اردو | NEWS

پپو سائیں اگے ودھ

(شیرازراج کی تحریر)
پپو سائیں کے حوالے سے یہ پنجابی غزل ۲۰۰۸ میں لکھی تھی اور اسے سنائی بھی تھی۔ پہلی بالمشاقہ ملاقات برادرم مصطفی نذیر کی وساطت سے ہوئی، ایک ڈیرہ پر۔ یہ شاہ جمال کا تخت نہیں تھابلکہ داتا صاحب کی بغلی گلی میں ایک انتہائی غیر معمولی نوجوان فقیر کا ڈیرہ تھا جو کسی گھر کی چھت پر واقع تھا اوراس پر پہنچنے کے لیے بڑی خطرناک سی لکڑی کی سیڑھی پر چڑھنا پڑتا تھا۔ مجھ ایسے گردہ گرد کے لیے، جو پیروں پر کھڑے ہو سکنے کی طاقت کو مذید نشہ کا جواز سمجھتا تھا، یہ سیڑھیاں چڑھنا تو آسان تھا لیکن اترنا بہت مشکل۔ وہیں پپو سائیں سے ملاقات ہوئی تھی جو ایک تسلسل میں بدل گئی۔ میں نے بتایا تھا کہ میں ایک صحافی ہوں، شاعر ہوں اور ایک ثقافتی تنظیم چلاتا ہوں الاپ۔ ’آہو، سنیا اے ایدے بارے،۔۔۔۔۔جیوندے رہو‘۔ اس کی آواز بہت غیر معمولی تھی،۔۔۔۔بہت گہرا رچاو،۔۔۔۔ایک زندگی سے کہیں زیادہ۔ اس نے ایک زندگی گزاری بھی نہیں تھی اوروہ ایک فردتھابھی نہیں۔پپوسائیں ایک استعارہ تھا،وادی سندھ کی تہذیب کےوارثوں کا،پسےہوئے،پژمردہ،مرے ہوئے، ڈرے ہوئے دھرتی کےسپوتوں کا،۔۔۔۔۔۔۔ملنگوں کا، جوگیوں کا، صوفیوں کا، فقیروں کا،۔۔۔۔۔۔
یہ غزل اسے شاہ جمال کے تخت پر سنائی تھی۔ کڑی دوپہر میں پہاڑی پر، پیچھے قبرستان میں ایک پکی قبر کے سائے میں۔ اس کی شہادت کی انگلی تھی جو بار بار آسمان کی جانب اٹھتی تھی۔ یہ ایک دراوڑ کا خراج تحسین تھا ایک دوسرے دراوڑ کے لیے۔ مٹی میں مٹی، قبر میں قبر، دھوئیں میں دھواں، سر میں سر اور لے میں لےہوتے ایک لیجنڈ کوایک ناچیزکی جانب سےچندکیفیتوں کی بھینٹ تھی۔ اس پربات بھی ہوئی۔میں نےاسے بتایا کہ تم میرےنزدیک کیاہو،۔۔۔۔گہری، میٹھی اور تیزساوی کی،سینےکےپاتال سےاٹھتی لہرمیں ہلکورے لیتی، تہمارے ڈھول کی گمک میں پنجابی اور سندھی تہذیب کا دل دھڑکتا ہے،۔۔۔۔دھرتی کا عجز بولتا ہے۔
میں نے ان گنت جمعراتیں شاہ جمال میں گزاریں۔ جو دوست ساتھ ہوتے تھے، ان کے نام نہیں لوں گا کہ بہت سے لوگ’عزت دار’ ہو چکے ہیں اور یہ یاد کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ نشہ اور مزہ کا کیسا کیسا عالم دیکھا ہے۔ پہلا مرحلہ اوپر قبرستان میں ہوتا تھا کہ جہاں گونگے سائیں کا ڈھول بجتا تھا۔ ایک کلارنٹ نواز بھی تھا اور چند دھمالیے۔ اتنی تھوڑی سی جگہ میں سینکڑوں لوگ سمائے ہوتے تھے اور کھلے ڈلے۔ یہ ڈھول شرابی ڈھول تھا،۔۔۔۔۔گونگے کا اسلوب،۔۔۔۔ترنگ کا اسلوب تھا،۔۔۔۔یہ ایک وحشی دراوڑ کا غرور تھا جو اپنے دراز گیسووں، گہری بڑی آنکھوں، حسین چہرے، اونچے قد کاٹھ، سینے اور بازوں کی طاقت کے نشے میں دیوتاوں سے ٹکرانے پر آمادہ تھا،۔۔۔۔اس اسلوب میں بغاوت تھی،۔۔۔۔۔گونگے سائیں کا ڈھول سر میں گونجتا تھا،۔۔۔۔دنیا و مافیہا سے پرے لے جاتا تھا، ۔۔۔۔وہ فریکونسی اس کے سینے میں بجتی تھی اور اسے وہ سینوں میں اتارنے کا فن جانتا تھا،۔۔۔۔۔۔ملنگوں کے چند نعرے،۔۔۔جن کی تان ہمیشہ ایک ہی فریکونسی پر ٹوٹتی تھی،۔۔۔۔۔۔علی حیدر،۔۔۔۔۔۔ اس نعرے کا کوئی مذہب، مسلک، ذات، برادری یا صنف نہیں تھی۔ اس بابت بہت سے شعر میرے مجموعہ کلام میں ملتے ہیں،۔۔۔۔۔۔۔ایک گونگے کا قول بجتا ہے، پپو سائیں کا ڈھول بجتا ہے،۔۔۔۔۔۔کیروے تیری درت ہوتی ہے،۔۔۔۔دادرے تیرا جھول بجتا ہے،۔۔۔۔۔۔آج کی رات ہمیں شاہ جمال ہونا ہی تھا۔۔۔۔آج کی رات کو وقف دھمال ہونا ہی تھا،۔۔۔۔ریت کو آئینہ، مٹی کو مال ہونا ہی تھا۔۔۔۔در سادہ کو ستارہ مثال ہونا ہی تھا۔ اور بھی کئی شعر۔
رات گیارہ بارہ بجے کے قریب نیچے صحن میں پپو سائیں کا ڈھول شروع ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر تک تو ایک ساتھ دونوں ڈھول بج رہے ہوتے تھے اور تھوڑی کوشش سے دونوں کو سنا جا سکتا تھا۔ یہ اسلوب روح میں گہرے بیٹھے رازوں کا اسلوب تھا۔ یہ خاموشی، تپسیا اور ظرف کی فریکونسی تھی،۔۔۔۔یہ ڈھول سر میں نہیں بلکہ دل میں گونجتا تھا،۔۔۔۔۔ اس گمک میں بغاوت نہیں، صبر تھا،۔۔۔۔اور کوئی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکتا تھا،۔۔۔ایک لے میں سبھی پروئے جاتے تھے،۔۔۔۔یہ ایک غیر محسوس دھمال تھی،۔۔۔جو سگریٹ بنا رہا ہے، وہ بھی تھرک رہا ہے،۔۔۔جو بات کر رہا ہے وہ بھی اور جو چپکے چپکے رو رہا ہے وہ بھی اسی لے میں رچا ہوا ہے۔ پھر پپو سائیں کے دھمالیے،۔۔۔۔۔ان دھمالیوں کے بیان کے لیے ایک الگ دفتر درکار ہے۔ پھر اس ہمہ وقت گہری ہوتی اور اونچی اٹھتی لہر کے ایک مقام پر پپو سائیں اپنے ڈھول کے ساتھ گردش کرتا تھا،۔۔۔۔یہ نظارہ بہت سوں نے دیکھا، دنیا بھر میں اور ٹیلی وژن پر،۔۔۔۔لیکن اس کو دیکھنے اور جینے کا اصل مقام وہی میدان تھا جس کے ایک کونے میں ایک پیڑ تھا جو شہ جمال کی دھرتی کو آسمان سے جوڑتا تھا۔ یہ ایک گردشی، بلمپت سرمستی کی کیفیت تھی۔ یہ واڈکا نہیں،۔۔۔۔۔یہ ساوی تھی،۔۔۔۔۔ساوی۔
ایک دو مرتبہ میری جیون ساتھی، ایزابیلہ بھی وہاں پر گئی۔ ہم اپنے غیر ملکی مہمانوں کو وہاں ضرور لے جاتے تھے۔ ایک ایسا ہی مہمان جو خود لے کا مہا استاد ڈرمر تھا، مجھ سے کہنے لگا،۔۔۔۔کیا تم لوگوں کو اندازہ ہے کہ یہ ڈرم دنیا کے اعلیٰ ترین پرکشن میں سے ایک ہے؟ یہ افریکی بالافون سے زیادہ وشال ہے۔ کیا انہیں علم ہے کہ یہاں ہر ہفتے دنیا بھرکو، پوری انسانیت کو نوازا جاتا ہے؟۔۔۔۔ یہ ہر ہفتہ نیا شاہکار ہوتا ہے،۔۔۔۔۔آپ ہر ہفتے اسے ریکارڈ کیوں نہیں کرتے؟۔۔۔۔۔۔اس کے بارے میں دنیا کو پتہ کیوں نہیں؟ یہ آپ کے نیشنل ہیرو کیوں نہیں؟ میرا مہمان بہت جذباتی تھا، اور میں بہت لاجواب۔
خیر، وہ غزل سنیے۔
ساری دنیا تیرے پچھے، پپو سائیں اگے ودھ
تیرا ڈھول دلاں وچ وجے، پپو سائیں اگے ودھ
تینوں جھک جھک سیس نوائیے، تیرا سواگت کریے
مور پنکھ دا پکھا جھلیے، پپو سائیں اگے ودھ
وارث شاہ دے ناں دی تٹ گٹ، بلھے شاہ دا ریلہ
آ جا سارے پنڈ وچ ونڈیے، پپو سائیں اگے ودھ
سید، شیخ، ملانے، خواجے، بٹ، ملک ، جٹ، گجر
راجے، رانے، چیمے، چٹھے، پپو سائیں اگے ودھ
ایہہ دھرتی چڑیاں دی دھرتی، ایہہ گگھیاں دی دھرتی
ایتھے کتھے خونی شکرے، پپو سائیں اگے ودھ
سورج وانگوں دھرتی اپنے گل وچ پا کے گھم جا
نو دھمالیے تینوں کہندے، پپو سائیں اگے ودھ
راج مسترے کہندا، اوہو اچا محل اسارے
جیہڑا نیہاں ڈونگی رکھے، پپو سائیں اگے ودھ

ویڈیوز

پیرس میں سجادیسی فیشن شو
ننھے مہمانوں سے رونقیں بحال
سرکاری ملازمین بھی احتجاج کیلئے نکل پڑے
میجرکی فروٹ چاٹ ہوگئی کامیاب