کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل

1 month ago


مودی حکومت کے تمام دعوے غلط ہوئے۔ کشمیر ایک کھلی جیل ہے
بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی خصوصی ریاستی حیثیت ختم ہوئے بدھ پانچ اگست کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے دوسری بار بھارت کا وزیر اعظم بننے کے بعد جو سب سے اہم کام کیا تھا وہ بھارتی أئین کے أرٹیکل 370 کی تنسیخ تھا۔ اپنے اس اقدام کا انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے انہیں سیاسی محاذ پر بہت زیادہ پذیرائی ملے گی اور دوسری طرف پاکستان کو سفارت محاذ پر ہزیمت اٹھانا پڑے گی۔ نریندر مودی حکومت نے اپنے اس اقدام کے بعد ایک دستاویز جاری کی تھی جس میں دعوے کیا گیا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دینے سے پانچ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ اس دستاویز میں پہلا دعوی یہ کیا گیا تھا کہ اس عمل سے جموں و کشمیر میں بنیادی جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔ اس دوران درجنوں وفاقی وزرا جموں اور کشمیر میں گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے اہم سیاسی رہنما گھروں میں نظر بند ہیں۔ دی اکنامک ٹائمز کے مطابق ان میں سے 144 رہنماؤں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے ڈریکونین قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں یہ دعوی کیا گیا کہ اہم کشمیری رہنما سیف الدین سوز أزاد ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے گھر میں نظر بند نظر أ رہے ہیں اور وہ اپنے گھر کے اندر سے پکار رہے ہیں کہ ان کے بارے میں مرکزی حکومت جھوٹ بول رہی ہے اور وہ گھر میں نظر بند ہیں اور یہ بات جا کر سپریم کورٹ کو بتا دی جائے۔ کشمیر ایک جیل بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی دستاویز میں یہ دعوی کیا گیا کہ اس اقدام سے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہوا۔حکومت کی اپنی دستاویز میں کہا گیا کہ پہلے مرحلے میں دس ہزار ملازمتوں پر بھرتی کی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں مزید پچیس ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جموں و کشمیر چیمبر أف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق پانچ اگست 2019 سے لے کر اب تک چار لاکھ چھپن ہزار لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی دستاویز میں تیسرا دعوی یہ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے سے علاقے میں سیاحت کو فروغ ملا ہے کیونکہ اس پر شعبہ میں ایک ٹریلین روپئے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پچتہر ہزار سے زائد ملازمتیں سیاحت کے شعبہ میں ختم ہوئی ہیں۔ بھارتی حکومت کا چوتھا دعوی یہ تھا کہ ایک سال کا عرصہ جموں و کشمیر میں پیداوار بڑھانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جموں کو کشمیر چیمبر أف کامرس اینڈ اینڈسٹری کے مطابق ریاستی أمدن میں ایک سال کے عرصہ میں أٹھ سو ارب روپئے کی کمی ہوئی۔ پانچواں دعوی جو بھارت کا ایک عرصہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات اور عالمی سفارت کاری کے سلسلے میں اہن نکتہ تھا وہ یہ تھا کہ پانچ اگست 2019 سے اب تک جموں کشمیر میں دہشت گردی کم ہوئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود اب تک مختلف قسم کے دعوے کر رہی ہے۔ زمینی حقائق کیا ہے اس کا علم حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے ایک بیان حلفی سے ہوتا ہے جو ریاست میں انٹرینٹ کی بندش کا جواز فراہم کرنے کے لئے دیا گیا تھا۔ اس بیان حلفی میں کہا گیا کہ انٹرنیٹ کی بندش اس لئے ضروری ہے کہ اس سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور اس قسم کے واقعات کے رونما ہونے سے روکنے میں مدد ملے گی۔ یعنی ریاست میں بقول بھارتی حکومت کے دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں جنہیں روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ لیکن دہشت گردی کے واقعات کے اعداد وشمار رکھنے والے ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 میں ہر ماہ اوسطاً 30.75 واقعات رونما ہوتے تھے جبکہ سال 2020 میں اب تک ہر ماہ اوسطاً 33 واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ عالمی میڈیا بھارت کے زیر تسلط جموں کو کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی طرف سے عالمی فورمز پر بہت کمزور کوششیں کی گئیں اور کوئی موثر أواز کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف نہیں اٹھائی جا سکی۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اس موقع پر ایک گانا جاری کیا گیا جس پر پاکستان کے اندر ہیں بہت نکتہ چینی کی گئی۔ اس کے علاوہ مری کے ایکسپریس وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا گیا ہے۔ اس ہائی وے کا افتتاح کسی سینئر رہنما کی بجائے مراد سعید سے کرایا گیا۔
شیئر کریں