اسلام کو سرطان قرار دینے والی خاتون ری پبلکن پارٹی کی امیدوار

1 month ago


لارا لومر کی نامزدگی پر ٹرمپ کی مبارکباد
کرس سلیزا کی تحریر اگر أپ گزشتہ چند سالوں میں انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی انتہا پسندی پر تھوڑی سی بھی توجہ دیتے رہے ہیں تو أپ لارا لومر کو ضرور جاتے ہوں گے۔ انتہا پسندی کی اس تحریک کی سب سے زیادہ نامور شخصیت کا نام لارا لومر ہے اور وہ سب سے زیادہ متنازعہ بھی ہیں۔ وہ اسلام کو انسانیت کا سرطان قرار دیتی ہیں اور یہ تحریک چلاتی رہی ہیں کہ امریکہ میں کسی بھی عہدہ کے لئے مسلمان امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ وہ خود کو اسلام سے نفرت کرنے پر فخر محسوس کرنے والی خاتون قرار دیتی ہیں۔ لارا لومر کے اس رویئے کی وجہ سے ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام نےان پر پابندی لگا دی اور ان کے اکاؤنٹ بند کر دیئے اس کے علاوہ سفری سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں اوبر اور لفٹ کا تو خیر ذکر ہی کیا کرنا۔ انہوں نے 2018 میں ٹویٹ کیا تھا کہ کسی کو اوبر اور لفٹ کا غیر مسلمانوں والا فارم بھی بنانا چاہئے کیونکہ وہ کسی مسلمان تارک وطن کی مدد نہیں کر چاہتیں۔ أج لارا لومر فلوریڈا کے حلقہ ڈسٹرکٹ 21 کے لئے ری پبلکن پارٹی کی امیدوار نامزد ہو گئی ہیں جہاں اتفاق سے صدر ٹرمپ کا مار اے لاگو ریزارٹ بھی واقع ہے۔ انہوں نے ری پبلکن پارٹی کے انتخاب میں امیدوار کی اہلیت کا ووٹ جیت لیا ہے اور اب انہیں عام انتخابات کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار لوئیس فرینکل کا مقابلہ کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ ان کی انتخابی مہم کے لئے ایک ملین ڈالر کا چندہ بھی اکٹھا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے خیال میں ٹرمپ کے اتحادیوں راجر سٹون اور فلوریڈا سے ایوان نمائندگان کے رکن میٹ گاٹز کی حمایت کی وجہ سے اکٹھا ہوا ہے جو لارا کو صدر ٹرمپ کے امن عامہ کے پیغام کی حقیقی پیروکار قرار دیتے رہے ہیں۔ اگرچہ اس حلقے سے لارا لومر کی جیت کے امکان انتہائی مسدود ہیں کیونکہ یہ حلقہ ڈیموکریٹس کا مضبوط گڑھ ہے۔ پارٹی ٹکٹ کے لئے انتخاب جیتنے پر صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں لارا کے لئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ أپ نینسی پلوسی کی کٹھ پتلی کے خلاف انتخاب جیتنے کی اہل ہیں۔اس کے علاوہ مارجوری ٹیلر گرین سمیت ری پبلکن پارٹی کے اسلام مخالف رہنماؤں نے انہیں مبارکباد دی۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس قدر کھلی اسلام مخالف امیدوار کے حق میں ٹویٹ کرنے پر سوشل میڈیا میں متعدد لوگوں نے سوال اٹھائے اور کہا کہ اگر یہ کسی اور نے کیا ہوتا تو امریکہ میں طوفان مچ جاتا مگر اب یہ معمول کی بات لگ رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ لارا لومر کی جیت یا ٹرمپ کی طرف سے مبارکباد دیئے جانے تک محدود معاملہ ہے؟ اکثر کا خیال تھا کہ یہ دراصل ری پبلکن پارٹی کو انتہا پسندوں کا مرکز بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیلی میک اینانے کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے لارا لومر اور ٹیلر گرین کے نظریات پر غور نہیں کیا بلکہ محض انہیں پارٹی کا انتخاب جیتنے پر مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر نے ان دو خواتین کو پارٹی کی امیدوار بننے پر مبارکباد دی ہے اور انہیں ان کے نظریات کی گہرائی کا علم نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صدر مسلمانوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس وقت ری پبلکن پارٹی میں سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کا مکمل قبضہ ہے۔ صدر اوبامہ کے انتخاب کے وقت بھی یہ سازشی نظریہ گھڑا گیا تھا کہ اوبامہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے۔ صدر ٹرمپ سے گزشتہ ہفتے جب پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ سازشی نظریات پر یقین رکھتے ہیں تو انہوں نے جواب نہیں دیا تھا مگر پریس سیکریٹری کیلی میک اینانے کا کہنا ہے کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کبھی اس قسم کی گفتگو نہیں سنی۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف دنیا بھر میں لومر اور گرینز جیسی شخصیات کی سرگرمی سے سرپرستی کی بلکہ ان کی امیدواری اور نظریات کی بھی حمایت کی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ری پبلکن پارٹی کی ڈیڑھ سو سالہ شناخت کو شدید دھچکا لگے گا کیونکہ اس وقت یہ پارٹی لارا لومر کو نہ صرف اپنے درمیان برداشت کر رہی بلکہ اس کو خوش أمدید کہہ رہی ہے ۔
شیئر کریں