ہر پانچ سیکنڈ بعدایک پاکستانی کا اضافہ

4 weeks ago


2019میں ہر ایک منٹ میں 11 زندہ بچے پیدا ہوئے

(تحریرعصمت جبین) پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ حقیقت بدل چکی ہے ۔ پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنا تیز رفتار ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ ریاست اب دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکی ہے۔ آج گیارہ جولائی کو منائے جانے والے عالمی یوم آبادی کے حوالے سے یہ بات بہت کم پاکستانیوں کو معلوم ہو گی کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ان کے ملک کی آبادی ناقابل یقین حد تک تیز رفتار اضافے سے تقریباچھ گنا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق قیام پاکستان کے تین سال بعد 1950ءکے وسط میں پاکستان کی مجموعی آبادی 37.54 ملین یا پونے چار کروڑ سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ لیکن بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اکیسویں صدی کے پہلے بیس سال تک کے دوران پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنی تیزی سے ہوا کہ اب اس بات کو بھی عشرے ہو گئے ہیں کہ ماہرین آبادی میں اس اضافے کے لئے 'ٹائم بم‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ آبادی سے متعلقہ امور کے ماہرین کے مطابق یہ 'پاپولیشن بم‘ آج بھی ٹک ٹک کر رہا ہے اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین اس رکاوٹ کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ پاکستان میں سماجی ترقی، قومی وسائل اور اوسط فی کس آمدنی میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہو رہا، جس رفتار سے آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلقہ امور کے شعبے کے گزشتہ برس اگست میں سال رواں کے لئے لگائے گئے اندازوں کے مطابق آج سے دس روز پہلے، یعنی سال رواں کی دوسری ششماہی شروع ہونے تک پاکستان کی مجموعی آبادی یقینی طور پر تقریبا 220.9 ملین یا 22 کروڑ 10 لاکھ کے قریب ہو جانا تھی۔ اس کا مطلب ہے جولائی 1950 سے لے کر جولائی 2020 تک ملکی آبادی میں تقریبا چھ گنا اضافہ ہوا۔ یہ اسی 'پالولیشن بم‘ کا نتیجہ ہے کہ پہلے اگر پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک تھا تو آج مزید ایک درجہ اوپر آ کر یہ ملک دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی 7.8 بلین کے قریب ہے اور عالمی سطح پر سالانہ شرح پیدائش دو فیصد سے زیادہ۔ خود اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں سالانہ شرح پیدائش 2.8 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا میں صرف چار ممالک ایسے ہیں، جن کی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے۔ پہلے سے چوتھے نمبر تک کے یہ چار ممالک چین، بھارت، امریکا اور انڈونیشیا ہیں۔ پاکستان برازیل کی جگہ اب پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ برازیل اب چھٹے نمبر پر ہے۔ عالمی آبادی اور اس میں تبدیلیوں پر نگاہ رکھنے والی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی ویب سائٹ کنٹری میٹرز ڈاٹ انفو کی ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس 60 لاکھ 50 ہزار زندہ بچے پیدا ہوئے۔ یہ تعداد تقریباساڑھے سولہ ہزار روزانہ یا تقریبا سات سو فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ 2019ءمیں پاکستان میں اوسطا ہر ایک منٹ میں 11 زندہ بچے پیدا ہوئے، یعنی تقریباہر پانچ سیکنڈ بعد ملکی آبادی میں ایک شہری کا اضافہ۔ پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی حال ہی میں میڈیا سے بات چیت میں اعتراف کیا تھا کہ ملکی آبادی میں اضافے کی شرح دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر مرزا کے مطابق اصل مسئلہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہے کیونکہ عمومازچہ اور بچہ دونوں ہی کی زندگی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال نو ملین پاکستانی خواتین زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں، لیکن ان میں سے تقریباچار ملین ایسی ہوتی ہیں، جو اپنی خواہش کے برعکس حاملہ ہوئی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر مرزا کے مطابق موجودہ حکومت آبادی میں بہت تیز اضافے کے خلاف ایک آٹھ نکاتی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ کراچی قیام پاکستان کے بعد سے اب تک آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ 2018 میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ چون لاکھ ہے جو 2030 تک دو کروڑ بتیس لاکھ ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق تب کراچی آبادی کے اعتبار سے دنیا کا تیرہواں سب سے بڑا شہر بھی ہو گا۔ پاکستانی دفتر شماریات سے وابستہ معاون ماہر طاہر آصف نے تازہ ملکی ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایاکہ اس سال اب تک قومی شرح پیدائش دو فیصد سے کچھ زیادہ ہے جو گزشتہ برس کی نسبت کچھ کم ہے۔ فیملی پلاننگ سے متعلق عوامی شعور بڑھ تو رہا ہے مگر ملکی اقتصادی حالات، بےروزگاری کی اونچی شرح اور اب کورونا وائرس کی وبا بھی عوام میں تشویش اور پریشانی کی وجہ بن رہے ہیں۔ طاہر آصف نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اگر قومی وسائل میں اضافہ کیا جائے، فی کس اوسط آمدنی بڑھائی جائے اور عوام کو بہتر روزگار بھی میسر ہو تو آبادی میں یہ اضافہ کوئی بہت نقصان دہ بات بھی نہیں، زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ افرادی قوت ہے جسے صحیح استعمال کیا جائے تو وہ بہت فائدہ مند اور قومی ترقی میں بڑی معاون بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ طاہر آصف نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں ماضی میں خاص طور پر بےنظیر بھٹو کے دور حکومت میں فیملی پلاننگ پر کافی زیادہ توجہ دی گئی تھی جبکہ میں موجودہ حکومت کے دور میں زیادہ سرگرمی نظر نہیں آتی۔ اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے فیملی پلاننگ شعبے کی سابقہ سربراہ اور اب اپنا نجی کلینک چلانے والی سیدہ نگہت گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، میں روزانہ ایسی کئی حاملہ خواتین کا علاج کرتی ہوں جو کہتی ہیں کہ انہیں بچے پیدا کرنے پر مجبور کیا جاتاہے۔ ان پر بیٹے جنم دینے کا دباو¿ ہوتا ہے یا پھر ان کے گھرانوں میں مانع حمل ذرائع کا استعمال ہی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے گھرانوں میں زیادہ تر ماں اور بچے کی صحت کو پس پشت ڈال کر ہر سال ایک اور بچے کی پیدائش کے خواہش کی جاتی ہے۔ نگہت گیلانی کے مطابق، 'حکومت کو پختہ ارادے کے ساتھ ملک میں فیملی پلاننگ کی عملی صورت حال بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔ ملک میں فیملی پلاننگ کے طریقوں پر بھی تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہر مانع حمل طریقہ ہر خاتون کے لیے طبی طور پر یکساں قابل عمل نہیں ہوتا۔ تین عشروں سے تعلیمی شعبے سے منسلک ماہرعمرانیات سید منظر گردیزی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،ہمارے ہاں آبادی میں کمی کی بھی بس باتیں ہی کی جاتی ہیں جبکہ وسائل بڑھانے کی کوششیں بھی انتہائی کم ہیں۔ نتیجہ یہ کہ آبادی مسلسل بڑھتی جاتی ہے اور وسائل میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ ملکی آبادی میں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن ان میں سے بہت سے بے روزگار ہیں۔ منظر گردیزی کے مطابق، ہمارا المیہ وہ معاشرتی رویے اور روایات بھی ہیںجو عام گھرانوں میں انفرادی سطح پر فیملی پلاننگ کی سوچ کو کامیاب نہیں ہونے دیتے حالانکہ آبادی میں اضافے سے جڑے مسائل حل کئے بغیر پاکستان کے دیگر مسائل پر بھی قابو نہیں پایا جا سکتا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ٹک ٹاک:پاکستان کے اعتراض پرویڈیوزڈیلیٹ
کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل
عرب دنيا کا پہلا جوہری پلانٹ

جاپان:بیلسٹک میزائل حملوں کی روک تھام کی صلاحیت حاصل کرنے کی تجویزمنظور

1 week ago


حکومت کا آئندہ پانچ سالہ منصوبے میں دفاع پر 242 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان

جاپان کی حکمران جماعت کی کمیٹی نے ملک پر بیلسٹک میزائل حملوں کی روک تھام کی صلاحیت حاصل کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ جاپان کا طویل فاصلے کی صلاحیت حاصل کرنا ایک متنازعہ معاملہ ہے کیونکہ دوسری جنگ عظم میں شکست کے بعد اس ملک نے خود جنگ کی صلاحیت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ جاپان کی حکمران جماعت کی اس تجویز سے روس اور چین میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک اس قسم کی صلاحیت کے حامل اسلحہ کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس تجویز کی تیاری میں سابق وزیر دفاع اتسونوری اونودیرا جیسے اہم رہنما شامل تھے اور یہ تجویز آئندہ ہفتے وزیر اعظم شنزوآبے کو پیش کی جائے گی۔ ان سفارشارت کو جاپان کی قومی سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا جائے گا اور توقع ہے کہ ستمبر کے آخر میں نئی دفاعی پالیسی کی منظوری دے دی جائےگی۔ وزیر اعظم شنزو آبے جاپان کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے حامی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مشرقی ایشیا میں سلامتی کے بگڑتے ہوئے ماحول اور چین کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی سے اس خطے میں امریکہ کی موجودگی بڑھ رہی ہے اس لئے جاپان کو بھی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہئے۔ موبائل لانچر کے خلاف دفاعی نظام کے لئے خلائی نگرانی کا نظام ضروری ہے جس کا یہ مطلب ہو گا کہ جاپان کو اس سلسلے میں اپنے اتحادی امریکہ پر انحصار کرنا پڑے گا۔ امریکہ کی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی ریتھیون جاپان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنماو¿ں کے ساتھ لابنگ کر رہی ہے کہ لاک ہیڈ کمپنی کے نظام کی بجائے اس کا سپائی۔6 نظام خریدا جائے۔ اتسو نوری اونودیرا نے بتایا کہ حکومت ستمبر کے آخر تک کوئی فیصلہ کر لے گی اور اس میں ان کی سوچ کی عکاسی نظر آئے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جاپان پر اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے لئے دبائو ڈال رہے ہیں۔ وزیر اعظم شنزوآبے کی حکومت نے آئندہ پانچ سالہ منصوبے میں دفاع پر 242 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے جو پچھلے پانچ سالہ منصوبے کے مقابلے میں 6.4 فیصد زائد ہے۔ جاپان نے امریکی ساختہ سو ایف۔35 ایس طیاروں کا سودا کر رکھا ہے۔ یہ طیارے رن وے کے بغیر کھڑے کھڑے پرواز کرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہو گا کہ جاپان دوسری جنگ عظم کے بعد پہلی مرتبہ طیارہ بردار جہاز بھی بنائے گا۔ نئے سودے کے بعد جاپان کے پاس ایف -35 ایس طیاروں کی 147کی تعداد میں ایک بڑی کھیپ ہو گی۔ جولائی کے آغاز میں دو انجن والے سٹیلتھ جیٹ لڑاکا طیارے کی اگلی دہائی میں تیاری کا اعلان کیا تھا۔ جاپانی ٹی وی این ایچ کے کے مطابق اس جدید سٹیلتھ طیارے کی پیداوار 2031 کے مالی سال میں شروع ہو گی اور یہ ایف-2 طیاروں کے بیڑے کی جگہ لیں گے۔ جاپان کے پاس ایف ٹو طیاروں کا تقریبا سو کے قریب فلیٹ ہے جو امریکہ کے ایف سولہ طیاروں کی طرز پر بنائے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر نمودار ہوئی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ جاپان کا ہیلی کاپٹر بردار طیارہ ایزومو یوکوہاما کے شپ یارڈ میں کھڑا ہے اور اس میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ فوربز کے مطابق ایزومو پر تین کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے اس کا ڈیک ہیلی کاپٹر کی بجائے ہلکے طیاروں کی لینڈنگ کے قابل ہو جائے گا۔ ایزومو کے معاون طیارہ بردار کاگا بھی اسی قسم کی تبدیلیوں کے مرحلوں سے گزر رہا ہے۔



عاصم باوجوہ منی ٹریل کیوں دیں

2 weeks ago


فوج میں ہر چیز میرٹ پر ملتی ہے۔ جنرل امجد شعیب

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے مشیروں کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ان کے مشیر اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ہی کیوں آئے ہیں؟ جنرل باجوہ کا عروج پاکستانی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کے دور میں ہوا جب انہوں نے فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے 'آئی ایس پی آر‘  کی کمان سنبھالی اور اسے نئے خطوط پر استوار کیا۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں ترقی ملی اور بعد میں بلوچستان کی سدرن کمانڈ کا سربراہ لگا دیا گیا۔ عاصم باجوہ اِس وقت وزیراعظم عمران خان کے مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر ''عاصم باجوہ منی ٹریل دو‘‘ مسلسل ٹرینڈ کرتا رہا ہے لیکن تا وقت انہوں نے خود اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ایسے میں ڈی ڈبلیو نے پاکستانی فوج کے ایک اور سابق لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ بحیثیت ایک سابق فوجی افسر، وہ اس سارے معاملے کوکیسے دیکھتے ہیں؟     جنرل شعیب: میری نظر میں تو جس شخص نے اپنی مال ملکیت ڈکلیئر کردی، اُس سے منی ٹریل مانگنا شرمناک بات ہے۔ سوال اگر کوئی اٹھائے تو وہ صرف ایف بی آر پوچھ سکتا ہے، وہ بھی تب کہ اگر جنرل باجوہ نے اپنے ٹیکس ریٹرنز اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں یہ چیزیں ڈکلیئر نہ کی ہوں۔ سوال اُن پر اٹھتا ہے جو اپنے اثاثے چھپاتے ہیں اور جن پر کرپشن کے الزامات ہوتے۔ اِن پر سوال بدنیتی کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں۔  لیکن کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اب جبکہ قوم مطالبہ کر رہی ہے تو وہ خود ہی منی ٹریل دے دیں تاکہ اگر کوئی شکوک و شبہات ہیں تو دور ہو جائیں؟ جنرل شعیب: نہیں، بلکل نہیں۔ کیوں دیں؟ لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سوال اٹھائیں۔ وہ حکومتی عہدے پہ تو اب آئے ہیں۔ اس سے پہلے تو انہوں نے ساری زندگی فوج میں گزاری۔ ان کی ساری کمائی ریکارڈ پر ہے۔ انہوں نے تو بڑے صاف ستھرے طریقے سے سب کچھ سامنے رکھ دیا ہے۔ اُن پر سوال اٹھانا تو بڑی زیادتی کی بات ہے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو انہوں نے دو چیزیں ایسی دکھائی ہیں جو ان کی ذاتی ہیں۔ اس میں گلبرگ کا پانچ کنال کا ایک پلاٹ ہے اور دوسرا فیملی بزنس میں شیئر دکھائے ہیں۔ باقی سب جو زمینیں اور ملکیتیں دکھائی ہیں وہ قانونی طور پر فوج میں سروس اور سینیارٹی  میں ملتی ہیں۔ لوگوں کو کچھ پتہ ہوتا نہیں بس تنقید کرنے نکل پرتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ آج کل جب آپ فوج سے بطور کور کمانڈر ریٹائر ہوتے ہیں تو آپ کے پاس لگ بھگ ایک ارب کے اثاثے ہوسکتے ہیں؟ جنرل شعیب: دیکھیں، جس زمانے میں بطور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہوا تھا، اُس وقت آپ کو ڈی ایچ اے میں ایک کمرشل، ایک ریزیڈنشل اور ایک پلاٹ لیز پر ملتا تھا آرمی کی کنٹونمٹ کی زمینوں میں۔ کنٹونمنٹ پلاٹ کو آپ بیچ نہیں سکتے تھے اور وہ گھر بنانے کے لیے تھا۔ لیکن بعد میں ہمارے آرمی افسران نے اس پر اعتراض کیا کہ گھر تو مل جاتا ہے لیکن انہیں دیگر گھریلو خرچوں کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے پلاٹ بیچنے کی اجازت ہونی چاہییے۔ اس لیے اب اسے فروخت کرنے کی اجازت ہے لیکن وہ بھی بیس سال کے بعد۔ اسی طرح افسروں کے لیے اب ڈی ایچ اے میں پلاٹ بڑھا دیے گئے ہیں۔ ڈی ایچ اے پرائیویٹ زمینیں لیتا ہے، ان کی پلاٹنگ کرتا ہے اور دیتا ہے۔ آج کل بطور آرمی افسر آپ کو ڈی ایچ اے سے دو پلاٹ ملتے ہیں اور اس کے لیے کوئی قرعہ اندازی نہیں ہوتی بلکہ وہ آپ کو انتہائی سستے آفیشل ریٹ پہ ملتے ہیں۔ یہ بطور ایک فوجی افسر آپ کا استحقاق ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ کو ڈی ایچ اے میں دو کمرشل پلاٹ بھی ملتے ہیں، جو قواعد کے تحت آپ کا حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی زمین الگ دی ملتی ہے؟ جنرل شعیب: دی جاتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ سب کو ملے۔ اگر میسر ہوتی ہے تو کچھ افسران کو دی جاتی ہے، لیکن سب کو نہیں۔ یہ زمین اکثر آباد نہیں ہوتی بلکہ اسے بنانا پڑتا ہے۔ کئی افسران کو جنوبی پنجاب میں بہاولپور اور رحیم یار خان کے صحرائی علاقوں میں زمینیں دی گئیں۔ اس کی کوئی خاص مالیت نہیں ہوتی کیونکہ یہ ریت کے ٹیلے ہوتے ہیں۔ مثلاﹰ مجھے بھی وہاں کوئی پچاس ایکڑ ملی تھی جب میں ریٹائر ہوا تھا۔ وہاں نہ پانی تھا نہ کچھ۔ میں نے کئی سال محنت کر کے اس میں سے پچیس ایکٹر سے ریت اٹھا کر باقی پچیس ایکڑ پہ ڈلوائی۔ لیکن دس بارہ سال میں بھی کمائی کچھ نہیں ہوئی تو آخر کار میں نے اسے بیچ دیا کیونکہ مجھے اسلام آباد میں  گھر بنانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔   آپ نے کہا کہ یہ زرعی زمین ہر کسی کو نہیں ملتی۔ سنا ہے کہ فوج میں ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے، تو اس الاٹمنٹ کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟ جنرل شعیب: اس کے لیے کئی چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاﹰ آپ فوج میں کتنے سال سروس میں رہے، آپ سیاچن میں کتنا عرصے تعینات رہے، لڑاکا آپریشنز یا معرکوں میں کتنا حصہ لیا اور کیسی کارکردگی دکھائی، قدرتی آفات مثلاﹰ زلزلوں اور سیلابوں کے دوران امدادی کاموں میں کتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پھر ظاہر ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آفیسرز کے گھریلو حالات کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ خواہشمند زیادہ ہوتے ہیں لیک زمین تھوڑی ہوتی ہے، اس لیے ہر ایک کو نہیں ملتی۔ فوج جیسے ادارے میں ہر چیز رینک کے حساب سے چلتی ہے۔ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ بڑے افسران کو زیادہ جبکہ چھوٹے  افسران کو کم زمین ملتی ہے؟ جنرل شعیب: بلکل، سب سکیل کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاﹰ جنر ل کو 90 ایکڑ، لیفٹیننٹ جنرل کو 65 ایکڑ، میجر جنرل کو 50 ایکڑ ملتی ہے۔ اسی طرح اور نیچے جائیں تو صوبیدار اور حوالداروں کو 12.5 ایکڑ زمین دی جاتی ہے۔ جوانوں میں بھی میرٹ کی الگ فہرست بنتی ہے۔ انہیں بھی ڈی ایچ اے میں دس دس مرلے کے پلاٹ دیے جاتے ہیں، سپاہی کو پانچ مرلے کا پلاٹ دیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی  ذریعہ معاش لگا رہے۔ ہمارے ادارے کا مسئلہ یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ اوپر جاتے ہیں عہدے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے افسران کم عمری میں ریٹائر کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاﹰ لیفٹیننٹ  جنرل 57 برس کی عمر میں، میجر جنرل 54 برس میں، بریگیڈیئر یا لیفٹننٹ کرنل اکثر 48 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ادارہ کوشش کرتا ہے کہ انہیں ملازمت کے دیگر مواقع  فراہم کیے جائیں۔                بشکریہ ڈی ڈبلیو



کھانے کی 5 چیزیں دوبارہ گرم کرنے سے زہریلی ہو سکتی ہیں

2 weeks ago


کھاناپکاکرفریج میں رکھنے سے گریز کریں

کئی لوگ کھانا دوبارہ گرم کر کے کھاتے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ عادت مضر صحت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک نظر ایسی اشیا پر جو گرم کرنے کی صورت میں زہریلی ہو سکتی ہیں۔ دور جدید میں وقت کی قلت کے سبب کھانا پکانے کے بعد اکثر فریج یا فریزر میں رکھ دیا جاتا ہے۔ بھوک لگنے کی صورت میں وہاں سے نکال کر اسے مائیکرو ویو یا چولہے پر رکھ کر گرم کر کے کھا لیا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ عمومی اشیائے خوراک ایسی بھی ہیں جنہیں پکانے اور فریز کرنے کے بعد دوبارہ گرم کر کے کھانا انتہائی مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی سات اشیائے خوراک پر ایک نظر جنہیں دوبارہ گرم کرنے میں بہت احتیاط برتی جانا چاہیے۔ آلو:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آلو بہت سے لوگوں کو پسند ہیں۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ آلو جلدی پکائے جا سکتے ہیں اور انہیں محفوظ کرنے کے بعد دوبارہ گرم کر کے کھایا جا سکتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ آلو پکائے جانے کے بعد اگر انہیں کمرے کے درجہ حرارت پر بھی چھوڑ دیا جائے تو ان میں بیکٹیریا پیدا ہو جاتا ہے۔یہ بیکٹیریا فریزر میں جمانے سے بھی ختم نہیں ہوتا۔ دوبارہ گرم کرنے کی صورت میں ان میں 'کلوستریڈیم بوٹولیم‘ بیکٹیریا بن سکتا ہے جو اسے مسموم بنا دیتا ہے۔ جرمن ویب سائٹ گرازیا کے مطابق سب سے بہتر یہی بات ہے کہ آپ انہیں پکا کر استعمال میں لائیں اور فریج میں رکھنے سے گریز ہی کریں۔ اگر آپ انہیں فریز کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر بہتر یہ ہے کہ پکانے کے فوری بعد انہیں فریز کر لیں۔ دوبارہ گرم کرنے کے لئے مائیکرو ویو کا استعمال مت کریں بلکہ کسی برتن میں ڈال کر چولہے پر کئی منٹوں تک دوبارہ گرم کر لیں۔ چاول:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آلوو¿ں کی طرح چاول میں بھی بیکٹیریا تیزی سے پھیل سکتا ہے اور گرم کرنے پر بھی اسے ختم نہیں ہوتا۔ چاول میں بیکٹیریا کا یہ حصہ فوڈ پوائزنگ کا باعث بن جاتا ہے۔ان کے بارے میں بھی ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ آلو کی طرح یا تو صرف تازہ پکے ہوئے چاول ہی کھائیں اور اگر ناگزیر ہو تو انہیں پکا کر فوری طور پر ٹھنڈا کر کے محفوظ کر لیں۔ انڈے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انڈے پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں لیکن ابلے ہوئے، تلے ہوئے، یا آملیٹ بنائے ہوئے انڈوں کو دوبارہ گرم کرنا انتہائی مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔ زیادہ پروٹین والی خوراکوں میں نائٹروجن کی بڑی مقدار بھی موجود ہوتی ہے جو گرم ہونے پر زہریلی ہو سکتی ہے اور یہ سرطان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ انہیں بھی پکانے کے فوری بعد کھا لیں۔ اگر بعد کے لیے استعمال میں لانا بھی ہے تو پھر مائیکروویو سمیت کسی بھی طرح دوبارہ گرم کرنے سے گریز کریں۔ مرغی کا گوشت:۔۔۔۔۔۔۔ مرغ کا سالن گرم نہ ہو تو کھانے کا کیا مزا؟ لیکن ٹھہریے، انڈوں کی طرح ان میں بھی پروٹین ہوتی ہے۔ یعنی اسے ٹھنڈا کرنے کے بعد دوبارہ گرم کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔مرغی کے گوشت میں موجود پروٹین کے اجزا فریج سے نکالے جانے کے بعد بدل چکے ہوتے ہیں اور گرم کرنے کی صورت میں مسموم بن کر نظام انہضام متاثر ہو سکتا ہے۔ کھانے کا تیل:۔۔۔۔۔۔۔ سورج مکھی، کنولا آئل اور کھانا پکانے کے لئے استعمال ہونے والے دیگر ایسے آئل جنہیں ٹھنڈا کمپریس کیا گیا ہوتا ہے، انہیں بھی دوبارہ گرم نہیں کیا جانا چاہئے۔ایسے کوکنگ آئل میں اومیگا 3 ہوتا ہے جو حرارت کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انہیں گرم کر کے کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ (بشکریہ ڈی ڈبلیو)