اردو | NEWS

آئی ایس آئی کی تاریخ

وجاہت ایس خان کی تحریر

‎ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے تقرر پر جاری بحث پر بات کرنے کے لئے کم از کم ایک کتاب جتنا مواد اور ڈھیروں دعاؤں کی ضرورت ہو گی لیکن یہ سمجھتے ہوئے بھی اس موضوع پر میں کچھ کہنے کی ایک حقیر سی کوشش کر رہا ہوں۔آئی ایس آئی کو جب محض فوجی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ممکنہ طور پر پاکستان کا سب سے بڑا اور طاقتور ترین ادارہ ہے۔

‎اس میں ایک تھری سٹار جنرل جو لیفٹیننٹ جنرل ہوتا ہے اور ان کے ماتحت کم از کم چھ دو ستاروں والےمیجر جنرل ہوتے ہیں جو اس کےمختلف شعبوں کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ روایتی طور پر ، پاک فوج میں قیادت کا کردار لینے کے لئے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پہنچتے ہیں تو وہ ایک کور کی قیادت کرتے ہیں (ہاں اسی طرح وہ مشہورزمانہ “کور کمانڈرز کانفرنس” کا حصہ بنتے ہیں)۔

‎تاہم ، زیادہ تر کور کمانڈروں کے پاس اوسطاً دو سے تین میجر جنرل ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک ڈویژن کا سربراہ ہوتا ہے اور وہ اپنی کور کے کمانڈر کو رپورٹ کرتا ہے۔ یقینی طور پر ، کچھ کور / فارمیشن دوسروں کے مقابلے میں بڑی ہوتی ہیں (مثال کے طور پر سب سے چھوٹی کوئٹہ میں قائم سدرن کمانڈ کے مقابلے میں خالصتاً کشمیر پر توجہ رکھنے والی کور نمبر دس بہت بڑی ہے)۔

‎لیکن جب بات وسائل اور افرادی قوت کی ہو تو آئی ایس آئی اپنے آپ میں ایک انجمن ہے۔
پاک فوج کے تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد تین ضرب تین ضرب تین پر مشتمل ہے۔
‎حقیقت یہ ہے کہ [کم از کم] چھ میجر جنرل آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل کی معاونت کرتے ہیں مگر اس کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ آئی ایس آئی کے پاس چھ ڈویژنوں کی افرادی قوت بھی ہے۔ لیکن انٹیلی جنس کمیونٹی اور آئی ایس آئی کے افسران سے کئے گئے انٹرویوز اور ان کے اندازوں کے مطابق اس ادارے کے پاس افرادی قوت کہیں زیادہ ہے۔

‎دیگر عسکری فارمیشنوں کے برعکس ، آئی ایس آئی کے پاس تین طرح کے ملازمین کا نظام ہے جس میں حاضر سروس افسر (کچھ عارضی بنیادوں پر ، کچھ دوسرے شعبوں سے لائے گئےاور کچھ ملٹری انٹیلی جنس کور سے ہوتے ہیں)، ریٹائرڈ افسران (“کنٹریکٹ پر رکھے ہوئے” اور بعض کی مدت ملازمت میں “توسیع” دی گئی ہوتی ہے) اور پھر ایک بہت بڑا جُز سویلین ملازمین پر مشتمل ہے۔
‎یہ آخری والا عنصر وہ جگہ ہے جہاں در حقیقت اس ادارے کی طاقت پوشیدہ ہے۔ عمومی رائے کے برعکس ، آئی ایس آئی کی زیادہ تر افرادی قوت سویلین ملازمین پر مشتمل ہے۔ ان میں ہر قسم کے اہلکار شامل ہوسکتے ہیں: سٹینو اور سیکرٹریزسے لے کر ناپسندیدہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے اور تفتیش کار بھی شامل ہیں۔

‎اس طرح آئی ایس آئی کا موازنہ اس کی اپنی خاکی کزن ایم آئی سے کیا جائے تو یہ ایک عجیب پیچیدہ تنظیم ہے ، جس میں سپاہیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ انٹیلی جنس آپریٹرز کی کمانڈ کرتا ہے جن میں سگنلز میں کام کرنے والوں سے لے کر ماہر جاسوس اور سائبر کے ماہرین تک سبھی شامل ہیں ۔

‎آئی ایس آئی ایک مشین ہے اور اس کی “سیاسی” ذمہ داریوں کو بھی ساتھ جوڑیں – پٹواریوں سے لے کر ٹیلی ویژن اینکرز تک خود پارلیمنٹیرینز تک ، تو پھر یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی ، شاید 500،000 یا اس سے زیادہ مرد اور خواتین اس تنظیم کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر کام کر رہے ہوں۔

‎وسائل کے لحاظ سے ، یہ بے مثال ہے اور اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔ آج آئی ایس آئی کے پاس پاک فضائیہ اور پاک بحریہ دونوں کو ملا کر بھی ان کے مقابلے میں زیادہ مرد اور خواتین کام کر رہے ہیں۔ اور اس کی بالواسطہ افرادی قوت یقینی طور پر 600،000 کی مضبوط فوج ہے۔

‎کچھ ضمنی باتیں بھی ہیں: بجٹ کے لحاظ سے ، دو ہزار دس کی دہائی میں ( جو شائع شدہ ہیں) تخمینوں سے ظاہر ہوا کہ آئی ایس آئی حکومت پاکستان سے پاک بحریہ کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم وصول کر رہی تھی اور اس کا اندراج صرف سنگل انٹری پر ہوتا تھا۔ نام نہاد کمپنیاں اور آمدنی کے دوسرے ذرائع اس میں شامل نہیں ہیں۔
‎ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب ذرا اسلام آباد میں جاری موجودہ ڈرامہ پر غور کریں۔ شہرت کے اعتبار سے ، ڈی جی-آئی ایس آئی (یا ڈی جی-آئی ، جیسا کہ فوج میں اسے کہا جاتاہے) چیف آف آرمی سٹاف کے بعد پاکستان کا سب سے طاقتور فوجی افسر ہوتاہے۔ لیکن عمل اور رسائی کے لحاظ سے وہ سب سے زیادہ طاقتور ہوسکتا ہے۔

‎یاد رکھیں: آئی ایس آئی غیر ملکی انٹیلی جنس حاصل کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس کا ابتدائی مقصد پاکستان سے باہر یعنی بیرون ملک خفیہ معلومات جمع کرنا تھا۔ مقامی انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس ایم آئی ، اور [سویلین] آئی بی اور یہاں تک کہ [سویلین] اسپیشل برانچ کا دائرہ کار تھا۔

‎لیکن 1980 کی دہائی کے افغان جہاد میں اس کے اہم کردار نے تربیت ، نقد رقم اور اس کے بعد کے اثاثوں تک بے مثال رسائی کی وجہ سے آئی ایس آئی کو اس کے حقیقی وجود سے کہیں بڑا بنا دیا۔
‎موجودہ آئی ایس آئی کی جدید تشکیل لیفٹیننٹ جنرل اختر عبدالرحمن اور حمید گل نے کی تھی۔

‎بعض لوگ وزیر اعظم عمران خان کو جنرل حمید گُل کا شاگرد بھی قرار دیتے ہیں۔ بات کو مختصر کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی میں وزیر اعظم ہاؤس اور جی ایچ کیوکے درمیان جاری تازہ ترین ڈرامہ کی طرف آتے ہیں۔ سیاسی مشینری قانونی طور پر اس بات کا حوالہ دے رہی ہے کہ ڈی جی-آئی ایس آئی کا تقرر کس کو کرنا ہے۔ قواعد کے مطابق فوادچودھری کہتے ہیں کہ وزیر اعظم مجاز اتھارٹی ہیں۔ وہ قانونی اعتبار سے ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن۔۔۔

‎اگر یہ سارا ناچ گانا دنیا کو یہ دکھانے کے لیے ہے کہ پاکستان میں سویلین بالادستی اہمیت رکھتی ہے اور یہ کہ وزیر اعظم کے پاس اختیارہے ، تو پھر تو بہت ہی اعلی ہے۔ وزیر اعظم آفس کو یہ ڈرامہ اور سموک اسکرین کے لیے پورے نمبر دیئے جانے چاہئیں۔ لیکن اگر عمران یہ سمجھتے ہیں کہ اس تقرر پر جی ایچ کیو کے ساتھ سینگ پھنسانا اہم ہے۔

‎اور اس کے نتیجے میں عمران اور ان کے ساتھی اپنے دلائل کی بنیاد ان قانونی مو شگافیوں پر رکھ رہے ہیں جو کہ “تکنیکی طور پر” وزیر اعظم کو آئی ایس آئی کا باس بناتی ہیں، تو پھر انہیں واضح ہونا چاہیے کہ وہ جس قانون کا حوالہ دے رہے ہیں وہ یقینی طور پر پرانا ہے اور اس میں آئی ایس آئی کی حقیقت درج نہیں ہے جو اگر پہلے سے زیادہ سمجھدار نہیں تو کم از کم پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہو چکی ہے۔
وجاہت ایس خان نے یہ تحریر ٹویٹر پر لکھی۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب