اردو | NEWS

گناہوں سے فرار،پرائی جنگ کاایندھن بننے کوتیار

روسی ناول نگارلیوٹالسٹائی کےعظیم ناول ایناکرینیناکامرکزی کردارایناکرینینانام کی ایک متمول شادی شدہ خاتون ہے جواپنےسےکم عمرکے نوجوان کنوارےفوجی افسرنواب الیکسئی وروئنسوکی کی محبت میں گرفتارہوجاتی ہے۔
وہ اپنےخاوندکے گھرمیں رہتےہوئےاس نوجوان فوجی افسرکے بچےکی ماں بن جاتی ہے۔اس غیرقانونی،غیراخلاقی اورغیرشرعی عمل پراسے معاشرے میں ملامت کاسامناہوتاہے مگروہ اپنی ذہنی تسکین اورجسمانی لذت کی خاطر اپنے آشناسے میل جول جاری رکھتی ہے۔
ناول کےاختتام پرایناکرینینااچانک اپنی زندگی کاخاتمہ کرلیتی ہے اوراس کامحبوب نواب الیکسئی وروئنسوکی اپنی زندگی کاکوئی مقصد تلاش نہیں کرپاتا۔اسی دوران بےروزگاروں،آوارہ گردوں اورناکام لوگوں کی زندگیوں کومقصد بخشنےکےلئےخدائی مددآن پہنچتی ہےاورسربیامیں ترکوں اور مقامی عیسائیوں کی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔
صلیب کی فتح کی خاطررضاکاروں کی فوج جمع ہوکرسربیاروانہ ہوتی ہے اس میں نواب الیکسئی وروئنسوکی سابق فوج افسردوستوں کے ساتھ مل کرصلیب کوبلندکرنے کےعظیم مقصدکی خاطراس میں شامل ہوجاتاہے۔
افغانستان میں سوویت یونین کے بعداب امریکی بھی جانے کے لئےسامان باندھے بیٹھے ہیں۔افغانستان میں ایک مرتبہ پھرسے اسلام کاعلم بلندکرنے کے لئے جہادیوں کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔
آج کے جدیددورمیں کسی کوموت کے لئے أمادہ کرناآسان نہیں لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں یہ ناممکن حد تک مشکل کام آج بھی مشکل نہیں۔
مدارس جوحکومت کے لئے مسلسل سردردبنے ہوئے ہیں اوران میں جدیدتعلیم کے لئے اصلاحات کے مشکل کام کی باتیں ہورہی ہیں۔ایسے میں آئے روزان مدارس سے کوئی نہ کوئی ویڈیومنظرعام پرآرہی ہے۔
لاہورسے سوشل میڈیاپرہمارے دوست عبدالوحیدکاکہناہے کہ بدفعلی کے احساس گناہ میں مبتلا،جنسی طورپرڈپریسڈ نوجوان مقدس جنگوں میں استعمال ہونے کے لئےزیادہ آسان ہدف ہوتے ہیں۔
اس کی وجہ ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جوگناہ وہ کررہے ہیں یاجوکچھ ان کے ساتھ زبردستی کیاجارہاہے اس گناہ سے چھٹکارے کے لئے مرنے کے بعدآرام دہ تصوراتی مقام پرپہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقدس جنگ میں کام آجاٸیں۔
ان کے بقول یہ نوجوان اس بات کاپوراادراک رکھتے ہیں کہ وہ غلط کررہے ہیں لیکن بچپن سے دوہری جنسی لذت کے عادی یہ نوجوان تمام ترکوشش کے باوجوداپنی جنسی عادات سے دستبردارنہیں ہوپاتے۔
ریاستی ادارے مدرسوں میں ہونے والی جنسی زیادتیوں کے بارے بہت بہترجانتے ہیں لیکن اس عمل کواس لئے ہونے دیاجاتاہے کہ اس عمل سے جڑااحساس گناہ بہترین درندوں کی آبیاری کرنے میں مدددیتاہے اورانسانوں کو پاگل پن کے نزدیک کرکے مرنے مارنے کے لئے اکساتاہے۔
اگرعمیق مشاہدہ کیاجائے توبدفعلی کاعمل ریاست اورریاستی اداروں کی ایماپرہورہاہے جوکہ اس سارے عمل میں خاموش تماشاٸی کاکرداراداکرتے ہوئے اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
ٹالسٹائی کے خیالی کردارنواب الیکسئی وروئنسوکی اورمدارس کے ان طلبہ میں زندگی کی بے معنویت اوراحساس گناہ کے جذبات مشرک ہیں۔شاید یہ بھی کسی عظیم مقصدکے لئے کام آسکیں۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب