کیارچی بس ایک ہی تھی یااوربھی ہونگی

عائشہ صدیقہ
کالم نگار

1 month ago


پیپلزپارٹی رہنمائوں پرالزامات کو18ویں ترمیم کی عینک سے دیکھناکیساہے

بھارتی میڈیا چین کے مسئلے میں الجھا ہوا ہے اور پاکستان کے میڈیا کو سنتھیا کے مسئلے نے پریشان کر رکھا ہے۔ پاکستان میں مقیم ایک امریکی خاتون سنتھیا ڈیوڈ رچی کے پاکستان پیپلز پارٹی یا پیپلز پارٹی کے متعدد رہنمائوں پر مبینہ طور پر جنسی استحصال کرنے کے الزامات کی شہ سرخیاں بن رہی ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ سنتھیا رچی کون ہے؟ الیکٹرانک سے لے کر سوشل میڈیا تک رچی کے باعث سب اپنی سکرینوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔

میڈیا جو ویسے تو بہت حد تک کنٹرول ہے لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ امریکی خاتون اور اس کے مبینہ جنسی استحصال کی تفصیلات کو بہت تشہیر مل رہی ہے خاص طور پر ان اینکروں سے جو اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ اس کی کچھ کہانیوں میں صداقت ہوسکتی ہیں لیکن رچی کی کہانی جاگیردارانہ ذہنیت والے مردوں کی طرف سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مخصوص پارٹی کو بدنام کرنے کے لئے ہے اور عمران خان کی حکومت کی طرف سے کووڈ 19 بحران سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک نئی سرگرمی ہے۔

سنتھیا رچی کا پیپلز پارٹی کے تین رہنمائوں رحمن ملک ،مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے زیادتی کرنے یا ان سے بدسلوکی میں ملوث ہونے کے بارے میں الزامات ناقابل یقین نہیں ہیں لیکن بہت سی باتیں وضاحت طلب ہیں۔ مبینہ زیادتی کے الزامات کے باوجود انہوں نے اپنے وی لاگ میں پاکستان کو بہت محفوظ ملک قرار دیا۔ ان کے بارے میں تفصیل اور معلوم حقائق والی زندگی کی کہانی ان کے ایک میزبان (ٹیکساس میں وال مارٹ میں کام کرنے والی ایک خاتون جو بعد میں پاکستان آئی ) نے سنائی کہ وہ دولت کمانے کے لئے پاکستان آئی۔ درحقیقت ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران انہوں نے رحمان ملک کی طرف سے زیادتی کے بعد2000 پاونڈ ادا کرنے کا ذکر کیا (وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے نقد رقم نہیں پکڑی بلکہ ان کی کار میں پھینک دی گئی تھی جسے آخر کار انہوں نے رکھ لیا) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اس فعل میں رضامندی نہ بھی شامل ہو لیکن وہ بالواسطہ طور پر اس سے فائدہ اٹھانے اور تقریباً نو سال تک اس واقعہ کو اس وقت تک راز رکھنے پر رضامند ہو گئیں جب انہوں نے خود یا کسی کی حوصلہ افزائی پر اس کا بھانڈا پھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

سنتھیا رچی کے بزنس ویزا کا سپانسر کون تھا یا ان کے 2010 سے پاکستان میں قیام کے بارے میں دیگر معلومات بہت کم دستیاب ہیں لیکن اس میں شک کی گنجائش بہت کم ہے کہ اپنی کہانی منظر عام پر لانے کے لئے سنتھیا رچی کی حوصلہ افزائی کی گئی یا انہیں اس خاص موقع پر منظم انداز میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پیچھے لگایا گیا۔  

در حقیقت انہوں نے جنوری میں بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے خلاف بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا پھیلانا شروع کیا تھا اس کے بعد مئی میں سابق وزیر اعظم کے خلاف بھی اتنے ہی نازیبا الزامات لگائے گئے جس کے نتیجے میں ان کے اور پیپلز پارٹی کے میڈیا ونگ کے مابین سوشل میڈیا پر تکرار کا تبادلہ جاری ہے اور اس کے بعد مزید غلاظت سامنے آرہی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اپنی مذہبی شناخت کا بہت خیال کرتا ہے انہیں بغیر کسی سنسرشپ کے ٹیلی ویژن پر جو تفصیلات جاری کرنے کی اجازت دی گئی ایسا اجازت کے بغیرہونا ممکن ہی نہیں تھا۔

سنتھیا رچی کا دعویٰ ہے کہ وہ تقریباً 10 سال پہلے پاکستان آئی تھیں لیکن انہیں حقیقت میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے دور میں دو تین سال قبل شہرت ملنا شروع ہوئی تھی۔ تب ہی وہ سوشل میڈیا پر نہ صرف پاکستان کی اچھی شناخت کو متعارف کرا رہی تھیں بلکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کا بھی پیچھا کرنے لگی تھیں۔ آئی ایس پی آر ٹرولز کے گروپ میں ان کی بات چیت دیکھ کر میں نے انہیں بلاک کر دیا تھا۔ رچی ڈی جی آئی ایس پی آر کے بندوبست اور انوکھے انداز کے لئے موزوں تھیں جنہوں نے ایک گفتگو کے دوران اکیڈمک سکالرشپ کو فحاشی سے تعبیر کیا تھا۔

آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیم کا رچی کے ساتھ فطری رشتہ تھا جن کی مدد سے اس ادارے کو پاکستان کا مثبت امیج بنانے یا بیرون ملک اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کو عام کرنے کی ضرورت تھی۔ شاید رچی والا تجربہ نیا تھا کیونکہ ماضی میں اس مقصد کے لئے استعمال ہونے والی خواتین پاکستانی تھیں اور انہوں نے بہت سے کام انجام دیئے تھے، بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پیش کرنے سے لے کر غیر ملکی سفارت کاروں اور صحافیوں کو پھنسانے تک۔

2009-10 کے لگ بھگ پاکستانی تشہیر کی ضرورت پر بے حد زور دیا گیا۔ صحافی سے سفارتکار بننے والی ملیحہ لودھی نے ایک کتاب (پاکستان: ایک بحرانی ریاست سے آگے) لکھی جس میں انہوں نے پاکستان کی مثبت شناخت کی ضرورت کا تذکرہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ میجر جنرل غفور اس تجویز کے زبردست گرویدہ ہو گئے تھے اور زبردست طریقے سے اس پر عمل درآمد شروع کر چکے تھے۔ دسمبر 2016 تک جب انہوں نے آئی ایس پی آر کا چارج سنبھالا تو یہ ثابت کرنے کا بہت بڑا چیلنج تھا کہ پاکستان تنہا نہیں۔دیرینہ حریف بھارت نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی مہم چلائی تھی جس میں نریندر مودی حکومت ناکام ہوگئی تھی۔

آئی ایس پی آر کے لئے رچی حکمت عملی کا ایک نیا ورژن تھا جو پاک فوج کا پبلسٹی ونگ طویل عرصے سے استعمال کرتا آ رہا ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخر سے آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے سفید فام غیر ملکی تعلیمی ماہرین کے ساتھ تعلقات بڑھائے تاکہ انہیں فوج اور پاکستان کے بارے میں مثبت پیرائے میں لکھنے کی ترغیب دے سکیں۔ عام طور پر فوجی معلومات کے سلسلے میں پاکستانی ماہرین پر بھروسہ نہیں کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ ملک ریاست کے لئے اہم پہلوئوں پر تحقیق میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ خاص طور پر اسی سوچ کی وجہ سے بہت سارے معاملات پر ٹھوس تحقیق کی شدید کمی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ہندوستان کی نسبت بہت کم علمی مواد ملے گا۔ ریٹائرڈ سفارت کاروں کی فہرست تک رسائی حاصل کرنا بھی ناممکن ہے تاریخی دستاویزات کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔

اسٹیبلشمنٹ کو چند ایک مواقع پر دھوکے ملنے کے باوجود پاکستانیوں کے مقابلے میں سفید فام غیر ملکیوں پر بھروسہ کرنے کی حکمت عملی بدستور جاری ہے۔ اسی رویہ کے باعث ماہرین تعلیم ،میڈیا والوں اور (سنتھیا رچی کے معاملے میں) بے حیثیت لوگوں کے لئے اس امید پر معلومات، رقوم اور دیگر آسائشات کی بارش کی کہ اس سے ملک کے اندر اور عالمی سطح پر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں گے۔

تاہم رچی کا کام شاید اختلاف رائے کی تاثیر کو ختم کرنا یا کم کرنے میں مدد کرنا تھا اور نسبتاً خواندہ متوسط طبقے میں اس کے پھیلائو کا مقابلہ کرنا تھا۔ ماضی کے برعکس جب انگریزی اخبارات ، جرائد یا رائے پر مبنی مضامین کو نظر انداز کیا جاتا تھا آئی ایس پی آر اب ہر زبان میں متبادل نظریات کا مقابلہ کرنے میں پوری طرح مصروف ہے۔

لگتا ہے کہ رچی کو بھی فوج کی طرح پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور پی پی پی سے نفرت ہے جن کے خلاف وہ تقریباً ایک سال سے صف آرا ہیں۔ اگرچہ پی ٹی ایم قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمام فورموں پر فوج مخالف اور اسے بدنام کر رہی ہے، لگتا ہے کہ پی پی پی پاک فوج کا نیا چھوٹا سا جنون ہے۔

ان دو حقائق کے باوجود کہ پیپلز پارٹی کے خلاف فوج کی نفرت 1970 کے دہائی کے وسط سے جاری ہے اور اس سے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو کوئی خطرہ بھی نہیں ہے اس کی موجودہ ناراضگی1973 کے آئین میں 2010 کے دوران کی جانے والی 18 ویں ترمیم کو منظور کرنے میں پیپلز پارٹی کے کردارکی وجہ سے دکھائی دیتی ہے۔ اس سے صوبوں کو مالی خود مختاری مل گئی ہے اور اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ وفاقی حکومت کے پیسوں کے حصے میں بھی کمی واقع ہوئی ہے یہ ایسا اختیار ہے جس کا براہ راست اثر مسلح افواج پر پڑتا ہے خاص طور پر کورونا وائرس پھیلنے کے بعد یہ اثر کچھ زیادہ ہی محسوس کیا گیا ہے۔

2019 میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے 18 ویں ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شیخ مجیب کے چھ نکاتی فارمولے کے مترادف قرار دیا تھا جو فوج کے جی ایچ کیو کی نظر میں پاکستان کے ٹوٹنے کا باعث بنے تھے۔ ترمیم کی خالق ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی اس کو ختم کرنے کی منظوری نہیں دے سکتی۔ پارٹی کی فطری کمزوری کے باوجود وہ سمجھوتہ کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے اپنے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حمایت مزید کمزور ہو جائے گی۔

حال ہی میں مایوسی کا شکار فوج نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی شرائط میں تبدیلی لا کر قومی وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں ردوبدل کرنے کے تصور سے چھیڑ چھاڑ شروع کی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے وفاقی حکومت اور ریاست کے چار صوبے فنڈز کی تقسیم پر اتفاق کرتے ہیں۔ عمران خان حکومت نے اب 10 ویں این ایف سی ایوارڈ کی شرائط کے حوالہ (ٹی او آر) میں ایک متنازعہ معاملہ کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ صوبائی حکومتوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) کے اخراجات کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائیں جس کا مطلب اے جے کے / جی بی کو این ایف سی ٹیبل پر نشست دینا ہے۔

اگرچہ اس اقدام کے پیچھے کار فرما سوچ وفاقی حکومت کے لئے کچھ مالی سہولت پیدا کرنا ہے لیکن اس کے سیاسی مضمرات دور رس ہیں۔ نظریاتی طور پر اے جے کے/ جی بی کو این ایف سی میں بیٹھنے کی اجازت دینے کا مطلب ایک ایسے علاقے کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرنا ہے جسے اب تک پاکستان سے باہر سمجھا جاتا رہا ہے۔ حال ہی میں پی پی پی کے بلاول بھٹو نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی کہ ایسا کرتے ہوئے اسلام آباد ہندوستان کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے رہا ہے اور تجویز دی جا رہی ہے کہ ادھر ہم ادھر تم۔

جن ماہرین سے میں نے بات کی تھی ان کا خیال تھا کہ این ایف سی پر بحث اب کئی مہینوں کے لئے تاخیر کا شکار ہو چکی ہے اور شاید فوج ابھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک وسائل نہ ملنے کے باعث مایوسی کا شکار فوجی جو اپنے اخراجات کی تفصیلات شیئر کرنے کے لئے نہیں جانے جاتے وہ مزید پریشان ہوسکتے ہیں اور رچی اور اس قسم کی مزید عورتوں کے ذریعے زیادہ طوفان کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

 


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

أیا صوفیہ کا نوحہ
گلتی سڑتی بیوروکریسی
مذہبی رجحانات کی کروٹیں

سول ملٹری وسائل کی جنگ

3 months ago


18ویں ترمیم ہی کیوں ہے نشانہ

<p>ہر بحران کی طرح کوویڈ۔19 بھی اپنے ساتھ چیلنجز اور مواقع کا ایک مجموعہ لے کر آیاہے۔ یہ سول اور فوجی ضروریات کے مابین موازنے کی بحث شروع کرنے کی وجہ بن سکتاہے۔ عالمی معیشت کے مجموعی</p><p>حجم کے سکڑنے پررہنمائوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ شہریوں کے حقیقی تحفظ یعنی صحت اورترقی پرکتناخرچ کرتاہے اس خرچ کے مقابلے میں جووہ روایتی فوجی سکیورٹی پرکرتےہیں۔یہ تووقت ہی بتائے گاکہ پاکستان ان ترجیحات کی کس طرح درجہ بندی کرتا ہے۔یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کوویڈ 19 گزرنے کے بعددفاعی بجٹ پرنظرثانی کی جائے لیکن اس کی اجازت نہیں ملے گی۔ فوج کی نظرمزید وسائل حاصل کرنے کی راہ میں کھڑی ہونے والی ایک متنازعہ آئینی ترمیم کی منسوخی پرہے جس کی واضح مثال وہ حالیہ اقدام ہے جسے سارا پاکستان دیکھ رہاہے کہ کیسے وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مینجمنٹ ٹیم میں آئی ایس پی آر کے ایک سابق عہدیدار کوتعینات کیاگیاہے۔ یہ وباایک نعمت ہے اگرچہ اس کے دوران ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اسلحے کی ایک غیر متوقع دوڑشروع ہوگئی ہے۔یہ بات ٹھیک ہے کہ اس وباکے دوران نئی دہلی نے ہتھیاروں کے سودوں پر دستخط کئے لیکن اس دوران کوئی جارحانہ کام ممکن نہیں ۔اس وقت جبکہ ساراخطہ وباکاشکارہے توایسے میں موجودہ معاملات سے کسی قسم کی پریشانی پیدانہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کے پاس اس کے سواکوئی آپشن نہیں کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.38 بلین امریکی ڈالرکے قرض سے نجات حاصل کرے۔یہ وسائل زیادہ تر 112 ارب امریکی ڈالر کے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف موڑ دیئے جائیں گے۔ پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نموکوروناوائرس کے پھیلنے سے پہلے ہی کم ہوگئی تھی جومالی سال 2017-18 میں5.7 فیصد تھی گھٹ کر مالی سال 2019-20 میں 2.4 فیصد رہ گئی ۔ یہ اعدادوشمار اسلام آباد کے سکیورٹی کے رجحانات کوتبدیل نہیں کرسکے جوکہ فوجی سکیورٹی سے منسلک ہےں۔ در حقیقت اس وباءکے فورا بعد حکومت نے پاک چین سکیورٹی فورس سائوتھ کے لئے 11.48 بلین ، خصوصی مواصلات کی تنظیم کیلئے 468.2 ملین اور نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کےلئے 90.45 ملین روپے کی ضمنی گرانٹ کا اعلان کیا۔ حقیقت تویہ ہے کہ آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کے مطابق مالی سال 2020-21 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمومزیدکم ہوکر 1.5-ہوجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہواہے کہ اسلام آباد کو اپنے بجٹ میں توازن قائم کرنے یا وسائل کو ترقیاتی علاقوں میں منتقل کرنے کےلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔بظاہر فوج اپنے بجٹ پرنظرثانی کرتے ہوئے کوئی بڑاقدام اٹھانے کیلئے رضامندنظر نظر نہیں آتی۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخارکا دعویٰ ہے کہ فوج 1973 کے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ملک میں تعیناتی کےلئے دیئے جانے والے الائونس میں اضافے کا دعوی ٰنہیں کرے گی لیکن ادارہ اپنا اصل حصہ دینے کیلئے آمادہ نہیں ۔پس یقینی طور پرنظریں آئین کی 18 ویں ترمیم کو منسوخ کرنے پر مرکوزہیںجو 2010 میں منظورکی گئی جس سے صوبوں کو زیادہ مالی خودمختاری حاصل ہے۔ مالی انتظامات کی صلاحیت میں کمی اوردیگربدانتظامی کے باوجودصوبوں کواس خودمختاری کافائدہ پہنچا۔ مثال کے طور پر صحت کے شعبے میں اخراجات سے متعلق مفصل مطالعہ کے بعدیہ بات سامنے آئی کہ تمام صوبوں نے اس شعبے میں زیادہ خرچ کیا لیکن فوج کو سخت تشویش لاحق ہے کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس اس کو دینے کےلئے وسائل کم ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین اصل لڑائی فنڈزہی کی تھی۔ ڈار زیادہ فنڈز نہیں دے سکے تھے کیونکہ فنڈز صوبوں کے پاس تھے۔ جنرل باجوہ نے 18 ویں ترمیم کے خلاف کھل کر بات کی اور اسے 1970 کے عشرے کے اوائل کے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات جیسا قرار دیا۔حیرت کی بات نہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کواس لئے لایا گیا تاکہ وہ عمران خان کےلئے میڈیا مینجمنٹ میں زیادہ مرکزی کردار ادا کریںلیکن یقینا ریٹائرڈ جنرل کو یہ بتانے کےلئے نہیں لایا گیا کہ وہ بتائے کہ ملک کے مختلف حصوں میں وینٹیلیٹرزیا ماسک کی کمی کیوں ہے یا پھر لاک ڈائون میں توسیع کردی گئی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ18ویں ترمیم سے نجات کے بعد رائے عامہ ہموار کرنے میں جنرل کا کردار ہوگا۔غالب امکان ہے کہ عاصم باجوہ ان تمام ہتھکنڈوں کااستعمال کریں گے جووہ فوج میں ہوتے ہوئے کیاکرتے تھے۔کہیں پرنرمی کریں گے کہیں پرسختی تاکہ اخباروں کووہ خبریں چھاپنے سے روکیں جس میں اختلاف رائے موجود ہوگا اسی طرح کالموں کے ساتھ کیاجائے گا۔</p><p>اسی طرح سوشل میڈیاکے محاذپربھی ایک ٹیم کاانتظام کیاجائے گا جبکہ دوسری طرف صحافیوں کورشوت بھی دی جائے گی اسی طر ح اوربہت کچھ کیاجائے گا۔ریٹائرڈ جنرل نے ایک عام سے آرمی چیف ، جنرل راحیل شریف کی امیج بلڈنگ لمبی میں بہت موثر کردار ادا کیا تھا اور اس دوران فوج کے میڈیا ونگ کے کردارکو اس حد تک بڑھایا کہ اس کو سرحد پار سے لوگوں نے محسوس کیااورتعریف بھی کی۔ 2019 میں انڈیا کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عطا حسنین نے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز ، لندن میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی معلومات میں ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت کی تعریف کی تھی۔</p><p>ممکن ہے کہ نئی میڈیا ٹیم اس بات کو یقینی بنائے کہ معاملات سیاسی اور معاشرتی محاذ پر پرسکون ہوں جبکہ 18 ویں ترمیم سے نجات مل جائے۔ اس کو شاید ہائبرڈ جنگ لڑنے کو کہا جائے گا ، یہ تصور فوج میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ صوبائی خودمختاری کے حق میں اٹھنے والی آواز کوریاست کے خلاف دکھایاجائے گااوربھرپوراندازمیں پروپیگنڈا کیاجائے گا جس میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر مہارت رکھتے ہیں۔</p><p>اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی اس حد تک کمزور ہیں کہ عاصم باجوہ کی تقرری کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھاسکیں جس شخص کے پاس بھاری تنخواہ کے ساتھ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین شپ بھی ہے۔حزب اختلاف کی دونوں اہم جماعتوں کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کیساہوگا۔ ایک تزویراتی تبدیلی کیلئے ہونے والی کوششوں پربھی انتہائی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔</p><p>تاہم اچھی میڈیامینجمنٹ کی ضرورت ہوگی جیسے کہ فوج ریاست کی دیگر مالی ضروریات سے لڑتی ہے۔ آرمی جی ایچ کیو سمجھتاہے کہ اس کی ذاتی ضروریات کا بخوبی خیال رکھا گیا ہے۔ سرکاری اراضی کے نظام کواس طرح بنایاگیاہے کہ یہ بات یقینی ہے کہ جب تک کوئی افسرترقی کرکے میجر کے عہدے سے تھری سٹار جنرل بنے تواس کے پاس ایک درجن کے قریب جائیدادیں ہوتی ہیں۔ ہرترقی ، جنگی کورس اور کارکردگی کاانعام مادی طورپردیا جاتا ہے۔ ایک کورکمانڈرکی جائیدادکی مالیت1 ارب روپے ہے (یہ وہ جائیداداوراس کی قیمت ہے جو ایک جنرل ایک میجر کے درجہ سے شروع ہو کر تھری سٹار تک جاتے ہوئے حاصل کرتاہے)۔ آرمی چیف کا درجہ اس سے بھی اونچا ہے۔ زیادہ وسائل کاطلب گار جرنیل زیادہ سے زیادہ فوائد کےلئے دوسرے ذرائع ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اعوان جاسوسی میں ملوث پایاگیاجس کی وجہ سے اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فوجی اکائونٹس ذرائع کے مطابق ، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات نے اپنی دوعہدوں پرخدمات کے بدلے ماہانہ پنشن میں لاکھوں روپے کا بھاری معاوضہ وصول کررہے ہیں۔ برسوں کے دوران افسر کیڈر اور قومی سلامتی کے مابین تعلقات انتہائی مالی معاملہ ہے۔ بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی یا قومی راز کو برقرار رکھنے کے لئے بھاری وسائل کے پیکیج کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ ذاتی حیثیت پر ملتے ہیں اوران کافوج بطورادارہ اس کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگرچہ ان حالات میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطرہ کی سطح قابومیں اور کم رہے گی لیکن فوج کو جدید خطوط پراستوارکرنے کی ضرورت باقی ہے۔ففتھ جنریشن وارکے لئے جہازوں کی تلاش کے علاوہ پاکستان نے چین ، اٹلی ، روس اور ترکی سے فوجی سازوسامان خریدا ہے لیکن ان درآمدات میں صرف بڑے ہتھیاروں کے محدود نظام شامل ہیں اور 2010 کے مقابلے میں اس میں 30 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ فوج اس ضیاع کو کم کرکے اپنی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے جس کا 20-30 فیصد کے درمیان حساب لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ آرمی جی ایچ کیو اپنے اختیارات پر نظر ثانی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اگرچہ فوج اختلاف رائے کو ختم کرنے کے واضح ترین طریقہ کار کا انتخاب کر سکتی ہے لیکن کووڈ 19 جتنی مرضی توجہ حاصل کرلے فوجی اخرجات پرسمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔</p><p>ایک دوست جسے میں عام طور پر غیر سیاسی سمجھتی تھی بحریہ کے حالیہ میزائل تجربے میں سب سے زیادہ پریشان تھا۔ لہذا کووڈ کے گزرنے کے بعدسب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوگی کہ طاقتور ادارے خود پر قابو رکھیں اورزیادہ قربانی دیں۔</p>



تبلیغی جماعت نے انڈیا،پاکستان میں کوروناپھیلایا

4 months ago


حیدرآبا،بہارہ کہواس کی روشن مثالیں ہیں

<p>&nbsp;</p><p>تبلیغی جماعت کولے کر ہندوستان اور پاکستان ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کی طرح جیسے کہ نظام الدین مرکزہے پاکستان میں بھی اس جماعت کو کوروناوائرس کے پھیلائو کے دو بڑے ذرائع میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے 2000 افراد میں سے بہت سارے ملک کے مختلف حصوں میں واپس چلے گئے۔ بھارتی حکومت کاکہنا ہے کہ یہ لوگ ہندوستان میں کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔پنجاب کے اندرمارچ کے وسط میں تقریبا اڑھائی لاکھ لوگوں نے تبلیغی جماعت کے سالانہ پانچ روز ہ اجتماع میں شرکت کی ۔ یہی جگہ ہے جہاں خاص طور پر دیوبندی مکتبہ فکرکے لوگ نماز پڑھنے اوردیگر مذہبی پروگرامات کےلئے اکٹھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں بنیادی طور پر بریلوی اکثریت میں ہیں لیکن تبلیغی جماعت جس کی بنیاد 1926 میں ہندوستان میں رکھی گئی تھی اس کے مشہوراورمضبوط ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ نظریاتی ہے کہ یہ فرقوں کی نفی کرتی ہے اور تمام نظریاتی مکاتب فکر کواپنی طرف راغب کرتی ہے خاص طورپربریلویوں کو جن کا اپنا کوئی مضبوط مذہبی فورم نہیں ہے۔ اگرچہ مولانا طاہرالقادری کی منہاج القرآن یا سیاسی طور پر تحریک لبیک پاکستان جیسی بریلوی تنظیمیں موجود ہیں۔ تبلیغی جماعت پوری دنیا میں مسلمانوں کو راغب کرتی ہے۔ اس سے بڑھ کراورکیاہو سکتا ہے کہ نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اور بعد میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے اجتماعات کی حمایت کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ یہ اچھے لوگ ہیں۔اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت صرف بنیادی مذہبی عبادات پرزوردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ معاشرتی اور معاشی طبقوں میں مقبول ہے۔ ریاست کے طاقتور اداروں ، نامور سیاستدانوں سے لے کر درمیانی اور نچلے متوسط طبقے تک لوگ اس کی مذہبی تعلیمات کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں تبلیغی جماعت پرالزام ہے کہ اس کے انتہا پسند تنظیموں سے تعلقات ہیں لیکن جیش محمد جیسی عسکریت پسند تنظیمیں تبلیغی جماعت کو پسند نہیں کرتیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیش محمد ہراس ادارے سے نفرت کرتی ہے جو جہاد کی ترغیب نہیں دیتا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں کی بڑی تعدادجن کاتعلق دیوبندی مکتبہ فکرسے ہے ان کو عسکریت پسندتنظیموں میں شمولیت کاتحرک اس لئے ملاکہ ان کی مذہب سے شناسائی تبلیغی جماعت کی وجہ سے ہوئی ۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ (مرحوم) لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کابیٹاعبداللہ گل جو پاکستان اور افغانستان میں جہادیوں سے رابطوں کےلئے جانا جاتا ہے میڈیاپرکڑی تنقیدکرتاہے کہ وہ تبلیغی جماعت پرالزام لگارہاہے کہ پاکستان میں کوروناپھیلانے کی ایک وجہ یہ لوگ ہیں۔اس کاکہناہے کہ میڈیا تبلیغی جماعت کے خلاف مسلسل زہر اگل رہا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔اس غیرذمہ دارانہ رویے پرتمام مذہب بے زار نیوز اینکرز ، پروڈیوسرز اور تمام نیوز ڈائریکٹرز کو بھاری جرمانہ کیا جانا چاہئے۔اس کازوراس بات پرتھا کہ شیعہ عقیدت مند ہی وائرس پھیلانے کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ مسئلہ کی وجہ تبلیغی جماعت کے ڈھانچے میں ہے جس کی بنیادمیں ملک اوردنیابھرمیں اجتماع کرناشامل ہے۔یہاں تک کے رائیونڈلاہورمیں ہونے والے سالانہ اجتماع سے قبل ہی تبلیغی جماعتیں ملک اوردنیا بھرمیں پھیل جاتی ہیں۔ تبلیغی جماعت کے نظام کے مطابق ہر ٹیم جس علاقے میں جاتی ہے وہاں کی مسجد میں قیام کرتی ہے اور وہاں پر مذہبی پروگرامات کرتی ہیں۔ یہ دورے سال بھر ہوتے ہیں لیکن سالانہ اجتماع لاہور میں ہوتا ہے ۔لیکن کیا کسی نے تبلیغی جماعت کے غلط اقدام پراس پرالزام لگایاہے یا پنجاب حکومت جو بحران سے نمٹنے میں انتہائی سست ہے؟ وفاقی حکومت نے دنیا بھر کے اپنے ہم منصبوں سے بہت مختلف رویہ اختیار نہیں کیا جنہوں نے اس خطرے سے نمٹنے میںاتنا وقت لیا۔ لاک ڈائون کے حوالے سے اب بھی کنفیوژن برقرار ہے جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان اصرار کرتے ہیں کہ ایساکرناٹھیک نہیں۔حکومت پنجاب اپنی ہدایات کولے کرنہ تو زبردستی کررہی ہے اور نہ ہی واضح ہے ۔ جیسا کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ تبلیغی جماعت انتظامیہ نے اپنی ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپناکام ختم نہیں کرسکتیں (جس ذریعہ سے میں نے بات کی تھی وہ اپنا کام مکمل کرچکا تھا اور اس نے چار مہینے گشت میں گزرے تھے۔ دسمبر سے مارچ تک) ملک بھر کے دیگر مقامات پر جاکر اپنا کام مکمل کریں۔تبلیغی جماعت کے ممبران جن کی میں نے بات کی تھی اس بات پر فخر کررہے تھے کہ وہ رائےونڈ میں کتنے اچھے انداز میں منظم تھے۔دکانوں کو بند کرنے کے احکامات کے بعد تبلیغی جماعت کا ایک علیحدہ دفتر تھا جو ہر گروپ کو ان کے مستقبل کے لائحہ عمل پر رہنمائی کرنا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ جو پہلے ہی چین ، ایران ، برطانیہ ، امریکہ ، سپین اور دیگر کوروناسے متاثرہ ممالک سے آنے والے ممبران سے مل چکے تھے وہ اپنے ساتھ وائرس کو پاکستان کے دوسرے حصوں میں لے گئے۔ پولیس انسپکٹر جنرل سندھ مشتاق مہر نے اپنے صوبے میں واپس آنے والی تمام تبلیغی جماعتوں کوقرنطائن کرنے کااعلان کیاہے خاص طور پر وہ جومساجد میں بیٹھنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو کھانا اور دیگر راشن فراہم کیاجائے گا۔پولیس کوہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی دوسرا فرد ان کے ساتھ رابطہ نہ کرے۔ اس کا مطلب ہے کہ تبلیغ کی تمام سرگرمیوں کوختم کردیاگیاہے۔ایسا حیدرآباد شہر میں 130 سے زائد کیسوں کے مثبت ہونے پرکیاگیا۔دوسری طرف پنجاب یا اسلام آباد نے اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی ۔ اگرچہ اسلام آبادکے مضافاتی علاقے بارہ کہوکو سختی سے اس وقت قرنطائن کیاگیاجب واپس آنےوالے تبلیغی جماعت کے کچھ ممبروں کے ٹیسٹ مثبت آئے ،پنجاب کے دیہاتی علاقوں اورچھوٹے قصبوں کی متعددمساجدمیں ابھی بھی تبلیغی جماعت کے ممبران کی موجودگی اورسرگرم ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔</p>



امریکہ طالبان معاہدہ اور جہادی

4 months ago


عائشہ صدیقہ کا امریکہ طالبان معاہدے پر تجزیہ

<p>امریکہ&nbsp;طالبان معاہدے نے جنوبی ایشیائی عسکریت پسندوں کے بڑے حلقوں میں کافی جوش و خروش پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔ &nbsp;اس کی ایک &nbsp;جھلک جیش محمد کی حالیہ اشاعت ’’ مدینہ مدینہ ‘‘ &nbsp; &nbsp;میں دیکھتی جا سکتی ہے۔ ایک طویل مضمون جس میں طالبان کی فتح اور امریکہ کے خلاف جہاد کی فتح پر &nbsp;اسی طرح خوشیاں منائی جا رہی ہیں جیسے سابقہ سپر پاور سوویت یونین پرجہادیوں نے فتح حاصل کی تھی۔</p><p>&nbsp;امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے بھاگ گئے ہیں… . کیا یہ ایک معمولی فتح ہے؟ وہ امریکہ جو کبھی طالبان کے خون کے پیاسے تھے &nbsp;اب ان سے &nbsp;ہاتھ ملا رہا ہے اور ۔۔افغانستان سے انخلا کے &nbsp;لئے &nbsp;&nbsp;ان کا تعاون حاصل کر رہا ہے۔ اب جو بھی ہو وہ ہمارے لئے پریشانی کی بات نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر دنیا معاہدہ توڑ دیتی ہے تو فائدہ اسلام کا ہوگا… .جس کا فائدہ جہاد کو ہوگا۔ابھی تک کسی [جہادیوں] نے اپنے ہتھیار فروخت&nbsp; نہیں کئے… جتنی نا انصافی بڑھتی ہے اسی قدر جہاد کے عزم میں اضافہ ہوتا ہے۔</p><p>امن معاہدے پر دستخط &nbsp;کے بعد کابل میں جاری تشدد کو نظر میں رکھ کر &nbsp;&nbsp;اس سوچ کا جائزہ لیا جائے تو اس سے دنیا کی اس نوعیت کا اندازہ کیا جا سکتا &nbsp;ہے جو ممکنہ طور پر جنوبی ایشیاء کے شمال مغربی حصے میں ابھرے گی۔</p><p>&nbsp; جیش محمد کا جریدہ ان حالات کی جھلک پیش کرتا ہے جن میں یہ تنظیم زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس کے دو انتہائی اہم حصے ہندوستانی سیاق و سباق میں ہیں۔ سب سے پہلے کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کی ریاست &nbsp;جیش محمد کے دماغ سے باہر نہیں ہے۔ درحقیقت ایک مضمون میں ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اور ان پر ہونے والے تشدد کے بارے میں&nbsp; بھارت کے خلاف جیش محمد کی طرف سے جہاد شروع کرنے کے &nbsp;اعلان کے بغیر بات کی گئی ہے۔&nbsp;</p><p>دوسرا، پوری گفتگو میں جس میں سے ایک دیوبندی طالبان سے متعلق ہے سمیت &nbsp;پورے بریلوی لہجے میں بحث کی گئی ہے۔ پیامبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی جدوجہد کا مستقل حوالہ موجود ہے تاکہ پیغام کو سنسرشپ &nbsp;سے بچایا جاسکے۔ واضح طور پر اس میں موجود پیغام حوالوں کی پرتوں میں &nbsp;لپیٹ کر دیا گیا ہے جو صرف جیش محمد کے کارکن ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس میں ساتھی جہادیوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مقدس جنگ ختم نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ کابل کی سیاست میں طالبان کی شمولیت جہاد &nbsp;کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور مرحلے کا آغاز ہے ۔</p><p>اگرچہ پاکستان میں جہادی گروہوں کا وجود برقرار ہے لیکن انھیں گذشتہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے &nbsp;سے رکاوٹوں کا سامنا &nbsp;ہے۔ لندن اور واشنگٹن میں سرگوشیاں سنی جا سکتی ہیں خاص طور پر اولذکر شہر میں کہا جا رہا ہے کہ پاک فوج کی موجودہ قیادت تعاون کر رہی ہے اور جہادی تنظیموں &nbsp; کو بھی قابو میں رکھا جا رہا ہے۔ یہ رائے زیادہ اہمیت کی حامل &nbsp;ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدام کے باوجود &nbsp;عسکریت پسندی یا فوجی سرگرمیاں نسبتا بہت کم ہیں جس سے اشارہ ملتا کہ &nbsp;&nbsp;پاکستان اس پیش رفت کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری حلقے بھی پالیسی میں اسٹریٹجک تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تاہم &nbsp;&nbsp;پاکستان حکومت کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھارت کے لئے مسئلہ کشمیر واقعتا کبھی حل نہیں ہوگا کیونکہ مزاحمت کشمیریوں کی طرف سے آئے گی اور کشمیر کی آزادی کے مطالبے پر کوئی سمجھوتہ ہونے کا امکان نہیں۔</p><p>افغانستان کو القاعدہ اور داعش جیسی دیگر عسکریت پسند تنظیموں سے &nbsp;محفوظ رکھنے کے بارے میں امریکہ کے ساتھ طالبان کے عہد و پیمان کے باوجود جہادیوں کو فلٹر کرنے کا عمل &nbsp;پیچیدہ ثابت ہوگا۔ &nbsp;جیش محمد جیسے گروپ القاعدہ اور طالبان دونوں سے جڑے ہوئے ہیں جس سے جہادیوں کو زبردست فائدہ ہوگا۔ افغانستان کا &nbsp;اگر ساری دنیا کے جہادیوں کے لئے نہیں تو کم از کم جنوبی ایشیائی علاقائی جہاد یوں کی پناہ گاہ بننے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں مقیم بہت سارے جہادی گروہ پہلے ہی کشمیر یا ہندوستان کی صورتحال پر بڑے پیمانے پر ردعمل ظاہر کرنے میں اپنی ناکامی پر اپنے کارکنوں کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ کراچی میں مقیم صحافی ضیاء الرحمن کے مطابق لشکر طیبہ جماعت الدعو نیٹ ورک داعش کے خلاف مواد شائع کرتی رہی ہیں۔ اس سے ان عسکریت پسند گروپوں پر بڑے دباؤ کی نشاندہی ہوتی ہے جن کے کارکن لڑائی کے لئے تیاری کررہے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔</p><p>امریکیوں سے ان کے وعدوں کے باوجود طالبان کو پاکستان میں ان جہادیوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑے گی جو ان تمام سالوں میں طالبان کی جدوجہد میں مدد دیتے رہے اور ان کا حصہ رہے ہیں۔ نظریاتی طور پر ایسے روابط &nbsp;&nbsp;ہیں جو طالبان توڑ نہیں پائیں گے۔ لیکن اس کے بعد طالبان پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی جڑے ہوئے ہیں جن کی دلچسپی اس ملک کے علاقے کو محفوظ بنانا ہے اور وہ 1990 اور 2000 کی دہائی میں ہونے والے تشدد &nbsp;کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ در حقیقت طالبان کو دوجہتوں میں دیکھنا ہوگا۔</p><p>ایک کا تعلق پاکستان سے ہے جس کے بغیر امریکہ طالبان معاہدہ نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا کابل کی سیاست میں طالبان کی طاقت کا مزید استحکام ہے جس کا اظہار آنے والے مہینوں میں ہو گا۔ ملک اور بیرون ملک بڑی سٹرٹیجک کمیونٹی کے ذرائع نے اگلے چھ ماہ یا ایک سال میں سراج الدین حقانی کو افغان حکومت میں شامل کرنے کے بارے میں بات کرنا شروع کردی ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع حقانی کے مضمون کی اشاعت شاید امریکی سامعین کے لئے اس طرح کی پیش رفت کو ہضم کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔</p><p>جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے &nbsp;جس &nbsp;کے ساتھ طالبان ایک صفحے پر ہیں مؤخر الذکر یا تو پاکستان نواز جہادیوں کو ایڈجسٹ کریں گے یا ان لوگوں کو ختم کردیں گے جو پاکستان کے لئے خطرہ ہیں۔ قاری عبد الجبار کی موت جو کبھی جیش محمد کا حصہ تھا لیکن بعد میں اس نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی ایک اہم واقعہ ہے۔ لیکن تعاون پر مبنی تعلقات کو جہادیوں کے ساتھ طالبان کے براہ راست آپریشنل اور نظریاتی روابط کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ &nbsp;درحقیقت افغانستان میں بہت ساری گفتگو ہو رہی ہے جس کے نتائج جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام &nbsp;پر اثرات مرتب ہوں گے۔</p><p>2011میں اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک جناح انسٹی ٹیوٹ کے تیار کردہ ایک مقالے کی یاد آ رہی ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی حامی پالیسی کے والی اشرافیہ کے خیالات کی بنیاد پراس مقالے میں افغانستان میں کابل حکومت میں حقانی نیٹ ورک کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ خواہش پوری ہوتی معلوم ہو رہی ہے لیکن اس سے علاقائی استحکام کی امید مدھم &nbsp;ہو رہی ہے۔ افغانستان میں جہاد کو ادارہ جاتی شکل دینے اور ہندوستان میں ہندوتوا کی حکومت جنوبی ایشیاء کے خطے میں کوئی ایسا امتزاج نہیں بناسکتی ہے جو دنیا دیکھنا چاہے گی۔ جیو سیاست کا راستہ یقینی طور پر اس راہ پر گامزن ہے &nbsp;جس میں کسی کی فتح کے بجائے انسانیت کے لئے تباہی لانے کا امکان زیادہ ہے۔ &nbsp;ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی اور پالیسی سازوں کی انتہا پسندانہ جبلت پھیلتے ہوئے گہرے سایوں کے خدشات میں اضافہ کرتی ہے۔</p><p>&nbsp;</p>