اردو | NEWS

افغان چوسنی چھوڑیں

ملک فوجاکی تحریر
بہت سےلوگ افغانستان کے حوالے سے متضاد باتیں کر رہے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ طالبان جیت گئے۔کسی کے خیال میں امریکہ جیت گیا۔پہلے ہار جیت کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔امریکہ افغانستان میں نائن الیون کے بعدجب آیا تو اس کے اہداف میں سرِ فہرست اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ختم کرنا تھا۔
مستقبل میں افغانستان کی سرزمین کودوسرے ملکوں اورخاص کرامریکہ کے خلاف استعمال ہونے سے روکناتھا۔افغانستان کو دہشت گردی کی نرسری کے طور پر ختم کرناتھا۔طالبان کو حکومت سے بے دخل کرنا اور ایک جمہوری معاشرے میں ڈھالنا شاید ذیلی اہداف تھے۔
امریکہ نے اپنے بنیادی اہداف بہت جلد حاصل کر لئے تھے۔امریکہ نے وقت،۔پیسے،توانائیوں اور جانوں کی صورت میں بڑی قیمت ادا کی لیکن اب جب امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے تو دوبارہ افغانستان کو شاید انہی طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ رہا ہے۔
اگردیکھاجائے تویہ ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیاامریکہ اس ناکامی سے بچ سکتاتھااوراس نے بچنے کی کوشش نہیں کی اوربھاگ رہا ہے۔میں جب افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ شاید امریکہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا تھااور آخرکار اسے ایسے ہی جانا تھا۔
امریکہ پچھلے بیس سال سے افغانستان کو چلا رہاتھا۔ان کے صدر سے لیکر فوجی اورپولیس مین تک کی تنخواہیں امریکی ٹیکس پیئر کے پیسوں سے ادا ہو رہی تھیں۔امریکی اس معاشرے کی اپنے تئیں جتنی تربیت کرسکتے تھے انہوں نے کی۔
لیکن افغان فوجی یاپولیس مین یاعمومی عوام تنخواہ توامریکہ سے لےرہی تھی لیکن وہ ان اصولوں،آزادیوں یابنیادی انسانی قدروں کےلئے اپنالہوبہانے کے لئے تیارنہیں تھےجن کے لئے امریکہ انہیں تیارکررہاتھا۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے جانے کی بات سنتے ہی افغان فوجیوں نے ایک کے بعد ایک شہر طالبان کے حوالے کر دیا۔
امریکہ نے شایدپچھلے بیس سالوں میں یہ جمع تفریق کرلی تھی کہ یہ افغانوں کی اپنی جنگ ہےاوروہ ابھی یہ جنگ لڑنے کے لئے تیارنہیں اورامریکہ مزیداپنالہوافغانوں کے لئے نہیں بہا سکتا۔
اسی لئے انہوں نے طالبان سے اپنے مطلب کی کچھ گارنٹیزلینے پراکتفاکیااورنکلنے میں ہی عافیت جانی۔طالبان کی یہ فتح امریکہ سے زیادہ ان افغان روشن خیال لوگوں کے خلاف ہے جوافغانستان کوایک جمہوری ملک کے طور دیکھناچاہتے ہیں۔
جوچاہتے ہیں کہ ان کے بچے بلاکسی خوف اورپریشانی کے تعلیم حاصل کرسکیں۔اپنے گھروں میں رہ سکیں۔امن کی زندگی گزارسکیں۔یہ لوگ کم ہیں۔اس قابل نہیں کہ لڑسکیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے بالکل ایسے جیسے ایسے پاکستانی لوگ بھی ہر قسم کے خوف کے باوجود پاکستان میں رہنے پر مجبور ہیں۔
لیکن افغانوں کا یہ مطالبہ کہ امریکہ غیر معینہ مدت کے لئے ان کے سکولوں،ہسپتالوں،مسجدوں اوربازاروں کی چوکیداری کرتا رہے ممکن نہیں۔میری خواہش ہے کہ ایک دن افغانستان اس قابل ہو لیکن جب تک خودافغان عوام یہ ذمہ داری نہیں لیں گے کوئی دوسرا کبھی بھی غیر معینہ مدت کے لئے ان کو گود نہیں لے سکتا۔
یاد رکھیے کہ تاریخ کے کسی خاص دور میں ہر معاشرہ ایسے لوگوں کو بھگت چکا ہے۔اسلام کے بالکل شروع کے دور میں خوارج نے طالبان بننے کی کوشش کی تھی لیکن مسلمانوں کے خلفاء اوربعد میں بادشاہوں تک نے اپنے خون اور پسینے سے وہ جنگ لڑی تھی اور اس کے بعد ہی اسلام چار سو پھیلا تھا۔
جرمنی پربھی ایسی ہی ذہنیت قابض ہوگئی تھی اورجاپانیوں کو بھی اس ذہنیت نے ایٹم بم کامزہ چکھایا تھا۔جرمنی اور جاپان کے لوگوں نے بہت جلد اپنی زمہ داری سنبھال لی تھی اور آج وہ اقوام عالم میں ایک سرخرو قوم کے طور پر زندہ ہیں۔
اگر بیس سال بعد جرمنز اور جاپانی بھی امریکی چوسنی مانگتے تو شاید امریکہ وہاں سے بھی چوسنی سمیت نکلنے کی کوشش کرتا اور جرمنز آج بھی کسی ہٹلر کے زیرِ نگیں ہوتےاور جاپانی کسی شہنشاہ کی پوجا کر رہے ہوتے۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب