فرقہ وارانہ تشدددروازے پردستک دے رہاہے

عائشہ صدیقہ
کالم نگار

2 weeks ago


ریاست کے ساتھ میڈیابھی خاموش:سطح کے نیچے جنونیت دھمال ڈال رہی ہے

پاکستان کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ نے اگرچہ ان خبروں کوبہترطریقے سے چھپا لیا ہے لیکن بظاہر سنی اور شیعہ کے مابین فرقہ وارانہ کشیدگی، خاص طور پر تجارتی مرکز کراچی اور پنجاب کے کچھ شہری مراکز میں واپس آ گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے ریاستی حکام اور سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں نے اس تنازع کوبھارتی سازش کے طورپرپیش کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا یہ الزام اس حقیقت کی وضاحت نہیں کرتا کہ متعدد دیوبندی جماعتیں، انتہا پسنداورعسکریت پسند گروپ ملکی سلامتی کے اداروں کی نظروں کے سامنے شیعہ آبادی کو ہراساں کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

ابھی تشدد کا آغاز نہیں ہوا لیکن اس کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔نعرہ بازی کے باعث پیدا ہونے والا خوف ہی شیعوں کے لئے نقصان دہ ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آخراتنی کشیدگی کیوں واپس آئی؟ یہ کیوں ہواکہ دیوبندیوں کے تمام بڑے عسکریت پسند گروپ اہل تشیع کے دروازوں پردستک دینے واپس آگئے؟ اور سنیوں کے دیوبندیوں اور بریلویوں جیسے غیرعسکری مذہبی گروہ،اہل تشیع یا ایران کی حمایت کرنے والے کسی بھی شخص کی جان کے کیوں دشمن بنے ہیں؟


بہت سے لوگ جن سے میں نے بات کی وہ حالیہ پیش رفت کو پاکستانی حکومت اورفوج کی اس خواہش کے ساتھ جوڑرہے ہیں کہ ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے امریکہ میں سامنے آنے والے بڑے کاروبارکے سکینڈل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔کچھ لوگ اسے سیاسی مخالفت کوپیچھے دھکیلنے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔اس طرح کے دلائل قابل غورہیں لیکن شیعہ سنی تنازع دوبارہ کھڑے ہونے کی پوری وضاحت نہیں کرتے یاریاست کیوں اتنا بڑا خطرہ مول لے گی جو بارودی سرنگ پر چلنے کے مترادف ہے۔


عاصم باجوہ کی ساکھ بچاناضروری ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے اتنا بڑاخطرہ مول نہیں لیاجاسکتا۔ اس پہیلی کی گم شدہ کڑی ایران اورشاید تہران کے چین سے روابط ہیں۔ستمبر کے دوسرے ہفتے میں ہزاروں دیوبندی پیروکار شیعہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے کراچی کی مرکزی شاہراہ فیصل روڈ پر پہنچے اور اس فرقہ کو کافر قرار دیتے ہوئے ریاست سے مطالبہ کیا کہ اہل تشیع کوقانون میں غیر مسلم قراردیا جائے۔ یہاں تک کہ ایک ممتاز سنی عالم دین نے عاشورہ محرم کے ماتمی جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔


 اہل تشیع اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ محرم کربلا کے المناک واقعہ کو یاد کرتے ہوئے گزارتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی برسوں میں ہونے والی اس مذہب کی داخلی کشمکش کا باعث بنا تھا۔ اس سال دیوبندی علماءنے شیعہ علماءپراسلامی تاریخ کی بعض متنازعہ شخصیات کی توہین کا الزام عائد کیا جن کا دیوبندی احترام کرتے ہیں لیکن شیعہ کے لئے وہ محترم نہیں۔ یہ تقسیم تاریخی اور سب کے علم میں ہے لیکن اس اشتعال کا اچانک سامنے آنا حیران کن ہے۔


 اس معاملے پرعمران خان حکومت کا اب تک کا ردعمل یہ ہے کہ وہ میڈیا کو اس مسئلے کی رپورٹنگ کرنے سے روکتی رہی۔ شایدیہ ہرممکن طریقے سے امکانی طورپرتشددپھوٹنے کو روکنا ہے کیونکہ پاکستان میں شیعہ ایک قابل ذکر اقلیت ہیں۔ وہ کل مسلم آبادی کا 21 فیصد ہیں جو ایران کے بعد کسی ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہےتاہم تشدد ناگزیرہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں طرف سے غم وغصہ بڑھتا جارہا ہے۔

یہ حقیقت بھی ہے کہ دیوبندی نکتہ نظر کو زیادہ چھوٹ دی جا رہی ہے جس کا اظہار جولائی 2020 میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں تحفظ بنیاد اسلام بل کی منظوری سے ہوتا ہے۔ سرکاری قوانین میں توہین مذہب کے قانون کو مزید گہرائی سے شامل کرنے سے مسئلہ گھمبیر ہو گیا ہے کیونکہ یہ قانون میں شامل کلیدی مذہبی تصورات پر سنی اور اہل تشیع کے مابین اتفاق رائے نہیں ہے۔ ہر کوئی گمان کرے گا کہ ریاست کسی بھی طرح کے تشدد یا تنائوسے بچنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان میں مبینہ طور پر 2001 سے 2018 کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں تقریباً 4847 شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد ہلاک ہوئے۔ کراچی میں 1999 میں نائن الیون سے بھی پہلے فرقہ وارانہ تشدد میں شیعہ ڈاکٹراور وکلاءمارے گئے۔ فرقہ وارانہ تشدد جو ریاست کے لئے مسئلے کا باعث تھا بالآخر دہشت گردی کے خلاف دو اہم فوجی کارروائیوں ضرب عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں قابو میں لایا گیا ۔اگرچہ 2010 کے اوائل میں نظریاتی تبدیلی نظر آنا شروع ہوگئی تھی لیکن بریلوی تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا اہل تشیع کے خلاف دیوبندی جماعتوں کے ساتھ شامل ہونا زیادہ ڈرامائی ہے۔


مشرق وسطیٰ ٰکی طرح پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد کا خدشہ موجود ہے۔ اگرچہ سنی شیعہ کشیدگی پہلی بار سندھ میں1951 کے قریب شروع ہوئی تھی لیکن یہ 1980 کی دہائی کے دوران مزید تسلسل کے ساتھ پھیلی جب 1986 میں جنوبی پنجاب کے ضلع جھنگ میں انجمنِ سپاہ صحابہ (اے ایس ایس) نے جنم لیا تو جنرل ضیاءالحق کی حکومت نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ بعد میں یہ سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) میں تبدیل ہوگئی جس سے تمام دیوبندی عسکریت پسند تنظیموں نے جنم لیا۔ اسی سے 1990 کی دہائی کے اوائل میں لشکر جھنگوی ،حرکت المجاہدین ، حرکت الانصار اور بعد میں جیش محمد بھی نکلیں۔


پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور جیش محمد کے دھڑوں نے مل کر تحریک طالبان پاکستان بنائی۔ یہاں تک کہ اس کے کچھ ارکان داعش میں بھی شامل ہوئے۔ سپاہ صحابہ پاکستان بھی افغانستان میں لڑنے والی پہلی تنظیموں میں شامل تھی۔ یہ تنظیم عسکریت پسندی کے علاوہ سیاست میں بھی سرگرم رہی۔ اس کے رہنما حق نواز جھنگوی نے ابتدائی طور پر 1988 میں جمعیت علما ءاسلام فضل الرحمن کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا تھا اور بعد میں انہوں نے اپنی پارٹی بنا لی تھی۔ جب 1990 کے قریب اسلام آباد کے نواح میں حق نواز کو قتل کیا گیا تو اس وقت بہت زیادہ فرقہ وارانہ تشدد سامنے آیا۔

پاکستان میں1980، 1990 اور 2000 کی دہائیوں کے دوران اس فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں بہت زیادہ خونریزی دیکھی گئی۔ اپنے عسکری شعبوں کے ارتقا کی طرح سپاہ صحابہ پاکستان کے سیاسی چہرے کی بھی تشکیل ہوئی۔ اس کی موجودہ شکلوں میں سے ایک اہل سنت والجماعت ہے جو انتخابی سیاست میں نظر آتی ہے۔ سپاہ صحابہ پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروپ دیوبندی نیٹ ورک کا حصہ ہیں جوعسکریت پسند تنظیموں ، سیاسی گروہوں اور فلاحی اداروں پر مشتمل ہے۔


یہ نیٹ ورک پنجاب کے سب سے بڑے صوبے میں اس حد تک پھیل چکا ہے کہ ہر حلقے میں 20000 سے زیادہ راسخ العقیدہ دیوبندی ووٹرز موجود ہیں جو اس گروپ کو تمام سیاسی جماعتوں کے لئے اہم بنا دیتا ہے اور اس طرح اس کا اثر و رسوخ بنتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں جے یو آئی ایف اس نیٹ ورک کا ایک نمایاں چہرہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکت داری فضل الرحمان کے نیٹ ورک کے سندھ اور بلوچستان میں اثر و رسوخ کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔


جیش محمد جو کشمیر کے لئے وقف تھی نے ستمبر 2020 کے اوائل سے فرقہ وارانہ امور پر بات کرنا شروع کر دی ہے۔عاصم باجوہ کی مالی بدعنوانیوں کو چھپانے کی خاطر جیش محمد کے بیانیے میں اچانک تبدیلی کی دلیل زیادہ وزن نہیں رکھتی۔ اگرچہ جیش محمد پوری طرح اہل تشیع مخالف گروپ بن کر سامنے نہیں آئی لیکن اس کی حالیہ تحریروں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ گروہ مجموعی طور پر اہل سنت و الجماعت کی نظریاتی پیروی کرتا ہے۔


جیش محمد نے احمدیوں اور توہین رسالت کے خلاف زیادہ جارحانہ موقف اختیار کیا ہے خاص طور پر اس نے چارلی ہیبڈو کے معاملے پر فرانس کو چیلنج دیا۔ یہ وہ معاملات تھے جن کو ماضی میں جیش محمد نظر انداز کرتی آئی ہے۔ اس کے جن کارکنوں کے ساتھ میں نے بات کی وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان سے باہرجہاد پر سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔بہت سے لوگوں کے نزدیک دیوبندی عسکریت پسندوں کے بیانیے میں داخلی تبدیلی بڑھتے ہوئے سعودی اثر و رسوخ کا اشارہ ہے۔

درحقیقت 12 اگست کو جیش محمد کے ایک رسالے میں شائع ہونے والے مضمون میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ"یہ غدار مخدوم اور ان کے سرپرست پرویز مشرف [کشمیر کی جنگ ترک کرنے پر] جہنم میں جائیں گے۔ ” واضح نظر آتا ہے کہ اس مضمون میں کشمیر کا حوالہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کے خلاف حالیہ بیان کی وجہ سے دیا گیا ہے۔زیادہ تر مدارس اور دیوبندی تنظیموں کا نیٹ ورک مشرق وسطی ٰکی سرپرستی میں چلتا ہے جو 1980 کی دہائی کے دوران شروع ہوئی تھی۔

تاہم یہ اس بات کا اشارہ نہیں کہ جیش محمد یا دیوبندی نیٹ ورک پاکستانی ریاست سے آزاد ہو چکا ہے۔ در حقیقت 2018 کے آغاز سے جیش محمد کی مطبوعات میں ایران پر تنقید شروع کی گئی ہے جو ماضی میں کبھی نہیں کی گئی تھی۔ یہ اس سے پہلے سے ہورہا تھا جب پاکستانی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ مسعود اظہر اور اس کا خاندان لاپتہ ہو گیا ہے۔فرقہ وارانہ زاویئے سے عسکریت پسند تنظیموں کی ایران کے متعلق بیان بازی یا اس پر توجہ جو کبھی ایسے معاملات میں نہیں پڑتی تھیں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ دیوبندی نیٹ ورک مشرق وسطیٰ میں آنے والی بڑی سیاسی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے کے خلاف شیعوں کو ایران کی حمایت میں آواز اٹھانے سے روکنے کے لئے خوف کو ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے دوبارہ وجود میں آنے، لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق گروپ کا دوبارہ سامنے آنا جو اب زور شور سے ایک فرقہ وارانہ ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ، اس کے ساتھ ہی پاکستان کے قریب افغانستان کے علاقوں میں داعش کی موجودگی بھی ایران کے لئے ایک چیلنج کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے یقینی طور پر چین کے تعاون سے ایران کے ترقیاتی منصوبوں کی سلامتی کے متعلق سوال اٹھیں گے۔


 داخلی طور پر تشدد کی حوصلہ شکنی کی خاطر پاکستانی حکومت کی خاموشی سمجھ میں آتی ہے۔ تاہم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ، ایران کے اثر و رسوخ کو پھیلنے سے روکنا اور امریکہ پر مسلسل انحصار جیسے علاقائی سیاسی ایجنڈے سے متعلق کچھ داخلی تقسیم کو چھپایا جا رہا ہو۔ اس سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے بارے میں پاکستان کے روی اینڈ روڈ منصوبے کے متعلق بھی سوال اٹھتے ہیں جس کے بارے میں حال ہی میں ایک ماہر اینڈریو سمال نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ منصوبہ اب پاکستان کے ایجنڈے پر ترجیح کا حامل نہیں رہا۔ اس دھاڑتی ہوئی فرقہ واریت پر خاموشی اختیار کرنے کی حکمت عملی ٹیکٹیکل کی بجائے سٹریٹجک ثابت ہوسکتی ہے۔


شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے

أیا صوفیہ کا نوحہ
گلتی سڑتی بیوروکریسی
کیارچی بس ایک ہی تھی یااوربھی ہونگی

مذہبی رجحانات کی کروٹیں

4 months ago


مولوی،عوام اوراشرافیہ کے درمیان تعلق کی مختلف جہتیں

<p>&nbsp;</p><p>جس نے جمال الدین افغانی، حسن البناءیا مولانا ابوالاعلی مودودی کو پڑھا ہے وہ طارق جمیل کو مولانا کہتے ہوئے ہچکچائے گا۔ طاہر اشرفی جو طارق جمیل سے زیادہ متاثر نہیں انہیں خطیب کہتے ہیں۔ طارق جمیل اسی وصف پر پورا اترتے ہیں اور انہیں خطیب کہنا ہی زیادہ موزوں ہے۔ ہم اوّل الذکر اسلامی علماءسے متفق ہوں یا ان سے اختلاف کریں لیکن کوئی بھی ان کی علمی خدمات سے انکار نہیں کر سکتا جبکہ طارق جمیل نے ہمارے اسلام کے علم میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔</p><p>میرا طارق جمیل سے تعارف 2013 میں حج کی ادائیگی کے دوران ہوا۔ میرے حج کے منتظم نے جنید جمشید کے ساتھ طارق جمیل کو بھی اجرت پر ساتھ لے لیا تاکہ وہ میدان عرفات میں مبلغ کے فرائض سر انجام دیں۔ مسلمانوں کا کامل عقیدہ ہے کہ میدان عرفات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ پہلی دفعہ سننے میں مجھے طارق جمیل دوسرے ملائوں کی نسبت کچھ وسیع القلب لگے۔</p><p>میدان عرفات میں آنسوئوں کی جھڑی کے ساتھ مولانا نے بیان کیا کہ بہوکے فرائض میں یہ نہیں کہ وہ اپنے سسر یا ساس کو مانگنے پر پانی پلائے جبکہ یہ بیٹے کا فریضہ ہے۔ ہاں اخلاص میں بہو ایسا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا شوہر کا فرض ہے کہ بچے کو دودہ پلانے کیلئے دائی کا انتظام کرے کیونکہ بچے کو دودھ پلانا بیوی کے فرائض منصبی میں شامل نہیں۔ ایسا لگا کہ وہ روایتی ادوار کو جدید طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔ اسی دوران بہت سی نوجوان خواتین طارق جمیل کی گفتگو کی طرف متوجہ ہوئیں۔</p><p>پاکستان واپس آنے پر میں نے خالد مسعود ( سابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ اور اسلام پر چند مستند کتابوں کے مصنف) سے طارق جمیل کے بیان کی وضاحت چاہی۔ ان کے مطابق وہ روایت جس کا موصوف نے حوالہ دیا عورت کو با اختیار کرنے کی بابت نہیں بلکہ شادی کے عقد کا حصہ ہے۔ مباشرت کے بدلے عورت کو چند حقوق حاصل ہیں جس میں خاوند کے خاندان کی دیکھ بھال اس کے فرائض میں شامل نہیں لیکن اس روایت کے مطابق عورت کی صحت اور تندرستی اس کا اپنا ذمہ ہے۔</p><p>اس میں کوئی شک نہیں کہ طارق جمیل اچھے داستان گو ہیں جیسا کہ کبھی چھوٹے اور خوابیدہ قصبات میں پائے جاتے تھے۔ ان کا فن یہ ہے کہ قصے کہانیوں سے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا جائے بلکہ یوں کہنا مناسب ہے کہ مولانا کے بتائے ہوئے اسلام کی طرف مائل کیا جائے۔ گو ان کی گفتگومیں اسلامی روایت کا ذکر ہوتا ہے لیکن اس میں گہری علمی بات نہیں ہوتی بلکہ جیسے پان شاپس پراکٹھے ہوئے لوگوں کی گفتگو۔</p><p>فن خطابت اور شاندار یادداشت کی بدولت وہ ان کہانیوں جو کہ شاید انہوں نے تبلیغی جماعت کے نصاب میں شامل قصص البیان میں پڑھی ہیں حافظہ کے زور پہ دوہرا سکتے ہیں اور روانی سے آدم سے لیکر محمد کے بیچ کے تمام آباءکے نام بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرا محمد کے زندگی کے واقعات کو ڈرامائی انداز میں بیان بھی کرتے ہیں جو کہ اگر عام آدمی کرے تو اس پر توہین رسالت کا الزام لگ جائے۔</p><p>حج کے دوران طارق جمیل کی سیلز مین شپ کا مشاہدہ کرنے کا موقعہ ملا۔ انہی کی طرح عامر لیاقت حسین بھی ایک اور حج منتظم کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ ان مولانا حضرات کے ذمہ حاجیوں کے جذبات کو پر سوز کرنا تھا تاکہ وہ جذباتی ہو کر کچھ آنسو بہا لیں اور یوں شاید انہیں اپنے پیسوں کے حلال کرنے کا احساس ہو سکے۔( یہ خواص کا گروپ وی آئی پی اور ڈیلکس حج کرواتا ہے جس پر تقریباً 1.5 ملین پاکستانی روپے لاگت آتی ہے۔) حج کے دوران یہ اندازہ ہوا کہ طارق جمیل غریب اور کم آمدنی والے حجاج کو اپنے خطاب سے نوازنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔</p><p>بعد میں میرے جنوبی پنجاب کے کچھ دوستوں کی بابت معلوم ہوا کہ کس طرح مبینہ طور پہ طارق جمیل نے اپنے آبائی قصبے تلمبہ سے گانے والیوں ، موسیقاروں اور رقاصائوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کیا اور اس جگہ اپنی جائیداد بنائی۔ اس لئے تعجب نہیں کہ مولانا کوعورت کے برہنہ جسم اور جنسی کارکنوں سے نفرت ہے۔</p><p>ان سطروں کو لکھتے ہوئے مجھے جنوبی پنجاب میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی پراپنی تحقیق کے دوران کے دن یاد آگئے۔ نوجوانوں کی بصیرت کو قریب سے جانچنے کا ایک پیمانہ یہ بھی تھا کہ ان کے نظریات کو سمجھا جائے۔ تحقیق کا محور جنوبی پنجاب اور خاص کرکے ملتان تھا جو طارق جمیل کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ نوجوانوں سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ ان کا آئیڈیل کون ہے اور جان کر صدمہ ہوا کہ نوجوان کوئی آئیڈیل نہیں رکھتے تھے اور ان میں مدرسوں کے طلباءبھی شامل تھے۔ یہ نتیجہ اس بات کا ثبوت تھا کہ تاریخ اسلام کو بنیادی طور پرپڑھایا ہی نہیں جاتا تاریخ اسلام کو عقلی بنیادوں پہ پرکھنے کی بات تو چھوڑئیے۔</p><p>ہمارا مسئلہ طارق جمیل جیسے لوگ نہیں کیونکہ انہوں نے اپنی بنیاد پرستی کو چھپایا نہیں۔ دراصل یہ مسئلہ معاشرے اور ریاست کا ہے جنہیں ہر صورت مولوی اور مذہب کا بیانیہ چاہئے۔ طارق جمیل اور ان جیسے بہت سے دیگر اشخاص ایک اچھے دکاندارکی طرح ہیں جو جانتے ہیں کہ معاشرے کو مذہب کی کتنی ضرورت ہے اور یہاں بات غریب عوام کی ضرورت کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے متوسط طبقے کی ہے۔وہ یہ جانتے ہیں کہ معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ جو کہ خطابت کی قیمت ادا کر سکتا ہے صحیح اسلام کی تلاش میں ہے ۔ صحیح اسلام وہ ہے جو حسب ذائقہ اور حسب ضرورت اپنایا جا سکے۔</p><p>دیکھنے میں طارق جمیل کھلے ذہن کے آدمی لگتے ہیں اس لئے ان کے سامعین مولانا کی قدامت پرستی کو سمجھنے سے قاصر ہیں بالکل جیسے وہ مولوی طاہر اشرفی کی بنیاد پرستی سمجھ نہیں پاتے۔ بہت سارے پڑ ھے لکھے اور لبرل طاہر اشرفی سے اس لئے محبت کرنے لگے تھے کہ وہ سلمان تاثیر کے حق میں بولے۔ لوگوں کو یہ سمجھ ہی نہ آئی کہ باقی اوقات میں طاہر اشرفی اور بہت کچھ کہتے اور بیچتے ہیں۔</p><p>طارق جمیل کا فن یہ ہے کہ وہ کوک سٹوڈیو کی طرح شریعت کو نیا کرکے لوگوں کو اس طرف راغب کرتے ہیں اور درگزر کی بات کرتے ہیں تاکہ لوگ مذہب کی طرف مائل ہوں۔ یہ وہی طرز عمل ہے جو کچھ صوفیوں جیسے بہائوالدین زکریا نے اپنایا تھا اور بہائوالدین زکریا کی طرح طارق جمیل میں یہ صلاحیت ہے کہ ایوان اقتدار میں اثر و رسوخ رکھیں اور ان کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اتنے تو وسیع القلب ہیں کہ تفرقہ پرستی کی بات نہیں کرتے۔ خواتین کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کے حقوق بے شمار ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ خاوند کے جسم پر اگر بے شمار زخم بھی ہوں اور وہ بیوی کو ان کو چاٹنے کو کہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ان کو چاٹے۔</p><p>ان کا ایک پسندیدہ موضوع مشترکہ خاندانی نظام بھی ہے۔ وہ اکثر کہتے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظام شادیوں کو ناکام بنا رہا ہے کیونکہ دولہا کے والدین دلہن سے زیادتی کرتے ہیں لیکن ایک ہی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں خاموشی سے یہ سب برداشت کریں اور جب ان سے زیادتی ہو وہ اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائیں کیونکہ”خاموشی سے بہتر کوئی اور عمل دل نہیں جیت سکتا۔“</p><p>مگر طارق جمیل کا جادو اس لئے ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ معاشرے کو کیا بات سننے کی ضرورت ہے۔ اصل قضیہ بطور ریاست اور معاشرے کے ہمارے طرز عمل اور ترجیحات کا ہے۔ اس بات پر تو بحث ہوسکتی ہے کہ نظریہ پاکستان کی بنیاد تھیوکریسی تھی یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس لئے بنا تھا کہ برصغیر کے مسلمان اپنی ثقافتی قدروں کے مطابق آزادی سے رہ سکیں۔ مذہبی عقائد بھی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں۔</p><p>ہم جتنا بھی جناح کے مغربی رہن سہن رکھنے والی ، سگار اور شراب پینے والی شخصیت کو اجا گر کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ ریاست اور اسکی ثقافت کے بنیادی اصول مذہبی اقدار پر مبنی تھے نہ کہ مغربی جدیدیت پر۔ مذہب کے ساتھ جڑی ہوئی ثقافتی اقدار اور مغربی جدیدیت میں بہت فرق ہے۔ تاریخی طور پر مغربی سیاست اور معاشرتی نظام نے بے شمار جنگیں لڑ کر یہ اخذ کیا کہ خلافت ملوکیت پیدا کرتی ہے۔ ان معاشروں میں مذہب تو ہے لیکن سائنس اور عقلیت پسندی کو ترجیح دی جاتی ہے۔</p><p>پاکستان کے ریاست سازی کے ابتدائی دنوں میں اسلامی ریاست بنانے کی کوشش تیز ہو گئی تھی۔ بہت سے زعما ءکا جس میں محمد علی جناح بھی شامل تھے اسلامی ریاست بنانے کا اپنا اپنا تصور تھا مثلاً جماعت احرار کا اصرار تھا کہ سر ظفر اللہ خان جو ایک احمدی تھے کی وزیر خارجہ کے اعلیٰ عہدے پر تعیناتی نہیں ہونی چاہئے۔ دوسری طرف سر ظفر اللہ خان نے اپنی 12مارچ 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ دوران بحث عیسائی اور ہندو اراکین کی بھر پور مذمت ہوئی جو 1949 کی قرارداد مقاصد کی منظوری کی مخالفت کر رہے تھے۔</p><p>چاہے ہر کسی کا اپنا تصور کیوں نہ ہو بہرحال ریاست کی بنیاد جدیدیت پرقائم نہیں ہوئی تھی۔ در حقیقت پاکستان میں جدیدیت کا تصور تصوراتی کی بجائے مادی ہے اور یہ صورت حال آج کے ہندوستان کے تصور جدیدیت سے زیادہ مختلف نہیں۔ ہندوستان میں سالوں کی سیکولر سیاست دائیں بازو کے مذہبی جوش و خروش کو کم کرنے یا اسے اقتدار میں آنے سے نہ روک سکی۔</p><p>مغربی جدیدیت جو برصغیرکی قومی ریاستوں کے قیام کا سبب تھی وہاں کی معاشرتی زندگی کا حصہ نہ بن سکی ۔ بس شروع کی دہائیوں میں اتنا حصہ ضرور تھا کہ زیادہ تر حکمران اشرافیہ کا تعلق شہری زندگی سے تھا اور ان کی طرز زندگی میں مغربی ثقافت کی جھلک تھی۔ سو محمد علی جناح سے لیکر عمران خان تک ہمیں اکثر لیڈروں میں مغربی طرز زندگی تو نظر آتی ہے لیکن بات اس سے آگے بڑھ نہیں پاتی۔</p><p>پاکستان اپنے قیام سے ہی اشرافیہ کے کم از کم پانچ ادوار سے گزرا۔ ہر آنے والی نسل اپنی مقامی ثقافت میں گندھی ہوئی تھی جس کا فاصلہ مغربی روایت سے بتدریج کم ہوتا گیا۔ کس طرح مختلف نسلیں اپنے ارد گرد کا حصہ بنتی ہیں ہمیں سٹیفن کوہن کی پاکستان پر لکھی کتاب سے اس نسلی تبدیلی کی سوجھ بوجھ ملتی ہے۔</p><p>مثال کے طور پر امریکی ماہر سیاسیات سٹیفن کوہن کے بقول فوجی آفیسرز میں کس طرح کی تبدیلی آئی کہ جب سینڈ ہرسٹ اور امریکہ کی اکیڈمیوں کی بجائے وہ ملٹری اکیڈمی کا کول سے تیار ہونا شروع ہوئے۔ جنرل ضیاالحق کا کول اکیڈمی میں پروان چڑھنے والے آفیسرز کی پہلی کھیپ میں سے ایک تھے۔</p><p>سیاسی اور معاشرتی رول میں ایسے لوگ بھی آگے آنا شروع ہوئے جن کا مغرب سے تعلق کم سے کم ہوتا گیا۔اسی دوران ریاست بھی بتدریج مذہبی ہوتی گئی کیونکہ اشرافیہ معاشرے میں رائج مذہبی اقدار و ثقافت کے اظہار کے متبادل ذرائع نہ ڈھونڈ سکی۔ جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر رکھنے والے ڈیوڈ گل مارٹن کے مطابق پنجاب کے پیروں اور گدی نشینوں نے اس شرط پر کہ اگر وہ اسلامی ریاست کے قیام کا عہد کریں گے جناح کی حمایت کا فیصلہ کیا۔</p><p>پاکستان کی تاریخ کے باب میں اس دور کو بھی ذہن میں لانا ہوگا جب معاشرہ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑی گئی افغان جنگ کے دوران بتدریج انتہا پسندی کی طرف بڑھنے لگا۔ اس جنگ نے مذہب کو معاشرے کی رگوں میں زیادہ پیوست کردیا۔ رہی سہی کسر اس ذہنی نشوو نما نے پوری کی جس کی نمو نسیم حجازی، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد نے کی۔ اس طرح اسلام اور تصوف کو تعلیم یافتہ متوسط طبقے کی ذہنی نشو نما اور ان کے ذہنوں میں قدامت پرستی کے بیج بونے کیلئے استعمال کیا گیا۔</p><p>اس سے بڑہ کر مسئلہ یہ تھا کہ آزاد خیال دانشور یہ سمجھ ہی نہ پائے کہ معاشرے کو جدید بنانے کیلئے کچھ حد تک مقامی ثقافت سے جڑنا پڑے گا۔</p><p>اس مسئلہ کا ادراک کمیونسٹ لیڈردادا امیر حیدر کو ہوا جنہوں نے اسلام کی تاریخ سے سوشلزم کی پیچیدگیوں کی مذہبی بنیادوں پر تشریح کرنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے ان کی سوشلزم کے نظریات میں مقامی روح ڈالنے کی کوشش سٹالن ازم کے شور میں دب گئی۔</p><p>ایسے وقت میں ہم نے دیکھا کہ ثقافت سے اور روایتیں بھی دم توڑنے لگیں جیسا کے کہانی سنانے کی روایت ۔ ہمارے ہاں ایسے قصہ گو بھی رہے ہیں جو شہر زاد کی بادشاہ شہریار کو سنائی گئی کہانیوں کی طرح سننے والوں کو دم بخود کر دیتے اور پھر نقل مکانی کی لہر جس نے لوگوں کو اپنی روایتوں سے بچھڑ جانے پر مجبور کردیا۔</p><p>سنہ1970 کی دہائی میں مشرق وسطیٰ کی طرف اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کی جو مشرق وسطیٰ سے واپس آئے وہ اپنے ساتھ مذہبی رجحانات بھی لائے جو مقامی ثقافت سے میل نہیں کھاتے تھے اور جو دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر کے آئے ان کیلئے دوستانہ ماحول کے غیر مذہبی معاشرتی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے مساجد واحد وسیلہ بن گئیں جن کے ساتھ ان کا جذباتی اور روحانی لگائو پیدا ہوا۔</p><p>وہ نقطہ جسے میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں متبادل بیانیے کا فقدان رہا ہے کہ جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراسکے اور لوگوں کو عقلی بنیادوں پر زندگی گزارنے یا مذہب کو سمجھنے میں مدد کرے۔ لوگوں کی توجہ قدامت پرست نظریات سے اس وقت تک نہیں ہٹائی جاسکتی جب تک لوگ متبادل بیانیے کیلئے مقامی ثقافت کا سہارا نہ لیں۔ &nbsp;</p><p>اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی ثقافت کے اس رخ کو جو کہ مذاہب کے باوجود پنپ رہا ہو اس کی تمیز کی جاسکے۔ برصغیر کے معاشرے جدید نہیں ہیں۔ مذہبی اور روز مرہ کی زندگی قدامت پرستی کے سائے میں مضبوطی سے پروان چڑھنے کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ متبادل بیانیے کا نہ ہونا ہے جو کہ ثقافت سے جڑا ہوا ہو۔ ہمارے ہاں یا تو مذہب کو مکمل طور پر گلے لگایا جاتا ہے یا پھر اسے یکسر مسترد کردیا جاتا ہے۔ ثقافت سے جڑا جدید عقل پرستی کی طرف معاشرے کا سفر یا تو پر خار رہا یا پھر اس کا آغاز ہی نہیں ہوسکا۔</p><p>پاکستان میں مذہبی ثقافت صرف اس لئے نہیں پنپ رہی کہ اس کا تعلق صرف عام لوگوں کے عقائد ہی نہیں بلکہ اشرافیہ کی ضرورت بھی ہے جس کی وجہ سے جدیدیت آگے بڑھ نہیں سکی۔اس کے باوجود کہ اشرافیہ بدستور مغربی تعلیم حاصل کرتی ہے اور طاقت ور نوکر شاہی کی بنیاد بھی مغربی ڈھانچے پر ہے۔ صاحب اقتدار لوگوں کے ثقافتی میل جول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اشرافیہ اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے کبھی جدیدیت اور کبھی مذہب کا اپنی سہولت کے مطابق سہارا لیتی رہی ہے۔</p><p>ہر زمانے میں مذہب کو ریاستی اداروں میں داخل کیا گیا جسکا نتیجہ ریاست کیلئے کبھی کبھا ر تبا ہ کن ثابت ہوا جس کی واضح مثال 2دسمبر 2003 کا مشرف پر قاتلانہ حملہ ہے جس میں جیش محمد ملوث تھی۔ ایک سینئر پولیس آفیسر کے مطابق تفتیش کار اس خوف کا شکار ہو گئے کہ مسعود اظہر کے شدید اثرات کی وجہ سے شاید بہت سے ایئر فورس کے آفیسرز کی چھٹی کرانی پڑے۔ اس حملے سے پہلے مسعود اظہر کو ایئر فورس میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی خوب اجازت دی گئی تھی۔ &nbsp;</p><p>جب دہشت پسند ملائیت سے نقصان پہنچا تو حکمرانوں کی توجہ اور قسم کے ملاﺅں پر پڑی جو کہ بظاہر کم شدت پسند لیکن مذہبی تھے اور جدیدیت کے تقاضوں سے محروم۔ یہ وہی زمانہ ہے کہ الہدیٰ کی فرحت ہاشمی کیلئے ایئر فورس بیسز اور ایوان صدر کے دروازے کھول دیئے گئے۔ جب فاروق لغاری صدر تھے تو فرحت ہاشمی کو اکثر ایوان صدر اور فاروق لغاری کے آبائی مسکن چوٹی زیریں میں مدعو کیا جاتا۔</p><p>انہی دنوں کی بات ہے کہ طارق جمیل کا ستارہ بھی چمکنے لگا اور ان کو سینئر پولیس آفیسرز ، دوسرے محکموں کے سربراہان اور اشرفیہ کے دوسرے لوگ اپنے ہاں مدعو کرنے لگے جو صورت ریاست اور اسکی اشرافیہ نے بنائی طارق جمیل تو اسکا ایک چھوٹا سا رخ ہیں۔</p><p>معاشرتی اور سیاسی اشرافیہ سے تعلق کی وجہ سے مذہبی اور بنیاد پرست قوتیں معاشرے میں اپنا ایک مستقل حوالہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ صوفی ازم اور بریلویت سے لیکر دیو بندی اور اہل حدیث سب کا اثر معاشرے میں بتدریج بڑھا۔ بے نظیر کی پیر آف گولڑہ شریف اور بری امام کی زیارتوں پر جانا ہمارے حال ہی کے تاریخ کا حصہ ہیں۔ &nbsp;</p><p>پیروں کے مزارات روحانی سکون پہچانے کے علاوہ محترمہ اور دیگر سیاستدانوں کے اسٹیبلشمینٹ سے روابط کیلئے خفیہ ذرائع بھی ثابت ہوئے۔ ان مزارات کی اہمیت جاننے کے بعد ہی ضیاالحق نے اسلام آباد میں بری امام کے سجادہ نشین کی تبدیلی میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ موجودہ سجادہ نشین کو 1980 کی دہائی میں گدی سونپی گئی۔ بالکل اسی طرح رائےونڈ کے تبلیغی جماعت کے مرکز کو اہمیت ملتی چلی گئی جس کی وجہ سے نواز شریف ، عمران خان اور بہت سے سول و عسکری اداروں کے سربراہ اس کے سالانہ اجتماعات میں شرکت کرنے لگے۔</p><p>انہی دنوں میں ایک اور نوع کے مذہبی عناصر پاکستان کے منظرنامے پر اجاگر ہونے لگے۔ جن کے پاس مزاروں کی وراثت تو نہیں تھی لیکن وہ صلاحیت پیدا کر چکے تھے کہ لوگوں کو مذہب کا ایک اور روپ دیکھانے کے بہانے اقتدار کے ایوانوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرسکیں۔ گویا مذہب اس چھتری کی طرح تھا جس کے نیچے لوگ خاص کر کے جن کا تعلق پڑ ھے لکھے طبقے اور اشرافیہ سے ہے اکٹھے ہو جاتے۔</p><p>یہ مذہبی عناصر ایوان اقتدار میں اپنی رسائی کیوجہ سے لوگوں کو مرعوب کرتے ہیں اور اکثر داد رسی کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ یہ وہی طرز ہے جو کہ کبھی جاگیردار سلطنت مغلیہ اور اس کے بعد سلطنت برطانیہ کے اہل کاروں کے ساتھ اپنایا کرتے تھے۔ داد رسی مہیا کرنے سے معاشرے میں بھی ان کی طاقت بڑھتی ہے۔</p><p>جوطارق جمیل کے رسوخ کیوجہ سے فکر مند ہیں انہیں پروفیسر رفیق اختر جیسے لوگوں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ وہ ٹیچر تھے جنہوں نے علم العداد اور چہرہ شناسی میں مہارت حاصل کی اور گوجر خان کو اپنا مرکز بنایا کیونکہ ان کا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں اس طرح وہ بہت سے جنرلوں، افسر شاہی کے نمایاں کارندوں اور بہت سے دیگر بااثر لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔</p><p>شروعات میں لوگ پروفیسر اختر کے پاس اپنے ذاتی کاموں جیسے تقرری، ترقی، محبت، شادی اور دیگر ذاتی مسائل کیلئے جانے لگے کیونک وہاں بااثر اور صاحب اقتدار لوگوں کا آنا جانا بھی لگا رہتا تو کبھی کبھار لوگوں کے ذاتی مسائل کا حل بھی مل جاتا۔ شرط صرف یہ ہے کہ پروفیسر اختر کی نگاہ کرم آپ پر کب پڑے اور آپ کا سفارشی کون ہے۔</p><p>چونکہ نامی گرامی جنرل اور با رسوخ سیاستدانوں کا وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ ان کے آستانے پرحاضری ان کے مسائل کا حل ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ آئی ایس پی آر کے آفسران کی سفارش پر پروفیسر اختر نے چند لوگوں کو سیاسی پارٹیوں سے متعارف کرایا اور انہیں الیکشن لڑنے کےلئے ٹکٹ بھی دلوایا لیکن پروفیسر اختر کے اڈے پر جمع ہونے کا سب سے اچھا بہانہ خاص کر کے صاحب اقتدار کیلئے یہ ہے کہ وہاں انہیں اسلام کو ایک جدید روپ ڈھالنے کی بحث سننے کو ملتی ہے۔ ویسے بھی پروفیسر صاحب ایک ماڈرن آدمی دکھتے ہیں وہ یونان ، رومن اور مغربی تواریخ کے حوالے دیتے ہیں، مغربی لباس پہنتے ہیں اور اپنی گفتگو میں انگریزی زبان کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے اور طارق جمیل کے بیانیے میں کوئی خاص فرق نہیں ۔ پروفیسر رفیق اختر کی جدیدیت پتلون پہن کر نماز پڑھنے تک محدود ہے لیکن وہ مذہبی افکار میں جدیدیت لانے کی سوچ سے عاری ہیں۔</p><p>رفیق اختر کی خاصیت یہ ہے کہ ان کو متوسط طبقے اور اشرافیہ کی ضرورت کی سمجھ آ گئی ہے یعنی کہ مذہب کو جدید طرز سے دیکھنے کی کوشش۔ ان کا بیان کرنے کا انداز ان کے ان سامعین کیلئے اطمینان کا باعث ہے جو معاشرتی جدیدیت اور مذہبی میل جول میں سے کسی ایک کا فیصلہ نہیں کر پا رہے اور یوں رفیق اختر کا انداز بیان ان کیلئے سکھ کا سانس لاتا ہے۔</p><p>پروفیسر رفیق اختر اور جاوید غامدی 9/11 کے واقعے کے بعد منظر عام پر نمودار ہوئے( نمودار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پہلے سے موجود نہیں تھے بلکہ یہ 9/11 کے بعد ابھر کے سامنے آئے) اور اپنی اپنی جگہ اشرافیہ کی ایک ایسے اسلام کی تلاش میں معاون ثابت ہوئے جسے شدت پسندی سے دور سمجھا جا سکتا ہے گو کہ پروفیسر جاوید غامدی ایک منجھے ہوئے عالم ہیں اور اپنی ساکھ کیلئے کسی بااثر طبقے کا سہارا نہیں لیتے لیکن متوسط طبقے اور اشرافیہ کی نظر میں دونوں کی وجہ ضرورت ایک جیسی ہے۔</p><p>پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان میں ایسے اسلام کی تلاش رہی ہے جو موجودہ حالات کے تقاضوں کے متقاضی ہو۔ علمی مباحث ثقافتوں کی ترویج کیلئے ضروری ہوتے ہیں لیکن خود ساختہ معاشی و سیاسی عدم استحکا م اور مذہب کو صرف اقتدار کی استقامت کیلئے استعمال کی وجہ سے اس میں فطری ارتقائی عمل رک جاتا ہے۔</p><p>اشرافیہ کا صحیح اسلام کا مسئلہ یہی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی محفلوں میں ایک عمل پسند انہ اسلام کی ترویج چاہتے ہیں لیکن عام آدمی کے درمیان وہ مذہب کا درجہ حرارت اپنی مرضی سے اور اپنی ضرورت کے مطابق اونچا یا نیچا کرتے ہیں یعنی کہ جب امن کی ضرورت پڑے تو امن اور جب دہشت چاہیے تو دہشت۔</p>



سول ملٹری وسائل کی جنگ

5 months ago


18ویں ترمیم ہی کیوں ہے نشانہ

<p>ہر بحران کی طرح کوویڈ۔19 بھی اپنے ساتھ چیلنجز اور مواقع کا ایک مجموعہ لے کر آیاہے۔ یہ سول اور فوجی ضروریات کے مابین موازنے کی بحث شروع کرنے کی وجہ بن سکتاہے۔ عالمی معیشت کے مجموعی</p><p>حجم کے سکڑنے پررہنمائوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ شہریوں کے حقیقی تحفظ یعنی صحت اورترقی پرکتناخرچ کرتاہے اس خرچ کے مقابلے میں جووہ روایتی فوجی سکیورٹی پرکرتےہیں۔یہ تووقت ہی بتائے گاکہ پاکستان ان ترجیحات کی کس طرح درجہ بندی کرتا ہے۔یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کوویڈ 19 گزرنے کے بعددفاعی بجٹ پرنظرثانی کی جائے لیکن اس کی اجازت نہیں ملے گی۔ فوج کی نظرمزید وسائل حاصل کرنے کی راہ میں کھڑی ہونے والی ایک متنازعہ آئینی ترمیم کی منسوخی پرہے جس کی واضح مثال وہ حالیہ اقدام ہے جسے سارا پاکستان دیکھ رہاہے کہ کیسے وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مینجمنٹ ٹیم میں آئی ایس پی آر کے ایک سابق عہدیدار کوتعینات کیاگیاہے۔ یہ وباایک نعمت ہے اگرچہ اس کے دوران ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اسلحے کی ایک غیر متوقع دوڑشروع ہوگئی ہے۔یہ بات ٹھیک ہے کہ اس وباکے دوران نئی دہلی نے ہتھیاروں کے سودوں پر دستخط کئے لیکن اس دوران کوئی جارحانہ کام ممکن نہیں ۔اس وقت جبکہ ساراخطہ وباکاشکارہے توایسے میں موجودہ معاملات سے کسی قسم کی پریشانی پیدانہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کے پاس اس کے سواکوئی آپشن نہیں کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.38 بلین امریکی ڈالرکے قرض سے نجات حاصل کرے۔یہ وسائل زیادہ تر 112 ارب امریکی ڈالر کے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف موڑ دیئے جائیں گے۔ پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نموکوروناوائرس کے پھیلنے سے پہلے ہی کم ہوگئی تھی جومالی سال 2017-18 میں5.7 فیصد تھی گھٹ کر مالی سال 2019-20 میں 2.4 فیصد رہ گئی ۔ یہ اعدادوشمار اسلام آباد کے سکیورٹی کے رجحانات کوتبدیل نہیں کرسکے جوکہ فوجی سکیورٹی سے منسلک ہےں۔ در حقیقت اس وباءکے فورا بعد حکومت نے پاک چین سکیورٹی فورس سائوتھ کے لئے 11.48 بلین ، خصوصی مواصلات کی تنظیم کیلئے 468.2 ملین اور نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کےلئے 90.45 ملین روپے کی ضمنی گرانٹ کا اعلان کیا۔ حقیقت تویہ ہے کہ آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کے مطابق مالی سال 2020-21 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمومزیدکم ہوکر 1.5-ہوجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہواہے کہ اسلام آباد کو اپنے بجٹ میں توازن قائم کرنے یا وسائل کو ترقیاتی علاقوں میں منتقل کرنے کےلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔بظاہر فوج اپنے بجٹ پرنظرثانی کرتے ہوئے کوئی بڑاقدام اٹھانے کیلئے رضامندنظر نظر نہیں آتی۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخارکا دعویٰ ہے کہ فوج 1973 کے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ملک میں تعیناتی کےلئے دیئے جانے والے الائونس میں اضافے کا دعوی ٰنہیں کرے گی لیکن ادارہ اپنا اصل حصہ دینے کیلئے آمادہ نہیں ۔پس یقینی طور پرنظریں آئین کی 18 ویں ترمیم کو منسوخ کرنے پر مرکوزہیںجو 2010 میں منظورکی گئی جس سے صوبوں کو زیادہ مالی خودمختاری حاصل ہے۔ مالی انتظامات کی صلاحیت میں کمی اوردیگربدانتظامی کے باوجودصوبوں کواس خودمختاری کافائدہ پہنچا۔ مثال کے طور پر صحت کے شعبے میں اخراجات سے متعلق مفصل مطالعہ کے بعدیہ بات سامنے آئی کہ تمام صوبوں نے اس شعبے میں زیادہ خرچ کیا لیکن فوج کو سخت تشویش لاحق ہے کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس اس کو دینے کےلئے وسائل کم ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین اصل لڑائی فنڈزہی کی تھی۔ ڈار زیادہ فنڈز نہیں دے سکے تھے کیونکہ فنڈز صوبوں کے پاس تھے۔ جنرل باجوہ نے 18 ویں ترمیم کے خلاف کھل کر بات کی اور اسے 1970 کے عشرے کے اوائل کے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات جیسا قرار دیا۔حیرت کی بات نہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کواس لئے لایا گیا تاکہ وہ عمران خان کےلئے میڈیا مینجمنٹ میں زیادہ مرکزی کردار ادا کریںلیکن یقینا ریٹائرڈ جنرل کو یہ بتانے کےلئے نہیں لایا گیا کہ وہ بتائے کہ ملک کے مختلف حصوں میں وینٹیلیٹرزیا ماسک کی کمی کیوں ہے یا پھر لاک ڈائون میں توسیع کردی گئی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ18ویں ترمیم سے نجات کے بعد رائے عامہ ہموار کرنے میں جنرل کا کردار ہوگا۔غالب امکان ہے کہ عاصم باجوہ ان تمام ہتھکنڈوں کااستعمال کریں گے جووہ فوج میں ہوتے ہوئے کیاکرتے تھے۔کہیں پرنرمی کریں گے کہیں پرسختی تاکہ اخباروں کووہ خبریں چھاپنے سے روکیں جس میں اختلاف رائے موجود ہوگا اسی طرح کالموں کے ساتھ کیاجائے گا۔</p><p>اسی طرح سوشل میڈیاکے محاذپربھی ایک ٹیم کاانتظام کیاجائے گا جبکہ دوسری طرف صحافیوں کورشوت بھی دی جائے گی اسی طر ح اوربہت کچھ کیاجائے گا۔ریٹائرڈ جنرل نے ایک عام سے آرمی چیف ، جنرل راحیل شریف کی امیج بلڈنگ لمبی میں بہت موثر کردار ادا کیا تھا اور اس دوران فوج کے میڈیا ونگ کے کردارکو اس حد تک بڑھایا کہ اس کو سرحد پار سے لوگوں نے محسوس کیااورتعریف بھی کی۔ 2019 میں انڈیا کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عطا حسنین نے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز ، لندن میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی معلومات میں ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت کی تعریف کی تھی۔</p><p>ممکن ہے کہ نئی میڈیا ٹیم اس بات کو یقینی بنائے کہ معاملات سیاسی اور معاشرتی محاذ پر پرسکون ہوں جبکہ 18 ویں ترمیم سے نجات مل جائے۔ اس کو شاید ہائبرڈ جنگ لڑنے کو کہا جائے گا ، یہ تصور فوج میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ صوبائی خودمختاری کے حق میں اٹھنے والی آواز کوریاست کے خلاف دکھایاجائے گااوربھرپوراندازمیں پروپیگنڈا کیاجائے گا جس میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر مہارت رکھتے ہیں۔</p><p>اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی اس حد تک کمزور ہیں کہ عاصم باجوہ کی تقرری کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھاسکیں جس شخص کے پاس بھاری تنخواہ کے ساتھ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین شپ بھی ہے۔حزب اختلاف کی دونوں اہم جماعتوں کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کیساہوگا۔ ایک تزویراتی تبدیلی کیلئے ہونے والی کوششوں پربھی انتہائی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔</p><p>تاہم اچھی میڈیامینجمنٹ کی ضرورت ہوگی جیسے کہ فوج ریاست کی دیگر مالی ضروریات سے لڑتی ہے۔ آرمی جی ایچ کیو سمجھتاہے کہ اس کی ذاتی ضروریات کا بخوبی خیال رکھا گیا ہے۔ سرکاری اراضی کے نظام کواس طرح بنایاگیاہے کہ یہ بات یقینی ہے کہ جب تک کوئی افسرترقی کرکے میجر کے عہدے سے تھری سٹار جنرل بنے تواس کے پاس ایک درجن کے قریب جائیدادیں ہوتی ہیں۔ ہرترقی ، جنگی کورس اور کارکردگی کاانعام مادی طورپردیا جاتا ہے۔ ایک کورکمانڈرکی جائیدادکی مالیت1 ارب روپے ہے (یہ وہ جائیداداوراس کی قیمت ہے جو ایک جنرل ایک میجر کے درجہ سے شروع ہو کر تھری سٹار تک جاتے ہوئے حاصل کرتاہے)۔ آرمی چیف کا درجہ اس سے بھی اونچا ہے۔ زیادہ وسائل کاطلب گار جرنیل زیادہ سے زیادہ فوائد کےلئے دوسرے ذرائع ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اعوان جاسوسی میں ملوث پایاگیاجس کی وجہ سے اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فوجی اکائونٹس ذرائع کے مطابق ، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات نے اپنی دوعہدوں پرخدمات کے بدلے ماہانہ پنشن میں لاکھوں روپے کا بھاری معاوضہ وصول کررہے ہیں۔ برسوں کے دوران افسر کیڈر اور قومی سلامتی کے مابین تعلقات انتہائی مالی معاملہ ہے۔ بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی یا قومی راز کو برقرار رکھنے کے لئے بھاری وسائل کے پیکیج کی ضرورت ہوتی ہے تاہم یہ ذاتی حیثیت پر ملتے ہیں اوران کافوج بطورادارہ اس کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگرچہ ان حالات میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خطرہ کی سطح قابومیں اور کم رہے گی لیکن فوج کو جدید خطوط پراستوارکرنے کی ضرورت باقی ہے۔ففتھ جنریشن وارکے لئے جہازوں کی تلاش کے علاوہ پاکستان نے چین ، اٹلی ، روس اور ترکی سے فوجی سازوسامان خریدا ہے لیکن ان درآمدات میں صرف بڑے ہتھیاروں کے محدود نظام شامل ہیں اور 2010 کے مقابلے میں اس میں 30 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ فوج اس ضیاع کو کم کرکے اپنی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے جس کا 20-30 فیصد کے درمیان حساب لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ آرمی جی ایچ کیو اپنے اختیارات پر نظر ثانی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اگرچہ فوج اختلاف رائے کو ختم کرنے کے واضح ترین طریقہ کار کا انتخاب کر سکتی ہے لیکن کووڈ 19 جتنی مرضی توجہ حاصل کرلے فوجی اخرجات پرسمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔</p><p>ایک دوست جسے میں عام طور پر غیر سیاسی سمجھتی تھی بحریہ کے حالیہ میزائل تجربے میں سب سے زیادہ پریشان تھا۔ لہذا کووڈ کے گزرنے کے بعدسب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوگی کہ طاقتور ادارے خود پر قابو رکھیں اورزیادہ قربانی دیں۔</p>



تبلیغی جماعت نے انڈیا،پاکستان میں کوروناپھیلایا

6 months ago


حیدرآبا،بہارہ کہواس کی روشن مثالیں ہیں

<p>&nbsp;</p><p>تبلیغی جماعت کولے کر ہندوستان اور پاکستان ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کی طرح جیسے کہ نظام الدین مرکزہے پاکستان میں بھی اس جماعت کو کوروناوائرس کے پھیلائو کے دو بڑے ذرائع میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے 2000 افراد میں سے بہت سارے ملک کے مختلف حصوں میں واپس چلے گئے۔ بھارتی حکومت کاکہنا ہے کہ یہ لوگ ہندوستان میں کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔پنجاب کے اندرمارچ کے وسط میں تقریبا اڑھائی لاکھ لوگوں نے تبلیغی جماعت کے سالانہ پانچ روز ہ اجتماع میں شرکت کی ۔ یہی جگہ ہے جہاں خاص طور پر دیوبندی مکتبہ فکرکے لوگ نماز پڑھنے اوردیگر مذہبی پروگرامات کےلئے اکٹھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں بنیادی طور پر بریلوی اکثریت میں ہیں لیکن تبلیغی جماعت جس کی بنیاد 1926 میں ہندوستان میں رکھی گئی تھی اس کے مشہوراورمضبوط ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ نظریاتی ہے کہ یہ فرقوں کی نفی کرتی ہے اور تمام نظریاتی مکاتب فکر کواپنی طرف راغب کرتی ہے خاص طورپربریلویوں کو جن کا اپنا کوئی مضبوط مذہبی فورم نہیں ہے۔ اگرچہ مولانا طاہرالقادری کی منہاج القرآن یا سیاسی طور پر تحریک لبیک پاکستان جیسی بریلوی تنظیمیں موجود ہیں۔ تبلیغی جماعت پوری دنیا میں مسلمانوں کو راغب کرتی ہے۔ اس سے بڑھ کراورکیاہو سکتا ہے کہ نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اور بعد میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے اجتماعات کی حمایت کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ یہ اچھے لوگ ہیں۔اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت صرف بنیادی مذہبی عبادات پرزوردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ معاشرتی اور معاشی طبقوں میں مقبول ہے۔ ریاست کے طاقتور اداروں ، نامور سیاستدانوں سے لے کر درمیانی اور نچلے متوسط طبقے تک لوگ اس کی مذہبی تعلیمات کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں تبلیغی جماعت پرالزام ہے کہ اس کے انتہا پسند تنظیموں سے تعلقات ہیں لیکن جیش محمد جیسی عسکریت پسند تنظیمیں تبلیغی جماعت کو پسند نہیں کرتیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیش محمد ہراس ادارے سے نفرت کرتی ہے جو جہاد کی ترغیب نہیں دیتا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں کی بڑی تعدادجن کاتعلق دیوبندی مکتبہ فکرسے ہے ان کو عسکریت پسندتنظیموں میں شمولیت کاتحرک اس لئے ملاکہ ان کی مذہب سے شناسائی تبلیغی جماعت کی وجہ سے ہوئی ۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ (مرحوم) لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کابیٹاعبداللہ گل جو پاکستان اور افغانستان میں جہادیوں سے رابطوں کےلئے جانا جاتا ہے میڈیاپرکڑی تنقیدکرتاہے کہ وہ تبلیغی جماعت پرالزام لگارہاہے کہ پاکستان میں کوروناپھیلانے کی ایک وجہ یہ لوگ ہیں۔اس کاکہناہے کہ میڈیا تبلیغی جماعت کے خلاف مسلسل زہر اگل رہا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔اس غیرذمہ دارانہ رویے پرتمام مذہب بے زار نیوز اینکرز ، پروڈیوسرز اور تمام نیوز ڈائریکٹرز کو بھاری جرمانہ کیا جانا چاہئے۔اس کازوراس بات پرتھا کہ شیعہ عقیدت مند ہی وائرس پھیلانے کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ مسئلہ کی وجہ تبلیغی جماعت کے ڈھانچے میں ہے جس کی بنیادمیں ملک اوردنیابھرمیں اجتماع کرناشامل ہے۔یہاں تک کے رائیونڈلاہورمیں ہونے والے سالانہ اجتماع سے قبل ہی تبلیغی جماعتیں ملک اوردنیا بھرمیں پھیل جاتی ہیں۔ تبلیغی جماعت کے نظام کے مطابق ہر ٹیم جس علاقے میں جاتی ہے وہاں کی مسجد میں قیام کرتی ہے اور وہاں پر مذہبی پروگرامات کرتی ہیں۔ یہ دورے سال بھر ہوتے ہیں لیکن سالانہ اجتماع لاہور میں ہوتا ہے ۔لیکن کیا کسی نے تبلیغی جماعت کے غلط اقدام پراس پرالزام لگایاہے یا پنجاب حکومت جو بحران سے نمٹنے میں انتہائی سست ہے؟ وفاقی حکومت نے دنیا بھر کے اپنے ہم منصبوں سے بہت مختلف رویہ اختیار نہیں کیا جنہوں نے اس خطرے سے نمٹنے میںاتنا وقت لیا۔ لاک ڈائون کے حوالے سے اب بھی کنفیوژن برقرار ہے جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان اصرار کرتے ہیں کہ ایساکرناٹھیک نہیں۔حکومت پنجاب اپنی ہدایات کولے کرنہ تو زبردستی کررہی ہے اور نہ ہی واضح ہے ۔ جیسا کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ تبلیغی جماعت انتظامیہ نے اپنی ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپناکام ختم نہیں کرسکتیں (جس ذریعہ سے میں نے بات کی تھی وہ اپنا کام مکمل کرچکا تھا اور اس نے چار مہینے گشت میں گزرے تھے۔ دسمبر سے مارچ تک) ملک بھر کے دیگر مقامات پر جاکر اپنا کام مکمل کریں۔تبلیغی جماعت کے ممبران جن کی میں نے بات کی تھی اس بات پر فخر کررہے تھے کہ وہ رائےونڈ میں کتنے اچھے انداز میں منظم تھے۔دکانوں کو بند کرنے کے احکامات کے بعد تبلیغی جماعت کا ایک علیحدہ دفتر تھا جو ہر گروپ کو ان کے مستقبل کے لائحہ عمل پر رہنمائی کرنا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ جو پہلے ہی چین ، ایران ، برطانیہ ، امریکہ ، سپین اور دیگر کوروناسے متاثرہ ممالک سے آنے والے ممبران سے مل چکے تھے وہ اپنے ساتھ وائرس کو پاکستان کے دوسرے حصوں میں لے گئے۔ پولیس انسپکٹر جنرل سندھ مشتاق مہر نے اپنے صوبے میں واپس آنے والی تمام تبلیغی جماعتوں کوقرنطائن کرنے کااعلان کیاہے خاص طور پر وہ جومساجد میں بیٹھنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو کھانا اور دیگر راشن فراہم کیاجائے گا۔پولیس کوہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی دوسرا فرد ان کے ساتھ رابطہ نہ کرے۔ اس کا مطلب ہے کہ تبلیغ کی تمام سرگرمیوں کوختم کردیاگیاہے۔ایسا حیدرآباد شہر میں 130 سے زائد کیسوں کے مثبت ہونے پرکیاگیا۔دوسری طرف پنجاب یا اسلام آباد نے اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی ۔ اگرچہ اسلام آبادکے مضافاتی علاقے بارہ کہوکو سختی سے اس وقت قرنطائن کیاگیاجب واپس آنےوالے تبلیغی جماعت کے کچھ ممبروں کے ٹیسٹ مثبت آئے ،پنجاب کے دیہاتی علاقوں اورچھوٹے قصبوں کی متعددمساجدمیں ابھی بھی تبلیغی جماعت کے ممبران کی موجودگی اورسرگرم ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔</p>