عرب دنيا کا پہلا جوہری پلانٹ

6 days ago


یہ پلانٹ یو اے ای میں جنوبی کوریا نے لگایا ہے

توانائی کے حصول کے ليے عرب دنيا کا اولين جوہری پاور پلانٹ متحدہ عرب امارات ميں فعال ہو گیا ہے۔ سعودی عرب بھی سولہ ری ايکٹرز کی تعمير کا منصوبہ رکھتا ہے۔ عرب دنيا کا اصرار ہے کہ جوہری پروگرام محض توانائی کے حصول کے ليے ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اولين جوہری پاور پلانٹ کے ابتدائی يونٹ نے ہفتہ يکم اگست سے کام شروع کر ديا ہے۔ ايمريٹس نيوکليئر انرجی کارپوريش( ای این ای سی) نے اس امر کی تصديق کی کہ پلانٹ کا پہلا ری ايکٹر ہفتے سے فعال ہے۔ ابو ظہبی ميں برکہ پاور پلانٹ کوريا اليکٹرک پاور کاپوريشن کے تعاون سے تيار کيا جا رہا ہے۔ اس پلانٹ کے ابتدائی يونٹ کو دراصل تين برس قبل ہی فعال ہو جانا چاہيے تھا مگر مختلف وجوہات کی بناء پر اس ميں تاخير ہوتی رہی۔ ای اين ای سی کے مطابق نواح انرجی کمپنی نے برکہ پاور پلانٹ کے يونٹ نمبر ايک ميں کام شروع کر ديا ہے۔ تقريباً ساڑھے بائيس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والے اس جوہری پاور پلانٹ کی تعمير جب مکمل ہو جائے گی، تو چار ری ايکٹرز سے پانچ ہزار چھ سو ميگا واٹ بجلی حاصل ہو سکے گی۔ انٹرنيشنل اٹامک انرجی ايجنسی ميں متحدہ عرب امارات کے نمائندے حماد الکابی نے جنوری ميں صحافيوں کو بتايا تھا کہ برکہ پاور پلانٹ کی تکميل سے پائيدار ترقی کا ہدف حاصل ہو سکے گا۔ يہ امر اہم ہے کہ يہ پوری کی پوری عرب دنيا کا پہلا نيوکليئر وری ايکٹر ہے، جو توانائی کے حصول کے ليے استعمال ميں آئے گا۔ متحدہ عرب امارات کی سات رکن رياستوں ميں تقريباً دس ملين افراد آباد ہيں۔ موسم گرما ميں اس ملک ميں شديد گرمی ہوتی ہے اور ايئر کنڈيشننگ وغيرہ کے ليے خاصی بجلی درکار ہوتی ہے۔ متحدہ عرب امارات خام تيل پراسيس کرنے والا اوپيک کا چوتھا سب سے بڑا رکن ملک ہے۔ يہ ملک قدرتی گيس کے ذخائر سے بھی مالا مال ہے ليکن اس کے باوجود توانائی کے حصول کے ليے ماحول دوست طريقہ کار پر کام جاری ہے۔ حکام کی کوشش ہے کہ سن 2050 تک متحدہ عرب امارات کی بجلی کی ضروريات کا نصف حصہ ماحول دوست ذرائع سے حاصل ہو سکے۔ اس ضمن ميں لاکھوں ڈالر کی سرمايہ کاری جاری ہے۔ پڑوسی ملک سعودی عرب بھی سولہ جوہری ری ايکٹرز فعال کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے مگر فی الحال ان پر کام شروع نہيں ہوا۔ متحدہ عرب امارات کی اعلی قيادت بين الاقوامی تنظيموں کو اس بات کی يقين دہانی کراتی آئی ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے ليے ہے۔ سن 2010 سے لے کر اب تک چاليس مختلف جائزے اسی بات کی نشاندہی کرتے ہيں۔ حکام نے يہ بھی واضح کر ديا ہے کہ يورينيئم کی افزودگی کا عمل شروع نہيں کيا جائے گا۔ ابو ظہبی ميں برکہ پاور پلانٹ سعودی عرب سرحد کے پاس اماراتی ساحلی پٹی پر خليج فارس کے کنارے واقع ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ خطے ميں خليج فارس کے ہی کنارے مگر دوسری طرف ايران کا بھی ايک جوہری پاور پلانٹ قائم ہے۔ متحدہ عرب امارات امريکا کا اتحادی ملک ہے جبکہ ايران امريکا کا سخت مخالف ہے۔ يہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور ايران کے تعلقات بھی زيادہ گرمجوش نہيں ہیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ٹک ٹاک:پاکستان کے اعتراض پرویڈیوزڈیلیٹ
کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل
جاپان:بیلسٹک میزائل حملوں کی روک تھام کی صلاحیت حاصل کرنے کی تجویزمنظور

عاصم باوجوہ منی ٹریل کیوں دیں

2 weeks ago


فوج میں ہر چیز میرٹ پر ملتی ہے۔ جنرل امجد شعیب

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے مشیروں کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ان کے مشیر اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ہی کیوں آئے ہیں؟ جنرل باجوہ کا عروج پاکستانی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کے دور میں ہوا جب انہوں نے فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے 'آئی ایس پی آر‘  کی کمان سنبھالی اور اسے نئے خطوط پر استوار کیا۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں ترقی ملی اور بعد میں بلوچستان کی سدرن کمانڈ کا سربراہ لگا دیا گیا۔ عاصم باجوہ اِس وقت وزیراعظم عمران خان کے مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر ''عاصم باجوہ منی ٹریل دو‘‘ مسلسل ٹرینڈ کرتا رہا ہے لیکن تا وقت انہوں نے خود اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ایسے میں ڈی ڈبلیو نے پاکستانی فوج کے ایک اور سابق لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ بحیثیت ایک سابق فوجی افسر، وہ اس سارے معاملے کوکیسے دیکھتے ہیں؟     جنرل شعیب: میری نظر میں تو جس شخص نے اپنی مال ملکیت ڈکلیئر کردی، اُس سے منی ٹریل مانگنا شرمناک بات ہے۔ سوال اگر کوئی اٹھائے تو وہ صرف ایف بی آر پوچھ سکتا ہے، وہ بھی تب کہ اگر جنرل باجوہ نے اپنے ٹیکس ریٹرنز اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں یہ چیزیں ڈکلیئر نہ کی ہوں۔ سوال اُن پر اٹھتا ہے جو اپنے اثاثے چھپاتے ہیں اور جن پر کرپشن کے الزامات ہوتے۔ اِن پر سوال بدنیتی کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں۔  لیکن کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اب جبکہ قوم مطالبہ کر رہی ہے تو وہ خود ہی منی ٹریل دے دیں تاکہ اگر کوئی شکوک و شبہات ہیں تو دور ہو جائیں؟ جنرل شعیب: نہیں، بلکل نہیں۔ کیوں دیں؟ لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سوال اٹھائیں۔ وہ حکومتی عہدے پہ تو اب آئے ہیں۔ اس سے پہلے تو انہوں نے ساری زندگی فوج میں گزاری۔ ان کی ساری کمائی ریکارڈ پر ہے۔ انہوں نے تو بڑے صاف ستھرے طریقے سے سب کچھ سامنے رکھ دیا ہے۔ اُن پر سوال اٹھانا تو بڑی زیادتی کی بات ہے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو انہوں نے دو چیزیں ایسی دکھائی ہیں جو ان کی ذاتی ہیں۔ اس میں گلبرگ کا پانچ کنال کا ایک پلاٹ ہے اور دوسرا فیملی بزنس میں شیئر دکھائے ہیں۔ باقی سب جو زمینیں اور ملکیتیں دکھائی ہیں وہ قانونی طور پر فوج میں سروس اور سینیارٹی  میں ملتی ہیں۔ لوگوں کو کچھ پتہ ہوتا نہیں بس تنقید کرنے نکل پرتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ آج کل جب آپ فوج سے بطور کور کمانڈر ریٹائر ہوتے ہیں تو آپ کے پاس لگ بھگ ایک ارب کے اثاثے ہوسکتے ہیں؟ جنرل شعیب: دیکھیں، جس زمانے میں بطور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہوا تھا، اُس وقت آپ کو ڈی ایچ اے میں ایک کمرشل، ایک ریزیڈنشل اور ایک پلاٹ لیز پر ملتا تھا آرمی کی کنٹونمٹ کی زمینوں میں۔ کنٹونمنٹ پلاٹ کو آپ بیچ نہیں سکتے تھے اور وہ گھر بنانے کے لیے تھا۔ لیکن بعد میں ہمارے آرمی افسران نے اس پر اعتراض کیا کہ گھر تو مل جاتا ہے لیکن انہیں دیگر گھریلو خرچوں کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے پلاٹ بیچنے کی اجازت ہونی چاہییے۔ اس لیے اب اسے فروخت کرنے کی اجازت ہے لیکن وہ بھی بیس سال کے بعد۔ اسی طرح افسروں کے لیے اب ڈی ایچ اے میں پلاٹ بڑھا دیے گئے ہیں۔ ڈی ایچ اے پرائیویٹ زمینیں لیتا ہے، ان کی پلاٹنگ کرتا ہے اور دیتا ہے۔ آج کل بطور آرمی افسر آپ کو ڈی ایچ اے سے دو پلاٹ ملتے ہیں اور اس کے لیے کوئی قرعہ اندازی نہیں ہوتی بلکہ وہ آپ کو انتہائی سستے آفیشل ریٹ پہ ملتے ہیں۔ یہ بطور ایک فوجی افسر آپ کا استحقاق ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ کو ڈی ایچ اے میں دو کمرشل پلاٹ بھی ملتے ہیں، جو قواعد کے تحت آپ کا حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی زمین الگ دی ملتی ہے؟ جنرل شعیب: دی جاتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ سب کو ملے۔ اگر میسر ہوتی ہے تو کچھ افسران کو دی جاتی ہے، لیکن سب کو نہیں۔ یہ زمین اکثر آباد نہیں ہوتی بلکہ اسے بنانا پڑتا ہے۔ کئی افسران کو جنوبی پنجاب میں بہاولپور اور رحیم یار خان کے صحرائی علاقوں میں زمینیں دی گئیں۔ اس کی کوئی خاص مالیت نہیں ہوتی کیونکہ یہ ریت کے ٹیلے ہوتے ہیں۔ مثلاﹰ مجھے بھی وہاں کوئی پچاس ایکڑ ملی تھی جب میں ریٹائر ہوا تھا۔ وہاں نہ پانی تھا نہ کچھ۔ میں نے کئی سال محنت کر کے اس میں سے پچیس ایکٹر سے ریت اٹھا کر باقی پچیس ایکڑ پہ ڈلوائی۔ لیکن دس بارہ سال میں بھی کمائی کچھ نہیں ہوئی تو آخر کار میں نے اسے بیچ دیا کیونکہ مجھے اسلام آباد میں  گھر بنانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔   آپ نے کہا کہ یہ زرعی زمین ہر کسی کو نہیں ملتی۔ سنا ہے کہ فوج میں ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے، تو اس الاٹمنٹ کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟ جنرل شعیب: اس کے لیے کئی چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاﹰ آپ فوج میں کتنے سال سروس میں رہے، آپ سیاچن میں کتنا عرصے تعینات رہے، لڑاکا آپریشنز یا معرکوں میں کتنا حصہ لیا اور کیسی کارکردگی دکھائی، قدرتی آفات مثلاﹰ زلزلوں اور سیلابوں کے دوران امدادی کاموں میں کتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پھر ظاہر ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آفیسرز کے گھریلو حالات کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ خواہشمند زیادہ ہوتے ہیں لیک زمین تھوڑی ہوتی ہے، اس لیے ہر ایک کو نہیں ملتی۔ فوج جیسے ادارے میں ہر چیز رینک کے حساب سے چلتی ہے۔ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ بڑے افسران کو زیادہ جبکہ چھوٹے  افسران کو کم زمین ملتی ہے؟ جنرل شعیب: بلکل، سب سکیل کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاﹰ جنر ل کو 90 ایکڑ، لیفٹیننٹ جنرل کو 65 ایکڑ، میجر جنرل کو 50 ایکڑ ملتی ہے۔ اسی طرح اور نیچے جائیں تو صوبیدار اور حوالداروں کو 12.5 ایکڑ زمین دی جاتی ہے۔ جوانوں میں بھی میرٹ کی الگ فہرست بنتی ہے۔ انہیں بھی ڈی ایچ اے میں دس دس مرلے کے پلاٹ دیے جاتے ہیں، سپاہی کو پانچ مرلے کا پلاٹ دیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی  ذریعہ معاش لگا رہے۔ ہمارے ادارے کا مسئلہ یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ اوپر جاتے ہیں عہدے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے افسران کم عمری میں ریٹائر کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاﹰ لیفٹیننٹ  جنرل 57 برس کی عمر میں، میجر جنرل 54 برس میں، بریگیڈیئر یا لیفٹننٹ کرنل اکثر 48 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ادارہ کوشش کرتا ہے کہ انہیں ملازمت کے دیگر مواقع  فراہم کیے جائیں۔                بشکریہ ڈی ڈبلیو



کھانے کی 5 چیزیں دوبارہ گرم کرنے سے زہریلی ہو سکتی ہیں

2 weeks ago


کھاناپکاکرفریج میں رکھنے سے گریز کریں

کئی لوگ کھانا دوبارہ گرم کر کے کھاتے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ عادت مضر صحت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک نظر ایسی اشیا پر جو گرم کرنے کی صورت میں زہریلی ہو سکتی ہیں۔ دور جدید میں وقت کی قلت کے سبب کھانا پکانے کے بعد اکثر فریج یا فریزر میں رکھ دیا جاتا ہے۔ بھوک لگنے کی صورت میں وہاں سے نکال کر اسے مائیکرو ویو یا چولہے پر رکھ کر گرم کر کے کھا لیا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ عمومی اشیائے خوراک ایسی بھی ہیں جنہیں پکانے اور فریز کرنے کے بعد دوبارہ گرم کر کے کھانا انتہائی مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی سات اشیائے خوراک پر ایک نظر جنہیں دوبارہ گرم کرنے میں بہت احتیاط برتی جانا چاہیے۔ آلو:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آلو بہت سے لوگوں کو پسند ہیں۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ آلو جلدی پکائے جا سکتے ہیں اور انہیں محفوظ کرنے کے بعد دوبارہ گرم کر کے کھایا جا سکتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ آلو پکائے جانے کے بعد اگر انہیں کمرے کے درجہ حرارت پر بھی چھوڑ دیا جائے تو ان میں بیکٹیریا پیدا ہو جاتا ہے۔یہ بیکٹیریا فریزر میں جمانے سے بھی ختم نہیں ہوتا۔ دوبارہ گرم کرنے کی صورت میں ان میں 'کلوستریڈیم بوٹولیم‘ بیکٹیریا بن سکتا ہے جو اسے مسموم بنا دیتا ہے۔ جرمن ویب سائٹ گرازیا کے مطابق سب سے بہتر یہی بات ہے کہ آپ انہیں پکا کر استعمال میں لائیں اور فریج میں رکھنے سے گریز ہی کریں۔ اگر آپ انہیں فریز کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر بہتر یہ ہے کہ پکانے کے فوری بعد انہیں فریز کر لیں۔ دوبارہ گرم کرنے کے لئے مائیکرو ویو کا استعمال مت کریں بلکہ کسی برتن میں ڈال کر چولہے پر کئی منٹوں تک دوبارہ گرم کر لیں۔ چاول:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آلوو¿ں کی طرح چاول میں بھی بیکٹیریا تیزی سے پھیل سکتا ہے اور گرم کرنے پر بھی اسے ختم نہیں ہوتا۔ چاول میں بیکٹیریا کا یہ حصہ فوڈ پوائزنگ کا باعث بن جاتا ہے۔ان کے بارے میں بھی ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ آلو کی طرح یا تو صرف تازہ پکے ہوئے چاول ہی کھائیں اور اگر ناگزیر ہو تو انہیں پکا کر فوری طور پر ٹھنڈا کر کے محفوظ کر لیں۔ انڈے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انڈے پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں لیکن ابلے ہوئے، تلے ہوئے، یا آملیٹ بنائے ہوئے انڈوں کو دوبارہ گرم کرنا انتہائی مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔ زیادہ پروٹین والی خوراکوں میں نائٹروجن کی بڑی مقدار بھی موجود ہوتی ہے جو گرم ہونے پر زہریلی ہو سکتی ہے اور یہ سرطان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ انہیں بھی پکانے کے فوری بعد کھا لیں۔ اگر بعد کے لیے استعمال میں لانا بھی ہے تو پھر مائیکروویو سمیت کسی بھی طرح دوبارہ گرم کرنے سے گریز کریں۔ مرغی کا گوشت:۔۔۔۔۔۔۔ مرغ کا سالن گرم نہ ہو تو کھانے کا کیا مزا؟ لیکن ٹھہریے، انڈوں کی طرح ان میں بھی پروٹین ہوتی ہے۔ یعنی اسے ٹھنڈا کرنے کے بعد دوبارہ گرم کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔مرغی کے گوشت میں موجود پروٹین کے اجزا فریج سے نکالے جانے کے بعد بدل چکے ہوتے ہیں اور گرم کرنے کی صورت میں مسموم بن کر نظام انہضام متاثر ہو سکتا ہے۔ کھانے کا تیل:۔۔۔۔۔۔۔ سورج مکھی، کنولا آئل اور کھانا پکانے کے لئے استعمال ہونے والے دیگر ایسے آئل جنہیں ٹھنڈا کمپریس کیا گیا ہوتا ہے، انہیں بھی دوبارہ گرم نہیں کیا جانا چاہئے۔ایسے کوکنگ آئل میں اومیگا 3 ہوتا ہے جو حرارت کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انہیں گرم کر کے کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ (بشکریہ ڈی ڈبلیو)



پاکستان کی فضائی تحفظ کی درجہ بندی مزیدگرگئی

3 weeks ago


ایساپاکستانی پائلٹس کی سرٹیفکیشن بارے شکوک و شبہات کے پس منظر میں کیاگیا

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے پاکستان کی فضائی تحفظ کی درجہ بندی کو نیچے کر دیا ۔ یہ اقدامات پاکستانی پائلٹس کی سرٹیفیکیشن کے بارے میں حالیہ ہفتوں کے دوران اٹھنے والے شکوک و شبہات کے پس منظر میں کئے گئے ۔ اس فیصلے کا انکشاف امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن( 'ایف اے اے) کی ایک دستاویز میں ہوا جو ایک ویب سائٹ پر شائع کی گئی۔ اس کی تصدیق ایجنسی کے ایک اہلکار نے کر دی ہے۔ مذکورہ دستاویز کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے یہ اندازہ لگا لیا ہے کہ پاکستان فضائی تحفظ کے بین الاقوامی معیارات پر پورا نہیں اترتا اور اس کی درجہ بندی میں اب پاکستان سیکنڈ یا دوسری کیٹگری میں آتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ اپنے پائلٹس میں سے ایک تہائی کو اس وقت گرائونڈ کر دینے کا فیصلہ کیا تھا جب ان پائلٹس کی اسناد کے جعلی ہونے کی خبر عام ہوئی تھی۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کی فضائی تحفظ کی درجہ بندی کو نیچے گرا دینے کے عمل پر واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے کو کی گئی فوری رد عمل کی درخواست کے باوجود اب تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ ایف اے اے کی طرف سے پاکستانی فضائی تحفظ کی نئی درجہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ایئر لائنز امریکی ہوائی اڈوں پر اضافی معائنے کی تابع ہو سکتی ہیں نیز انہیں مزید پروازیں بڑھانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے روئٹرز کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی کمپنی پاکستان سے امریکا کی ڈائرکٹ فلائٹس کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس سلسلے میں خصوصی پروازوں کے انتظامات کے عمل کو وسیع تر کرنا چاہتی ہے۔ دریں اثناءگزشتہ جمعے کو امریکی محکمہ برائے نقل و حمل نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کی انٹرنیشنل ایئر لائنز پی آئی اے کی طرف سے امریکا کے لئے خصوصی چارٹر پروازوں کی اجازت کو منسوخ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی پہلے ہی یورپی بلاک کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کو چھ ماہ کے لیے معطل کر دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ یہ فیصلہ پی آئی اے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ایوی ایشن اتھارٹی کے لیے بھی ایک بڑا دھچکہ تھا۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے اس اعلان کے بعد سے یورپ میں آباد پاکستانیوں کو ملک کا سفر کرنے کے سلسلے میں اب دہری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لاتعداد پاکستانی نژاد باشندے کورونا بحران کے باعث نقل و حمل کے ذرائع تقریباً بند پڑے ہونے کے سبب مختلف خطوں اور ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے نکلنے سے قاصر ہے جو یورپ میں آباد ہیں لیکن کورونا کے بحران کے دوران کسی وجہ سے پاکستان گئے ہوئے تھے۔ اب ان کی یورپ واپسی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے کیونکہ عام لوگوں کے لیے اب تک کوئی بھی ایئر لائن مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔ مشکوک اسناد کے ساتھ پاکستان کے پائلٹوں کے گرائونڈ کیے جانے کا معاملہ کم و بیش اس حادثے کے آس پاس ہی منظر عام پر آیا جو مئی کے مہینے میں پی آئی اے کے جیٹ طیارے کو پیش آیا تھا اور جس کے نتیجے میں 97 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ (بشکریہ ڈی ڈبلیو)