اردو | NEWS

بہتری کے لئے چندگزارشات

صولت پاشاکی تحریر
میری عمروالےدوچارسال اورجی لیں گےلیکن مسئلہ ان بیس بائیس کروڑپاکستانیوں کاہے جونہ ملک چھوڑکرکہیں جا سکتےہیں اورنہ ہی ملک میں21ویں صدی کے باشندے کی طرح رہ پارہےہیں،زیادہ توروزکنواں کھودتے ہیں اپنااور اپنےبال بچوں کاپیٹ پالتے ہیں۔
نہ صحت کی مناسب سہولتیں اورنہ تعلیم کاکوئی بہترانتظام،سرپرچھت بھی کوئی عزت والی نہیں۔میں کوئی ماہر معاشیات یا سماجیات نہیں لیکن سوچتاہوں کہ اگردرج ذیل بندوبست ہوسکے توشاید یہ کروڑوں لوگ انسانوں والی زندگی گزار سکیں اورہمارے ملک کے باشندوں کو یہ دھرتی سکون کی زندگی دے سکے۔
1-پہلا کام تو سر والوں کا حقیقی معنوں میں بیریک میں جاناہے۔
2-انتخابات کرائیں، کچھ ایسے لگے کہ عوامی نمائندگی ہوتی نظرآئے،تھوڑی بہت دھاندلی چل جائے گی لیکن کھلی جیسے2018میں ہوئی نہیں چلے گی۔
3-سیاسی حکومتیں سرجوڑکے بیٹھیں اور بےچارے بلوچستان اور سابقہ ٹرائیبل ایریا میں عوام پرظلم بندہو،مسنگ پرسنس گھروں کو لوٹیں۔
4-دفاعی اخراجات میں دس فیصدکمی کر کے فورسزہی کے حوالے رقمیں کر دیں جو ان پیسوں سےعوام کی سہولت کے لئے سکول اور دیگرتعلیمی ادارے، بڑے چھوٹے ہسپتال ومیڈیکل کالج،ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اورانجینئرنگ کالجز،آرمی،نیوی اورایئرفورس ہنگامی بنیادوں پر قائم کریں۔
5-انڈیا اور افغانستان سے تعلقات بہتر کریں،ٹریڈ پر ٹیرف اور نان ٹیرف پابندیاں ہٹا لیں۔دنیامیں ہم شایدواحدملک ہیں جس کی اپنے پڑوسیوں سے تجارت نہیں۔افغانستان کواچھی بھلی3اب ڈالر کی ایکسپورٹ تھی لیکن ترجیحات اس کو تنگ کرنے کی بنالیں۔ تقریباختم ہوچکی۔
۔انڈیا سے جو خام مال مل سکتاہے دگنی تگنی قیمت دے کریورپ سے منگواتے ہیں۔یہ جوہمارے ملک کے دوا سازادارے دوائوں کی قیمتوں میں جب مرضی آتی ہے اضافا کر دیتے ہیں،انڈیا سے دوائیں سستی ملیں گی۔۔یہ بھی اپنے پرافٹ کم کریں گے، عوام کو سستی دوائیں مل سکیں گی۔
چند مثالیں ہیں۔
6-کشمیرکے مسئلہ کودونوں اپنی اپنی پوزیشن پررھ کرذرابیک برنرپر ڈال دیں۔ڈپلومیٹک چینل استعمال کریں اور کوشش کریں یہ معاملہ اگلے چار پانچ سال میں کسی طرح کچھ لوکچھ دو کے اصول پرحل ہوجائے۔
اصل مسئلہ وادی کے کشمییوں کاہے جو لاکھوں کی فوج کا ظلم برداشت کررہے ہیں، وہاں سے انڈیا اپنی فورسز کم کرےجس کے لئے پاکستان اپنی پوری سپورٹ دےاورتینوں ممالک انڈیا،پاکستان اورافغانستان ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی بند کریں۔
۔کشمیرمیں پراکسی کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی اورنہ ہی افغانستان۔ صرف تنائواور نفرتیں بڑھیں گی جن کا کوئی حاصل نہیں۔
7-ٹیکس کے نظام کوآسان بنائیں،فائلرزکوریلیف دیں ٹیکس بڑھے گا۔
8-جب آپ دفاع کے خرچے کوفریز کر لیں اور دس فیصد کمی بھی تو دنیا کو بتائیں کہ ہم سے جوہوسکتاہے ہم نے کر دیا۔ہم کو قرضوں کی واپسی کے لئے پانچ سال کی چھوٹ دیں۔۔مل جائے گا۔اور اگر بیلنس آف پیمنٹ کے لئے ضروت پڑے تو سالانہ تین چار ارب ڈالر ہمارے لئے مختص کریں۔
9-امن قائم ہوگاتوسیاحت کے مواقع بڑھیں گے۔اگرانڈیاسے آنے والوں کوبارڈرپرکچھ فیس لے کر ویزاآن آرائیول دیں توصرف انڈیا سے ہر سال 40/50 لاکھ لوگ آئیں گے، جن سے بہت اچھا فارن ایکسچینج ملے گااور جب انڈیا سے آمد ہوگی تو باقی ممالک کے لوگ بھی یہاں آنے کی ہمت کریں گے۔
10-پاکستان کے لوگ انٹرپرینورزہیں،آپ ان کوامن امان دیں،یہ خود اپنے اور دوسروں کے لئے روزگار کے بےشمار راستے نکال لیں گے۔
11-ہنرمندی کو فروغ دیں، یورپ اپنی کم ہوتی آبادی کے باعث سکلڈورکر چاہے گاجو ناایران دے سکتاہے نا فریقہ۔ہمارے پاس ایسے لاکھوں افراد ہونے چاہئیں جو وہاں ملازمتوں کے لئے جا سکیں۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب