عطار کا لونڈا اور مریض

ارسلان سعید
کالم نگار

3 weeks ago


صدارتی نظام اور بنگلہ دیش کاجنم

اس ملک کا المیہ ہے کہ عطار کا لونڈا یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ہر بیماری کا علاج ہے اور اس ملک کے مریض ایسے بدبخت ہیں کہ اسی عطار کے لونڈے کے پاس بھاگ بھاگ کے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بیمار ہوئے ہیں۔ مائنس ون ، اسلامی صدارتی نظام ،ان ہاؤس تبدیلی آپ جو مرضی کر لیں کچھ بدلنے والا نہیں جب تک عطار کا لونڈا خود کو نہیں بدلتا۔

اکانومی کی گروتھ منفی میں آگئی ہے۔ لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے اور کروڑوں خط غربت سے نیچے جا چکے ۔ لیکن بدنصیبی دیکھیئے وہی گول دائرے کا چکر ہے جو ختم ہی ہونے کو نہیں آرہا ۔وہ ماضی کی باتیں اور تجربے دہرانے پر زور ہے۔ وہی مائنس ون اور  صدارتی نظام کی باتیں۔ آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کو مائنس کیا کیا ملا۔  آپ نے نواز شریف کو مائنس کیا کیا پایا۔ بھٹو اور نواز شریف آج بھی آپ کی سیاست کے سب سے اہم کردار ہیں اور آپکی  سیاست کا محور بھی۔ آپ نے صدارتی نظام بھی چار چار دفعہ آزما کر دیکھ لیا اور اسی صدارتی نظام نے بنگلہ دیش جنا۔

اناؤں کی تسکین کی خاطر  ملک کے عوام کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ۔ تبدیلی کے نام پر جو بویا گیا اب عوام مہنگائی ،بیروزگاری ،غربت اور بیڈ گورننس کی شکل میں کاٹ رہی ہے ۔ اب جب عوام اور خواص دونوں کی تبدیلی بیماری سے بس ہوتی نظر آرہی ہے تو عطار کے لونڈے نے پھر سے اپنی پٹاری میں  سے وہی گھسے پٹے فارغ نسخے جھاڑ کر نکال لیے ہیں جو پچھلے ستر سال میں تو کام نہ  آ سکے۔ اب کوئی ان سے پوچھے بابو اگر پہلے نہیں کام آئے تو اب کیسے آزمودہ ہوں گے۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ عطار کا لونڈا خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے اور سوال جواب پر اس کا زیادہ یقین نہیں ہے ۔

مسئلہ مریض کا بھی ہے بدقسمتی سے یہ بھی ہر بار دوا لینے اسی لونڈے کے پاس جاتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ بیمار ہی اسی وجہ سے ہے۔ مریض اگر گھر والوں پر یقین کرے اپنے اصل کی طرف لوٹ کے جائے تو کوئی شک نہیں کہ طاقت پائے پر نہ پتہ ہونے کے باوجود بار بار لونڈے کے پاس گیا اور مزید بیمار ہو کے ہی آیا۔

اب وقت ہے کہ عطار کا لونڈا اپنی حکمت بند کرے اور مریض کو اپنی طاقت سے ٹھیک ہونے دے مریض میں قوت مدافعت پیدا ہونے دے۔ مریض کو بھی چاہیے کہ لونڈے کی حکمت کی بجائے اپنی طاقت پر بھروسہ کرے اور اپنے اصل کے پاس جائے وہیں سے شفا ملے گی ۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

عمران خان صاحب کسان کا سوچیں
عمران صاحب، وقت گزر رہا ہے