سکاٹ لینڈ حیض مصنوعات مفت دینے والا پہلا ملک بن گیا

1 month ago


ایام حیض کی حامل خواتین یہ سامان پیسے خرچ کئے بغیر حاصل کر سکیں گی

سکاٹش پارلیمان نے حیض میں استعمال آنے والی تمام اشیاءملک بھرمیں مفت دینے کے ایک بل کومنظورکرلیاہے۔خیراتی ادارں نے کوروناوائرس کی وبا کے دوران ایسی اشیاءخریدنے کو ایک اضافی بوجھ قرار دیاتھا۔


سکاٹ لینڈنے منگل24نومبرکوحیض میں استعمال آنے والی تمام اشیاءمفت فراہم کرنے کے ایک بل کومنظورکر لیااوراس طرح ماہواری کی مصنوعات تک رسائی کوقانونی حق دینے والی وہ دنیاکی پہلی ریاست بن گئی ہے۔'پیریئڈپروڈکٹ بل'یعنی حیض سے متعلق مصنوعات کے بل کوپارلیمان میں اتفاق رائے سے منظورکیاگیا۔


سکاٹ لینڈکی پارلیمان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا،"اس شام کو'پیریئڈپروڈکٹ(فری پرویزن)بل'کو اتفاق رائے کے ساتھ منظورکرلیاگیاہے۔"پارلیمنٹ نے اس برس کے اوائل میں اس کامسودہ قانون منظورکیاتھا۔اس قانون کے تحت ماہواری کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیاءکمیونٹی سینٹرز، یوتھ کلبس، ٹوائلٹس اور دواخانوں پر بھی رکھی جائیں گی۔

خواتین کے لئے مقررہ مقامات پر ٹیمپون اورسینیٹری پیڈزیاٹاول رکھے ہوں گے اورایام حیض کی حامل خواتین یہ سامان پیسے خرچ کئے بغیرمفت حاصل کرسکیں گی۔اب اس کی خریدوفروخت کے لیے انہیں دکان یا مارکیٹ نہیں جانا پڑے گا۔


اس قانون میں اس بات کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی کہ ماہواری میں استعمال آنے والی ایسی تمام اشیاء ملک بھر میں ہر اس شخص کو مفت میسر کی جائیں گی جو حیض کے دور سے گزرتا ہو۔ یونیورسٹیوں، کالجز اور سکولوں کے ٹوائلٹس میں بھی انہیں مفت فراہم کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ طلبات ضرورت کے مطابق ان کا استعمال کر سکیں۔


اس مفت سکیم کوبے جا استعمال یعنی ضرورت سے زیادہ سینٹری پیڈوغیرہ لینے سے بازرکھنے کے لئے بھی قانون میں بعض خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں۔رکن پارلیمان مونیکالینن جنہوں نے اس کے لئے چاربرس مہم چلانے کے بعدیہ بل متعارف کروایاتھا،اس قانون کودنیاکی قیادت کرنے والا بتایاہے۔ان کاکہناتھاکہ سکولوں کوبھی حیض کے بارے اس طرح کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ ماہواری سے متعلق بدنماداغ کاخاتمہ ہوسکے۔


سکاٹ لینڈ کی فرسٹ وزیر نکولا اسٹریجن نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، "اس اہم قانون سازی کے حق میں ووٹ دینے پر مجھے فخر ہے۔ سکاٹ لینڈ دنیا کا پہلا ملک بن گیا جو ان تمام افراد کو حیض میں استعمال آنے والی مصنوعات مفت مہیا کریگا جن کو اس کی ضرورت ہو۔"

ڈی ڈبلیوکے مطابق خیراتی اداروں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایام حیض میں ان افراد میں غربت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جنہیں ہر ماہ ماہواری کے لئے مصنوعات بازار سے خریدنا پڑتی ہیں۔ ان کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے دوران خاص طور پر ایسی خواتین کے لئے حیض سے متعلق مصنوعات خرید و فروخت بہت مشکل ہوگئی تھی۔سکاٹ لینڈ کے خزانے پر ان مصنوعات کی مفت فراہمی کی وجہ سے تقریبا سوا تین کروڑ امریکی ڈالر سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔

شیئر کریں