معلومات تک رسائی کا قانون، پختونخوابازی لے گیا

3 weeks ago


پنجاب حکومت دوسرے اور سندھ حکومت تیسرے نمبر پر ہے

پاکستان میں عام شہریوں کو بنا مانگے اور ازخود معلومات فراہمی میں خیبر پختونخوا کی حکومتی کارکردگی شفاف ترین اور وفاقی حکومت کی کارکردگی سب سے کم شفاف ہے۔ پنجاب حکومت دوسرے اور سندھ حکومت تیسرے نمبر پر ہے۔یہ بات ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جسے انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی اینڈ (ارادہ) ڈویلپمنٹ نے تیار کیا ہے۔ یہ رپورٹ انٹرنیشنل رائٹ ٹو انفارمیشن ڈے کے سلسلے میں تیار کی گئی ہے جو ہر سال28ستمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں وفاقی اور تین صوبائی حکومتوں کی کارکردگی میں شفافیت کی درجہ بندی وفاق اور تین صوبوں میں رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین میں شامل یکساں شقProactive Disclosure of Information کے تحت کی گئی ہے۔

یہ شق ان چاروں رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین میں شامل ہے، جن کے تحت وفاقی حکومت کے تمام سرکاری ادارے 43 اقسام کی اطلاعات ازخود اپنی ویب سائٹس پر جاری کرنے کے پابند ہیں جبکہ خیبر پختونخوا حکومت 30 اقسام، سندھ حکومت 25 اور پنجاب حکومت 24 اقسام کی اطلاعات کی فراہمی کی پابند ہیں۔ یہ شق ان تمام قوانین میں شفافیت کا حکومتوں پر ازخود لاگو ہونے والا اشاریہ ہے۔بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون ابھی موجود نہیں، اس لیے یہ صوبہ اس رینکنگ مں شامل نہیں ہے۔ اس تحقیق میں کئی دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی وزارت اطلاعات و نشریات 53 فیصد نمبروں کے ساتھ پاکستان کا شفاف ترین سرکاری ادارہ ہے جبکہ وزارت داخلہ 26 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے کم شفاف وفاقی محکمہ ہے۔


اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی محکمہ اطلاعات 89 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ محکمہ داخلہ اور محکمہ قبائلی معاملات 47 فیصد نمبروں کے ساتھ اپنی کارکردگی کی شفافیت میں سب سے نیچے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں بھی اطلاعات و ثقافت کا محکمہ 83 فیصد پوائنٹس کے ساتھ شفاف ترین ہے جبکہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ 37 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے کم شفاف سرکاری محکمہ ہے۔ سندھ میں اسی طرز کی شفافیت کے لحاظ سے وزارت خزانہ 53 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے جبکہ محکمہ اطلاعات 21 فیصد نمبروں کے ساتھ سے سب پیچھے ہے۔


اس رینکنگ کے مطابق وفاقی اور تین صوبائی حکومتوں کے تمام سرکاری محکموں میں سے خیبر پختونخوا کا محکمہ اطلاعات 89 فیصد نمبروں کے ساتھ پورے ملک کے شفاف ترین سرکاری ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کے برعکس وفاقی محکمہ داخلہ صرف 26 فیصد پوائنٹس کے ساتھ ازخود اطلاعات کی فراہمی کے حوالے سے ملک کاسب سے کم شفاف سرکاری ادارہ نکلا۔پاکستان میں اس وقت نافذ چاروں رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وفاق اور تینوں صوبوں میں متعلقہ انفارمیشن کمیشن قائم ہیں، جن کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی طرف سے حکومتوں سے طلب کردہ اطلاعات فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں مداخلت کر کے متعلقہ اداروں سے مطلوبہ اطلاعات زبردستی شہریوں کو دلوانا ہے۔


اس رپورٹ میں چاروں انفارمیشن کمیشنوں کی انفرادی کارکردگی میں شفافیت کا تقابلی جائزہ بھی شامل ہے۔ اس تقابلی جائزے کے مطابق خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن ازخود اطلاعات کی فراہمی کے اشاریے کے تحت سو فیصد پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست ہے جبکہ 89 فیصد نمبروں کے ساتھ پنجاب انفارمیشن کمیشن دوسرے نمبر پر اور وفاقی انفارمیشن کمیشن 63 فیصد پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن کے پوائنٹس اس لیے صفر رہے کہ اس کی اب تک ویب سائٹ ہی نہیں بنی۔


ارادہ کے ایگزیکٹوڈائریکٹر آفتاب عالم نے اس رینکنگ کے بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا:دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی مجموعی کارکردگی باقی تمام حکومتوں سے اچھی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سب سے بری ہے حالانکہ پشاور اور اسلام آباد میں ایک ہی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں۔ تو ثابت یہ ہوا کہ اطلاعات تک رسائی کی پالیسی تو ایک ہے مگر نتائج بالکل متضاد۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قوانین اور پالیسی یکساں ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک پارٹی کے طور پر شفافیت شاید کوئی ترجیح نہیں ہے۔

آفتاب عالم کے مطابق جن وفاقی یا صوبائی محکموں نے اوسطااچھی کارکردگی اور شفافیت کا مظاہرہ کیا ان کی مجموعی کارکردگی میں بھی زیادہ شفافیت کے لئے ابھی بہتری کی کافی زیادہ گنجائش موجود ہے۔رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے میڈیا رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹوڈائریکٹر اقبال خٹک نے ڈی ڈبلیو کو بتایاکہ عام شہری اگر اس قانون کا استعمال زیادہ کریں تو حکومتوں پر عوام دوست پالیسیوں کے لئے زیادہ دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ اقبال خٹک نے اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال فروری میں وفاقی رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت انہوں نے کابینہ ڈویژن کو درخواست دے کر پوچھا تھا کہ تب تک موجودہ حکومت کی وفاقی کابینہ کے کتنے اجلاس ہوئے تھے اور ان میں صحافیوں کے تحفظ کے موضوع پر کتنی بار بات چیت ہوئی تھی؟

بار بار کی کوششوں کے باوجود جب انہیں یہ فراہم نہ کی گئیں، تو انہوں نے فیڈرل انفارمیشن کمیشن کو شکایت کر دی تھی، جس نے کابینہ ڈویژن کو مطلوبہ اطلاعات کی فراہمی کا حکم جاری کیا تو یہ اطلاعات مہیا کر دی گئی تھیں۔یوں یہ حقیقت سامنے آئی کہ موجودہ حکومت کے قیام سے لے کر فروری 2020 تک وفاقی کابینہ کے کل 62 اجلاس ہوئے تھے، مگر ان میں ایک بار بھی صحافیوں کے تحفظ کے قانون کے مطالبے پر گفتگو نہیں کی گئی تھی۔

اقبال خٹک کے بقول ان معلومات کی فراہمی کے بعد ہی کابینہ ڈویژن نے ہمیں اضافی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ اطلاعات کی فراہمی کی درخواست کے بعد کابینہ کے ایک اجلاس میں صحافیوں کے تحفظ کو بھی ایجنڈا میں شامل کیا گیا، اس پر گفتگو ہوئی اور کافی عرصے سے التوا میں پڑے ہوئے صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ بل کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اسی سال اپریل میں اپنی ایک ٹویٹ میں وعدہ بھی کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کا بل جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔


وفاقی انفارمیشن کمشنر زاہد عبداللہ نے اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہاوفاقی اور صوبائی رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین طویل جدوجہد کے بعد بنے۔ ان کی افادیت اسی صورت ممکن ہے، جب زیادہ سے زیادہ شہری ان کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اطلاعات کی فراہمی کی درخواست بھی کریں۔ حکومتی محکموں اور اداروں کی کارکردگی میں شفافیت اسی طرح رواج پائے گی۔ ہر طرح کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب شہریوں کو معلومات تک رسائی بھی بلا تاخیر اور با آسانی حاصل ہو گی۔


پاکستان میں وفاقی حکومت کے محکموں کی کارکردگی میں شفافیت کی صورت حال خیبر پختونخوا کی حکومتی کارکردگی کے مقابلے میں بری کیوں ہے؟ اس بارے میں زاہد عبداللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایاکہ خیبرپختونخوا میں تو یہ قانون 2013 میں بن گیا تھا، سات سال پہلے۔ مگر وفاقی سطح پر یہ قانون 2017 میں بنا اور نومبر 2018 میں اس پر باقاعدہ عمل شروع ہوا۔ اس لئے کارکردگی میں یہ فرق بھی قابل فہم ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ جب کوئی نیا ادارہ بنتا ہے، تو پہلے سال اسے عموما بجٹ نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے مسائل ہوتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں جاری کی جاتی رہیں تاکہ سول سوسائٹی بھی اپنا کام کرتی رہے اور سرکاری اداروں کی خود احتسابی کا عمل بھی جاری رہے۔

شیئر کریں