احساس کا قتل

محمدنوازطاہر
صحافی،کالم نگار

1 month ago


پی ایف یوجے مالکان کی زبان بولتی ہے

بھلے دنوں کی بات ہے جب لاہور میں صحافیوں کی تعداد اتنی تھی جو ناموں کے ساتھ کم و بیش سبھی کو یاد تھی۔ ایک دوسرے کا کچھ نہ کچھ احساس بھی تھا اور خصوصی وذاتی تعلقات کی بنیاد پر اس احساس کی نوعیت بھی مختلف تھی ، احساس بہر حال تھا۔ جب کوئی ساتھی بیمار ہوتا تو عیات کی جاتی، اِس دنیا سے رخصت ہوتا تو اس کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت مذہب اور عقیدے فرقے سے بالا ہوکر کی جاتی ،، وہ کئی روز تک یاد آتا۔۔ جیسے نثار عثمانی ، آئی ایچ راشد ، چاچا رفیق میر ، محمد ادریس، بابا جی ( ظہیر کاشمیری )، عزیز مظہرجیسی مجلسی شخصیات۔۔ہمارے دور کے ساتھی اظہر جعفری، سہیل ظفر، زیڈ اے شاہد، ندیم چشتی، الیاس مغل ، رانا اقبال ، ادریس بٹ ، تصور سعید مان ،لیاقت قریشی ، سلیم شاہ ، پرویز اقبال، انعام صاحب ، استاد سلیم اختر آغاسلیم ، تصور رضا اور جو نام اس وقت یاد نہیں آرہے ، ابھی تک پرانے یاروں کی گفتگو میں شامل رہتے ہیں۔۔۔ شہر سے باہر کسی ساتھی کے قریبی کا انتقال ہوتا تو تعزیت کے لئے اس کے آبائی گائوں تک حاضری دی جاتی ، ڈھارس بندھائی جاتی۔ ان الفاظ کی تصدیق کے لئے میں یہاں دو دوستوں ( اللہ انہیں بلائوﺅں اور ابتلائوں سے محفوظ رکھے۔۔ آمین ) پی یو جے کے سابق سیکرٹری محمد اکرم اور لاہور پریس کلب کے سابق سیکرٹری ظہیر بابر کا حوالہ دوں گا جب ان کے بھائیوں کے انتقال پرتعزیت کے لئے دوست لاہور سے گوجرانوالہ اور بوریوالا پہنچے، ڈسکہ جا کراسد ساہی کے جنازے میں شرکت کی ، میرے اپنے والد کے انتقال پر ظہیر شہزاد ، شبیر مغل ، سعیداختر، خالد محمد خالد سمیت کئی دوستوں نے گائوں آ کر قبر پر فاتحہ خوانی کی۔ اسی طرح یاد آرہا ہے کہ پی یو جے کے سابق سیکرٹری قمر اللہ چودھری کے ڈپلومیٹ بھائی پر جب بھارت میں پرتشدد بد سلوکی کی گئی تو ایک ڈپلومیٹ کے ساتھ بھارتی سفارتی دہشت گردی کی کوریج الگ بات ، اپنے ساتھی قمر اللہ چودھری کے ساتھ ان کے بھائی کے استقبال اور اظہارِ یکجہتی کے لئے لاہور ایئر پورٹ پر موجود تھے ، سبھی کو ایسے محسوس ہورہا تھا کہ انہی کے بڑئے بھائی کو دشمنوں نے اکیلا پکڑکر تشدد کیا ہے۔۔۔ یہ احساس تھا۔

اب صحافیوں کی تعداد ( حقیقی کی بحث میں الجھے بغیر) کتنی ہے ؟ اور احساس۔۔۔؟ روز جنازے اٹھ رہے ہیں ، ایک ایک گھر میں چند گھنٹوں کے وقفے سے جنازہ اٹھ رہاہے جیسے کہ ابھی کل ہوا کہ دی نیوز کے فوٹو گرافر منصور احمد کے بھائی کو شام کو سپردِ خاک کیا گیا اور چند گھنٹوں کے بعد خود منصور احمد کو بھی دوست لحد میں اتاررہے تھے۔ کل ہی جبکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری تھا تو ہم کرونا کا شکار ہونے والے اپنے ساتھی خالد محمود خالد کو میوہسپتال میں بیڈ دلانے اورکے وینٹی لیٹر کے حصول کے لئے سر کھپا رہے تھے، اس مقصد کے لئے پنجاب کے وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے بھی کوشش کی اور وزیرِ صحت ڈکٹر یاسمین راشد کو بھی درخواست کی گئی جبکہ اس وقت وہ ہوش و حواس سے دور جاچکے تھے،ہماری کچھ دوستوں کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی تھی ، ان تمام کوششوں کے نتیجے میں جب میوہسپتال کے معالجین کو احکامات موصول ہونا شروع ہوئے تو تب تک خود کو بے سہارا ہوتے دیکھ رہے بچوں کی دعائیں بھی اللہ سن چکا تھااور ہمارے ایک ساتھی خاور بیگ اپنی کوششوں سے سوا لاکھ روپے مالیت کے دو ٹیکوں ( صوبائی حکومت نے یہ ٹیکے مریضوں کا سرکاری اخراجات پرلگانے کیلئے کمپنی سے مذاکرات کرکے ایک لاکھ دو ہزار روپے میں خریدنے کامعاہدہ کیا ہے )کا انتظام بھی کرچکے تھے۔ اب اللہ کا خاص کرم ہوا ہے کہ خالد محمود خالد اپنے بچوں کو پہچاننے ، ان سے تھوڑی بہت گفتگو کرنے کے قابل ہوچکے ہیں اور ان کی ریکوری کی رفتار بھی بہتر ہورہی ہے لیکن اس سارے عمل میں کس کرب اور اذیت کا سامنا رہا اس کا اندازہ کرنا مشکل اور بچوں کی کیفیت وہ بچے خود ہی بیان کرسکتے ہیں۔ یہاں ایک بات دیانتداری سے یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جن دوستوں نے خالد محمود خالد کے بچوں کو اپنے بچے سمجھا اور خالد کی جگہ خود کو لاچار محسوس کیا ، ان میں سے کسی نے کوئی احسان نہیں کیا ، اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کی اور وہی کام کیا جو خالد دوسروں کے لئے کرتا ہے۔

کرونا کے ایسے کتنے مریض بلا علاج مر گئے ہوں گے جن کے علاج کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والا کوئی نہیں تھا یا جن کی رسائی وزرا ءتک نہیں۔۔۔؟جہاں یہ سوال اہم ہے وہاں میڈیا کارکنوں کے حوالے سے یہ سوال بہت اہم ہے کہ کتنے میڈیا کارکن صرف اپنا روزگار بچانے کے لئے ، تمام تر احتیاطی تدابیراختیار کرنے کے باوجود کرونا کا شکار ہوئے ؟ کرونا کے حملے کے دوران کتنے کارکن بے روزگار ہوئے ؟ کتنے کارکنوں کی اجرت پر بیس سے پچاس فیصد تک کٹ لگا دیا گیا ؟ میری ایک اطلاع کے مطابق اب ایک ادارہ (پاکستان آبزرور) بھی ایسی ہی کٹوتی کی تلوار تیز کررہا ہے جو چین کی حکومت سے ایک ڈمی اخبار ( صرف مواد کو پیپر کی شکل دیکر)غیر ملکی کرنسی میں بھاری رقم ماہانہ وصول کررہا ہے۔ باقی جن اداروں نے بھی کرونا وبا کے دوران جو کٹوتیاں کی ہیں وہ نہ کرنے سے بھی تجوریاں وینٹی لیٹرز پر نہیں آنا تھیں ، جتنی تعداد میں کارکن کرونا کا شکار ہوئے ان کے تناسب سے کتنے میڈیا مالکان کرونا کا شکار(اللہ سب کو حفظ و امان میں رکھے اور صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔۔ آمین ) ہوئے ؟ ان کے مقابلے میں سرکاری نشریاتی اداروں بشمول اے پی پی کتنے سٹاف نے کام کیا اور کتنے نے گھر بیٹھے باقی سرکاری ملامین کی طرح تنخواہیں وصول کیں ؟ کتنے چینلوں پر میڈیا کارکنوں کے کرونا کا شکار ہونے کے حوالے سے پروگرام کئے گئے ؟ کیسے کئے جاتے اور بتایا جاتا کہ یہ کارکن اس لئے کرونا کاشکار ہوئے کہ مالکان کو صرف اپنے کاروبار اور ذاتی مفاد سے غرض ہے کارکن کی زندگی کی پرواہ نہیں پھر وہ آزادی صحافت کا علمبردار آزاد میڈیا میڈیا جو بحریہ ٹائون میں کرونا کی وباءپھیلنے پر اس لئے کوئی خبر نہیں دیتا کہ ملک ریاض کی ناراضگی کا متحمل نہیں ؟

جب کرونا کی وباشروع ہوئی تو میں نے پی ایف یو جے کی اپنی قیادت اور حکومت کوتجو یز پیش کی تھی کہ میڈیا مالکان کو کارکنوں کے تحفظ کے لئے اقدامات یقینی بنانے کا پابند بنائے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس ٹرائی اینگل نے اس تجویز پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ تینوں ہی اپنی اپنی کشتی پر سوار غلیل سے ایک دوسرے سے جنگ میں مصروف رہے اور کارکن ان تینوں کی بے اعتنائی کی گولیوں سے چھلنے ہوتے رہے۔ پی ایف یو جے بھی کارکنوں کی وکالت کرتے وقت مالکان کے خلاف دلائل دیتے ہوئے مالکان کے وسائل متاثر ہونے سے بات کا آغاز کرتی رہی اور ابھی کئی لوگ ایسے ہیں جو بات کارکنوں کی کرتے ہیں اور آغاز مالکان کے نفع میں کمی سے ان کی مجبوری اور مسائل سے شروع کرتے ہیں اور کارکنوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مالکان مجبور ہیں ، ساتھ یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مالکان بڑی قربانی دیکر ادارے چلا رہے ہیں ورنہ وہ بند بھی کرسکتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہونا ، کسی مالک نے چلتا ہوا ادارہ بند نہیں کرنا ، اگر اس ضمن میں ”آپ ٹی وی چینل کی مثال دی جائے تو یہ درست اس لئے نہیں ہوگی کہ اس میں گھپلے ہوئے ، ایک خاص مقصد کے لئے شروع کیا گیا اور ملک ریاض کو سونپا گیاجبکہ یہ بول ٹی وی کا متبادل تھا لیکن مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تھا، بول کا راستہ روکنے والوں نے اس کو کیسے چلنے دینا تھا ، یہ الگ بات کہ چلنے کے بعد بول نے کارکنوں اور اس چینل کی بندش کی مخالفت کرنے والوں کی ہی ”بولتی “بند کردی۔ باقی جو ادارے بند کئے گئے وہ بدنیتی تھی ، جن میں نوائے وقت کا ’وقت نیوز‘ سرفہرست ہے ۔ یہ چینل اجرا کے وقت سے ہی چلنے کے قابل نہیں رہا تھا ، مجید نظامی مرحوم کے ہوتے ہی ان کی قبر سے منسوب تمام نشانیاں مٹانا اور انہیں آثارِ قدیمہ کے طرح یکمشت کمائی کا ذرریعہ بنانا اور دولت سمیٹ کر کہیں اور منتقل کرنا مقصود تھا ، نتیجہ یہ ہے کہ اب نوائے وقت ایک ڈمی اخبار دکھائی دیتا ہے۔ جنگ گروپ کا بند ہونے والا اخبار ’وقت‘ علیم خان سے بند کرنے کے لئے ہی خریدا گیا تھا ، ڈیلی انقلاب اس لئے بند کیا گیا کہ جدید الیکٹرانک دور میں سست روی کے ساتھ چلنا ممکن نہیں تھا اور عصری تقاضوں کے مطابق چلانے کے لئے انتظامیہ پیسے نہیں خرچ کرنا چاہتی تھی اور مالی مجبوری بھی ثابت کرنا چاہتی تھی۔ باقی جن اداروں کی حالت خراب ہوئی ان کے محرکات سبھی کے سامنے ہیں کہ کاروباری معاملات اور اپنے ماضی سے خود کوکو تحفظ دینے کے لئے یہ ادارے شروع کیے گئے تھے، جہاں تک اخبارات کی سرکولیشن کم ہونے کا جواز ہے تو کیا کسی مالک نے اپنی تازہ ترین تعداد اشاعت اپنے اخبار میں شائع کی ہے ؟ جبکہ سرکار کے ریکارڈ میں اے بی سی سرٹیفکیٹ کی صورت میں ابھی بھی ان کی تعداد اشاعت لاکھ اور ہزاروں میں ہے جبکہ یہ کلو گراموں میں شائع ہورہے ہیں۔ پرنٹنگ سٹیشن زیادہ بنا کر ان سرکاری اشتہارات کے نرخ کئی گنا زیادہ وصول کیے جارہے ہیں جو پہلے ایک سٹیشن کے حساب سے لئے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر امروز صرف لاہور اور ملتان سے شائع ہوتا تھا ، جس میں چھپنے والے اشتہارات پورے صوبے کے قارئین کی نظر سے گزرتے تھے اور نرخ دو سٹیشنوں کے حساب سے وصول کیے جاتے تھے ، اب ایک اخبار تیار لاہور میں ہوتا ہے اور باقی پرنٹنگ سٹیشنوں سے مارکیٹ میں آتا ہے ، ہر پرنٹنگ سٹیشن کے حساب سے اشتہار کے بل وصول کیے جاتے ہیں۔ اس طرح مالکان کو فائدہ ہوا ہے نقصان تو ہوا ہی نہیں لیکن پی ایف یو جے اور ایپنک نہ صرف مالکان کے اثاثوں کی چھان بین کے مطالبے سے دستبردار ہوچکی ہیں بلکہ اگر کسی اخبار کے اشتہارات پر بات ہو تو مالک کی جگہ سڑکوں پر آکرخود وکالت کرتی ہیں جبکہ دنیا میں کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں جہاں کارکنوں کی تنخواہ سرکاری اشتہارات کے بلوں کی وصولی سے مشروط کردی گئی ہو۔۔ ہر طرف بے حسی کے ساتھ لوٹ مار مچی ہے۔ تمام ریاستی ادارے ، جماعتیں اس بد دیانتی میں برابر کی شریک ہیں۔ جہاں بددیانتی اس قدر ہوگی وہاں انسانوں میں ایک دوسرے کے لئے احساس کہاں ہوگا؟ ہر جانب جھوٹ بک رہا ہے ، انصاف کی طرح ، فراڈ، لوٹ مار کو فروغ دیا جارہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم نے انسان کے ساتھ ساتھ احساس کا بھی قتلِ عام کیا ہے اور اب کس احساس کی بات کریں ؟ قومی خزانے کے احساس کی ؟ جسے ہر کوئی اپنی طاقت کے حساب سے لوٹ رہا ہے ؟ انسان کے خون کے حساب کی جس کی کوئی وقعت نہیں رہ گئی اور جن کا کام انسان کی اہمیت پر بات جاری رکھنا تھا وہ کسی اور کی بات کررہے ہیں ؟ احتساب کی بات کرنے والے خود ”انھی“ مچائے ہوئے ہیں ، یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ابھی پرانے چند لوگ باقی ہیں جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر درد محسوس کرتے ہیں اور اس درد سے ہمیں اپنے بچھڑنے والے ساتھی یاد آجاتے ہیں ، ان کے ساتھ وہ اکابرین بھی یاد آجاتے ہیں جنہوں نے کارکنوں کے حقوق کے لئے پوری زندگی جدوجہد کی ، ان میں انسانیت تھی ، احساس تھا جو اب قتل ہوچکا جیسے اس ملک میں سچ کا ، دیانتداری کا،


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

پہلی جامع مسجد پنجاب کا تاریخی اجتماع