اردو | NEWS

ایک بھولا بسرا طاقتور آدمی

(بنگالی صحافی سید بدر الاحسن کی تحریر)
جوبھی کہانیاں سنائی گئیں اورجو کچھ بھی کیا گیامگر وہ اپنے ملک کے لئے بھیانک ورثہ چھوڑکرگئے۔ایک بار پھر اکتوبرآگیا اورمیری نسل کے لئے یہ وہ لمحہ ہے جب ہم یادوں کی دھندلی گلیوں میں واپس سفرکرتے ہیں۔ ہمیں اکتوبر 1958 یاد ہے جب جنرل محمد ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کے ساتھ مل کر مہینے کی سات تاریخ کوریاست پاکستان میں مارشل لالگا دیا تھا۔27تاریخ کوسکندر مرزا کو ملک بدر کر دیا گیا اور فوج کے کمانڈر انچیف ایوب نے صدر اور چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے مکمل چارج سنبھال لیا۔جب یہ سب ہوا تو اس وقت ہم چھوٹے بچے تھےلیکن جیسے جیسے سال گزرتے گئے اور ہم سکول جانے لگے اور ہر سال نئی کلاسوں میں آگے بڑھتے گئے، ہمارے دماغوں میں یہ بات ڈالی گئی کہ ایوب خان تاریخ کا ایک عظیم آدمی ہے، وہ پاکستان کا نجات دہندہ ہے، اگر وہ ہمیں بچانے کے لئے آگے نہ بڑھتا تو سیاستدانوں نے ملک کو تباہ کر دینا تھا۔
جب بھی وہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ جاتے تو ہمارے سکول کے تمام طلبا اور سڑک کے دوسری طرف گرلز سکول کی طالبات کو صدر مملکت کا استقبال کرنے کے لئے، ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے پاکستانی جھنڈے لئے کھڑا کیا جاتا۔ وہ ہوائی اڈے سے اس راستے سے گزرتے تھے۔ اب جب ہم ان دنوں کو یاد کرتے ہیں تو یہ بات ہمیں عجیب سی لگتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے جیسے کوئی غیر ملکی سربراہ مملکت آرہا ہو۔
تو آج ہم ایوب خان کو کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں؟ اپریل 1974 میں ان کا انتقال ہوااورپاکستان میں ان کی موت پر کوئی زیادہ سوگ نہیں منایا گیا۔ ان کی وفات کے وقت تک مشرقی پاکستان کا صوبہ بنگلہ دیش بن چکا تھا اور بنگالیوں کے لئے انہیں یاد رکھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، سوائے اس کے کہ انہوں نے جو کچھ کیا اور ایک دہائی تک اقتدار پر قبضے کے دوران انہوں نے جو کچھ اپنے ملک کے ساتھ کیا اور جو غلطیاں کیں ان کا تذکرہ کیا جائےاور ہاں اپنے اقتدار کےاوائل دنوں میں ہی انہوں نے خود کو جنرل سے فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی تھی۔ یہ بہت دلچسپ تھا کیونکہ شاید انہوں نے سوچا ہو گا کہ وہ جنرل رومیل اور جنرل منٹگمری کے ہم پلہ ہیں حالانکہ جرمن اور انگریزجرنیلوں نے میدان جنگ میں معرکے مار کر یہ اعزاز حاصل کیا تھامگر جنرل ایوب خان نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کو ہی بہت بڑا کمال سمجھا تھا۔
اس دہائی میں جس میں وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے تھے، ایوب خان بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمان کے خوف میں مبتلا رہے۔ درحقیقت 1958 میں مارشل لا کے اعلان کے بعد ان کی پہلی کارروائیوں میں سے ایک یہ تھی کہ فوجی حکام نے مستقبل میں بنگلہ دیش بانی بننے والے رہنما کو حراست میں لیا تھا۔ یہ ایک ایسا عمل ہوگا جو ایوب کی حکومت دس سالہ میں تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ اگرتلہ سازش کیس کے ذریعے، ایوب کو واقعی یقین تھا کہ وہ مجیب کو پھانسی دے کر یا عمر بھر قید میں ڈال سکتے ہیں۔ مگر ایسا یقیناً نہیں ہوا۔ تاریخی ستم ظریفی کا وہ ایک قابل ذکر لمحہ ماندہ اور تھکے ہوئے ایوب خان کے ذہن میں ضرور نقش ہو گیا ہو گا جب فروری 1969 میں انہیں راولپنڈی میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں مسکراتے ہوئے، پراعتماد شیخ مجیب الرحمٰن کا استقبال کرنا پڑا تھا۔
ایوب خان نے اپنے ارد گرد ایسے لوگ اکٹھے کر رکھے تھے جو وقت پڑنے پر ان کے خلاف ہو گئے اور انہیں صدمے کی حالت میں چھوڑ گئے۔ 1963 میں، ذوالفقار علی بھٹو، اس وقت کے وزیر خارجہ اور ایوب کی کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل، نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ جنرل ایوب کو تاحیات پاکستان کا صدر بنایا جائے۔تین سال بعد بھٹو ایوب کی حکومت سے مستعفی گئے اور انہوں نے اپنے محسن کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم شروع کر دی۔ جب ایوب کا انتقال ہوا تو بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے لیکن ان کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے۔ کچھ دنوں کے بعد، وہ اور اس کی اہلیہ ایوب خان مرحوم کےگھرگئےاورمرحوم ڈکٹیٹر کے اہل خانہ کویہ عذر پیش کرتے رہے کہ وہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایوب خان کا جنازہ نہیں پڑھ سکے تھے۔
اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں ایوب خان نے ایک عجیب قانون متعارف کرایا جسے انہوں نےالیکٹیوباڈیز ڈسکوالیفکیشن آرڈیننس(ایبڈو) کا نام دیا۔ اس طرح انہوں نے سیاستدانوں کو کمزور کر دیا تھا تاکہ وہ ان کی ناجائز حیثیت کو چیلنج نہ کریں۔ انہیں پورا یقین تھا کہ پاکستان کے لوگ جمہوری نظام میں رہنے کے اہل نہیں ہیں اور اسی لئے انہوں نے سیاسی میدان میں بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کرایا جس میں صرف 80,000 بنیادی جمہوریتوں کے ارکان کو ملک کے صدر اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو منتخب کرنے کا حق تھا۔
انہوں نے 1956 کا آئین منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک نیا آئین بنایا جسے 1962 کے آئین کا نام دیا گیااور خود اپنے بنائے ہوئے آئین کی اس وقت خلاف ورزی کی جب مارچ 1969 میں انہوں نے اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر عبدالجبار خان کی بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ کو سونپ دیا۔ایوب خان کے بنگالیوں کے بارے میں جذبات کافی عجیب و غریب تھے۔ انہوں نے الطاف گوہر، جو ان کے قریب ترین بیوروکریٹ تھے، کو بتایا کہ وہ ڈھاکہ میں دوسرا دارالحکومت (آج کل کا شیر بنگلہ نگر) بنا رہے ہیں کیونکہ جلد یا بدیر بنگالی پاکستان سے نکل جائیں گے اور انہیں اپنے لئے جگہ کی ضرورت ہوگی اور پھر بھی اس نے چھ نکات کے حامیوں کو ہتھیاروں کے ذریعے دھمکانے کو کوششش میں دیر نہیں کی۔
1961 میں، چند نوجوان بنگالی ماہرین اقتصادیات نے پاکستان کے دونوں بازوئوں کے لئے دو معیشتوں کے تصور کی وضاحت پیش کی اور پھر اس ملاقات سے کچھ نہ نکلا۔وہ بھٹو کے اس قدر زیر اثر تھے کہ ہیرالڈ ولسن، لنڈن جانسن اور الیکسی کوسیگین کی طرف سے بھٹو کو قابل اعتماد شخص سمجھے جانے کے باوجود ان کے کہنے پر ایوب خان نے 1965 میں بھارت کے خلاف آپریشن جبرالٹر شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔جنگ بے نتیجہ ختم ہو گئی۔ جنوری 1966 میں جب ایوب کو ہندوستانی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے تاشقند جانا پڑا جہاں انہیں دھول چاٹنا پڑی۔ ایوب کی ماضی کی تحریرکردہ یادداشت، فرینڈز ناٹ ماسٹرز، خود تعریفی اور سیاست دانوں کی توہین کی دستاویز ہے۔ انہوں نے نصاب کی کتابیں لکھنے کی ذمہ داری حاشیہ برداروں کو سونپی۔
اقتدار پر قبضہ کرنے سے پہلے ایوب خان نے محمد علی بوگرا اور حسین شہید سہروردی کی حکومتوں میں بطور وزیر دفاع اور آرمی چیف خدمات انجام دیں۔ اقتدار میں انہوں نے بوگرا کو وزیر خارجہ کے طور پر اپنی کابینہ میں شامل کیا اور انہوں نے سہروردی کو جیل بھیج دیا۔ مولوی تمیز الدین خان، آئین ساز اسمبلی کے سپیکر جنہوں نے 1953 میں گورنر جنرل غلام محمد کی مخالفت کی تھی، 1962 کے آئین کے تحت قومی اسمبلی کے سپیکر بنے۔ایوب خان کو خود کو ایشیا کا ڈیگال کہلانے کا شوق تھا۔ 1961 میں جب انہوں نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو وہ اپنے عروج پر تھے۔ وہ تمام تمغے جو انہوں نے سجائے ہوئے تھے، نشان پاکستان، ہلال جرات ان کے لئے خوشی کا باعث تھے اورجو بھی کہانیاں سنائی گئیں اور جو کچھ بھی کیا گیا مگر وہ اپنے ملک کے لئے بھیانک ورثہ چھوڑ کر گئے۔
ان کے بعد تین جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے اور پاکستان کی سیاست کو تلپٹ کرنے میں ان کی تقلید کی اور بنگلہ دیش میں دو جرنیلوں نے جو پہلے پاکستان کی فوج میں تھے، کئی سالوں تک بنگالی ریاست پرحکومت کی۔ چند سال قبل ان کے گائوں میں ایوب کی قبر کا کتبہ توڑ دیا گیااور یوں ایک محمد ایوب خان نامی ایک بھولے بسرے طاقتور شخص کہانی تمام ہوئی۔

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب