سینٹ الیکشن:فیصل واوڈااہل قرار،پرویزرشیدنااہل

1 week ago


کاغذات نامزدگی سے متعلق ہمارے اختیارات محدود ہیں،الیکشن ٹریبونل

لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے بھی مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید کو سینٹ الیکشن کے لئے نااہل قرار دے دیا۔

الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسرنے سینٹ انتخاب کے لئے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی پر لگائے گئے اعتراضات منظور کرتے ہوئے ان کے کاغذات مسترد کئے تھے جس کے خلاف پرویز رشید نے الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے سینٹ الیکشن کے لئے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف پرویز رشید کی اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران کنٹرولر پنجاب ہائوس نے پرویز رشید کی پنجاب ہائوس میں رہائش سے متعلق ریکارڈ اور پنجاب ہائوس اسلام آباد کے آڈٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ کنٹرولر پنجاب ہائوس نے عدالت میں موقف اختیار کیا پرویز رشید کو ڈی ایچ اے رہائش گاہ پر واجبات کے لئے نوٹس بھجوایا گیا تھا۔

پرویز رشید کے وکیل نے کہا پرویز رشید 2010 سے سینیٹر ہیں، ان کے موکل پر واجبات کی عدم ادائیگی کا اعتراض لگایا گیا جبکہ انہیں واجبات ادائیگی کے لئے نوٹس موصول نہیں ہوا۔

وکیل نے کہا سکروٹنی کے دوران پرویز رشید کو پنجاب ہائوس کے واجبات کے لئے نوٹس دیا گیا جس پر پرویز رشید نے ادھار رقم لے کر 95 لاکھ روپے اکٹھے کئے لیکن یہ رقم حکومت نے وصول نہیں کی۔

پرویز رشید اب بھی واجبات ادا کرنے کے لئے تیار ہیں، اس سے قبل ریٹرنگ آفیسر کو واجبات ادائیگی کے لئے دو مرتبہ درخواست دی لیکن جواب نہیں دیا گیا۔

وکیل نے مزید کہا پنجاب ہائوس کا ریکارڈ آ چکا عدالت چیک کر لے پرویز رشید پنجاب ہائوس میں نہیں رہے، جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا پرویز رشید نے اپنی اپیل میں کہیں نہیں کہا وہ پنجاب ہائوس میں نہیں رہے۔

پرویز رشید کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اعتراض دائر کرنے والے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا سرکاری واجبات ادائیگی کا معاملہ پرویز رشید کے علم میں تھا اس کے باوجود واجبات ادا نہیں کئے گئے۔

وکیل نے کہا جب پرویز رشید پنجاب ہائوس میں رہے ہی نہیں تو واجبات ادا کرنے کے لئے کیوں تیار ہیں، وکیل کے مطابق پرویز رشید کے پاس کراس چیک ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ریٹرننگ افسر نے رقم جمع کرانے کے لئے 48 گھنٹوں کا وقت دیا تھا لیکن رقم جمع نہیں کرائی گئی۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا پرویز رشید نے واجبات کہاں جمع کرانے تھے جس پر وکیل اعتراض کنندہ نے بتایارقم کنٹرولر پنجاب ہائوس کو جمع کرانی تھی ۔

کمرہ عدالت میں موجود کنٹرولر پنجاب ہائوس نے کہا میں اس دن ہسپتال میں تھا مجھ سے یا میرے سٹاف سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

ٹریبونل کے سنگل رکنی بینچ جسٹس شاہد وحید نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا اور ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

ٹریبونل نے پرویز رشید کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انہیں سینٹ لیکشن کے لئے نااہل قرار دے دیا۔

ٹریبونل فیصلے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو می ںپرویز رشید نے کہا کاغذات رکوانے ہوں تو کہتے ہیں پرویز رشید سے پیسے لینے ہیں اور پرویز رشید پیسے دینے آئے تو کہتے ہیں پیسے نہیں لینے ، پنجاب ہائوس کی انتظامیہ انصاف والوں کی انتظامیہ ہے۔

فیصلے کے خلاف میں سپریم کورٹ میں گیا ہوا ہوں اور جب تک سپریم کورٹ فیصلہ نہیں کرتی وہ پیسے میری ذمہ داری نہیں بنتی۔

یادرہے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی پر پی ٹی آئی وکیل نے اعتراض کیا تھا اور ریٹرننگ افسر نے پنجاب ہائوس انتظامیہ کا نادہندہ ہونے کی بنا پر ان کے کاغذات مسترد کئے تھے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پیغام میں پرویز رشید کی اپیل خارج ہونے کے فیصلے کوفکسڈ میچ قرار دیا۔

یہاں سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے سینٹ الیکشن کے لئے پی ٹی آئی رہنما وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیل مسترد کردی۔

ٹریبونل نے سینٹ الیکشن کے لئے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف قادر خان مندوخیل کی اپیل پر سماعت کی۔

ٹریبونل نے سماعت کے دوران میڈیا کو کوریج سے روک دیا اور عدالتی عملے نے میڈیا نمائندوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کی۔

ٹریبونل نے سماعت کے بعد وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف قادر مندوخیل کی اپیل کو مسترد کردیا اور پی ٹی آئی رہنما کی نامزدگی کو درست ٹھہراتے ہوئے انہیں سینٹ الیکشن کے لیے اہل قرار دیا۔

ٹریبونل نے کہا کاغذات نامزدگی سے متعلق ہمارے اختیارات محدود ہیں لہٰذا اپیل کنندہ چاہے تو آئینی دراخوست دائر کر سکتا ہے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


سینٹ الیکشن:فیصل واوڈااہل قرار،پرویزرشیدنااہل