جاپان:بیلسٹک میزائل حملوں کی روک تھام کی صلاحیت حاصل کرنے کی تجویزمنظور

5 months ago


حکومت کا آئندہ پانچ سالہ منصوبے میں دفاع پر 242 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان
جاپان کی حکمران جماعت کی کمیٹی نے ملک پر بیلسٹک میزائل حملوں کی روک تھام کی صلاحیت حاصل کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ جاپان کا طویل فاصلے کی صلاحیت حاصل کرنا ایک متنازعہ معاملہ ہے کیونکہ دوسری جنگ عظم میں شکست کے بعد اس ملک نے خود جنگ کی صلاحیت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ جاپان کی حکمران جماعت کی اس تجویز سے روس اور چین میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک اس قسم کی صلاحیت کے حامل اسلحہ کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس تجویز کی تیاری میں سابق وزیر دفاع اتسونوری اونودیرا جیسے اہم رہنما شامل تھے اور یہ تجویز آئندہ ہفتے وزیر اعظم شنزوآبے کو پیش کی جائے گی۔ ان سفارشارت کو جاپان کی قومی سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا جائے گا اور توقع ہے کہ ستمبر کے آخر میں نئی دفاعی پالیسی کی منظوری دے دی جائےگی۔ وزیر اعظم شنزو آبے جاپان کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے حامی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مشرقی ایشیا میں سلامتی کے بگڑتے ہوئے ماحول اور چین کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی سے اس خطے میں امریکہ کی موجودگی بڑھ رہی ہے اس لئے جاپان کو بھی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہئے۔ موبائل لانچر کے خلاف دفاعی نظام کے لئے خلائی نگرانی کا نظام ضروری ہے جس کا یہ مطلب ہو گا کہ جاپان کو اس سلسلے میں اپنے اتحادی امریکہ پر انحصار کرنا پڑے گا۔ امریکہ کی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی ریتھیون جاپان کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنماو¿ں کے ساتھ لابنگ کر رہی ہے کہ لاک ہیڈ کمپنی کے نظام کی بجائے اس کا سپائی۔6 نظام خریدا جائے۔ اتسو نوری اونودیرا نے بتایا کہ حکومت ستمبر کے آخر تک کوئی فیصلہ کر لے گی اور اس میں ان کی سوچ کی عکاسی نظر آئے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جاپان پر اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے لئے دبائو ڈال رہے ہیں۔ وزیر اعظم شنزوآبے کی حکومت نے آئندہ پانچ سالہ منصوبے میں دفاع پر 242 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے جو پچھلے پانچ سالہ منصوبے کے مقابلے میں 6.4 فیصد زائد ہے۔ جاپان نے امریکی ساختہ سو ایف۔35 ایس طیاروں کا سودا کر رکھا ہے۔ یہ طیارے رن وے کے بغیر کھڑے کھڑے پرواز کرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہو گا کہ جاپان دوسری جنگ عظم کے بعد پہلی مرتبہ طیارہ بردار جہاز بھی بنائے گا۔ نئے سودے کے بعد جاپان کے پاس ایف -35 ایس طیاروں کی 147کی تعداد میں ایک بڑی کھیپ ہو گی۔ جولائی کے آغاز میں دو انجن والے سٹیلتھ جیٹ لڑاکا طیارے کی اگلی دہائی میں تیاری کا اعلان کیا تھا۔ جاپانی ٹی وی این ایچ کے کے مطابق اس جدید سٹیلتھ طیارے کی پیداوار 2031 کے مالی سال میں شروع ہو گی اور یہ ایف-2 طیاروں کے بیڑے کی جگہ لیں گے۔ جاپان کے پاس ایف ٹو طیاروں کا تقریبا سو کے قریب فلیٹ ہے جو امریکہ کے ایف سولہ طیاروں کی طرز پر بنائے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر نمودار ہوئی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ جاپان کا ہیلی کاپٹر بردار طیارہ ایزومو یوکوہاما کے شپ یارڈ میں کھڑا ہے اور اس میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ فوربز کے مطابق ایزومو پر تین کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے اس کا ڈیک ہیلی کاپٹر کی بجائے ہلکے طیاروں کی لینڈنگ کے قابل ہو جائے گا۔ ایزومو کے معاون طیارہ بردار کاگا بھی اسی قسم کی تبدیلیوں کے مرحلوں سے گزر رہا ہے۔
شیئر کریں