کفالہ کا نظام:سعودی عرب اسے ختم کرنے پر غور کیوں کر رہا ہے؟

3 weeks ago


کفالہ نظام کے تحت بعض کفیل اپنے کارکنوں سے غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں

سعودی عرب اپنے ملک میں رائج غیر ملکی ملازموں کی کفالت کے نظام کو ختم کرنے کے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے منگل کو عربی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ’مال‘ کے حوالے سے یہ خبر دی ہے جبکہ سعودی گزٹ نے بھی مختلف ذرائع کا حوالہ دے کر اس خبر کو شائع کیا ہے۔


سعودی عرب میں رائج اس نظام کے تحت سعودی شہری اپنے ملک میں روزگار کے سلسلے میں آنے والے غیر ملکی شہریوں کو سپانسر کرتے ہیں جسے کفالہ کہا جاتا، سپانسر کرنے کے بدلے سعودی شہریوں کو ایک مختص رقم فراہم کرنی پڑتی ہے تاہم اب سعودی عرب اس کی جگہ ایک دوسرا نظام متعارف کروا رہا ہے جس میں مالک اور ملازم کے درمیان براہ راست معاہدہ ہوگا۔


سعودی عرب رواں سال دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی تنظیم جی 20 کے اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا کہ اس اقدام کے تحت سعودی عرب اپنے ملک میں نجی شعبے کو فروغ دینا چاہتا ہےاور ایسا کر کے وہ مزید غیر ملکی افراد کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب تیل پر اپنی معیشت کا انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔


معیشت کے امور پر شائع ہونے والے اخبار ’مال‘ کے مطابق کفالہ نظام سعودی عرب میں گذشتہ سات دہائیوں سے رائج ہے جس کے تحت سعودی عرب میں کام کرنے والا غیرملکی کارکن اپنے مالک کا پابند ہو جاتا ہے۔ ملازموں کے استحصال کے بڑھتے ہوئے الزامات کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے کفالہ نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مال‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت انسانی وسائل اور سماجی فروغ کی جانب سے اگلے ہفتے اس تناظر بڑا اعلان متوقع ہے۔ توقع ہے کہ اس اعلان سے غیر ملکی کارکنوں اور آجروں یا مالکان کے مابین معاہدے میں بہتری آئے گی۔حکومت کے اس اعلان پر سنہ 2021 کے ابتدائی چھ ماہ کے اندر عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس وقت سعودی عرب میں ایک کروڑ غیر ملکی کارکنان کفالہ نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں 26 لاکھ انڈین شہری بھی کام کرتے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کفالہ نظام کے خاتمے سے غیرملکی شہریوں کو فائدہ ہو گا۔کفالہ کے نظام کا اطلاق خلیجی ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں پر ہوتا ہے۔اس کے تحت کسی بھی خلیجی ملک میں کام کرنے کے لیے کارکن کے لیے ایک کفیل یا سپانسر کا ہونا ضروری ہے جو اس کے رہائش اور ملازمت کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔


اپنی ملازمت کے آغاز میں غیرملکی کارکن اپنا پاسپورٹ اور تمام تر شناختی دستاویزات اپنے کفیل کے پاس جمع کرانے کا پابند ہوتا ہے۔اس نظام کا اطلاق مقامی عرب آبادی کے گھروں میں کام کرنے والے ذاتی ملازمین سے لے کر بڑی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین پر ہوتا ہے۔کفالہ کے نظام کے تحت کفیل یا سپانسر کارکنوں کی بھرتی کے لیے ان کے اپنے ملکوں میں کام کرنے والی ریکروٹمنٹ کمپنیوں کو فیس اور خلیجی ملک سفر کے لیے کرایہ ادا کرتا ہے۔


خلیجی ملک میں آمد کے بعد کفیل اپنے ماتحت کام کرنے والے کارکنوں کی تمام معاشی اور قانونی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اگرچہ کارکن کے ویزے کا سٹیٹس اپنے کفیل کے ساتھ منسلک ہوتا ہے لیکن تمام معاملات میں وہ ریکروٹمنٹ ایجنسی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا پابند ہوتا ہے۔اگر کارکن اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور یہ ثابت ہو جائے کہ کفیل اس کا ذمہ دار نہیں ہے تو کارکن کو ریکروٹمنٹ فیس ادا کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔


کارکن اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر اپنی ملازمت تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑ سکتا ہے۔بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اومان میں کام کرنے والے کارکن اس نظام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔کفالہ کے نظام کے تحت بعض کفیل اپنے کارکنوں سے غلاموں جیسے سلوک کرتے ہیں اور غیر ملکی کارکنوں میں کفیلوں کے خلاف شکایات عام سننے میں آتی ہیں۔


کفیلوں کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں میں تنخواہ کا وقت پر ادا نہ کیا جانا، گالی گلوچ، مارپیٹ اور کارکنوں پر لگائی جانے والی ناجائز پابندیاں قابلِ ذکر ہیں۔کفالہ کے نظام کے تحت سب سے زیادہ پیچیدگیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کارکن اپنے کفیل کو بتائے بغیر کام سے غیر حاضر ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں کارکن کی حیثیت ایک مجرم کی سی ہوتی ہے اور پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں سے چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔


انھیں اکثر خلیجی ممالک کے عدالتی نظام سے بروقت انصاف نہیں ملتا باوجود اس کے کہ وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور کفیل نے ان سے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔کارکن کو عدالتی کارروائی کے دوران کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر وہ غیر قانونی طور پر چوری چھپے کام کریں تو ان کی پوزیشن مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

(بشکریہ بی بی سی)

شیئر کریں