ایک ارب درخت، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر

ظفرجمال
پروفیسر

3 weeks ago


نفسیات نامہ

یہ عمران خان ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تکرار میں کیوں گرفتار ہیں ۔پہلے ایک بوسیدہ لطیفے کا بوجھ مزید ایک بار برداشت کر لیں۔  

ڈینگیں مارنے کے عادی ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا ”میرے دادا کی اپنی حویلی اتنی بڑی تھی کہ ایک ڈیوڑھی سے دوسری ڈیوڑھی تک پہنچنے کے لئے گھوڑا درکار ہوتا تھا“وغیرہ۔ حویلی کے بارے میں اس طرح کی مزید لن ترنیاں برداشت کرنے کے بعد دوسرا دوست جواباً بولا کہ میرے لکڑ دادا اپنے علاقے میں سب سے بڑی ڈانگ کے مالک تھے اور ضروت پڑنے پر کسی بھی وقت وہ آسمان میں چھید کرتے۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ

گو لطیفہ یہاں مکمل نہیں ہوا لیکن میرا مدعا یہاں مکمل ہو جاتا ہے کہ اپنی شان و شوکت کا تصوراس انداز میں بیان کیا جائے کہ سننے اور دیکھنے والوں کے تخیل کی آخری حدوں کو چھوتا نظر آئے اور اس حد کے بعد محض تخیل کی بے بسی دکھائی دے۔

شہنشاہ بھی رعایا میں اپنی شان و شوکت کی دھاک بٹھانے کے لئے عظیم الشان مقبرے، باغات تعمیر کرواتے تھے اور آج دور جدید میں غریب ملکوں کے حکمران بدیسی ٹیکنالوجی کے زور پر عظیم الشان ٹاور بنا کر عوام کو فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ ٹاورز اور بلڈنگ کی قامت سے ہی اقوام عالم میں ہمارا قد بھی بڑھ گیا ہے۔

ان تمام کوششوں کا مدعا ایک ہی ہوتا ہے کہ عوام حکمرانوں کی شان و شوکت اور عظمت کے سامنے اپنے تخیل کو بے بس پائیں اور یوں اس نام نہاد عظمت کے سائے میں اعتماد کے ساتھ بے حسی کی نیند بھی پوری کریں۔  

ہمارے وزیر اعظم بھی دیوانوں جیسی ایک تکرار کے ساتھ عوام کو باور کرواتے ہیں کہ بڑی سوچ رکھنا بھی عظمت کی نشانی ہے۔ ایک ارب درخت، ایک کروڑ نوکریاں ،پچاس لاکھ گھر وغیرہ سبھی اسی شانِ عظمت کے تصویری اظہار ہیں۔ ہندسوں کے تکرار سے یہ گمان بندھا رہتا ہے کہ لوگ ان کی باتوں پر یقین بھی کر رہے ہیں یوں عظمت کی چادر تان کر سونے میں سہولت بھی رہتی ہے۔  

اپنی شان وشوکت کے احساس میں الجھے شخص کو روزانہ کی بنیاد پر تسکین کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ احساس عظمت کی جڑیں اپنے خیالات و احساسات میں پیوست نہیں ہوتیں ۔عظمت کا یہ پودا دوسروں کی تعریف و تائید پر پھلتا پھولتا ہے۔

ساری زندگی کرکٹ کے میدانوں سے، شوکت خانم کی چندہ مہم سے عظمت کی خوراک میسر رہی۔ ان دونوں مشاغل سے فارغ ہوئے تو جلسے، جلوسوں اور دھرنوں کا بھنڈارا کھل گیا۔

خود کو اپنی عظمت کا یقین دلوانا تمام تر جدوجہد کا جزبہ محرکہ ہے۔  

کچھ نہیں ہوگا کچھ بھی نہیں بدلے گا بس احساس عظمت کے لئے ہر روز درجنوں نوٹیفکیشن نکلتے رہیں گے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعظم ہونے کا احساس قائم رہے۔ ہر دو ماہ بعد تبادلے ہوتے رہیں گے تاکہ بے چین اعصاب کو اپنا اردگرد الٹانے پلٹانے سے سکون ملے اور کمیشن بھی بنتے رہیں گے کہ رعایا ایک قاضی کی موجودگی کے احساس سے لا شعوری طور پر مطمئن رہے۔  

کورونا نے عظمت کے اس مینار پر اپنے خوف کے پرپھیلائے تو خاص بیوروکریٹک انداز میں روزانہ ٹیلی ویژن پر جلوہ افروزی عظمت کا سہارا بن گئی اور اب کورونا سے قدرے فرصت نصیب ہوئی تو گزشتہ حکومتوں کے منصوبوں کو اپنی شان و شوکت قرار دے کر ہر روز فیتہ کاٹ رہے ہیں۔  

حرکت سے عاری اس بس پر تبدیلی کا بورڈ بھی آویزاں رہے گا۔ یہ سب ایک شخصیت کے خبط کا پندار ہے جس میں بیس کروڑ عوام سانس کے لئے ترس رہے ہیں۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے