اردو | NEWS

افغان مسئلہ:جوش نہیں ہوش کی ضرورت

ارسلان سعیدکی تحریر
شایدمیری طرح آپ نے بھی سوشل میڈیا پر گھومتا امریکی جرنیل کاوہ کلپ دیکھا ہو گا جس میں وہ افغانستان میں اپنی حکمت عملی کی ناکامی اور اپنے اندازوں کے غلط ثابت ہونے کا اپنی سینٹ میں اعتراف کر رہے ہیں۔ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت اس وقت امریکی سینٹ میں ایک طرح سے لائن حاضر ہے اور اپنی ناکامیوں پر سخت جرح کا سامنا کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں اس ویڈیو پر آپ کو ہر طرح کے تبصرے اور چسکے دیکھنے کو مل رہے ہیں کیونکہ ہم نے اس طرح کی کارروائی کم کم دیکھی ہےاور ویسے بھی ہمارے ہاں خود احتسابی اور اپنی غلطی ماننے کا رواج ذرا کم ہی ہے۔ اب امریکی سینٹ جانے اور ان کے جرنیل جانیں۔
میرے لئے اس اجلاس میں جو بات سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اسی کارروائی کے دوران یہ بھی کہا گیا ہے کہ آنے والا وقت پاکستان کے لئے مشکلات لائے گا اور طالبان کے پاکستان سے اختلافات ہوسکتے ہیں اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ بل ہے جو 2011 سے 2020 تک کی تحقیقات کے لئے پیش کیا گیا ہے کہ کون کون طالبان کے مددگار رہے یہ بل نام لئے بغیر چند ایک ‏ممالک کی طرف اشارہ ہے۔پاکستان افغانستان کی صورتحال کےحوالے سے سب سے نازک پوزیشن پرہے۔ ساری دنیا کو تقریباً یقین ہے کہ وہ ہم ہی تھے جن کے سہارے اتنےسال طالبان امریکہ کےسامنے کھڑے رہے اوروہ ہم ہی ہیں جن کی وجہ سےاب طالبان کابل پرحکومت بنانےمیں کامیاب ہوئے۔
امریکی افواج کےانخلاپردنیانےافغان طالبان کےساتھ ساتھ ہماری بڑھکیں بھی سنی ہیں۔ کہیں ہم نےکہاکہ افغانوں نےغلامی کی زنجیریں توڑدیں توکہیں ہم سب ٹھیک کروانے کابل بھی پہنچےاورفاتح کابل کے طورپرقہوے بھی نوش کئے۔امریکا تو چلا گیا ہے اوراب ساری دنیا کی نظریں اس بات پرہیں کہ کیا طالبان اپنےکئےوعدوں پرٹکےرہتے ہیں یانہیں لیکن جوخبریں اب افغانستان سےآہی ہیں وہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم پرپابندی لگ رہی ہے خواتین کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہےجس طرح کی افغان حکومت کا وعدہ تھا کہ تمام قومیتوں کو نمائندگی دی جائے گی وہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
تو ایسے میں تمام نگاہیں پاکستان کی طرف لازماً دیکھیں گی کہ ہم اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے طالبان کو مجبور کریں کہ وہ عالمی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کریں۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ سارا زور لگا کر بار بار پوری دنیا کو کہہ رہے ہیں کہ طالبان کو موقع تو دیں وہ بدل گئے ہیں ان کی مدد کریں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، اب طالبان کے ہر فیصلے ہر عمل کا بوجھ پاکستان کو اٹھانا ہے۔ ہماری بڑھکوں سے معاملہ وہاں پہنچ گیا ہے جہاں آگے پانی اور پیچھے کھائی ہے۔ طالبان اس خمار میں ہیں کہ انہوں نے سپرپاور کو شکست دی ہے اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں کوئی ان کو فیصلے ڈیکٹیٹ نہیں کروا سکتا۔
امریکہ اپنی شکست کےعوامل ڈھونڈنےاوراس کاملبہ کسی دوسرےپرڈالنےکاآغازکرچکاہےاورظاہری سی بات ہےکہ ہماراہی نام سرفہرست ہوگا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارےہاں سرکاراورسیاست ایک دوسرے کےگلےپڑے ہوئےہیں۔ نام کی پارلیمنٹ میں آنےوالےدنوں کوسامنے رکھ کرکوئی ایک بحث نہیں کی گئی کہ اس مشکل صورتحال میں کیاپالیسی اختیارکی جائے۔ یہاں کاسب سےبڑامسئلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اورشریف خاندان کی کرپشن ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت افغانستان پالیسی پر مل کر بیٹھیں۔ خارجہ پالیسی کے ماہرین کو بلائیں اور آنے والے دنوں کے چیلنجوں پر گفتگو کریں اور پھر اس سے نبردآزما ہونے کے لئے ایک پالیسی بنائیں اور ریاستی اداروں کے ذریعے اس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائیں لیکن ایسا ہوتا کہیں نظر نہیں آرہا۔
امریکہ میں تو چلیں غلطی مان لینے کا اور اس کے ازالے کی کوشش کا رواج ہےلیکن اللہ کے فضل سے پاکستان میں ایسا کوئی رواج نہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی معیشت ڈانواں ڈول ہے جس میں دہشت گردی کے واقعات پھر سے رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کے ہمسائے میں صورتحال سنبھل نہیں رہی اور جس کی وجہ سے ساری دنیا کی نظریں اس پر ہیں اس کے لئے آنے والے دن کتنے مشکل ہو سکتے ہیں اس کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب