بے نظیر بھٹو ہمیشہ زندہ رہیں گی

فرح ناز اصفہانی
مصنفہ، انسانی حقوق کی کارکن ہیں

2 months ago


ملک اور جمہوریت کے لئے بینظیر نے زندگی تک قربان کر دی

سندھ کی جھلسا دینے والی گرمیوں کی تپش نے میرے سیل کو تندور بنا دیا تھا۔ میری جِلد پھٹ کر اُترنے لگی تھی  میرے چہرے پر  پھنسیاں نکل آئی تھیں۔ میرے بال جو ہمیشہ سے بہت گھنے تھے اب جھڑ کر مٹھی بھر رہ گئے تھے۔ حملہ آور فوج کی طرح کیڑے مکوڑے  میرے سیل میں گھس آتے تھے۔ میں ان کیڑوں مکوڑوں کے ڈسنے سے خود کو بچانے کے لئے رات کے وقت اپنے سر کو چادر میں چھپانے کی کوشش کرتی تھی اور جب بہت زیادہ گرمی ہو جاتی تو سانس لینے کے لئے چادر کو ہٹا دیتی تھی۔  (دختر مشرق)۔

تاریخ 27 دسمبر 2007  کے خونی دن کو کبھی نہیں بھولے گی۔اس دن لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑے جلسہ عام  سے خطاب کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنی پارٹی کارکنوں کے ہمراہ شہید کر دیا گیا تھا۔

شہید بے نظیر بھٹو کو موت کا خوف نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے وطن سے دور رہنے کی بجائے اپنے لوگوں میں  مرنے کا انتخاب کیا۔ وہ اپنی جان کو لاحق خطرات سے واقف تھیں لیکن انہوں نے آمر اور دہشت گردوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے آمر کو للکارا اور سڑکوں پر نکل کر جمہوریت اور انصاف کے لئے پاکستانی عوام کی قیادت کی۔ انہوں نے زندگی بھر اور پھرآخر کار اپنی جان  کا نذرانہ دے کرجمہوریت کو مضبوط کیا۔

اس سے پہلے ان کے والد نے پاکستان اور جمہوریت کے لئے اپنی جان دی تھی۔

اپنی پوری زندگی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے رجعت پسند قوتوں کے خلاف جدوجہد کی تاکہ پاکستان کو ہر فرقے ، مذہب ، لسانی گروہ اور برادری کے ارکان کے لئے بہتر جگہ بنایا جاسکے۔ ہر مسلک ، نسل ، زبان اور رنگ کے لوگ انہیں پسند کرتے تھے۔ پاراچنار سے کراچی تک وہ پاکستان کے مظلوم عوام کی واحد آواز تھی۔ وہ پاکستان کے وفاق کی علامت تھیں اور اب بھی ہیں۔

بے نظیر بھٹو شہید نے ضیا الحق کی ظالمانہ آمریت کے دوران اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے معاشرے میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور اجنبی معاشرتی  اقدار کو رواج دیا وہ ان مسلح ملیشیا کے بانی تھے جو آج بھی پاکستانیوں کو قتل  کر رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو شہید اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو نے بہادری سے پاکستان  کی تاریخ کے سب سے زیادہ ظالم آمر ضیاء الحق کا مقابلہ کیا۔

پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم پاکستان کی صاحبزادی ، شہید بے نظیر بھٹو  کی کتاب دخترِ مشرق ، انصاف کے قیام کے لئے ان کی انتھک جدوجہد اور ان کی ذاتی ہمت اور بہادری کی گواہی ہے۔ چھ ماہ تک شہید بے نظیر بھٹو کو سخت ترین حالات میں سکھر جیل میں قید رکھا گیا۔ سکھر جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ کئی مہینوں تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی صحت کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ بعد میں انہیں کراچی سنٹرل جیل منتقل کردیا گیا جہاں وہ 11 دسمبر 1981 تک جیل میں رہیں۔ شہید بے نظیر بھٹو کی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوئیں۔ انہیں گیارہ ماہ لاڑکانہ اور پھر چودہ ماہ تک کراچی میں نظربند رکھا گیا۔

درد ، تکالیف اور مشکلات بھٹو خاندان کا مقدر بنا دی گئیں جن کا ماں اور بیٹی دونوں نے بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ جو کبھی قریبی حلیف تھے انہوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ لیکن پیپلز پارٹی کے کارکن جو پارٹی کی حقیقی روح تھے، جیل گئے  انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا لیکن وہ اپنے نظریئے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

شہید بے نظیر مسلم دنیا کی پہلی جمہوری طور پر منتخب خاتون وزیر اعظم بن گئیں اور نواز شریف کے وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہونے کے بعد  ایک بار پھر شہید بے نظیر اور ان کے اہل خانہ اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمات ، پراپیگنڈا اور  جیلوں کی سختیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ .

اٹھارہ اکتوبر 2007 کو طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان واپسی پر ان کے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے اور پارٹی کے 275 کارکن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 600 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ کارساز کا یہ اندوہناک واقعہ بھی انہیں پاکستان اور اس کے عوام کے لئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔

بالاخر بینظیر بھٹو نے 27 دسمبر 2007 کو آمر اور انتہا پسند قوتوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دے دی۔

آج ، اس ملک میں جمہوریت موجود ہے اور بھٹو خاندان کی انتھک قربانیوں کی وجہ سے اصل آئین بحال ہوا ہے۔

شہید محترمہ نے ہمیشہ غربت ، دہشت گردی ، ناخواندگی ، بے روزگاری ، بدعنوانی ، مہنگائی اور فرقہ وارانہ تشدد سے پاک   پاکستان کا خواب دیکھا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک پرامن ، ترقی پسند اور روادار تعلیم یافتہ معاشرہ بنانے کے لئے مستقل جدوجہد کی اور کوشش کی۔

آج ، یتیموں کو شہید بے نظیر بھٹو کی میراث کے تحت "سویٹ ہومز آف پاکستان" میں بہتر تعلیم کے ساتھ پناہ گاہیں میسر ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (موجودہ حکومت نے اس پروگرام کا نام تبدیل کر کے احساس پروگرام رکھ دیا ہے) کے ذریعے غریب خواتین کی  مالی طور پر مدد کی جاتی ہے۔

بے نظیر بھٹو کی اصل عظمت اپنے بچوں ،  اپنے والدین ، اپنے دوستوں ،  اپنی پارٹی اور اس کے کارکنوں اور پاکستان سے محبت کا تحفہ ہے۔ میں ان کے ساتھ گزارے وقت  کے لئے ہمیشہ شکر گزار رہوں گی۔ وہ اب بھی میرے لئے مشعل راہ ہیں۔

شہید بے نظیر بھٹو کو اپنی بہادری ، استقامت اور قربانیوں کے لئے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے 

نوٹ۔ مصنفہ نے یہ مضمون انگریزی میں کئی سال پہلے لکھا تھا


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے