کالی لہر

1 month ago


ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ مسلمان دنیا کا سوال

(اسلم ڈوگر)

ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ یہ سوال مسلمان اورعرب دنیا کا آسیب کی طرح پیچھا کر رہا ہے۔ ہم اس سوال کو مالا کی طرح جپتے ہیں۔ یہ سوال آپ شام سے ایران تک، سعودی عرب سے پاکستان تک اور میرے اپنے وطن لبنان تک ہر جگہ سنیں گے۔

 
ہمارے لئے ہمارا ماضی کا ملک مختلف تھا جہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل عام کی ہولناکیاں نہیں تھیں۔ یہ زندگی سے بھرپور جگہ تھی جس میں عدم برداشت، شدت پسندی اور بے سمت جنگیں نہیں تھیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی تخت الٹے جاتے تھے اور جنگیں بھی ہوتی تھیں مگر یہ کسی ایک علاقے اور خاص مدت تک محدود ہوتی تھیں اور مستقبل کی امید باقی ہوتی تھی۔ ہمارے ساتھ کیا ہو گیا ہے؟یہ سوال شاید ان کے لئے نہ ہو جو اس وقت بہت چھوٹے ہوں اور انہیں یاد نہ ہو کہ جب مختلف دنیا تھی یا جن کے والدین نے انہیں نہ بتایا ہو کہ جب پشاور کے بازاروں میں مشاعرے ہوتے تھے، بیروت کے مے خانوں  میں مارکسزم پر بحث مباحثے ہوتے تھے یا دجلہ کے کنارے بغداد میں سائیکلوں پر سوار گھومتے تھے۔  یہ سوال مغرب میں رہنے والوں کے لئے بھی حیران کن ہو سکتا ہے جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ انتہاپسندی اور خاک وخون کا یہ کھیل ہمیشہ سے جاری و ساری ہے۔ 

کیا کھویا ہے اور یہ کیسے ہو گیا ؟ اسے سمجھنے  کےلئے ضروری ہے کہ اس میں سعودی عرب اور ایران کی باہمی دشمنی کے کردار سمجھا جائے کیونکہ اس کو سمجھے بغیر مشرق وسطی کے بارے میں سمجھ ادھوری ہی رہے گی۔ اس خطہ کی جدید تاریخ میں کئی ایسے موڑ ہیں جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کس طرح ہم مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے۔ کیسے سلطنت عثمانیہ ختم ہوئی اور کس طرح امریکہ نے 2003 میں عراق پر جارحیت کی۔ 

ماضی کے تاریخی مواقع میں سے کوئی ایک بھی مکمل تصویر کشی نہیں کرتا۔ ان کی بجائے میں1979 کے سال پر نظر دوڑاتا ہوں جس سال تین اہم واقعات ہوئے،ایران کا انقلاب جو فروری میں آیت اللہ خمینی کےاقتدار میں آنے پر منتج ہوا، نومبر میں سعودی انتہا پسندوں کی طرف سے خانہ کعبہ پر قبضہ اور دسمبر میں سوویت یونین کی طرف سے افغانستان میں فوجی کشی جو بعد میں امریکہ کی مدد سے نئے عہد کے جہاد کا میدان بنا۔ یہ واقعات بظاہر ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن ان تین واقعات کا مرکب اس قدر زہریلا ثابت ہوا کہ اس کے بعد کوئی شے بھی پھر اس طرح کی نہیں رہی۔اس مہلک کشید سے ایران اور سعودی عرب کی دشمنی نے جنم لیا۔ 

اس سے قبل دونوں ممالک دوستانہ مسابقت رکھتے تھےجو اس خطے میں کمیونزم کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کے دو ستون تھے۔اس کے بعد انقلاب ایران آ گیا۔ ہائوس آف سعود نے پہلے پہل  اسلامی انقلاب کا خیر مقدم کیا کیونکہ قرآن کو ایران کا آئین بنانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن جلد ہی حقیقت نے سعودی عرب کی آنکھیں کھول دیں۔ خمینی انقلاب کی ابتری کا حتمی فاتح بن کر ابھرا۔ ایک مرتبہ خمینی عربوں کو اونٹوں کے چرواہے اور بربریت پسند قرار دے چکے تھے۔ اہم بات یہ تھی کہ وہ خود شیعہ ہونے کے باوجودسنی اکثریت والی مسلم دنیا کی قیادت کرنے کے خواب سجائے ہوئے تھا۔اس امرنے سعودی عرب کے حکمرانوں میں عدم تحفظ شدت سے پیدا کردیا۔

سعودی حکمران حرمین شریفین کے خادمین بھی ہیں۔ خانہ کعبہ پر انتہا پسندوں کے قبضہ سے سعودی عرب کا مسلم دنیا میں تشخص بری طرح مجروح ہوا۔ ہائوس آف سعود خادمین حرمین شریفین کے طور پر خانہ کعبہ کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوا تھا۔ جب سوویت یونین نے افغانستان پر جارحیت کی تو سعودی عرب نے اس موقع کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو  بحال کرنے کا غنیمت موقع جانتے ہوئے کمیونسٹوں کے خلاف مقدس جہاد کے لئے خوب پیسہ استعمال کیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے ملک کے انتہا پسندوں کے جذبات کو کمیونسٹوں کی جانب اپنے ملک سے باہر میدان جنگ کی طرف موڑ دیا۔

 
اس کے بعد مسلم دنیا کی قیادت کے لئے تباہ کن مقابلہ شروع ہو گیا اور طاقت کے حصول کے لئے ایران اور سعودی عرب نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا، مذہب کی من مانی تشریح کی گئی اور بعض اوقات مذہب کو مسخ کیا گیا۔ یہ 1979 سے لے کر اب تک چلتا آ رہا ہے اور اپنی راہ میں آنے والی ہر شے کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لئے جا رہا ہے۔ عرب اور مسلم دنیا کو  1979 کے واقعات سے زیادہ کسی اور چیز نے اس قدر گہرائی سے متاثر نہیں کیا۔ اس سے پہلے کے جو تاریخی واقعات ہیں ان میں اتحاد ختم کئے گئے ہوں گے، کسی جنگ کی ابتدا یا اختتام کیا گیا ہو گا یا کسی نئی سیاسی تحریک کاآغاز ہوا ہو گا۔ لیکن 1979 کے انتہا پسندانہ ورثہ نے یہ سب کچھ تو کیا ہی اس کے علاوہ بہت کچھ کیا۔ اس نے معاشروں کو تبدیل کرنے کے عمل کا آغاز کیا اور ثقافت اور مذہبی حوالوں کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔
1979  کی حرکیات نے ہماری شناخت تبدیل کر دی اور ہماری اجتماعی یاداشت کو ہائی جیک کر لیا، مصر سے لے کر پاکستان تک متحرک اور تکثیری معاشروں کی ہیئت تبدیل کر دی، کیونکہ ایران اور سعودی عرب دونوں پیسے، پراپیگنڈہ اور تبلیغ کے ذریعے عوام کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ اس مرکزی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے میں نے قاہرہ سے بغداد اور تہران سے اسلام آباد تک کا سفر کیا۔جب میں نے لوگوں سے  1979 کے واقعات کے ان کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں پوچھا تو لوگوں کے جذبات امڈآئے۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں ان لوگوں کے کمروں، آرام گاہوں اور مطالعہ گاہوں میں بیٹھ کر ان کی قومی تھراپی کر رہا ہوں۔ ہر ایک کے پاس سنانے کو ایک کہانی ہے کہ کس طرح  1979 کے سال نے ان کی زندگی  کو تباہ کیا، ان کی شادیوں یا تعلیم کو متاثر کیا۔ 

 اس سے قبل ان سے کسی نے یہ سوال پوچھا نہیں مگر جیسے ہی میں نے یہ سوال پوچھا تو انہیں لگتا تھا کہ جیسے یکدم زندگی کے بکھرے ٹکڑے اکٹھے ہو کر مجسم ہو گئے ہوں اور کوئی معمہ حل ہو گیا ہو۔ پاکستانی صحافی ندیم فاروق پراچہ نے بتایا کہ 1979 کے واقعات کے بعد ایسے لگتا تھا جیسے ایک سال میں آسمان ٹوٹ کر زمین پر آن گرا ہے۔ انہوں نے اس سال اپنے ملک میں ہونے والے دوسرے واقعات کا حوالہ دیا۔ جنرل ضیا الحق جو 1977 سے برسراقتدار تھے، نے اپریل 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی اور ایران کے خمینی کے اسلامی قوانین کے نافذ کرنے سے صرف چند روز قبل ہی ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا۔ ضیا الحق خمینی کو اس معاملے میں پیچھے چھوڑنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔

 
وہ ان کئی رہنمائوں میں سے ایک تھے جو مذہب کے استعمال کے معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے۔ مصر میں ایک روشن خیال اسلامی سکالر نصر ابو زید کی بیوہ ابتہال یونس جو خود فرانسیسی ادب کی پروفیسر ہیں ، نے بتایا  1979 میں جس سال مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے نے کس طرح نہ صرف ان کے ملک کو تبدیل کر دیا بلکہ ان کی ذاتی زندگی میں بھی بھونچال پیدا کر دیا۔ اس سال نے انہیں اور ان کے خاوند کو کئی سال کے لئے جلا وطنی پر مجبور کر دیا کیونکہ اس کے واقعات کے نتیجے میں مصر میں عدم برداشت کی لہر اٹھی اور ابو زید کو کافر قرار دیا جانے لگا۔  

1980 کی دہائی فوجی جنگوں کا دور تھا۔ اس میں ایران عراق جنگ ہوئی جس کے باعث ایران اور عرب ممالک کے درمیان فرقہ واریت کی خلیج بڑھی۔، افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ ہوئی جس نے پرتشدد جہاد کے بیج بوئے۔ ان دونوں واقعات نے سنی اور شیعہ کے درمیان تاریخی اور فقہی تقسیم کو بڑھا کر ایک جدید ہتھیار میں تبدیل کر دیا، فرقہ وارانہ تقسیم بڑھ کر فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ہوئی جو اس سے قبل کبھی دیکھنے کو نہیں ملی اور 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس میں مزید شدت آئی۔1990  کی دہائی ان جنگوں اور معرکوں کے نتیجے بننے والی راکھ کے ڈھیر سے پیدا ہونے والی جنگی ثقافت  کا دور تھا جس نے اس علاقے کے کردار کی تشکیل نو کی۔ 

اس کی ابتدا 1989 میں خمینی کی طرف سے شیطانی کتاب کے مصنف سلمان رشدی کے قتل کا فتوی جاری کرنے سے ہوئی۔ لوگوں کے ذہن میں خمینی کے فتوے والی بات رہ گئی ہے کہ حالانکہ اس کتاب کے خلاف مہم لندن میں سعودی سفارت خانے کی مدد سے سعودی عرب کے سرگرم قدامت پسند سنی حضرات نے شروع کی تھی۔ سلمان رشدی کی کتاب اس سے پہلے ہی فارسی میں ترجمہ ہو کر ایران میں فروخت ہو رہی تھی۔ اس کتاب کے خلاف اٹھنے والی غصے کی لہرجو برطانیہ سے لے کر بھارت اور پاکستان تک پھیل چکی تھی پر سوار ہو خمینی نے فتوی جاری کر دیا اور اس طرح مسلمانوں کی نظر میں سب سے زیادہ پارسائی کے دعوے دار ٹھہرے۔

ان کے اس فیصلے سے مسلم دنیا میں دانشمندوں کا حلقہ شدید متاثر ہوا کیونکہ اس کے بعد عدم برداشت کو فروغ ملا، ادیبوں اور فنکاروں پر کفر کے فتوے  لگے۔ ان پر حملے ہوئے اور چند قتل بھی ہوئے۔ مصر کے مقبول عام نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ 1994 میں چاقو کے ذریعے قتل کے حملے میں بال بال بچے۔اس سیاہ رات جس نے سارے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا کو ایک مصری فلم ڈائریکٹر یوسف شاہین نے سیاہ لہر قرار دیا۔ یہ سیاہ لہر جو خیلج سے آئی تھی کے زیر اثرعورتیں سیاہ چادروں میں لپیٹ دی گئیں، سعودی عرب جیسا عبایا اور نقاب کا رواج آیا جو اس سے پہلے مصر جیسے ملک میں ناپید تھے عام ہونا شروع ہو گیا۔

مصر کی درجنوں مشہور اور مقبول اداکاروں نے کھلے گلے کے کپڑے پہننا ،بال تراشنا بند کر دیئے اور نقاب اوڑھ لئے جس کی امیرسعودی شہریوں نے حوصلہ افزائی کی۔ 1985 تک مصر میں شائع ہونے والی کتب کا بہت تھوڑا سے حصہ مذہبی کتب پر مبنی تھا۔ 1995 میں قاہرہ میں ہونے والے کتب میلے میں 85 فیصد کتب کا موضوع مذہب تھا۔

لبنان میں سیاہ لہر تہران سے آئی کیونکہ یہاں ایران نے انقلاب برآمد کرنا شروع کیا تھا۔ یہاں کے دیہات اور بیروت کے جنوب کے نواحی قصبات میں عورتوں کو سیاہ چادروں میں لپیٹ دیا گیا۔ اس سے قبل یہ انتہائی قدامت پسند خواتین خصوصا مذہبی علما کی بیویاں اوڑھتی تھیں۔ شراب خانے بند کر دیئے گئے، موسیقی غائب ہو گئی، گھروں پر سیاہ علم بلند کر دیئے گئے اور بیروت کی گلیوں میں دیواروں پر میں خمینی ہوں کا نعرہ ہر جگہ لکھ دیا گیا۔ علم، چادر، نقاب، فرقہ وارانہ نفرت اور کفر کے الزام لگانے کی دھمکیوں نے مل کر اک نئی سوچ پیدا کی جس کو آج کی نوجوان نسل چیلنج کر رہی ہے۔

 
اپنے سفر کے دوران مجھے ایک اور سوال کا سامنے کرنا پڑا جس نے مجھے حیران کر دیا۔ سعودی عرب اور ایران کے نوجوان اپنے والدین سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے اس سیاہ لہر کو روکنے کے لئے کچھ کیا کیوں نہیں؟ 1979 کے بعد جن ممالک سے یہ لہراٹھی تھی اور جہاں انہوں نے زندگی کو برباد کر کے رکھ دیا تھا وہاں ان نسلوں کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنے ہاں ایسا ہونے دیا۔ ایرانیوں کے لئے 1979 کا سال اس ملک کی تاریخ میں بہت اہم ترین موڑ ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کے والدین اور ان کے آگے والدین اتنے سادہ دل کیوں تھے کہ انہوں نے ایک بادشاہ کے ظلم کی جگہ مذہب کے ظلم کو آنے کی اجازت دی۔ نیا نظام سیاسی طور پر ہی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی طور پر بھی جبر لے کر آیا جس نے ملک کو اس دور میں منجمد کر دیا اور اس طرح ان کا ملک دنیا سے بظاہر ہمیشہ کے لئے کٹ گیا۔


سعودی عرب میں معاملہ اس کے برعکس تھا جہاں ترقی کی راہ کو بند کیا گیا۔ سعودی عرب کا اندرونی صحرائی علاقہ شدید قدامت پسند ہے جبکہ کہ بیرونی صوبے جو ساحل سمندر پرہیں وہ ٹیلی ویڑن کے آنے، لڑکیوں کی تعلیم اور چند ایک نئے بنے سینما گھروں کی تعمیر کے بعد آہستہ آہستہ کھلے ڈلھے سماجی روایات کی جانب بڑھ رہے تھے۔ 1979 کا سال قدامت پسندوں کے لئے ایک موقع ثابت ہوا اور انہوں نے وہابی ازم کا پورے ملک میں نفاذ کر دیا۔ 1980 کی دہائی میں جیب میں نقد پرپیسے ہونے کی وجہ سے سعودی دنیا میں جہاں چاہتے سینما اور تھیٹر جا سکتے تھے، کیفے میں بیٹھ سکتے تھے اور اگر وہ خیلج کی سیاہ رات سے گھبرا جاتے تو شاپنگ کے لئے کہیں بھی جا سکتے تھے۔ لیکن ان کے بچے آج یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب سازوں کو خاموش کیا جا رہا تھا جب پدرسری نظام کا جبر مسلط کیا جا رہا تھا اور جب موسیقی کی آواز آنے پر مذہبی پولیس گھروں کی دیواریں پھلانگ کر اندر آنے لگی تھی تو اس وقت ان کے والدین نے کیوں نہ احتجاج کیا۔


2018 میں ایک مختصر سے ایسا وقت آیا تھا جب یہ لگتا تھا کہ مقابلے پر اترے ہوئے دونوں حریف 1979 کے نقصان کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد کی طرف سے معاشرے کو اکیسویں صدی سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کھولنے کی کوششوں کے باعث یعنی اوپر سے تبدیلی شروع ہوئی اور ایران میں عوام نے نیچے سے نظام بدلنے کی جدوجہد شروع کی۔ اس کے باوجود موجودہ مقابلہ جاری رہا کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی قیادت کو بدترین جبلت سے باز رکھنے کی مہارت نہیں رکھتے تھے۔ شام، یمن اور عراق کو قیمت چکانا پڑی کیونکہ ان ممالک میں پراکسی جنگیں جاری ہیں۔

ان ممالک میں جن لوگوں نے اپنی اپنی حکومت کے خلاف آواز بلند کی انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سب سے خطرناک وہ تھے جو نرم گفتار تھے اور ان ممالک کے مطلق العنان حکومتوں کا متبادل پیش کرتے تھے۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں اکتوبر 2018 میں ریاض کی ہٹ ٹیم نے قتل کیا۔انسانی حقوق کی ایرانی وکیل نسرین ستودہ کو پردہ کے قانون کی مخالفت کرنے پر ایرانی حکام نے 38 سال قید اور 148 کوڑوں کی سزا سنائی دی گئی۔

چیلنج بڑے ہیں حرکیات ناقابل رسائی ہیں اور اس کے کھلاڑیوں نے اس قدر مضبوط قلعہ بندی کی ہوئی ہے کہ یہاں سے راستہ بنانا آسان نہیں۔ سعودی عرب اور ایران نے اپنے درمیان کشیدگی اس سے پہلے بھی کم کی تھی۔ جب تک فرقہ وارانہ انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ نہیں ملی تھی ان دونوں ممالک میں سنی شعیہ کے درمیان باقاعدہ تشدد نہیں ہوتا تھا۔اپنے سفر کے دوران میں نے کئی قد آور اور نمایاں سرگرم لوگوں، ادیبوں، علما اور دوسرے لوگوں سے ملا جنہوں نے آزادی، برداشت اور روشنی کے لئے جدوجہد کی۔ ان کی سرکشی اور نافرمانی دوسروں کے لئے مشعل راہ ہے اور ان کا استقلال دوسروں میں بیداری پیدا کر رہا ہے۔یہ ان ممالک کا ماضی اور مستقبل ہیں، یہ تنہا نہیں۔ یہ مغرب زدہ اشرافیہ بھی نہیں۔ یہ ایک بڑی اکثریت ہے جو اپنی ثقافت یا سیاست کے شعبوں میں چھینی گئی جگہ کو دوبارہ حاصل کرنا  کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی اور اس خطے کو تاریکی میں ڈبونے والی قوتوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہتی ہے۔
 
اکتوبر 2019 میں اہسے لمحات عراق اور لبنان میں آئے جب نہ صرف بدعنوانی اور غربت کے خلاف غیر معمولی مظاہرے ہوئے بلکہ ان میں فرقہ واریت کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔ دونوں ممالک میں ایک ہی وقت میں لاکھوں افراد نے کئی ہفتوں تک مظاہرے کئے۔ مظاہرین گا رہے تھے، شعر پڑھ رہے تھے۔موسیقی سن رہے تھے ہاتھوں میں پھول لئے ہوئے تھے اور مزاح پیدا کر رہے تھے اور وہ زندگی کو واپس لانے کے لئے گولیوں اور لاٹھیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے تمام سماجی اور فرقہ وارانہ تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو حکمرانوں کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی۔ لبنان میں شمالی قصبہ تریپولی کے سنیوں نے جنوبی قصبہ نباطیہ میں مظاہرے کرنے والے شیعہ لوگوں کے حق میں آواز بلند کی۔

 یہ ایسا انقلاب ہے جو کبھی نہیں مرے گا۔ ان مظاہروں کا ہدف ایران کی لبنان میں آلہ کار حزب اللہ تھی اور عراق میں مظاہرین براہ راست ایران کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے اوران مظاہروں میں شیعہ علما پیش پیش تھے جو ایرانی اثر و نفوذ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ بعض جذباتی مظاہرین نے تو کربلا میں ایرانی قونصل خانے کی دیواریں پھلانگ کرایرانی قونصل خانے کی چھت پر چڑھ کر عراقی جھنڈا لہرا دیا۔ اس کے بعد خود ایران کے اندر مظاہرے شروع ہو گئے جو 2009 اور 2017 کے مظاہروں کی بازگشت تھے۔ ایرانی حکام کا ردعمل بے رحمانہ تھا۔ انٹرینٹ بند کر دیا گیا اور چند روز میں 300 لوگوں کو سپاہ نے قتل کر دیا اور ان میں سے کئی ایک کے سروں میں گولیاں ماری گئیں۔

عراق میں بھی کریک ڈائون ہوا جس میں 500 لوگوں کا خون ہوا۔ ایک شخص جس نے مظاہرین کے خلاف بربریت کی منصوبہ سازی کی وہ القدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی تھا۔ جب 3 جنوری کو وہ ایک امریکی حملے میں مارا گیا تو ہزاروں عراقی عوام نے جشن منایا۔شام کے جن قصابات میں لوگوں نے آمر بشار الاسد کے معاون قاسم سلیمانی کی عیاری کا قہر جھیلا ہے وہاں بھی اس کی ہلاکت کی خبر نے لوگوں کو سرشار کیا۔ ایران میں سلیمانی کی موت میں عارضی طور پر اتحاد دیکھنے کو ملا جو شاید ان دیکھے مستقبل کا خوف تھا کہ شاید ایک اور جنگ مسلط ہو رہی ہے۔ اس شخص کہ جس نے نہ صرف ایران کے نام پر خطے میں تباہی پھیلائی بلکہ ایران کے اندر میں مظاہرین کے خلاف بھی کریک ڈاو¿ن کیا کی موت پر لوگ مسرور تھے۔ اس موت کے بعد ایران، عراق اور لبنان میں کچھ وقت کے لئے مظاہرے تھم گئے اور پھر اس سے زیادہ شدت سے شروع ہو گئے جن میں مزید تشدد ہوا۔


سعودی عرب کے علاقائی اثر و نفوذ کا اظہار بالکل مختلف ہے۔ یمن کی جنگ کے باوجود سعودی عرب کا اثرونفوذ پوشیدہ ہے۔ اس کی کوئی آلہ کار تنظیم نہیں لیکن اس کے پاس پیسے اور میڈیا کی طاقت ہے جس کے ذریعے وہ ماضی میں مذہب کے متعلق لوگوں کی فہم کو بھی متاثر کر چکے ہیں۔ اس طرح سعودی بادشاہ اپنے تنگ نظر اور عدم برادشت والے اسلام کی تعبیر نافذ کر چکے ہیں۔ ظالم حکمران عدم برداشت کو جنم دیتے ہیں اور عدم برداشت سے تشدد جنم لیتا ہے۔ ہر دہشت گرد حملے کے بعد مغرب، یورپ اور امریکہ میں بہت آرام سے یہ سوال اٹھانے لگتےہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے مسلمان اور عرب کہاں ہیں؟یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ بہت چھوٹی سی اقلیت کی جانب سے کئے جانے والے ایسے واقعات پر تمام مسلمان اور ان کے ہم عقیدہ معافی مانگیں اور ذمہ داری قبول کریں۔

اہم ترین سوال نظر انداز کر جاتے ہیں کہ خود اپنے ملکوں میں ان عناصر چاہے وہ ظالم حکمران ہیں یا دہشت گرد ہیں، کے خلاف طویل جدوجہد کرنے والے کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں؟ مشرق وسطی سے کئی ایک روشن دماغ لوگ دہائیوں پہلے اپنی جان بچا کر چلے گئے ہیں کیونکہ ان کے وطن تاریکی کے قوتوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ ایسی تاریکی کے علمبردار 1980 کی دہائی میں پاکستان میں جنرل ضیا الحق اور مصر میں موجودہ عہد میں فتح السیسی ہیں جنہیں امریکہ کی کھلی حمایت حاصل ہے۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جہاد کا سب سے بڑا نشانہ خود مسلمان ہیں۔


تخت الٹنے سے لے کر آمروں کی حمایت تک امریکی کارروائیوں نے مقامی حرکیات کو انگیخت دی۔ سعودی عرب اور ایران کے بھی مفادات ہیں جو انہیں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے بڑھاتے ہیں اور مقامی حرکیات کو تبدیل کرتےہیں۔ یہ نہ ختم ہونے والی دشمنی کا منحوس چکر آسانی سے ٹوٹنے والا نہیں لیکن عرب اور ایران کی نوجوان نسل مختلف مستقبل کے خواہشمند ہیں۔ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ میرے ہم عمر اور ہم سے چھوٹے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا اور ہمارے والدین نے اس سب کچھ کو ہونے سے روکا کیوں نہیں؟ ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے رواداری اور متنوع ثقافت والے ماضی کی یادیں ابھی ختم نہیں ہوئیں اور یہ کہ ایک ایسی دنیا کے قیام کی خواہش کسی ماضی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ ہے کہ بہتر مستقبل عین ممکن امر ہے جو ایران اور سعودی عرب کے حکمرانوں اور ان کی سپاہ کے ہم پر مسلط کردہ حالات سے قطعی مختلف ہو۔ جیسا کہ ڈنمارک کے فلسفی سورن کریک گارڈ نے لکھا ہے کہ " یہ بالکل سچ ہے کہ زندگی ماضی کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ زندہ مستقبل میں رہا جاتا ہے"۔کم گھٹاس لبنانی نڑاد ہالینڈ کی صحافی ہیں جو مختلف عالمی خبر رساں اداروں کے لئے امریکی محکمہ خارجہ میں رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ موجودہ مضمون ان کی جلد آنے والی کتاب "کالی لہر" سے اخذ کیا گیا ہے۔

شیئر کریں