لاپتہ افسرساجدگوندل کے اہلخانہ کاوزیراعظم ہائوس کے باہراحتجاج

2 weeks ago


ہائی کورٹ نے17ستمبرتک بازیابی کاحکم دے رکھاہے

اسلام آباد سے چندروزقبل لاپتہ ہونے والے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) کے افسر ساجد گوندل کے اہلِ خانہ نے آج منگل کے روزدن 12بجے وزیرِ اعظم ہائوس کے باہر احتجاج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ساجدگوندل کوجلدازجلدبازیاب کرایاجائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 17 ستمبر تک ساجد گوندل کی بازیابی کا حکم دے رکھا ہے۔

ادھرآج پولیس افسران نے جائے وقوعہ کادورہ کیا۔پولیس کے مطابق ایس ای سی پی کے عملہ کوبھی شامل تفتیش کرتے ہوئے تحقیقات کادائرہ وسیع کردیاہے۔واضح رہے ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل گزشتہ چندروزسے غائب ہیں ۔ان کے بارے میں شبہہ ہے کہ ان کواغواءکرلیاگیاہے ۔ کہاجارہاہے کہ انہیں ہائی پروفائل شخصیت کے کاروبار سے متعلق کسی صحافی سے رابطے کے شبہے پرنامعلوم افراد نے اغوا کیاہے۔


ان کی گاڑی نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر(این اے آرسی)اسلام آبادکے قریب سے ملی تھی لیکن تاحال ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوا۔ان کی گمشدگی کے بعدٹویٹرپر #BringBackSajidGondal ٹاپ ٹرینڈبن گیاتھا۔

ان کواٹھائے جانے پرفوری طورپران کی والدہ کی جانب سے اسلام آبادہائی کورٹ میں رٹ دائرکی گئی تھی جس پرعدالت نے لاپتہ افسر ساجد گوندل کو پیر7ستمبر تک بازیاب کرانے کا حکم دیاتھا۔عدالت کاکہناتھا کہ پیر کے دن دو بجے تک ساجد گوندل بازیاب نہ ہوئے تو سیکرٹری داخلہ خود پیش ہوں۔عدم بازیابی کی صورت میں چیف کمشنر اورسیکرٹری جنرل پولیس بھی عدالت میں پیش ہوںگے۔چیف جسٹس اسلا م آبادہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہااسلام آباد سے شہری کو اس طرح اغوا کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے،عدالت نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے بھی رکھنے کا حکم دیاتھا۔عدالت نے کہااگر ساجد گوندل بازیاب نہ ہوں تو کابینہ کی آئندہ میٹنگ میں معاملہ رکھا جائے۔


ساجدگوندل کی اہلیہ کے مطابق وہ دوتین دن سے پریشان تھے۔وہ فون پرآنے والی کال چھت پر جاکر سن رہے تھے۔وہ گھروالوں کوکچھ بتانانہیں چاہتے تھے۔ان کی اہلیہ کے مطابق انہیں ایف آئی آرکے اندراج سے بھی روکاجارہاتھا۔


گزشتہ روزپیرکواسلام آبادہائی کورٹ میں ساجدگوندل کوبازیاب کراکرپیش نہ کرنے پرچیف جسٹس اطہرمن اللہ نے برہمی کا اظہار کیا۔کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پولیس ،سیکرٹری داخلہ ودیگرحکام بھی پیش ہوئے تھے۔عدالت عالیہ نے سیکرٹری داخلہ کو معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے اور وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں رکھنے کی بھی ہدایت کی تھی۔چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ قانون کی حکمرانی نہیں ، شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں، وزارت داخلہ، اس کے ماتحت ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں۔


سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ نے کہا ساجد گوندل کی بازیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، اجلاس میں تمام صورتحال کا جائزہ لیا ہے، اعلیٰ سطح پر تفتیش جاری ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا تین دنوں سے صرف میٹنگز ہو رہی ہیں، آپ کی کوششیں نظر نہیں آ رہیں، لاپتہ افسر کو تلاش نہیں کیا جا سکا، آپ کتابی باتیں نہ بتائیں، اپنی ناکامی تسلیم کریں اور وزیراعظم کے نوٹس میں یہ بات لائیں،کسی کو تو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم ہوا ہے لاپتہ افراد کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے، کیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے؟اس پر سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ابھی اس سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیشی ٹیم کو کمیشن کے چیئرمین سے پوچھنا چاہئے تھا کہ کیا ان کے پاس اس بارے میں کوئی ذاتی معلومات ہیں؟


چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ سے کہا آپ نے وزیراعظم کو بتایا کہ آپ کے ماتحت ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں ہیں؟ یہ مفادات کا ٹکراو¿ اور اصل کرپشن ہے، قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی تو کرپشن ہوگی، صرف نیب ہی کرپشن نہیں روک سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟ پھر یہ آئینی عدالت بند کر دیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کوساجد گوندل کی بازیابی کے لئے 10دن کی مہلت دے دی۔عدالت نے ساجد گوندل کی بازیابی کے لئے مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

شیئر کریں