دینے کا مطلب ایک ایسے علاقے کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرنا ہے جسے اب تک پاکستان سے باہر سمجھا جاتا رہا ہے۔ حال ہی میں پی پی پی کے بلاول بھٹو نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی کہ ایسا کرتے ہوئے اسلام آباد ہندوستان کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے رہا ہے اور تجویز دی جا رہی ہے کہ ادھر ہم ادھر تم۔</p><p>جن ماہرین سے میں نے بات کی تھی ان کا خیال تھا کہ این ایف سی پر بحث اب کئی مہینوں کے لئے تاخیر کا شکار ہو چکی ہے اور شاید فوج ابھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک وسائل نہ ملنے کے باعث مایوسی کا شکار فوجی جو اپنے اخراجات کی تفصیلات شیئر کرنے کے لئے نہیں جانے جاتے وہ مزید پریشان ہوسکتے ہیں اور رچی اور اس قسم کی مزید عورتوں کے ذریعے زیادہ طوفان کھڑا کیا جا سکتا ہے۔</p><p>&nbsp;</p>



مذہبی رجحانات کی کروٹیں

7 months ago


مولوی،عوام اوراشرافیہ کے درمیان تعلق کی مختلف جہتیں

<p>&nbsp;</p><p>جس نے جمال الدین افغانی، حسن البناءیا مولانا ابوالاعلی مودودی کو پڑھا ہے وہ طارق جمیل کو مولانا کہتے ہوئے ہچکچائے گا۔ طاہر اشرفی جو طارق جمیل سے زیادہ متاثر نہیں انہیں خطیب کہتے ہیں۔ طارق جمیل اسی وصف پر پورا اترتے ہیں اور انہیں خطیب کہنا ہی زیادہ موزوں ہے۔ ہم اوّل الذکر اسلامی علماءسے متفق ہوں یا ان سے اختلاف کریں لیکن کوئی بھی ان کی علمی خدمات سے انکار نہیں کر سکتا جبکہ طارق جمیل نے ہمارے اسلام کے علم میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔</p><p>میرا طارق جمیل سے تعارف 2013 میں حج کی ادائیگی کے دوران ہوا۔ میرے حج کے منتظم نے جنید جمشید کے ساتھ طارق جمیل کو بھی اجرت پر ساتھ لے لیا تاکہ وہ میدان عرفات میں مبلغ کے فرائض سر انجام دیں۔ مسلمانوں کا کامل عقیدہ ہے کہ میدان عرفات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ پہلی دفعہ سننے میں مجھے طارق جمیل دوسرے ملائوں کی نسبت کچھ وسیع القلب لگے۔</p><p>میدان عرفات میں آنسوئوں کی جھڑی کے ساتھ مولانا نے بیان کیا کہ بہوکے فرائض میں یہ نہیں کہ وہ اپنے سسر یا ساس کو مانگنے پر پانی پلائے جبکہ یہ بیٹے کا فریضہ ہے۔ ہاں اخلاص میں بہو ایسا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا شوہر کا فرض ہے کہ بچے کو دودہ پلانے کیلئے دائی کا انتظام کرے کیونکہ بچے کو دودھ پلانا بیوی کے فرائض منصبی میں شامل نہیں۔ ایسا لگا کہ وہ روایتی ادوار کو جدید طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔ اسی دوران بہت سی نوجوان خواتین طارق جمیل کی گفتگو کی طرف متوجہ ہوئیں۔</p><p>پاکستان واپس آنے پر میں نے خالد مسعود ( سابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ اور اسلام پر چند مستند کتابوں کے مصنف) سے طارق جمیل کے بیان کی وضاحت چاہی۔ ان کے مطابق وہ روایت جس کا موصوف نے حوالہ دیا عورت کو با اختیار کرنے کی بابت نہیں بلکہ شادی کے عقد کا حصہ ہے۔ مباشرت کے بدلے عورت کو چند حقوق حاصل ہیں جس میں خاوند کے خاندان کی دیکھ بھال اس کے فرائض میں شامل نہیں لیکن اس روایت کے مطابق عورت کی صحت اور تندرستی اس کا اپنا ذمہ ہے۔</p><p>اس میں کوئی شک نہیں کہ طارق جمیل اچھے داستان گو ہیں جیسا کہ کبھی چھوٹے اور خوابیدہ قصبات میں پائے جاتے تھے۔ ان کا فن یہ ہے کہ قصے کہانیوں سے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا جائے بلکہ یوں کہنا مناسب ہے کہ مولانا کے بتائے ہوئے اسلام کی طرف مائل کیا جائے۔ گو ان کی گفتگومیں اسلامی روایت کا ذکر ہوتا ہے لیکن اس میں گہری علمی بات نہیں ہوتی بلکہ جیسے پان شاپس پراکٹھے ہوئے لوگوں کی گفتگو۔</p><p>فن خطابت اور شاندار یادداشت کی بدولت وہ ان کہانیوں جو کہ شاید انہوں نے تبلیغی جماعت کے نصاب میں شامل قصص البیان میں پڑھی ہیں حافظہ کے زور پہ دوہرا سکتے ہیں اور روانی سے آدم سے لیکر محمد کے بیچ کے تمام آباءکے نام بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرا محمد کے زندگی کے واقعات کو ڈرامائی انداز میں بیان بھی کرتے ہیں جو کہ اگر عام آدمی کرے تو اس پر توہین رسالت کا الزام لگ جائے۔</p><p>حج کے دوران طارق جمیل کی سیلز مین شپ کا مشاہدہ کرنے کا موقعہ ملا۔ انہی کی طرح عامر لیاقت حسین بھی ایک اور حج منتظم کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ ان مولانا حضرات کے ذمہ حاجیوں کے جذبات کو پر سوز کرنا تھا تاکہ وہ جذباتی ہو کر کچھ آنسو بہا لیں اور یوں شاید انہیں اپنے پیسوں کے حلال کرنے کا احساس ہو سکے۔( یہ خواص کا گروپ وی آئی پی اور ڈیلکس حج کرواتا ہے جس پر تقریباً 1.5 ملین پاکستانی روپے لاگت آتی ہے۔) حج کے دوران یہ اندازہ ہوا کہ طارق جمیل غریب اور کم آمدنی والے حجاج کو اپنے خطاب سے نوازنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔</p><p>بعد میں میرے جنوبی پنجاب کے کچھ دوستوں کی بابت معلوم ہوا کہ کس طرح مبینہ طور پہ طارق جمیل نے اپنے آبائی قصبے تلمبہ سے گانے والیوں ، موسیقاروں اور رقاصائوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کیا اور اس جگہ اپنی جائیداد بنائی۔ اس لئے تعجب نہیں کہ مولانا کوعورت کے برہنہ جسم اور جنسی کارکنوں سے نفرت ہے۔</p><p>ان سطروں کو لکھتے ہوئے مجھے جنوبی پنجاب میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی پراپنی تحقیق کے دوران کے دن یاد آگئے۔ نوجوانوں کی بصیرت کو قریب سے جانچنے کا ایک پیمانہ یہ بھی تھا کہ ان کے نظریات کو سمجھا جائے۔ تحقیق کا محور جنوبی پنجاب اور خاص کرکے ملتان تھا جو طارق جمیل کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ نوجوانوں سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ ان کا آئیڈیل کون ہے اور جان کر صدمہ ہوا کہ نوجوان کوئی آئیڈیل نہیں رکھتے تھے اور ان میں مدرسوں کے طلباءبھی شامل تھے۔ یہ نتیجہ اس بات کا ثبوت تھا کہ تاریخ اسلام کو بنیادی طور پرپڑھایا ہی نہیں جاتا تاریخ اسلام کو عقلی بنیادوں پہ پرکھنے کی بات تو چھوڑئیے۔</p><p>ہمارا مسئلہ طارق جمیل جیسے لوگ نہیں کیونکہ انہوں نے اپنی بنیاد پرستی کو چھپایا نہیں۔ دراصل یہ مسئلہ معاشرے اور ریاست کا ہے جنہیں ہر صورت مولوی اور مذہب کا بیانیہ چاہئے۔ طارق جمیل اور ان جیسے بہت سے دیگر اشخاص ایک اچھے دکاندارکی طرح ہیں جو جانتے ہیں کہ معاشرے کو مذہب کی کتنی ضرورت ہے اور یہاں بات غریب عوام کی ضرورت کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے متوسط طبقے کی ہے۔وہ یہ جانتے ہیں کہ معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ جو کہ خطابت کی قیمت ادا کر سکتا ہے صحیح اسلام کی تلاش میں ہے ۔ صحیح اسلام وہ ہے جو حسب ذائقہ اور حسب ضرورت اپنایا جا سکے۔</p><p>دیکھنے میں طارق جمیل کھلے ذہن کے آدمی لگتے ہیں اس لئے ان کے سامعین مولانا کی قدامت پرستی کو سمجھنے سے قاصر ہیں بالکل جیسے وہ مولوی طاہر اشرفی کی بنیاد پرستی سمجھ نہیں پاتے۔ بہت سارے پڑ ھے لکھے اور لبرل طاہر اشرفی سے اس لئے محبت کرنے لگے تھے کہ وہ سلمان تاثیر کے حق میں بولے۔ لوگوں کو یہ سمجھ ہی نہ آئی کہ باقی اوقات میں طاہر اشرفی اور بہت کچھ کہتے اور بیچتے ہیں۔</p><p>طارق جمیل کا فن یہ ہے کہ وہ کوک سٹوڈیو کی طرح شریعت کو نیا کرکے لوگوں کو اس طرف راغب کرتے ہیں اور درگزر کی بات کرتے ہیں تاکہ لوگ مذہب کی طرف مائل ہوں۔ یہ وہی طرز عمل ہے جو کچھ صوفیوں جیسے بہائوالدین زکریا نے اپنایا تھا اور بہائوالدین زکریا کی طرح طارق جمیل میں یہ صلاحیت ہے کہ ایوان اقتدار میں اثر و رسوخ رکھیں اور ان کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اتنے تو وسیع القلب ہیں کہ تفرقہ پرستی کی بات نہیں کرتے۔ خواتین کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کے حقوق بے شمار ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ خاوند کے جسم پر اگر بے شمار زخم بھی ہوں اور وہ بیوی کو ان کو چاٹنے کو کہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ان کو چاٹے۔</p><p>ان کا ایک پسندیدہ موضوع مشترکہ خاندانی نظام بھی ہے۔ وہ اکثر کہتے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظام شادیوں کو ناکام بنا رہا ہے کیونکہ دولہا کے والدین دلہن سے زیادتی کرتے ہیں لیکن ایک ہی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں خاموشی سے یہ سب برداشت کریں اور جب ان سے زیادتی ہو وہ اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائیں کیونکہ”خاموشی سے بہتر کوئی اور عمل دل نہیں جیت سکتا۔“</p><p>مگر طارق جمیل کا جادو اس لئے ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ معاشرے کو کیا بات سننے کی ضرورت ہے۔ اصل قضیہ بطور ریاست اور معاشرے کے ہمارے طرز عمل اور ترجیحات کا ہے۔ اس بات پر تو بحث ہوسکتی ہے کہ نظریہ پاکستان کی بنیاد تھیوکریسی تھی یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ برصغیر کے مسلمان اپنی ثقافتی قدروں کے مطابق آزادی سے رہ سکیں۔ مذہبی عقائد بھی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں۔</p><p>ہم جتنا بھی جناح کے مغربی رہن سہن رکھنے والی ، سگار اور شراب پینے والی شخصیت کو اجا گر کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ ریاست اور اسکی ثقافت کے بنیادی اصول مذہبی اقدار پر مبنی تھے نہ کہ مغربی جدیدیت پر۔ مذہب کے ساتھ جڑی ہوئی ثقافتی اقدار اور مغربی جدیدیت میں بہت فرق ہے۔ تاریخی طور پر مغربی سیاست اور معاشرتی نظام نے بے شمار جنگیں لڑ کر یہ اخذ کیا کہ خلافت ملوکیت پیدا کرتی ہے۔ ان معاشروں میں مذہب تو ہے لیکن سائنس اور عقلیت پسندی کو ترجیح دی جاتی ہے۔</p><p>پاکستان کے ریاست سازی کے ابتدائی دنوں میں اسلامی ریاست بنانے کی کوشش تیز ہو گئی تھی۔ بہت سے زعما ءکا جس میں محمد علی جناح بھی شامل تھے اسلامی ریاست بنانے کا اپنا اپنا تصور تھا مثلاً جماعت احرار کا اصرار تھا کہ سر ظفر اللہ خان جو ایک احمدی تھے کی وزیر خارجہ کے اعلیٰ عہدے پر تعیناتی نہیں ہونی چاہئے۔ دوسری طرف سر ظفر اللہ خان نے اپنی 12مارچ 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ دوران بحث عیسائی اور ہندو اراکین کی بھر پور مذمت ہوئی جو 1949 کی قرارداد مقاصد کی منظوری کی مخالفت کر رہے تھے۔</p><p>چاہے ہر کسی کا اپنا تصور کیوں نہ ہو بہرحال ریاست کی بنیاد جدیدیت پرقائم نہیں ہوئی تھی۔ در حقیقت پاکستان میں جدیدیت کا تصور تصوراتی کی بجائے مادی ہے اور یہ صورت حال آج کے ہندوستان کے تصور جدیدیت سے زیادہ مختلف نہیں۔ ہندوستان میں سالوں کی سیکولر سیاست دائیں بازو کے مذہبی جوش و خروش کو کم کرنے یا اسے اقتدار میں آنے سے نہ روک سکی۔</p><p>مغربی جدیدیت جو برصغیرکی قومی ریاستوں کے قیام کا سبب تھی وہاں کی معاشرتی زندگی کا حصہ نہ بن سکی ۔ بس شروع کی دہائیوں میں اتنا حصہ ضرور تھا کہ زیادہ تر حکمران اشرافیہ کا تعلق شہری زندگی سے تھا اور ان کی طرز زندگی میں مغربی ثقافت کی جھلک تھی۔ سو محمد علی جناح سے لیکر عمران خان تک ہمیں اکثر لیڈروں میں مغربی طرز زندگی تو نظر آتی ہے لیکن بات اس سے آگے بڑھ نہیں پاتی۔</p><p>پاکستان اپنے قیام سے ہی اشرافیہ کے کم از کم پانچ ادوار سے گزرا۔ ہر آنے والی نسل اپنی مقامی ثقافت میں گندھی ہوئی تھی جس کا فاصلہ مغربی روایت سے بتدریج کم ہوتا گیا۔ کس طرح مختلف نسلیں اپنے ارد گرد کا حصہ بنتی ہیں ہمیں سٹیفن کوہن کی پاکستان پر لکھی کتاب سے اس نسلی تبدیلی کی سوجھ بوجھ ملتی ہے۔</p><p>مثال کے طور پر امریکی ماہر سیاسیات سٹیفن کوہن کے بقول فوجی آفیسرز میں کس طرح کی تبدیلی آئی کہ جب سینڈ ہرسٹ اور امریکہ کی اکیڈمیوں کی بجائے وہ ملٹری اکیڈمی کا کول سے تیار ہونا شروع ہوئے۔ جنرل ضیاالحق کا کول اکیڈمی میں پروان چڑھنے والے آفیسرز کی پہلی کھیپ میں سے ایک تھے۔</p><p>سیاسی اور معاشرتی رول میں ایسے لوگ بھی آگے آنا شروع ہوئے جن کا مغرب سے تعلق کم سے کم ہوتا گیا۔اسی دوران ریاست بھی بتدریج مذہبی ہوتی گئی کیونکہ اشرافیہ معاشرے میں رائج مذہبی اقدار و ثقافت کے اظہار کے متبادل ذرائع نہ ڈھونڈ سکی۔ جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر رکھنے والے ڈیوڈ گل مارٹن کے مطابق پنجاب کے پیروں اور گدی نشینوں نے اس شرط پر کہ اگر وہ اسلامی ریاست کے قیام کا عہد کریں گے جناح کی حمایت کا فیصلہ کیا۔</p><p>پاکستان کی تاریخ کے باب میں اس دور کو بھی ذہن میں لانا ہوگا جب معاشرہ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑی گئی افغان جنگ کے دوران بتدریج انتہا پسندی کی طرف بڑھنے لگا۔ اس جنگ نے مذہب کو معاشرے کی رگوں میں زیادہ پیوست کردیا۔ رہی سہی کسر اس ذہنی نشوو نما نے پوری کی جس کی نمو نسیم حجازی، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد نے کی۔ اس طرح اسلام اور تصوف کو تعلیم یافتہ متوسط طبقے کی ذہنی نشو نما اور ان کے ذہنوں میں قدامت پرستی کے بیج بونے کیلئے استعمال کیا گیا۔</p><p>اس سے بڑہ کر مسئلہ یہ تھا کہ آزاد خیال دانشور یہ سمجھ ہی نہ پائے کہ معاشرے کو جدید بنانے کیلئے کچھ حد تک مقامی ثقافت سے جڑنا پڑے گا۔</p><p>اس مسئلہ کا ادراک کمیونسٹ لیڈردادا امیر حیدر کو ہوا جنہوں نے اسلام کی تاریخ سے سوشلزم کی پیچیدگیوں کی مذہبی بنیادوں پر تشریح کرنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے ان کی سوشلزم کے نظریات میں مقامی روح ڈالنے کی کوشش سٹالن ازم کے شور میں دب گئی۔</p><p>ایسے وقت میں ہم نے دیکھا کہ ثقافت سے اور روایتیں بھی دم توڑنے لگیں جیسا کے کہانی سنانے کی روایت ۔ ہمارے ہاں ایسے قصہ گو بھی رہے ہیں جو شہر زاد کی بادشاہ شہریار کو سنائی گئی کہانیوں کی طرح سننے والوں کو دم بخود کر دیتے اور پھر نقل مکانی کی لہر جس نے لوگوں کو اپنی روایتوں سے بچھڑ جانے پر مجبور کردیا۔</p><p>سنہ1970 کی دہائی میں مشرق وسطیٰ کی طرف اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کی جو مشرق وسطیٰ سے واپس آئے وہ اپنے ساتھ مذہبی رجحانات بھی لائے جو مقامی ثقافت سے میل نہیں کھاتے تھے اور جو دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر کے آئے ان کیلئے دوستانہ ماحول کے غیر مذہبی معاشرتی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے مساجد واحد وسیلہ بن گئیں جن کے ساتھ ان کا جذباتی اور روحانی لگائو پیدا ہوا۔</p><p>وہ نقطہ جسے میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں متبادل بیانیے کا فقدان رہا ہے کہ جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراسکے اور لوگوں کو عقلی بنیادوں پر زندگی گزارنے یا مذہب کو سمجھنے میں مدد کرے۔ لوگوں کی توجہ قدامت پرست نظریات سے اس وقت تک نہیں ہٹائی جاسکتی جب تک لوگ متبادل بیانیے کیلئے مقامی ثقافت کا سہارا نہ لیں۔ &nbsp;</p><p>اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی ثقافت کے اس رخ کو جو کہ مذاہب کے باوجود پنپ رہا ہو اس کی تمیز کی جاسکے۔ برصغیر کے معاشرے جدید نہیں ہیں۔ مذہبی اور روز مرہ کی زندگی قدامت پرستی کے سائے میں مضبوطی سے پروان چڑھنے کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ متبادل بیانیے کا نہ ہونا ہے جو کہ ثقافت سے جڑا ہوا ہو۔ ہمارے ہاں یا تو مذہب کو مکمل طور پر گلے لگایا جاتا ہے یا پھر اسے یکسر مسترد کردیا جاتا ہے۔ ثقافت سے جڑا جدید عقل پرستی کی طرف معاشرے کا سفر یا تو پر خار رہا یا پھر اس کا آغاز ہی نہیں ہوسکا۔</p><p>پاکستان میں مذہبی ثقافت صرف اس لئے نہیں پنپ رہی کہ اس کا تعلق صرف عام لوگوں کے عقائد ہی نہیں بلکہ اشرافیہ کی ضرورت بھی ہے جس کی وجہ سے جدیدیت آگے بڑھ نہیں سکی۔اس کے باوجود کہ اشرافیہ بدستور مغربی تعلیم حاصل کرتی ہے اور طاقت ور نوکر شاہی کی بنیاد بھی مغربی ڈھانچے پر ہے۔ صاحب اقتدار لوگوں کے ثقافتی میل جول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اشرافیہ اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے کبھی جدیدیت اور کبھی مذہب کا اپنی سہولت کے مطابق سہارا لیتی رہی ہے۔</p><p>ہر زمانے میں مذہب کو ریاستی اداروں میں داخل کیا گیا جسکا نتیجہ ریاست کیلئے کبھی کبھا ر تبا ہ کن ثابت ہوا جس کی واضح مثال 2دسمبر 2003 کا مشرف پر قاتلانہ حملہ ہے جس میں جیش محمد ملوث تھی۔ ایک سینئر پولیس آفیسر کے مطابق تفتیش کار اس خوف کا شکار ہو گئے کہ مسعود اظہر کے شدید اثرات کی وجہ سے شاید بہت سے ایئر فورس کے آفیسرز کی چھٹی کرانی پڑے۔ اس حملے سے پہلے مسعود اظہر کو ایئر فورس میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی خوب اجازت دی گئی تھی۔ &nbsp;</p><p>جب دہشت پسند ملائیت سے نقصان پہنچا تو حکمرانوں کی توجہ اور قسم کے ملاﺅں پر پڑی جو کہ بظاہر کم شدت پسند لیکن مذہبی تھے اور جدیدیت کے تقاضوں سے محروم۔ یہ وہی زمانہ ہے کہ الہدیٰ کی فرحت ہاشمی کیلئے ایئر فورس بیسز اور ایوان صدر کے دروازے کھول دیئے گئے۔ جب فاروق لغاری صدر تھے تو فرحت ہاشمی کو اکثر ایوان صدر اور فاروق لغاری کے آبائی مسکن چوٹی زیریں میں مدعو کیا جاتا۔</p><p>انہی دنوں کی بات ہے کہ طارق جمیل کا ستارہ بھی چمکنے لگا اور ان کو سینئر پولیس آفیسرز ، دوسرے محکموں کے سربراہان اور اشرفیہ کے دوسرے لوگ اپنے ہاں مدعو کرنے لگے جو صورت ریاست اور اسکی اشرافیہ نے بنائی طارق جمیل تو اسکا ایک چھوٹا سا رخ ہیں۔</p><p>معاشرتی اور سیاسی اشرافیہ سے تعلق کی وجہ سے مذہبی اور بنیاد پرست قوتیں معاشرے میں اپنا ایک مستقل حوالہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ صوفی ازم اور بریلویت سے لیکر دیو بندی اور اہل حدیث سب کا اثر معاشرے میں بتدریج بڑھا۔ بے نظیر کی پیر آف گولڑہ شریف اور بری امام کی زیارتوں پر جانا ہمارے حال ہی کے تاریخ کا حصہ ہیں۔ &nbsp;</p><p>پیروں کے مزارات روحانی سکون پہچانے کے علاوہ محترمہ اور دیگر سیاستدانوں کے اسٹیبلشمینٹ سے روابط کیلئے خفیہ ذرائع بھی ثابت ہوئے۔ ان مزارات کی اہمیت جاننے کے بعد ہی ضیاالحق نے اسلام آباد میں بری امام کے سجادہ نشین کی تبدیلی میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ موجودہ سجادہ نشین کو 1980 کی دہائی میں گدی سونپی گئی۔ بالکل اسی طرح رائےونڈ کے تبلیغی جماعت کے مرکز کو اہمیت ملتی چلی گئی جس کی وجہ سے نواز شریف ، عمران خان اور بہت سے سول و عسکری اداروں کے سربراہ اس کے سالانہ اجتماعات میں شرکت کرنے لگے۔</p><p>انہی دنوں میں ایک اور نوع کے مذہبی عناصر پاکستان کے منظرنامے پر اجاگر ہونے لگے۔ جن کے پاس مزاروں کی وراثت تو نہیں تھی لیکن وہ صلاحیت پیدا کر چکے تھے کہ لوگوں کو مذہب کا ایک اور روپ دیکھانے کے بہانے اقتدار کے ایوانوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرسکیں۔ گویا مذہب اس چھتری کی طرح تھا جس کے نیچے لوگ خاص کر کے جن کا تعلق پڑ ھے لکھے طبقے اور اشرافیہ سے ہے اکٹھے ہو جاتے۔</p><p>یہ مذہبی عناصر ایوان اقتدار میں اپنی رسائی کیوجہ سے لوگوں کو مرعوب کرتے ہیں اور اکثر داد رسی کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ یہ وہی طرز ہے جو کہ کبھی جاگیردار سلطنت مغلیہ اور اس کے بعد سلطنت برطانیہ کے اہل کاروں کے ساتھ اپنایا کرتے تھے۔ داد رسی مہیا کرنے سے معاشرے میں بھی ان کی طاقت بڑھتی ہے۔</p><p>جوطارق جمیل کے رسوخ کیوجہ سے فکر مند ہیں انہیں پروفیسر رفیق اختر جیسے لوگوں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ وہ ٹیچر تھے جنہوں نے علم العداد اور چہرہ شناسی میں مہارت حاصل کی اور گوجر خان کو اپنا مرکز بنایا کیونکہ ان کا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں اس طرح وہ بہت سے جنرلوں، افسر شاہی کے نمایاں کارندوں اور بہت سے دیگر بااثر لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔</p><p>شروعات میں لوگ پروفیسر اختر کے پاس اپنے ذاتی کاموں جیسے تقرری، ترقی، محبت، شادی اور دیگر ذاتی مسائل کیلئے جانے لگے کیونک وہاں بااثر اور صاحب اقتدار لوگوں کا آنا جانا بھی لگا رہتا تو کبھی کبھار لوگوں کے ذاتی مسائل کا حل بھی مل جاتا۔ شرط صرف یہ ہے کہ پروفیسر اختر کی نگاہ کرم آپ پر کب پڑے اور آپ کا سفارشی کون ہے۔</p><p>چونکہ نامی گرامی جنرل اور با رسوخ سیاستدانوں کا وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ ان کے آستانے پرحاضری ان کے مسائل کا حل ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ آئی ایس پی آر کے آفسران کی سفارش پر پروفیسر اختر نے چند لوگوں کو سیاسی پارٹیوں سے متعارف کرایا اور انہیں الیکشن لڑنے کےلئے ٹکٹ بھی دلوایا لیکن پروفیسر اختر کے اڈے پر جمع ہونے کا سب سے اچھا بہانہ خاص کر کے صاحب اقتدار کیلئے یہ ہے کہ وہاں انہیں اسلام کو ایک جدید روپ ڈھالنے کی بحث سننے کو ملتی ہے۔ ویسے بھی پروفیسر صاحب ایک ماڈرن آدمی دکھتے ہیں وہ یونان ، رومن اور مغربی تواریخ کے حوالے دیتے ہیں، مغربی لباس پہنتے ہیں اور اپنی گفتگو میں انگریزی زبان کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے اور طارق جمیل کے بیانیے میں کوئی خاص فرق نہیں ۔ پروفیسر رفیق اختر کی جدیدیت پتلون پہن کر نماز پڑھنے تک محدود ہے لیکن وہ مذہبی افکار میں جدیدیت لانے کی سوچ سے عاری ہیں۔</p><p>رفیق اختر کی خاصیت یہ ہے کہ ان کو متوسط طبقے اور اشرافیہ کی ضرورت کی سمجھ آ گئی ہے یعنی کہ مذہب کو جدید طرز سے دیکھنے کی کوشش۔ ان کا بیان کرنے کا انداز ان کے ان سامعین کیلئے اطمینان کا باعث ہے جو معاشرتی جدیدیت اور مذہبی میل جول میں سے کسی ایک کا فیصلہ نہیں کر پا رہے اور یوں رفیق اختر کا انداز بیان ان کیلئے سکھ کا سانس لاتا ہے۔</p><p>پروفیسر رفیق اختر اور جاوید غامدی 9/11 کے واقعے کے بعد منظر عام پر نمودار ہوئے( نمودار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پہلے سے موجود نہیں تھے بلکہ یہ 9/11 کے بعد ابھر کے سامنے آئے) اور اپنی اپنی جگہ اشرافیہ کی ایک ایسے اسلام کی تلاش میں معاون ثابت ہوئے جسے شدت پسندی سے دور سمجھا جا سکتا ہے گو کہ پروفیسر جاوید غامدی ایک منجھے ہوئے عالم ہیں اور اپنی ساکھ کیلئے کسی بااثر طبقے کا سہارا نہیں لیتے لیکن متوسط طبقے اور اشرافیہ کی نظر میں دونوں کی وجہ ضرورت ایک جیسی ہے۔</p><p>پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان میں ایسے اسلام کی تلاش رہی ہے جو موجودہ حالات کے تقاضوں کے متقاضی ہو۔ علمی مباحث ثقافتوں کی ترویج کیلئے ضروری ہوتے ہیں لیکن خود ساختہ معاشی و سیاسی عدم استحکا م اور مذہب کو صرف اقتدار کی استقامت کیلئے استعمال کی وجہ سے اس میں فطری ارتقائی عمل رک جاتا ہے۔</p><p>اشرافیہ کا صحیح اسلام کا مسئلہ یہی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی محفلوں میں ایک عمل پسند انہ اسلام کی ترویج چاہتے ہیں لیکن عام آدمی کے درمیان وہ مذہب کا درجہ حرارت اپنی مرضی سے اور اپنی ضرورت کے مطابق اونچا یا نیچا کرتے ہیں یعنی کہ جب امن کی ضرورت پڑے تو امن اور جب دہشت چاہیے تو دہشت۔</p>