عمران خان صاحب کسان کا سوچیں

محمدارسلان
کالم نگار

3 weeks ago


چھوٹے کسان کی دادرسی کئے بغیر گزارہ نہیں ہو گا

ویسے تو خان صاحب جس بھی چیز کا نوٹس لیتے ہیں اس میں بہتری کی بجائے مزید بگاڑ ہی جنم لیتا ہے پر پھر بھی خان صاحب سے دست بدستہ گزارش ہے کہ اپنے کسان اور خاص طور پر چھوٹے کسان کی حالت زار کا نوٹس لیں۔اس کی داد رسی کریں ایسا نہ ہو کہ یو ٹرن لینے میں دیر ہو جائے۔  

ایسا نہیں ہے کہ کسان اس پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے بہت بہتر حالات میں تھے اور اب ان کی حالت ایسی ہوئی ہے لیکن اوروں کی طرح کسانوں کو بھی امید تھی کہ تبدیلی سرکار ان کے حالات میں بھی تبدیلی کا باعث بنے گی۔ زراعت کاشعبہ جو ہمیشہ پاکستان کی جی ڈی پی میں سب سے بڑا حصہ دار رہا ہے مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔

پاکستان کی معاشی ترقی کو ممکن بنانے کی کوششوں میں صنعتوں کوبے تحاشہ مراعات دی گئیں اور ہر طرح سے سپورٹ کیا گیا ۔ کبھی ٹیکسوں میں ریلیف تو کبھی سبسڈی کے نام پر مراعات۔ کبھی گیس بجلی کی بلا تعطل وافر فراہمی کے مطالبوں کو پوار کیا گیا تو کبھی صنعتی برآمدات کو بڑھانے کے لئے روپے کی قدرمیں کمی جیسے اقدامات کا سہارا بھی لیا گیا۔ اس کے مقابلے میں زراعت کو کیا ملا ؟ چھوٹا کسان جو کہ زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس کی حالت بہتر بنانے کے لئے نہ پچھلی حکومتوں نے طرح توجہ دی جس کے وہ مستحق تھے اور نہ ہی اس حکومت کے پاس کوئی ایسا روڈ میپ ہے جو اس کی حالت کو تبدیل کر سکے۔ کبھی وہ شوگر مافیا کے رحم وکرم پر ہوتا ہے اور کبھی آڑھتی مافیا کے اور اب حکومتی مشینری اس کے خلاف کام کر رہی ہے اور اس کی تازہ مثال گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات میں چھوٹے کسان کے ساتھ ہونے والے اقدامات کی ہے جہاں ان پرگندم کی ذخیرہ اندوزی کے نام پر مقدمات کا اندراج تک کیا گیاہے۔ بڑی صنعتوں نے بجلی کے بلوں کی مدمیں کروڑوں دینے ہیں ان کی بجلی کاٹتے وقت تو موت پڑتی ہے لیکن کسان اگرٹیوب ویل کا پانچ ہزار کا بل جمع کرانے میں دو دن کی تاخیر کر دے تو ٹرانسفارمر تک اتار لیا جاتا ہے جس کے پیسے بھی کسان نے دیئے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ٹڈی دل کی حالیہ یلغار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ٹڈی دل نے چھوٹے کسانوں کی کھڑی فصلیں تباہی کر دی ہیں۔ ایسے وقت میں یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کے لئے بھی اسی طرح کے پیکج کا اعلان کرے جیساکہ کنسٹرکشن انڈسری کے لئے کیا گیا ہے۔ ان کے لئے بھی اسی طرح کی سبسڈی اور مراعات کا اعلان کیا جائے جیسا کہ صنعتی شعبے کے لئے کیاجاتا رہا ہے۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور جس رفتار سے پاکستان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں چھوٹے کسان کی دادرسی کئے بغیر گزارہ نہیں ہو گا۔ اگر کسان کے اپنے گھر میں کھانے کو نہیں ہوگا تو آنے والے دنوں میں اس آبادی کو کھلانا داخلی طور پر بالکل ہی ناممکن ہو جائے گا۔ حالات اس وقت حکومت سے فوری ایکشن کے متقاضی ہیں ایسا ایکشن جو کسان کو بہتری کی طرف لے جائے نہ کہ ایسا ایکشن جو خان صاحب لیتے ہیں اور بعد میں اس پر لطیفے بنتے ہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

عطار کا لونڈا اور مریض
عمران صاحب، وقت گزر رہا ہے