اردو | NEWS

طالبان پراثرورسوخ:کہنا آسان اور کرنا مشکل ہوتا ہے

تحریر:…ژاں لک رسین
15اگست 2021 کو کابل کے سقوط کے بعد طالبان کی اقتدار میں واپسی، پہلی نظر میں پاکستان کے لئے اچھی خبر لگتی ہے۔ اس تحریک سے اسلام آباد کے تعلقات کوئی راز نہیں کیونکہ 1994-1995 میں طالبان کی افغانستان میں فتح پاکستان کی مرہون منت تھی اور اسی ملک نے 2001 میں امریکی حملے کے بعد انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں لیکن تاریخ خود کو ہمیشہ ایک ہی طرح نہیں دہراتی: 2018 سے برسراقتدار وزیراعظم عمران خان کی پاکستانی حکومت، ایک طرف نئی افغان حکومت کو درپیش تنہائی میں لپیٹے جانے کے خطرے سے بچنے کی کوشش بھی کر رہی ہے اور ساتھ ہی اسے بین الاقوامی برادری سے قبولیت دلانے کے لئے اقوام عالم کے مقررہ ضوابط کو اختیار کرنے کے لئے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک اور پیمانہ ہے جس کی وجہ سے حالات جزوی طور پر مختلف ہیں: پاکستانی طالبان کا وجود، جنہوں نے ایک بنیاد پرست تحریک، 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) قائم کی اور جو پاکستانی حکومت جوان کی نظرمیں جعلی اسلامی حکومت ہےکا تختہ الٹنے کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ چنانچہ نئی طالبان حکومت کے حوالے سے پاکستانی حکمت عملی کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بات مدنظر رہنی چاہئے ورنہ دوسری صورت میں تو بجاطور پر یہی نکلتا ہے کہ طالبان کی فتح نے پاکستان کو مشرق میں واقع ہندوستانی طاقت کے خلاف مغرب میں سٹریٹجک گہرائی کی دیرینہ جدوجہد میں ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار کر دیا ہے۔ کسی کو پاکستانی تجزیہ کاروں کے اس نظریے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کی فتح پاکستان کے لئے ایک تباہ کن فتح ہو سکتی ہے۔
یہ افغانستان اور پاکستان کے لئے صدر اوباما کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک تھےجنہوں نے 2010 میں افغانستان۔پاکستان کو اکٹھے کر کے دیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک تسلسل کو واضح ہونا تھا۔اس تصور کو اسلام آباد میں اچھا نہیں سمجھا گیا اور امریکہ سفارتی گفتگو سے غائب ہو گیالیکن اس سے اس تصور کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ اس میں اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہےکہ افغان مسئلےکوپاکستانی عنصرکومدنظررکھے بغیر حل نہیں کیاجاسکتا اوراس کی تاریخی کے ساتھ ساتھ سماجی اورسیاسی وجوہات بھی ہیں۔ایک بات تو یہ ہے کہ پاکستان کو 1980 میں سوویت یونین کے خلاف جدوجہد میں مجاہدین کے لئے اسلحہ اور پیسےکی شکل میں امریکی حمایت کے لئے راہداری کے طورپر منتخب کیا گیا تھاکیونکہ پاکستانی انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اہم مجاہدین دھڑوں سے بے مثال واقفیت رکھتی تھی۔ ایک اوراہم موڑ اس وقت آیا تھا جب بینظیر بھٹو کی حکومت میں اسلام آباد اپنے پڑوس میں استحکام کو فروغ دینے کے لئے کوشاں تھاتاکہ وسطی ایشیائی وسائل تک پاکستانی رسائی کو آسان بنایا جاسکے اور اس پاکستانی حکومت نے طالبان تحریک کی ساخت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جس کی جڑیں قندھار میں تھیں لیکن اس میں بہت سے وہ افغان مہاجرین بھرتی کئے گئے تھے جنہوں نے پاکستانی مدرسوں میں تعلیم حاصل کی۔
اس لئے ان کا نام طالبان یا دین کے طالبعلم ہے اور بالآخرنائن الیون کے بعد امریکی مداخلت سے طالبان کو بے دخل کئے جانے کے بعدپاکستان نے انہیں افغان سرحد پر پاکستانی قبائلی علاقوں میں بے حد ضروری پناہ گاہوں کی پیشکش کی،یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں مجاہدین طویل عرصے سے القاعدہ کے عرب جنگجوئوں کے ساتھ گھل مل گئے تھے اور انہوں نے مقامی لوگوں میں بھی انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ طالبان رہنمائوں نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئےاپنی کونسلیں قائم کیں،بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے دارالحکومت پشاور میں یہ کونسلیں قائم ہوئیں۔ اس صوبے کا نام بدل کر 2010 میں خیبرپختونخوا رکھا گیا۔
2600 کلومیٹر سرحد والا یہ علاقہ تاج برطانیہ سے وراثت میں ملا ہے:1893 کی ڈیورنڈ لائن، جسے کسی افغان حکومت نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ پشتون افغان آبادی کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں لیکن وہ افغانستان کی نسبت پاکستان میں زیادہ تعداد میں ہیں اور اسلام آباد پشتون قوم پرستی کے دوبارہ پیدا ہونے والے خطرے کو کم اہمیت دینے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔طالبان تحریک کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات کے باوجود سقوط کابل کے نتائج کے بارے میں پاکستان کی سوچ تین عوامل سے تشکیل پاتی ہے۔ سب سے پہلے، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دوبارہ سر اٹھانے کا خدشہ ہے۔ دسمبر 2014 میں پشاور میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے سکول (آرمی پبلک سکول) پر ان کےمہلک حملےکےبعدبزورطاقت وزیرستان میں ٹی ٹی پی کو بہت کمزور کر دیا گیا۔
اس میں سے کئی دھڑے الگ ہو گئے، کچھ عسکریت پسند جو پاک فوج سے بچ کربھاگے تھے انہوں نے افغان سرحدی صوبوں میں ٹھکانے بنا لئے۔ ان میں سے کچھ سرحد پار سے فرار ہو کر افغانستان میں داعش کے ایک گروہ خراسان کی دولت اسلامیہ میں شامل ہو گئے۔ اسلام آباد ٹی ٹی پی کی بحالی سے پریشان ہے، جس نے 2020 میں اپنے اہداف پرحملوں اور قتل و غارت کی کوششیں دوبارہ شروع کیں، اس لئے کہ پچھلی افغان حکومت کی قید سے متعدد عسکریت پسندوں کو طالبان نے مذاکرات کے ذریعے رہا کرایا تھا۔ عمران خان کی حکومت نے واضح طور پر درخواست کی کہ افغان طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں پر دبائو ڈالیں اور اعلان کیا کہ ان لوگوں کے لئے عام معافی ممکن ہوسکتی ہے جو ہتھیار ڈال دیں اور پاکستانی آئین کے ساتھ وفادار بن کر رہیں۔
پاکستان کی پریشانی کی دوسری وجہ مہاجرین کا سیلاب ہے جو افغانستان میں دائمی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان میں آسکتا ہے۔ سرکاری بیانات میں کہا جاتا ہے کہ ملک پہلے ہی کئی دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دے رہا ہے (حالانکہ ان میں سے کچھ حالیہ برسوں میں واپس چلے گئے تھے)اور یہ کہ وہ مہاجرین کی نئی لہروں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔تیسری تشویش کا اظہار حکومت نے نہیں کیا لیکن کئی پاکستانی تجزیہ کاروں نے اس کا اظہار کیا: ٹی ٹی پی سے ہٹ کر پاکستان میں سرگرم دیگر تمام بنیاد پرست تحریکوں کو افغان طالبان کی شاندار فتح کی وجہ سے تحریک مل سکتی ہے جو ملک میں شدت پسندی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
اس نظریہ کو دوسروں کے علاوہ واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے بھی آگے بڑھایا جنہوں نے اسے اسلام آباد کے لئے’’تباہ کن فتح‘‘ قرار دیا۔یہ سیاق و سباق طالبان کی فتح پر پاکستانی رد عمل کے متعدد پہلوئوں کی وضاحت کرتا ہے۔ عمران خان برسوں سے دہرا رہے تھے کہ افغان بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اس دوران دوحہ میں طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات میں اسلام آباد کے اہم کردار کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں فروری 2020 میں امریکی انخلا کا معاہدہ ہوا۔ 15 اگست کے بعد سے پاکستانی سرکاری موقف کو پس منظر میں دھکیلنے والے شوروغوغا کو نظر انداز کرتے ہوئے، حکومت دو پیمانوں کے درمیان ایک نازک توازن پر قائم دکھائی دیتی ہے۔
ایک طرف طالبان کی اقتدار میں واپسی اسلام آباد کے لئے باعث اطمینان ہے کیونکہ بھارت نے اس وقت افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ کھو دیا ہے جہاں اس نے ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ بھارت کے اشرف غنی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور وہ دونوں پاکستان پر طالبان شورش کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے رہتے تھے اور کابل میں اپنے سفارت خانے کے علاوہ ہندوستان نے ملک میں چار قونصل خانے کھول رکھے تھےاور پاکستانی حکام یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ ان قونصل خانوں کوبلوچ باغیوں اوریہاں تک کہ ٹی ٹی پی کےطالبان کی مددکےلئےاستعمال کیاجاتاتھامگراس پاکستانی الزام کےٹھوس شواہدکبھی سامنے نہیں آئے۔
لیکن دوسری طرف اسلام آباد طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے خطرات اور ایک منفی اشاروں کا جائزہ لے رہا ہے جو طالبان کی مبینہ طور پرعارضی حکومت کے قیام کے بعد سے ملے ہیں۔ یہ عارضی حکومت اپنے پہلے بیان کئے اس موقف کہ آئندہ حکومت میں سبھی طبقہ ہائے فکرکی شمولیت ہو گی مگر اس کے برعکس یہ صرف طالبان پر مشتمل ہے۔ اس حکومت کے وعدوں کی بنا پر کچھ اہم شخصیات جن میں سابق صدر حامد کرزئی، اشرف غنی انتظامیہ میں ان کے نائب عبداللہ عبداللہ اور سابق سوویت مخالف مجاہد اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار شامل ہیں کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی۔
فی الحال ان مذاکرات سے کچھ نہیں نکلاجبکہ دوسروں کے علاوہ خواتین کے کام کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم جیسے مسائل پربنیاد پرستی کے آثار کئی گنا بڑھ گئے۔نئی افغان حکومت کے اندر طاقت کی کشمکش نے اسلام آباد کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ طالبان کی سب سے زیادہ میڈیا نمایاں شخصیات، جنہوں نے ماسکو، بیجنگ یا تہران کے دورے کئے تھے اور جنہوں نے دوحہ میں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی تھی کو پس منظر میں بھیج دیا گیا ہے، عبدالغنی برادرکوصرف نائب وزیراعظم اور شیخ محمد عباس ستانکزئی کو نائب وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے دورہ کابل کو کچھ لوگوں نے طالبان حکومت بنانےکے عمل میں پاکستانی مداخلت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جس کا اعلان ان کے دورہ کے تین دن بعد7ستمبر کو کیا گیا اور سخت گیری کو فروغ دینے کے ثبوت کےطورپرحقانی نیٹ ورک کے چار ارکان کی حکومت میں موجودگی کو پیش کیاجاتاہےلیکن باخبرمبصرین اسےپاکستانیوں کی اس خواہش کےطورپردیکھتے ہیں کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالثی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں عدم استحکام کی فکرلاحق ہے۔
ہندوستانی ذرائع نے اسے پنجشیر وادی پر قبضے میں پاکستانی مداخلت کی علامت کے طور پر دیکھا جہاں حکومت کے آخری مسلح مخالفین جمع تھے۔”عبوری” طالبان حکومت کی طرف سے نسلی اقلیتوں کے کچھ نمائندوں کی شمولیت بھی اسلام آباد کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکی جوکہ باضابطہ طور پر ایک نمائندہ حکومت کی ضرورت کے موقف پر کاربند ہے۔پاکستان اس حکومت میں طالبان کے علاوہ بھی نمایاں شخصیات کو حکومت میں شامل کرانا چاہتا ہے۔ اسے نئے افغانستان کے استحکام کے لئے ایک ضروری شرط کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب سے انسانی بحران جس میں ملک ڈوب رہا ہے کافی بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے اور جس کا جزوی طور پر وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کیونکہ افغان اشرافیہ کا ایک حصہ ملک چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔
طالبان کے پاس اہلیت، اچھی طرح سے مالی اعانت والے اہلکاروں اور ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والے افراد کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر امریکہ کو بھی خوش رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی معیشت کو اب بھی آئی ایم ایف اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جو ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دہشت گرد تنظیموں کے مالی لین دین پر نظر رکھتی ہے اور اس نے ابھی تک پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے نہیں نکالاجس کے معاشی مضمرات بھی ہیں۔ عوامل کی یہ ترتیب سقوط کابل کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد پاکستان کی صورتحال کی وضاحت کرتی ہے: نئی حکومت کو یکطرفہ تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ نئی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہوجائے جبکہ ساتھ ہی ساتھ ایسےحالات پیدا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بڑے مغربی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز کے علاوہ ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان سوال پر بہت زیادہ توانائی خرچ کی، چاہے وہ باقاعدہ رابطوں کے فریم ورک میں ہوں (جیسے شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہو) یا مخصوص دو طرفہ یا کثیر الجہتی اقدامات کے مواقع ہوں۔خیال یہ ہے کہ وسیع تر معنوں میں علاقائی شراکت داروں (وسطی ایشیائی ریاستوں، چین ، روس ، ایران اور خلیجی ممالک) کے ساتھ مربوط حکمت عملی تیار کی جائے جبکہ ایک ہی وقت میں ایک اصول کی بنیاد پر مغربی ممالک کی ذہن سازی کی جائے کہ وہ طالبان کے اقتدار میں واپسی کی حقیقت کو قبول کرلیں بجائے انہیں الگ تھلگ کرنے کے ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنا بہتر ہے۔
ان پر اثر انداز ہونے کے لئے کیونکہ پاکستانی موقف مغربی توقعات کے مطابق ہے جس کا ماسکو اور بیجنگ بھی اعادہ کر رہے ہیں: ایک شمولیتی حکومت کی ضرورت، انسانی حقوق اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کا احترام اور دہشت گرد گروہوں کو پناہ نہ دینے کا عزم شامل ہے۔ اس متفق بیان بازی سے ہٹ کر، پاکستانی بیانیہ دوسروں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ طالبان کا ارتقاء ممکن ہے، اس میں تحمل کی ضرورت ہےاوریہ کہ بین الاقوامی طرزعمل کی ایک لائن قائم کرنا سمجھداری ہو گی تاکہ طالبان سے ملک کی تعمیرنو اور ناگزیر انسانی امداد کے لئے معاشی معاونت کے بدلے میں رعایتیں مانگی جا سکیں۔
امریکہ جس نے اپنے ہاں جمع افغان حکومت کے فنڈز کو روک دیا ہے اور آئی ایم ایف جس نے اشرف غنی حکومت کے لئے مختص کریڈٹ کو معطل کر دیا ہے، پھر دوبارہ مالی امداد شروع کر دیں۔24ستمبرکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان نےتقریرمیں ان باتوں پرزوردیا۔انہوں نے موجودہ افغان حکومت کو”افغان عوام کی خاطر” مضبوط اور مستحکم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ طالبان کو معاشرے کو کھولنے کے اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور عالمی برادری کو ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے ان پر دبائو ڈالنا چاہئے۔ اس کے برعکس تنہائی مسلط کرنے کی پالیسی، صرف انسانی بحران کوبڑھائےگی اوراس کےسنگین سیاسی نتائج برآمدہوں گے:”ایک افراتفری، غیرمستحکم افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن جائے گا۔”
مجموعی طور پر اگر پاکستان نےروزنامہ ڈان کے جاری کردہ حقائق کے مطابق واقعی افغان جنگ جیتی ہے تو اسے ابھی اس فتح کو سنبھالنا ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ طالبان کو بات سننے پر مجبور کرنا ہو گا بلکہ پاکستانی مواصلاتی پالیسی پربھی نظرثانی کرنا ہو گی جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کی وجہ سے افغانستان کی جنگ کا سب سے بڑے متاثرہ فریق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ امریکی کانگریس کی صفوں سمیت پاکستان کے دوغلے پن کی تصویر مضبوطی سے زندہ ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کو خطے کے لئے تنازعہ کے بعد کا وژن بنانا ہو گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی آواز کو طالبان اور عالمی برادری دونوں کو سنانا ہو گا جیسا کہ ڈان میں تاریخ دان نے لکھا ہے۔ اسلام آباد اور کابل کے مابین تعلقات کی کلید کے طور پر وہ مزید کہتے ہیں: “اتنے سالوں، ہم نے طالبان سے اپنے اثر کا الزام اٹھائے رکھا اور اب اس اثر کو اپنے فائدے کےلئے استعمال کرنے کا وقت ہے۔ کہنا آسان اور کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب