پارلیمان،جمہوریت کی تواناآوازمشاہداللہ انتقال کرگئے

2 weeks ago


نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر اسلام آباد کے ایچ 11 قبرستان میں ادا کردی گئی

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان علالت کے بعد68 برس کی عمر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔

ان کی وفات کی تصدیق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹوئٹ میں کی جس میں انہوں نے متوفی سینیٹر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کا وفادار اور غیر معمولی ساتھی کہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیاگیا۔

اپنے پیغام میں مریم نواز نے کہا مجھے یہ افسوسناک خبر سن کر دھچکا لگا، بہت، بہت بڑا نقصان۔انہوں نے کہا کہ وہ مشاہداللہ خان کے خلوص اور والد جیسی محبت کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی ایک انتہائی بہادر اور زیرک پارلیمنٹیرین سے محروم ہوگئی ۔

سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما محمد زبیر نے کہا مشاہد اللہ خان کافی عرصے سے علیل تھے۔مسلم لیگ کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ وہ متفرق خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ ایک جانے مانے ٹریڈ یونینسٹ تھے، پی آئی اے کی ایئر لیگ کے بانی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بھی ایوان بالا کے رکن سینٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

اپنے پیغام میں اسد قیصر نے کہا مشاہد اللہ خان ایوان بالا کے ایک فعال رکن تھے، ان کی وفات سے پارلیمان ایک متحرک سیاسی رہنما سے محروم ہو گیا جبکہ ڈپٹی سپیکر کا کہنا تھا کہ مشاہد اللہ خان کی سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مشاہداللہ خان تجربہ کار سیاستدان اور ایک اچھے انسان تھے، ساتھ ہی انہوں نے ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے بھی سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر افسوس اظہار کیا ہے اور کہا کہ وہ ان کی کمی کو شدت سے محسوس کریں گے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے ایک تعزیتی پیغام میں کہا سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے ہمیشہ یہ تسلیم کیا کہ مشاہد اللہ خان ایک بہادر، جمہوریت پسند اور اپنے موقف کا کھل کر اظہار کرنے والے سیاسی کارکن ہیں، ان سے ایک پرانا تعلق رہا جو ہمیشہ یاد رہے گا۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ٹوئٹ میں کہا انہیں مشاہداللہ ان کی وفات کا سن کربہت دکھ ہوا، یہ ایک بڑا نقصان ہے ہماری دلی تعزیت ان کے اہل خانہ اور مسلم لیگ (ن) کے تمام ورکرز کے ساتھ ہے۔

مشاہد اللہ خان کے بیٹے ڈاکٹر عفنان اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر اسلام آباد کے ایچ 11 قبرستان میں ادا کی جائے گی۔ان کی نمازجنازہ بعدنمازظہراداکردی گئی۔

مشاہداللہ خان اپنے بے باک بیانات اور جارحانہ وفاداری کے سبب شریف برادران کو پسند تھے۔مشاہد اللہ خان کی پیدائش 1953 میں راولپنڈی میں ہوئی۔ مشاہد اللہ خان نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے گورڈن کالج سے گریجویشن مکمل کیا اور پھر اردو لاءکالج کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔طلبہ سیاست کے حوالے سے بھی وہ بہت متحرک تھے۔

انہوں نے پی آئی اے میں ملازمت اختیار کی اور ٹریڈ یونین لیڈر کی حیثیت سے فعال کردار ادا کیا۔وہ 1975 سے 1997 تک پی آئی اے کے ریفک سپروائزر رہے۔مشاہد اللہ خان نے 1990 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔

1997 سے 1999 تک افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق وزارت میں ایڈوائزر رہے۔ 1999 میں کراچی میونسپل کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر گئے لیکن پھر پرویز مشرف کی جانب سے مارشل لا لگائے جانے کے بعد تین ماہ بعد ہی انھیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا۔

وہ 1994 سے 1999 تک سیکرٹری جنرل لیبر ونگ کے عہدے پر رہے۔ 2000 سے 2001 تک وہ مسلم لیگ ن کے چیف کوآرڈینیٹر رہے۔ 2002 سے لے کراب تک وہ مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر تھے۔

1999میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے زیادہ تر رہنما پارٹی چھوڑگئے لیکن مشاہداللہ نے فوجی آمر کا سامنا کرنے کا انتخاب کیا۔

پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے 2 عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جس میں ایک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کا جبکہ دوسرا عہدہ وزیر محنت اور افرادی قوت تھا۔ان کے اس اقدام پر انہیں قید کردیا گیا اور خود ان کے بقول انہیں فوجی حکومت کے متعدد مظالم برداشت کرنے پڑے۔

2009 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر وہ پہلی مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے جبکہ 2015 میں دوبارہ سینیٹر بنے۔وہ تین مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے تیسری مرتبہ جنرل نشست پر امیدوار بھی تھے۔

اپنی جماعت کے حلقوں میں قابل احترام ہونے کے باوجود ان کا مزاج اور عوامی بیانات دیتے ہوئے جارحانہ رویہ اکثر ان کے لیے مسائل کھڑے کرنے کا سبب بنا۔

جب نواز شریف کو جلاوطنی پر مجبور کیا گیا مشاہداللہ خان ان کے قابلِ بھروسہ ساتھی تھے، پہلے وہ مسلم لیگ (ن) کے انفارمیشن سیکرٹری بعدازاں 2009 میں سینیٹر بنادیئے گئے، وہ کئی برسوں تک اپنی جماعت کے ترجمان بھی رہے۔

مشاہد اللہ کا شمار مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماو¿ں میں ہوتا تھا اور وہ مسلم لیگ کی سابق حکومت میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی بھی رہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے بے باک اندازِ بیان اختیار کرتے تھے۔

2015 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے دوران جب وہ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی تھے تو انھیں سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ظہیر السلام کے بارے میں بیان دینے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

ان کی وفات کو مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

شیئر کریں