جنرل باجوہ پاکستان کوغیرجہادی بنانے کے حامی

حسین حقانی
کالم نگار

1 month ago


عمران خان نے اسامہ کوشہیدکہہ کرجہادی بیانیے کوفروغ دیا

جنرل باجوہ نے پاکستان کو ایک ”عام ملک“ میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر بات کی ہے اور عالمی رہنمائوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ملک کے جہادیوں کے دوست کا تاثر ختم کرنے میں مدد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے مسلح افواج کو دہشت گردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی مقرر کردہ ضروریات کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ ان کے دور میں ، ٹرائل کورٹ نے 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے پاکستانی ماسٹر مائنڈز کو دہشت گردی سے متعلق مالی اعانت کے الزامات میں سزا سنائی۔

اگرچہ دنیا کے اکثر لوگ جانتے تھے مگر اس کے باوجود پاکستان برسوں تک انکار کرتے رہنے کے بعد ، اب پاکستان کے رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا ملک کا دہشت گردی سے تعلق کچھ پیچیدہ رہا ہے۔ لیکن عمران خان ، جو دہشت گردوں کی تعریف کرتے رہے ہیں اور فرما چکے ہیں کہ بن لادن کو”شہید کیا گیا تھا“۔

وہ قومی بیانئیے کو جہادی رکھنا چاہتے ہیں اور کچھ ایسی ہی منشااسلام پسند سیاستدانوں ، ججوں اور صحافیوں کی بھی ہے۔ اگر جنرل باجوہ اپنے پیش رو کی پالیسیوں سے منہ موڑنے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی مغرب کے وہ لوگ بھی تعریف کریں گے جو پاکستان کے سخت ناقد ہیں لیکن عمر شیخ کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو جہاد پر قابو پانے کے لئے بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

طالبان افغانستان پر دوبارہ حکمرانی کے خواب چھوڑ دیں
اپوزیشن کی تحریک
غیر مرئی حکومت کا تصور

کیاطالبان جنگ بندی سے انکاری ہیں؟؟

5 months ago


رہاہونے والوں نے دوبارہ ہتھیاراٹھالئے

<p style="text-align: right;">محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے طالبان سے مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی اور امریکی انخلا کے نظام الاوقات پر عمل پیرا ہونے کے باوجود بھی طالبان جنگ بندی سے انکار کر رہے ہیں۔حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے بہت سے طالبان نے دوبارہ ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور وہ میدان جنگ میں واپس آ گئے ہیں۔ امریکی حکومت کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طالبان نے ابھی تک القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات نہیں توڑے اور امریکیوں کے ساتھ ساتھ افغانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔</p> <p style="text-align: right;">طالبان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت معطل کرنے کا وقت آن پہنچا ہو۔مذاکرات کی معطلی سے یہ تاثر ختم ہوجائے گا کہ امریکی افغانستان سے دستبرداری کے لئے اس قدر بے چین ہیں کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ ان کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار میں واپس آتے ہیں یا نہیں۔مذاکرات معطل کرنے کی حکمت عملی طالبان کو اپنے وعدے پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس سے پاکستان کو بھی یہ اشارہ ملے گا کہ اسے لڑائی ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طالبان کو پناہ گاہ سے محروم ہونے کی دھمکی دینا ہوگی۔</p> <p style="text-align: right;"><br />کسی مشکل سودا بازی کے بغیر طالبان کے تمام مطالبات تسلیم کر کے مذاکرات کی امریکی حکمت عملی نے انہیں مزید شہہ دی ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امن کے بارے میں امریکہ اور طالبان کے نکتہ ہائے نظر بہت مختلف ہیں۔ امریکی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں خونریزی ختم ہو، جبکہ طالبان اپنی فتح کو امن کا آغاز سمجھتے ہیں۔طالبان نیٹو افواج کے انخلا کی حوصلہ افزائی کے لئے ان مذاکرات میں شامل ہوئے تھے جب وہ نائن الیون کے بعد ختم ہونے والے اپنے اسلامی امارت کی بحالی کی آ س لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس امکان کو یقینی بنانے کا راستہ تھا کہ اس کے طفیلی طالبان کابل پر قبضہ کر لیں تاکہ ہمسایہ ملک میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اسے مزید نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />بین ثبوتوں کے باوجود پاکستان برسوں سے اس حقیقت سے انکار کرتا چلا آ رہا ہے کہ اس نے طالبان کی حمایت کی یا اس کی قیادت کو پناہ دی ۔ صدر ٹرمپ کی طالبان سے بات چیت کے لئے آمادگی نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ افغانستان میں اس کے "ڈبل گیم" کے الزامات سے بالاتر ہوکر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے۔انتظامیہ کا طالبان کے آمرانہ نظریات کو نظرانداز کر کے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا عملی حقائق پر مبنی فیصلہ تھا ۔اس کے علاوہ اس جنگ کو طوالت دینے ،امریکی جانوں اور خزانوں کونقصان پہنچانے میں پاکستان کے کردار کو معاف کرنے کی بھی ضرورت تھی۔</p> <p style="text-align: right;"><br />اگر یہ مذاکرات امن قائم کرنے قائم کرنے کا باعث بنتے ہیں تو ان کی یہ قیمت چکانا ایک اچھا سودا ہو سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان جنگ کے خاتمے اورافغانستان کے اقتدارکے ڈھانچے میں شامل ہونے پر راضی نہیں ۔ وہ مطلق طاقت چاہتے ہیں اور اپنی تشریح کے مطابق اسلامی قانون افغان عوام پر مسلط کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے کے صرف پانچ دن بعد طالبان نے 5 مارچ کو ایک فتویٰ جاری کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ، افغانستان کے جائز حکمران اور اس کی "اسلامی حکومت" کے سربراہ ہیں۔</p> <p style="text-align: right;"><br />اس طرح کے بیانات سے افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کے جمہوری آئین کے پابند دیگر افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔طالبان کا موقف سخت ہونے کی وجہ ان کا یہ اندازہ ہے کہ امریکی صدر کا افغانستان سے دستبرداری کا فیصلہ ناقابل واپسی ہے۔ وہ کابل میں سیاسی تقسیم کو بھی اپنے لئے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ ایک بار امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کو توقع ہے کہ وہ اپنے نظریہ کے خلاف کسی بھی مزاحمت کا بے رحمی سے صفایا کردیں گے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />دوسری طرف امریکہ اورطالبان کے رہنماو&iquest;ں کے مابین براہ راست مذاکرات کی سہولت کے بعد پاکستان کو لگتا ہے کہ اب اس کے اپنے ماضی کے طرز عمل کو بھلا دیا گیا ہے۔ پاکستان چاہے گا کہ امریکہ مذاکرات کو جاری رکھے چاہے ان کا کوئی بھی نتیجہ نہ نکل رہا ہو اور پاکستان خود طالبان قیادت پر سمجھوتے کے لئے دباو&iquest; ڈالنے سے انکار کرتا رہے۔ پاکستانی عہدے دار یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ ختم ہو گیا ہے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />حقیقت یہ ہے کہ طالبان رہنما دوحہ میں مذاکرات کے لئے پاکستان سے سفر کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے خاندان قطر یا پاکستان میں رہتے ہیں۔ امریکہ اس بات پر اصرار کرسکتا ہے کہ پاکستان (اور قطر) کو صرف اچھا میزبان ہونے سے آگے بڑھ کر طالبان سے بات کرنا چاہئے اور اگر وہ مذاکرات کے حل کے لئے شرائط کو قبول نہیں کرتے تو طالبان رہنماو&iquest;ں کو ملک بدر کرنے کے دھمکی کا استعمال کرنا چاہئے۔</p> <p style="text-align: right;"><br />امریکہ کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی لامتناہی جنگ سے نکلنے کی خواہش، اس ملک کی مایوسی اور اپنی افواج کے انخلا کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر آمادگی کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ افغانستان کو طالبان کے زیر اقتدار چھوڑنا ، خاص طور پر جب چین خطے میں اپنی سرمایہ کاری کو بڑھا رہا ہے اور خطے کی غالب طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے، امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔</p> <p style="text-align: right;"><br />جب تک کہ طالبان زیادہ لچک نہ دکھائیں تب تک مذاکرات کی معطلی سے پاکستان کو طالبان کا بازو مروڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ افغانستان سے انخلا کے لئے زیادہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے تو چین (جس کی طالبان کے اقتدار میں واپسی کے خوف کی اپنی وجوہات ہوسکتی ہیں) بھی افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کو زیادہ سنجیدگی سے لے گا۔</p>



باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت

6 months ago


عمران خان شہزادہ محمد کو اپنا حلیف نہیں سمجھتے

<p>پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دو شراکت دار ممالک کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ رنجش کو ختم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ریاض اور اسلام آباد کے مابین اختلافات اس وقت سامنے أئے تھے جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الٹی میٹم دیا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون</p><p>تنظیم کا اجلاس طلب کرے۔</p><p>پاکستان برسوں سے اقتصادی بیل آؤٹ اور غیر ہنر مند مزدوروں کے لئے ملازمتوں کہ جن سے ملنے والی ترسیلات زر پاکستان کے ادائیگیوں کے عدم توازن کے دیرینہ مسئلے سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں کے سلسلے میں سعودی عرب پر انحصار کرتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن اب ناراضی کی وجہ سے سعودی عرب قلیل المدتی قرضوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کررہا ہے</p><p>اور تیل کے معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں بھی گرم جوشی کا اظہار نہیں کر رہا جس کے تحت پاکستان کو رعایتی شرائط تیل مل رہا تھا۔</p><p>تعلقات میں تناؤ کم کرانے کے لئے جنرل باجوہ کی مداخلت اس احساس کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان سعودیوں کو چھوڑنے کا متحمل نہیں ہے۔ پھر قریشی نے کیوں سعودی مخالف بیان بازی کی جس پر قائم نہیں رہا جا سکتا تھا؟</p><p>اس بات کو سمجھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی حد سے بڑھی سادہ لوحی اور بہت سے پاکستانیوں کی خام خیالی کو سمجھنا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ بدلے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کی حیثیت مرکزی ہے۔</p><p>کئی دہائیوں سے خصوصاً 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے سٹرٹیجک امور سے متعلق ریٹائرڈ پاکستانی جرنیل اور سویلین لکھاری جنوبی اور وسطی ایشیا میں’’ نئی گریٹ گیم ‘‘ کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان کو خطے میں سیاسی محور بنا دے گی۔</p><p>یہ تصور برطانوی ماہر جغرافیہ ہالفورڈ میکندر کے نظریہ ہارٹ لینڈ سے لیا گیا جو 1904 میں پیش کیا گیا تھا جس وقت پاکستان کا وجود بھی نہیں تھا، امریکہ ابھی ایک سپر پاور نہیں بنا تھا اور ایئر پاور یا سیٹلائٹ اور سائبر ٹکنالوجیوں کے فوجی استعمال کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔</p><p>افغانستان میں پاکستان کی نائن الیون سے قبل مداخلت، غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے طور پر جہادی عسکریت پسندوں کی حمایت اور چین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات پاکستان کے سٹریٹجک مقام کا فائدہ اٹھانے اور عالمی افق پر اسے ایک بڑا کھلاڑی بنانے کی عظیم حکمت عملی کے حصے کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔</p><p>بعض امریکی اسے بڑا سراب قرار دے کر مسترد کرتے ہیں خصوصاً نائن الیون کے بعد جب پاکستان کو ایک بار پھر امریکہ کا اتحادی بننے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کے معاشی مسائل اور بیرونی طاقتوں پر اس کے مستقل انحصار کے باوجود پاکستان کے ناگزیر ہونے کا نظریہ پاکستانیوں میں برقرار ہے۔</p><p>افغانستان سے امریکی افواج کے جلد ہونے والے انخلا، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے امکان اور معاشی طور پرمضبوط چین سے وابستگی سمیت کئی عناصر نے مل کر اس نظریہ کو تقویت دی ہے کہ پاکستان عالمی انتظام میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پرابھرے گا۔</p><p>اس تناظر میں عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کے زوال اور چین کے عروج سے پاکستان کو فائدہ ہو گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی وجہ سے شاید پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس نے پاکستان اورچین کو مجبوری کےبندھن میں باندھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں بھارت دشمنی کی قدر مشترک ہے لیکن بھارت کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایک جارح اور آمریت پسند چین کے ساتھ جلد ہونے والی اپنی محاذ آرائی میں ایک حلیف سمجھتے ہیں۔</p><p>پاکستان کی ناگزیر سٹریٹجک اہمیت کا یقین رکھنے والوں کو امید ہے کہ افغانستان کے بعد امریکہ مشرق وسطی سے بھی آہستہ آہستہ نکل جائے گا۔ ان کے خیال میں اس کے بعد پاکستان مشرق وسطی سے چین کے رابطے کے طور پر کام کرے گا جس سے مشرق وسطی کے تیل کو نکالنے اور خلیج کے بحری جہازوں کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کو ٹھیکیدار کا کردار مل جائے گا۔</p><p>اس کے بعد پاکستان افغانستان پر بالادستی کے اپنے پرانے خوابوں کو پورا کر سکے گا، ہندوستان کےساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اپنی شرائط پر حل کر سکے گا اور مسلم دنیا کے قدرتی رہنما کا کردار ادا کر سکے گا اور واحد جوہری طاقت کے طور پراپنا صحیح مقام بنا سکتا ہے۔</p><p>وزیر اعظم عمران خان اور ان کے حواریوں سمیت متعدد بااثر لوگوں نے اس طرح کی من گھڑت سوچ پر یقین کر رکھا ہے۔ پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ اور مستقل اسٹیبلشمنٹ میں ان کے اتحادی اس قسم کے تصورات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مزید مثبت قومی بیانیہ بنانے میں مدد ملے گی۔لیکن امیدوں اور حقیقت کے مابین پائے جانے والے فرق کو سمجھنے میں وہ شاید کچھ زیادہ ہی عملیت پسند ہیں۔</p><p>ان دنوں&nbsp; پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز پر بیٹھ کر تجزیئے کرنے والے ماہرین کی اکثریت چین ،روس ، ایران اور پاکستان کےاتحاد میں اس ملک کے آئندہ اہم کردار کا خصوصی تذکرہ کرتے ہیں جس کا مقصود امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کو شکست دینا ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر نے&nbsp; پانچ ممالک کے اتحاد کے بارے میں بات چیت کی حوصلہ افزائی کی اور اس متنوع گروہ میں تعاون کی راہ میں رکاوٹ بننے والے مختلف امور کو یکسر نظر انداز کر گئے۔</p><p>کوویڈ کے بعد کے نئے عالمی نظام کے بارے میں کسی پاکستانی اخبار میں ایسے مضامین کی اشاعت کوئی غیر معمولی بات نہیں جو پاکستانی اسلامی پسندوں کے خوابوں پر مبنی ہو گا۔</p><p>پاکستان میں اس قسم کی بیان بازی ترکی کے اسلام پسند صدر رجب طیب اردوان کے عثمانی دور کے احیا کی بڑ سے مختلف نہیں جو ترکی کی اس وقت کے کمزور معاشی حالت کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔</p><p>عمران خان اردوان کے بہت بڑے پرستار ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت کے مسائل کا حل پین اسلام ازم کو سمجھتے ہیں۔</p><p>پاکستان نے ایک طویل عرصے سے پین اسلام ازم کے راستے پر سفر شروع کیا ہوا ہے لیکن یہ اس قوم کے شناخت کے بحران سے نمٹنے کا ایک ذریعہ تھا جو صرف 73&nbsp; سال پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس سے کچھ ہی عرصہ قبل ہی اس کا تصور کیا گیا تھا۔</p><p>زیادہ تر پاکستانی رہنما اسلامی اتحاد کی حدود کو سمجھتے تھے اور معاشی اور سلامتی وجوہات کی بنا پر مغرب سے اتحاد کرتے رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اپنی ہی بیان بازی پر یقین رکھتے ہیں ۔</p><p>&nbsp;کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان نے پاکستانیوں سے ایک ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھنے کے لئے کہا جو غالباً عثمانی خاندان کے بانی عثمان کے والد کی زندگی پر مبنی ہے۔ ارطغرل کے بارے میں تاریخی ریکارڈ بہت کم ہے لیکن اس شو کے پروڈیوسروں اور کہانی لکھنے والوں نے چند خاکہ نما تاریخیحوالوں کو ایک 150 اقساط کے ڈرامے کی شکل دے دی۔</p><p>اس ڈرامے کے ہیرو کو ایک عظیم مسلمان جنگجو کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں پر قابو پانے کے ابتدائی مرحلے میں فاتح بن کر سامنے آتا ہے جس کو اردوان نے ایک بار جاری ہلال اور صلیب کے درمیان کشمکش قرار دیا تھا۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اردوان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں جو ان سے بھی بڑھ کر سوچتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف اپنی لڑائیاں جیتنے کے علاوہ مغرب کو نیچا دکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p><p>کسی کو عمران خان کے مغرب پسندی کے ظاہری حلیئے سے دھوکا کھاتے ہوئے بے وقوف نہیں بننا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا ان کی زبان کی لغزش تھی۔</p><p>یہ ایسے عالمی منظر نامے کی عکاسی ہے جسے پاکستانیوں میں بہت حمایت حاصل ہے۔ اس پس منظر میں عمران خان اور ان کے پیروکار سعودی عرب کے موجودہ رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی اسلام پسند نیو عثمانی خیالی دنیا جسے وہ چین کی مدد سے بنانے کی امید باندھے ہوئے ہیں کا حلیف نہیں سمجھتے۔</p><p>سعودی اب اسلام پسند اخوان المسلمون کی مخالفت کر رہے ہیں ، ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں&nbsp; اور اسرائیل بلا سوچے سمجھے مخالفت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔</p><p>یہ بات عمران خان کو اتنا ہی پریشان کرتی ہے جتنا اس سے اردوان ناراض ہوتے ہیں۔</p><p>پاکستان کی لین دین کی ضروریات کی وجہ سے خان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہیں بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی کے لئے عارضی طور پر اپنا امریکی مخالف لبادہ اتار دیا تھا۔لیکن ان&nbsp; کے بیشتر حامیوں کی طرح خود ان کے اپنے دل میں ایک ایسے عالمی نظام کی خواہش ہے جس میں چین دنیا پر بالادستی رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر پھلتا پھولتا رہنے دیتا ہو۔</p><p>چین کے ایغوروں&nbsp; کی حالت دیکھ کر پاکستان کے أرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر جہاد کرنے والے جہادیوں کو چین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برداشت کے متعلق کم از کم ایک دو باتیں سمجھ أ ہی گئی ہوں گی۔&nbsp;&nbsp;</p><p>لیکن ابھی تک&nbsp; خان کی آنکھیں بند ہیں اور وزیر خارجہکی شان و شوکت عروج پر ہے۔ دریں اثنا حقیقت کا تقاضا ہے کہ جنرل باجوہ نقصان کو کنٹرول کرنے کے مشنوں میں اسی طرح مصروف رہیں جس طرح وہ ریاض جا رہے ہیں۔</p>



عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم

6 months ago


شاہ محمود قریشی کے بیان نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا

<p>&nbsp;&nbsp;کشمیرپر تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس کی طلبی کے لئے &nbsp;پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے&nbsp;سعودی عرب کوغیر معمولی الٹی میٹم سے &nbsp;ریاض کے ساتھ عمومی طور پر خوشگوار تعلقات کو خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔ قریشی نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب کی زیرقیادت او آئی سی اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہی تو پاکستان او آئی سی کے بغیر بھی اجلاس بلانے کے لئے تیار ہے۔&nbsp;</p><p>سعودی عرب کے حاکم اس قسم کی دھمکیوں سے صرف نظر نہیں کریں گے اور انہیں مزید غصہ اس بات پر ہو گا کہ دھمکیاں بھی وہ &nbsp;ملک &nbsp;دے رہا ہے &nbsp;جو اس شاہی خاندان کی حکومت سے اکثر مالی امداد لیتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان کے لئے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ کی ادائیگی میں مدد کرنے سے لے کر دو سال قبل ادائیگیوں کے توازن پر قابو پانے میں مدد فراہم کے لئے 6 ارب ڈالر کے قرض تک ہرمشکل وقت میں سعودیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔</p><p>&nbsp;تارکین وطن پاکستانی مزدوروں کو سب سے زیادہ ملازمتیں سعودی عرب نے دی ہوئی ہیں اور اس طرح ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ کچھ پاکستانی رہنما سعودیوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مساجد اور مدارس کی مالی اعانت کے ذریعے ملک میں بنیاد پرستی اور اسلام پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں &nbsp;ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے سعودی معاشی تعلقات نے ایسے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا ہے جو عالمی امورکو ہندوستان اورپاکستان کے تناظر میں دوست یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔</p><p>ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی تعلقات کی کچھ بنیادی &nbsp;حقیقتوں کو سمجھنے میں دشواری &nbsp;ہے۔ دونوں ممالک کے مابین روایتی تعلقات کی وجہ سے موجودہ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے 2007 میں یہ تبصرہ کیا تھا (وکی لیکس کے ایک لیک کیبل کے مطابق) کہ &nbsp;ہم سعودی عرب &nbsp;والے &nbsp;پاکستان میں مبصر نہیں بلکہ اس میں شراکت دار ہیں۔</p><p>&nbsp;&nbsp;پاکستان خود کو پیداواری معیشت بنانے میں ناکام رہا ہے اس کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ اس کی باہمی تجارت 3.6 ارب ڈالر ہے۔ دوسری طرف بھارت کے ساتھ سعودی تجارت بڑھ کر27 ارب ڈالر ہوگئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب والے پاکستان کو امداد &nbsp;لینے والا ملک سمجھتے ہیں جسے براہ راست بجٹ کے لئے رقم، موخر ادائیگی کی بنیاد پرتیل اورغیر ہنر مند کارکنوں کے لئے کئی لاکھ نوکریوں کی شکل میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لئے ہندوستان ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔</p><p>اس بے جوڑ تعلق کی حقیقت کے پیش نظرپاکستان میں ایک کے بعد آنے والی دوسری حکومت نے اس شاہی حکومت کے ساتھ عاجزانہ رویہ رکھا۔ لیکن عاجزی یا شکرگزاری وزیر اعظم عمران خان کی عوامی حکومت کے بنیادی بیانیہ کے برعکس ہے۔ اس بیانئے کے مطابق پاکستان دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت ہے اورمسلم دنیا کی رہنمائی کرنا اس کا حق ہے اوراس وجہ سے دوسرے مسلم ممالک کو اس کی حمایت کرنا چاہئے۔</p><p>خان پاکستانیوں کو بتاتے ہیں کہ خواندگی اورسکولوں میں داخلہ کی کم شرح کے باوجود وہ عظیم قوم ہیں جنہیں صرف ناقص قیادت نے ہی پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ اب جب کہ انہیں خان کی صورت میں ایک "ایماندار رہنما" مل گیا ہے پاکستان بھارت سے بدلہ لے سکتا ہے، کشمیرکو آزاد کرا سکتا ہے اور عالمی سطح پروہ مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا یہ عظیم ملک حقدار ہے۔</p><p>اس بڑھک بازی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو باہمی مفادات کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے اور اپنےعظیم رہنماعمران خان کی زیرقیادت پاکستان یہ ایجنڈا طے کرے گا کہ دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کریں۔</p><p>اس طرح کی شان و شوکت والی باتیں بہت سے پاکستانیوں کو اچھی لگتی ہوں گی لیکن پاکستان سے باہر اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اس کے نتیجے میں پچھلے دو سالوں میں پاکستان کے سفارت کارعالمی رہنماؤں کی منت سماجت کر رہے ہیں جب کہ خان اور ان کے وزرا دنیا کے دارالحکومتوں میں غم و غصہ اورغلط فہمیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں۔</p><p>&nbsp;شاہ محمود قریشی کی طرف سے برسرعام کی جانے والی توہین کا سعودی عرب کی طرف سے فوری ردعمل یہ ہے کہ ریاض نے مختصر مدت کی بنیاد کے لئے دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگ لیا ہے اورادھار تیل کی فراہمی کے &nbsp;معاہدے کی تجدید &nbsp;کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی قرض کی واپسی شروع کرنے کے لئے پاکستان نے چین سے ایک &nbsp;ارب ڈالر قرض لیا جو زید کو ادائیگی کے لئے بکر سے قرض لینے کی ایک عمدہ مثال ہے۔</p><p>&nbsp;اب یہ کچھ وقت کی ہی بات ہے کہ پاکستانی حکام عمران خان اور قریشی کو سعودی عرب پر پاکستان کے انحصار اور چین کی طرف سے مزید رقم دینے کا نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ اگرچہ چین پاکستان کو قرض کی صورت میں مزید نقد رقم دے سکتا ہے اور ملک پر اپنا اثر مضبوط کرسکتا ہے لیکن اس کے پاس تیل کی رسد کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔</p><p>&nbsp;&nbsp;یہ حیرانی کی بات نہیں ہوگی کہ اگر خان اپنے وزیر خارجہ کی سعودی عرب کے بارے میں سخت باتوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سیاست ، معیشت ، خارجہ تعلقات ، صحت عامہ اور یہاں تک کہ کھیلوں سے متعلق اپنی پہلے کہی ہوئی باتوں سے مکر جانے کی وجہ سے انہیں یوٹرن خان سمیت متعدد ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ایک بارانہوں نے اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانے کی صلاحیت کو عظیم قیادت کا خاصہ &nbsp;قرار دیا تھا۔</p><p>بدقسمتی سے موقف تبدیل کرنے کی وجہ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کی بجائے خان کا انا پرست ہونا، کمزور اور ناقابل اعتماد ہونا ہے۔</p><p>اگر ہم ان کی کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نظر ڈالیں تو ملک کو متحد کرنے اور بحران پر قابو پانے کے لئے قومی حکمت عملی اپنانے کی بجائے خان نے اپنے قول و فعل سے عوام میں الجھن پیدا کی۔ ابتدائی طور پر &nbsp;انہوں نے اس وائرس کو عام زکام قرار دیا تھا جس سے 97 فیصد لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور صرف بزرگ اور کمزور لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ان کے اس بیان کی بعد میں ان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تردید کی۔ اس کے نتیجے میں مختلف صوبوں میں مختلف قسم کے لاک ڈاؤن ڈاؤن ہوئے لیکن قومی لاک ڈاؤن نہیں ہوا۔</p><p>وزیر اعظم بننے سے پہلے خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے کوئی قرض لئے بغیرمعیشت میں بہتری لائیں گے۔ انہوں نے سابق حکومتوں کے ذریعہ اپنایا ہوا محاورہ "بھیک مانگنے والا کشکول" سنڈروم ختم کرنے کا وعدہ کیا اور یہ بھی بڑ ماری تھی کہ وہ سپر پاورز کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود کشی کوترجیح دیں گے۔</p><p>تاہم اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم وقت میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا پیکیج مانگا اوراپریل 2020 میں پاکستان نے آر ایف آئی (ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ) کے تحت آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی درخواست کی۔ مزید یہ کہ پاکستان نے خلیجی ممالک ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے دوست ممالک سے پیسہ لیا۔ یہ سب یقیناً&nbsp;</p><p>چین کے بڑے قرضوں کے علاوہ ہیں۔</p><p>خان وہ شخص ہیں جنہوں نے اکثرامریکی پالیسیوں کے خلاف بیانات جاری کئے، امریکہ مخالف مظاہروں میں حصہ لیا جن میں &nbsp;افغانستان جانے والے نیٹو کے ٹرکوں کوروکا گیا اور خود کو ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو واشنگٹن کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ پھر جولائی 2019 میں وہ مسکراتے ہوئے پاکستان کے لئےامریکی فوجی اورمعاشی امداد کے حصول کے لئے پہنچ گئے۔</p><p>&nbsp;حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے انہوں نے اس وقت کی حکومتوں چاہے &nbsp;پی پی پی برسراقتدار تھی یا مسلم لیگ (ن) تھی، حکومت کو کام کرنے سے روکنے کے لئے بڑے پیمانے پرمظاہروں کا استعمال کیا ۔ مگر گذشتہ دو سالوں کے دوران جب سے خان اقتدار میں آئے ہیں وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے کسی بھی احتجاج پر چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں۔</p><p>پاکستان کو چلانے کے لئے نئے چہرے لانے کا وعدہ کرتے ہوئے خان نے بھی دراصل اسی پرانی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ ٹیکنو کریٹس اور سدا بہار سیاستدانوں کو ساتھ ملا لیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ &nbsp;دعوے کرتے ہوئے کہ صرف نئے چہرے ہی پارٹی کا حصہ ہوں گے انتخابات سے چند ماہ قبل انہوں نے اپنی پارٹی میں بہت سے نام نہاد "الیکٹ ایبلز" (لوٹوں) کا استقبال کرنے کی کوئی عار محسوس نہ کی۔ یہاں تک کہ خان نے یہ کہتے ہوئے اس پالیسی کا دفاع کیا کہ "انتخابات جیتنے کے لئے لڑے جاتے ہیں۔ آپ اچھا بچہ بننے کے لئے الیکشن نہیں لڑتے۔ میں جیتنا چاہتا ہوں. میں یورپ میں نہیں پاکستان میں الیکشن لڑ رہا ہوں۔ میں یورپی سیاستدانوں کو درآمد نہیں کرسکتا۔</p><p>معروف ماہر معاشیات عاطف میاں کو اپنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن کے طور پر لانے کے وعدے کے بعد خان نے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے عاطف میاں کے احمدی عقائد کے خلاف احتجاج &nbsp;پرعمران اپنی بات سے پھر گئے ۔ ایک سال کے اندر ان کے منتخب کردہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو وعدے کے مطابق معاشی اصلاحات کرنے میں ناکام رہنے پرعہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔</p><p>اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف شور مچانے والے خان نے اقتدار میں آنے کے بعد زلفی بخاری اور پرویز خٹک جیسے قریبی دوستوں کو حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں ان کے خلاف مقدمات زیرالتوا ہیں۔ &nbsp;خان پر بھی بنی گالا کی رہائش گاہ کی تعمیر میں غیرقانونی تجاوزات کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور اسے باقاعدہ بنانے کے لئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔ وہ چاہے یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ وہ اور ان کا خاندان بدعنوان نہیں لیکن ان کی بہن علیمہ خان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ</p><p>&nbsp;&nbsp; &nbsp;امریکہ اور برطانیہ میں بے نامی جائیدادوں پر 29.4 ملین روپے ٹیکس اور جرمانے ادا کریں۔</p><p>2010 میں خان نے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دی گئی تین سالہ توسیع پر تنقید کی تھی۔ تاہم انہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دینے میں کوئی پریشانی نہیں تھی،اس مقصد کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے 1952 کے پاک فوج ایکٹ میں ترمیم کی۔</p><p>خان اور ان کے مشیر انتخابات سے قبل اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ پہلے والوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے اوراس کی بجائے تمام سرکاری رہائش گاہوں کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کریں گے۔ مزید یہ کہ وہ &nbsp;پروٹوکول &nbsp;نہیں لیں گے،سائیکل پر دفتر آیا کریں گے، بیرون ملک سفر پررقم ضائع نہیں کریں گے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔</p><p>خان نہ صرف بڑی سرکاری رہائش گاہ میں مقیم ہیں ،ایک ہیلی کاپٹر بنی گالہ میں ان کی نجی رہائش گاہ سے سکریٹریٹ لاتا اور لے جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی 90 دنوں میں خان نے پانچ بیرونی دورے کئے (دو سعودی عرب ، اور یو اے ای ، چین اور ملائشیا کا ایک ایک دورہ کیا)۔ &nbsp;چھوٹی کابینہ رکھنے کے اپنے وعدے کے برعکس ان کی کابینہ میں 50 (20 نہیں) ارکان شامل ہیں اور خان قومی اسمبلی کے صرف 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کرسکے ہیں۔</p><p>یہاں تک کہ اس کا اقلیتوں کے حقوق کا حامی ہونے کا دعوی بھی وقت کے امتحان میں سچا ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کی حکومت اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی اجازت دے گی لیکن مذہبی لابی کے مشتعل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے کو بدل دیا اور اس کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورہ مانگ لیا ہے۔</p><p>تمام سیاستدانوں کو حالات کی بنیاد پر پالیسیاں ایڈجسٹ یا موافق کرنا &nbsp;پڑتی ہیں۔ سیاسی رہنما اکثر انتخابی مہم کے دوران نعرے لگاتے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں &nbsp;یہ صرف ووٹ حاصل کرنے &nbsp;کے لئے لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم خان جس رفتار سے یو ٹرن لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ملکی اور بین الاقوامی دونوں اہم &nbsp;معاملوں میں سمجھ کا فقدان &nbsp;ہے اور وہ یہ بات سمجھنے میں بھی ناکام ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کی ان باتوں سے اکیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔</p>